Skip to playerSkip to main content
  • 17 minutes ago
Saleebi jangon ka Fateh

Category

🎈
Fun
Transcript
00:01شہنشاہ لویز ہفتم ناکامی کی حالت میں فرانس واپس جانا نہیں چاہتا تھا
00:06پھر اس نے اپنی شکست کا داغ دھونے کے لیے ایک عجیب فیصلہ کیا
00:09وہ انتاکیا سے نکل کر اپنی اسی ہزار فوج کے ساتھ سیدھا یروشلم جا پہنچا
00:16کچھ یہی کیفت شہنشاہ جرمنی کانڈریٹ سوم کی بھی تھی
00:20اس نے بھی اپنی ناکامی کا بدلہ لینے کے لیے یروشلم کا روح گیا
00:24شہنشاہ جرمنی کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ یروشلم کے حکمران بالوین کے سالس کے ساتھ مل کر
00:30کسی کمزور مسلم ریاست پر قبضہ کر لے
00:33تاکہ جب وہ اپنے ملک واپس جائے تو ایک فاتح کی حیثیت سے جرمنی کی ریایہ اس کا استقبال کرے
00:39پھر جب شہنشاہ کانڈریٹ اپنی نئی منصوبہ بندی کے ساتھ یروشلم پہنچا
00:44تو اس کی حیرت و مسارت کی کوئی انتہا نہیں رہی
00:47شہنشاہ فرانس لویس ہفتم وہاں پہلے ہی سے ہی موجود تھا
00:50دونوں ایک دوسرے سے بڑے والہانہ انداز میں گلے ملے
00:54پھر پرانے زخموں کی خلش محسوس کر کے بہت دیر تک روتے رہے
00:58اس کے بعد شہنشاہ لویس، شہنشاہ کانڈریٹ اور باروین سالس
01:03تینوں مل کر بیت المقدس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مزار مبارک پر حاضر ہوئے
01:09پھر اپنی مذہبی رسموں کے مطابق تینوں نے توبہ کے ساتھ پرجوش لہجے میں اہد کیا
01:14کہ وہ پورے علاقے میں سلیبی اقتدار قائم کر کے ہی دم لیں گے
01:17اس اتحاد سلاسہ کا پہلا حدف دمشق تھا
01:21تینوں لشکر برک افطاری کے ساتھ آگے بڑھے
01:24شہر کے تین طرف مٹی کی مضبوط فصیل بنی ہوئی تھی
01:29اور چوتی سمت میں اس قدر گنجان باغت ہے
01:32کہ کوئی لشکر ان کے درمیان سے آسانی کے ساتھ نہیں گزر سکتا تھا
01:35سلیبی فوجوں نے اسی طرف سے شہر کا محاصرہ کی
01:39اس زمانے میں دمشق پر امیر مجین الدین کی حکومت تھی
01:43جو انتہائی عیش پرست اور نا اہل حکمران تھا
01:46اس کی اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے
01:48وزیر مہین الدین نے حکومت کی باگ دور سمحال لی تھی
01:51مہین الدین ایک وطن پرست وطن دوست انسان تھا
01:56وہ دمشق کے پرجوش عوام اور علماء کی مدد سے
01:59کئی ماہ تک سلیبی حملہ آوروں کا مقابلہ کرتا رہا
02:02اس دوران میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان
02:05کئی خون ریز جھڑپے ہوئیں
02:07شیخ عبد الرحمان جن کا شمار دمشق کے بہت بڑے مشائق میں ہوتا تھا
02:12عیسائیوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہو گئے
02:15ان کے علاوہ فقی امام یوسف مالکی
02:18جن کی عمر اسی سال کے قریب تھی
02:21وہ بھی اپنے غیرت دینی سے مجبور ہو گئے
02:23وزیر مہین الدین نے امام یوسف کو جنگ سے روکنا چاہا
02:27مگر انہوں نے زوف و ناتوانی کے باوجود
02:30انتہائی جنرت مندانہ لہجے میں فرمایا
02:33کیسی عجیب بات ہے کہ میرے گھر کے دروازے پر جہاد ہو رہا ہے
02:37اور میں اس سعادت عظیم سے محروم رہوں
02:40اس کے بعد امام یوسف مالکی نے قرآن کریم کی یہ آیت مقدسہ تلاوت کی
02:45بے شک اللہ تعالی نے مومنوں کا مال اور جانیں جنت کے عوض خرید لی ہیں
02:50اس کے بعد امام نے اپنی شمشیر بے نیام کی
02:54اور مردانہ وار سلیبیوں کی صرف میں گھز گئے
02:56اور کئی عیسائی سپاہیوں کو قتل کر کے خود بھی شہید ہو گئے
03:00سلیبی لشکر کئی لاکھ سپاہیوں پر مشتمل تھا
03:04اور اس کے مقابلے میں مسلمان فوجیوں کی تعداد بہت کم تھی
03:08آخر مہین الدین کہاں تک مقابلہ کرتا
03:10پھر جب ایک دن سلیبی فوج شہر کے قریب میدان اگزر تک پہنچ گئی
03:16تو اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا
03:19کہ وہ اپنی مدد کے لیے سیف الدین غازی یا سلطان نور الدین محمود زنگی سے درخواست کرے
03:24پھر دمشق کے برق رفتار قاصد موسل اور شام کی طرف بڑھ رہے تھے
03:30سیف الدین غازی بلا تاخیر ایک لشکر جرار لے کر دمشق کی طرف بڑھا
03:36دوسری طرف سے سلطان نور الدین زنگی نے اپنے جابان سپاہیوں کے ساتھ کوچھ کیا
03:40یہ پہلا موقع تھا جب یوسف سلاہ الدین نے ایک سپاہی کی حیثیت سے جنگ میں شرکت کی
03:48دمشق روانہ ہونے سے پہلے یوسف اپنے استاد محترم قاضی ابن عرسوں کی خندت میں حاضر ہو کر دعاوں کا
03:54طالب ہوا
03:54مجھے حق طالع کی تائید و نصرت پر یقین کامل ہے
03:58وہ ذات پاک تمہیں ہر حال میں سر بلند رکھے گی
04:02اب تمہارے خواب کی تعبیر کا وقت ہے قاضی ابن عرسوں نے نہایت پرسوس لہجے میں کہا
04:08استاد گرامی کے حجرے سے نکل کر یوسف شارعہ کے حجرے میں پہنچا
04:14یوسف کے عشق نے اس ترکی کنیز کی دنیا ہی بدل ڈالی تھی
04:18وہ قاضی ابن عرسوں کا درس سنتی کتابوں کا متعلق کرتی اور پھر سارا وقت عبادت اور ریاضت میں گزار
04:25دیتی
04:26اس نے نجم الدین ایوب سے کیا ہوا اہد پورا کر دیا تھا اور یوسف کے راستے سے ہٹ گئی
04:31تھی
04:31مگر راک کے اس ڈھیر میں بہت سی چنگاریاں دبی ہوئی تھی
04:35ذوق و حویس فنہ ہو چکا تھا
04:38مگر عشق اپنی تمام تر بے غرضی اور پاکیزگی کے ساتھ باقی تھا
04:43شارعہ نے یوسف سے بس ایک ہی درخواست کی تھی
04:46تم جب بھی استاد گرامی کی درزگاہ میں آیا کرو تو مجھے دو گھڑی کے لیے اپنی صورت دکھا دیا
04:52کرو
04:52میں اسی ایک منظر کے سہارے اس خارزارے ہستی سے چپ چاپ گزر جاؤں گی
04:57پھر جب یوسف سراہ الدین نے شارعہ کے حجرے میں داخل ہو کر اسے بتایا
05:02کہ وہ سلطان عادل کے ساتھ محاذ جنگ کی طرف جا رہا ہے
05:05تو شارعہ کے بجھے بجھے سے چہرے پہ مسارتوں کے چراغ جل اٹھے
05:09اس نے بڑی والہانہ انداز میں کہا
05:11یوسف یہ تو ابتدا ہے ابھی تمہیں بے شمار جنگیں لڑنا ہے
05:16میں اس وقت کا انتظار کر رہی ہوں
05:19جب ہر طرف تمہارا ہی پرچم لہراتا ہوا نظر آئے گا
05:22پھر جب یوسف شارعہ کے حجرے سے نکل کر چلا گیا
05:26تو وہ زارو قطار رونے لگی
05:27اور پھر اپنے مالک حقیقی کے سامنے سجدہ ریز ہو گئی
05:31اے انسانی اندازوں سے زیادہ رحم کرنے والے
05:34تو اس بات پر قادر ہے کہ میرے یوسف کے جسم پر
05:37ہل کسی خراج بھی نہ آئے
05:38اور وہ فاتح قرار پائے
05:40پھر بھی اگر تیری معیشت میں یہ تیہ پا چکا ہے
05:44کہ یوسف کو کوئی جسمانی نقصان پہنچے
05:46تو پھر اے ربے بینیاز
05:48یوسف کے بدلے میں میرا صدقہ جان قبول فرمالے
05:52پھر جب سیف الدین غازی اور سلطان نور الدین زنگی کے لشکروں کی آمد کی خبر
05:57شہنشاہ فرانس لویز ہفتم
05:59شہنشاہ جرمنی کانڈریٹ سوم
06:02اور یروشلم کے حکمران باروین سانی نے سنی
06:06تو وہ تینوں راتوں رات دمشقہ محاصرہ اٹھا کر یروشلم چلے گئے
06:10سیف الدین غازی اور سلطان نور الدین زنگی نے جنگ کیے بغیر
06:14ایک اسلامی ریاست کو سلیبیوں کی دراز دستی سے بچا لیا
06:18اس کے بعد عیسائی لشکر نے اسقلان پر حملے کرنے کا ارادہ کیا
06:22لیکن سلیبیوں کا یہ منصوبہ بھی ناکام ہو گیا
06:26شہنشاہ جرمنی مسلسل ناکامیوں سے تنگ آ کر اپنے وطن واپس چلا گیا
06:30شہنشاہ فرانس لویف ہفتم چند ماہ فرستین میں مقیم رہا
06:34اور پھر وہ بھی اپنی پیشانی پر نامرادی کا داکھ سجائے ہوئے
06:381149 میں فرانس لوڈ گیا
06:40دوسری مقدس جنگ جو بڑے زور و شور کے ساتھ شروع کی گئی تھی
06:45ایک شرمناک موڑ پر ختم ہو گئی
06:47جس میں لاکھوں عیسائی مارے گئے
06:49یہ ایک عبرتناک شکست تھی
06:52کہ جس کے بعد شہنشاہ فرانس اور شہنشاہ جرمنی نے
06:57زندگی بھر مقدس جنگ یعنی کروسیٹ کا نام نہیں لیا
07:02دوسری سلیبی جنگ جس کا مہرک شبدہ باس سینڈ برنارڈ تھا
07:06وہ بھی لرزہ خیز انجام سے دوچار ہوا
07:09اور رہتی دنیا تک عبرت کا عجیب نشان بن کر رہ گیا
07:12اس واقعے کی مقتصر تفصیل یہ ہے
07:15کہ ایک رات سینڈ برنارڈ نشے کی حالت میں ایک بری عورت کے ساتھ تھا
07:19یہ وہی فہاشہ عورت تھی
07:21جو عورتوں کی پچاس ہزار فواش کے ساتھ یروشلم آئی تھی
07:25جب سینڈ برنارڈ کے محافظ سپاہی کو یہ اطلاع ملی
07:28کہ اس کا مذہبی پیشوہ بد مستی میں مشغول ہے
07:32تو وہ بے دریخ کمرے میں داخل ہو گیا
07:34اور اس نے پہلے فہاشہ کو قتل کیا
07:37پھر سینڈ برنارڈ کی طرف بڑھا
07:39میں تمہارا مقدس پیشوہ ہوں
07:41شبدہ باز راہب ہزیانی انداز میں چیخ رہا تھا
07:44میرے قتل سے گریز کرو
07:46ورنہ تم پر آسمانی قہن ٹوٹے گا
07:49تُو مقدس نہیں ناپاک ہے
07:51عیسائی سپاہی کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا
07:54سلیبیوں پر یہ سارا عذاب تیری ہی وجہ سے نازل ہوا ہے
07:57یہ کہہ کر اس غیرت مند عیسائی نے سینڈ برنارڈ کے ٹکڑے کر دیئے
08:03دوسری طرف
08:04اوباش ملکہ
08:05ملکہ فرانس نے شہنشاہ لوئیس سے طلاق لے کر
08:07انگلستان کے شہنشاہ
08:09ہینڈری دوم سے شادی کر لی تھی
08:11جو ایک بڑھا اور ناکارا شخص تھا
08:13یہ شادی تو محس ایک آڑ اور پردہ تھی
08:16ورنہ جب ملکہ انتاکیہ سے رخصت ہو کے انگلستان پہنچی
08:20تو وہ اس مسلمان ترک کو اپنے ساتھ لے گئی تھی
08:23جس سے اس کے غلط تعلقات تھے
08:26شہنشاہ ہینڈری دوم کچھ جن تک تو خاموش تماشائی بنا رہا
08:29پھر جب اس نے ملکہ کی حرکتوں کے خلاف زبان کھولی
08:33تو اس نے اسے بھی شہنشاہ لوئیس کی طرح ڈانٹ دیا
08:36اور وہ اپنی کمزوری کا راز فاش ہونے کے خوف سے سہم گیا
08:40پھر ایک سال بعد ملکہ کے ہاں ایک خوبصورت لڑکا پیدا ہوا
08:44ملکہ نے بیٹے کا نام ریچرڈ رکھا
08:47یہ وہی بچہ ریچرڈ ہے
08:48جسے آج بھی عیسائی دنیا
08:50شیر دل ریچرڈ کے نام سے یاد کرتی ہے
08:53اور اس بچے نے جوان ہو کا سلطان صلاحی الدین
08:56ایوبی سے کئی صلیبی جنگیں لڑی تھی
08:59شہنشاہ فرانس لوئیس ہفتم اور شہنشاہ جرمنی
09:02اپنی محرومیوں اور ناکامیوں کا ماتم کرتے ہوئے
09:05کبھی کے واپس جا چکے تھے
09:07اور ایک بھولی ہوئی داستان بن کر رہ گئے تھے
09:09مگر ایک انتہائی متاسب عیسائی نوجوان گارنیٹ
09:13اب تک اس علاقے میں اپنی ماں لوزی کے ساتھ ٹھہرا ہوا تھا
09:18گارنیٹ کی طرح لوزی بھی مذہبی معاملات میں
09:20دنیا کی انتہائی تنگ نظر عورت تھی
09:23اگر اس کے اختیار میں ہوتا تھا وہ صفحہ ہستی سے
09:26مسلمانوں کا وجود تک مٹا کر رکھ دیتی
09:29لوزی والی تلیتا یعنی اندلس کی بیوی تھی
09:32وہ سمجھتی تھی کہ جس طرح عیسائیوں نے اندلس میں
09:35مسلمانوں کے سینکڑوں سالہ اقتدار کی بنیاد اکھار پھینکی تھی
09:39اسی طرح بغداد اور مصر کو بھی نست و نابود کر دیا جائے گا
09:44وہ اپنی آنکھوں میں یہی خواب لے کا شہنشاہ جرمنی
09:47اور شہنشاہ فرانس کے ساتھ اندلس سے یروشلم آئی تھی
09:50پھر جب شہنشاہ لویس اور شہنشاہ کانڈریٹ دوسری سلیوی جنگ میں
09:54شکست فاش کھا کر واپس جا رہے تھے
09:56تو لوزی نے انتہائی تحقیر آمیز لہجے میں کہا
09:59یہ دونوں عیسائیت کی پیشانے پہ ایک بدنمہ داغ ہیں
10:02یسو مسیح ان پر زمین تنگ کر دیں
10:05اور آسمان ان پر لانت برسائے
10:07لوزی کی اسلام دشمنی کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا تھا
10:11کہ وہ اپنے دربار کے سارے عیش و آرام چھوڑ کر
10:14یروشلم میں خانہ بدوشن کی طرح پڑھی ہوئی تھی
10:16اور روزانہ اپنے بیٹے گارنیٹ کے جذبات کو مشتہل کرتی رہتی تھی
10:21میں اس وقت تک اندلس واپس نہیں جاؤں گی
10:24جب تک کسی مسلمان ریاست پر عیسائیوں کا قبضہ نہیں ہو جاتا
10:29گارنیٹ اپنی ماں کی جذباتی تقریروں سے متاثر ہو کر
10:32مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے لگا
10:34وہ عیسائی بستیوں میں جاتا
10:36اور اپنے ہم عقیدہ لوگوں کو سلیوی جنگوں کی یاد دلا کر
10:40ان کی مذہبی غیرت کو بھارتا
10:42اس کے ساتھ ہی انہیں دولت و اقتار کی ترقیب بھی دیتا
10:46یہاں تک کہ گارنیٹ کی فوج کے ساتھ
10:48ہزاروں مقامی عیسائی بھی شامل ہو گئے
10:50پھر وہ برک رفتاری کے ساتھ
10:52حسن عریمہ کی طرف بڑھا
10:54یہ قلعہ ترابلس کے عیسائی حکمران
10:57کاؤنٹ آف ٹریپولی کی سلطنت میں شامل تھا
10:59کسی کو بھی یہ امید نہیں تھی
11:01کہ ایک عیسائی لشکر دوسرے عیسائی سلطنت پر حملہ آور ہوگا
11:05یہی وجہ تھی
11:06کہ کاؤنٹ آف ٹریپولی
11:08اس صورتحال سے بے خبر تھا
11:10پھر اسی بے خبری کے عالم میں
11:12اندلس کے شہزادے گارنیٹ نے
11:13حسن عریمہ کے قلعے پر قبضہ کر لیا
11:16ترابلس کے حاکم کو
11:17اپنے ایک ہم قوم کی اس حرکت پر شدید عذیت پہنچی
11:20اس نے کسی تاخیر کے بغیر
11:23اپنے ایک تیز رفتار قاسد
11:24کو یہ پیغام دے کر گارنیٹ کے پاس بھیجا
11:26اس وقت عیسائیت
11:28شدید عذمائشی مرحلے سے گزر رہی ہے
11:31ایسے سنگین حالات میں
11:32ایک عیسائی کو زیب نہیں دیتا
11:34کہ وہ اپنے ہم مذہبوں کو
11:36نقصان پہنچا کر انہیں انتشار میں
11:38مبتلا کرے
11:39شہزادے گارنیٹ نے حاکم ترابلس کو
11:42سخت جواب دیتے ہوئے کہا
11:43اگر تم سچے سلیبی ہو
11:45میرے ساتھ مل کر مسلمانوں سے جنگ کرو
11:47یا پھر ترابلس کا تخت خالی کر دو
11:50ایک گزدل مسیحی کو حکومت کرنے کا
11:52کوئی حق حاصل نہیں
11:53جو اپنے عیش و ارام پر قومی مفادات کو
11:56قربان کر دے
11:58حاکم ترابلس جانتا تھا کہ
11:59مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے کا انجام کیا ہوگا
12:02اس لیے اس نے فوری طور پر
12:04سلطان نور الدین محمود زنگی کو خط لکھا
12:06اگر میری حکومت کے
12:08تحفظ کی زمانہ دی جائے
12:10تو میں ذاتی طور پر اس بات کو بسند کروں گا
12:12کہ آپ آگے بڑھ کر
12:13حسن کریمہ کے قلعے پر قبضہ کر لیں
12:15حاکم ترابلس نے اپنا اقتدار
12:18بچانے کے لیے نہایت دور اندیشی سے
12:20کام لیا تھا
12:21اگرچہ وہ خود ایک فریبکار انسان تھا
12:23لیکن اس حقیقت سے باخبر تھا
12:25کہ مسلمان وعدہ خلافی نہیں کرتا
12:27اس لیے حاکم ترابلس نے
12:29سلطان نور الدین زنگی کو
12:31حسن کریمہ کے قلعے پر قبضہ کر لینے کی
12:33پیشکش کی تھی
12:34وہ اچھی طرح جانتا تھا
12:37کہ اگر شہدادہ گارنیٹ کو نہ روکا گیا
12:39تو پھر اقتدار کے ساتھ
12:40اس کی زندگی کو بھی شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا
12:43اس وقت والی شام
12:45دمشق کے علاقے
12:46بالا بق میں مقیم تھے
12:48حاکم ترابلس کا پیغام ملتے ہی
12:50سلطان نور الدین زنگی
12:52ایک لشکر جرار لے کے
12:54حسن عریمہ کی طرف بڑھے
12:56وزیر مہین الدین نے بھی سلطان کا ساتھ دیا
12:59مزید احتیاط کے طور پہ
13:01سلطان نور الدین نے
13:02اپنے بڑے بھائی سیف الدین غازی سے بھی
13:05فوجی امداد کی درخواست کی
13:06اور ترابلس کی طرف روانہ ہو گئے
13:09سلطان نور الدین زنگی کا لشکر
13:11توفان برق و بات کی طرح
13:13اپنے حدف کی جانب روان تھا
13:15وہ اندلس کے شہزادہ گارنیٹ کو
13:17سمحلنے کا موقع نہیں دینا چاہتے تھے
13:19اسلامی لشکر نے یہ طویل ترین
13:21فاصلہ تین دن میں تیگ کیا
13:23اور آگے بڑھ کر قلعہ کا محاصرہ کر لیا
13:26عیسائی فوجیوں نے
13:27مسلسل چار دن تک قلعہ کی فصیلوں پہ
13:29کھڑے ہو کر تیروں کی ایسی بارش کی
13:31کہ اسلامی لشکر چند قدم سے
13:33زیادہ آگے نہ بڑھ سکا
13:34اسی دوران میں سلطان سیف الدین غازی
13:37کا لشکر بھی آن پہنچا
13:38جس کی قیادت والی جزیرہ
13:41امیر عز الدین کر رہا تھا
13:42آخر طویل غور و فکر کے بعد
13:44سلطان نور الدین زنگی کے حکوم
13:47پر مسلمان سپاہیوں نے
13:48قلعہ کے جنوبی حصے میں بارودی
13:51سرنگ بچھانی شروع کی
13:52شہزادہ گارنر نے سلطان عادل کی
13:54جنگی حکمت عملی کو ناکام بنانے
13:57کے لیے اپنے ماہر تیر
13:58انداز جنوبی فصیل پر بھیج دیئے
14:01پھر دیکھتے ہی دیکھتے تیروں
14:03کی بارش تیز ہو گئی
14:04اور سینکروں مسلمان سپاہی اپنے خون
14:07میں نہا گئے مگر بارودی
14:09سرنگ بچھانے کا کام جاری رہا
14:10ایک فوجی کلمہ طیبہ پڑتا
14:13ہوا شہید ہوتا تو فوراں ہی
14:14دوسرا سپاہی آگے بڑھ کر اس کی جگہ لے لیتا
14:17یہاں تک کہ سلیبی تیر
14:19اندازوں کے بازو شیل ہو گئے
14:20اور تیروں کا زخیرہ ختم ہو گیا
14:22پھر ایک خوفناک دھماکہ ہوا
14:25اور حسن عریمہ کے قلعے
14:27کے جنوبی فصیل اڑا دی گئی
14:28اہل ایمان نے نعرہ تکبیل
14:31بلند کیا اور قلعے میں داخل ہو گئے
14:33سلیبیوں نے کچھ دیر تک
14:34جم کر مقابلہ کیا
14:36مگر جب ان کی بڑی تعداد
14:38موت کا لقمہ بن گئی
14:39تو قلعے میں ہر طرف عیسائیوں کی چیخیں گوجنے لگیں
14:43ہر سلیبی عورت و مرد
14:45پناہ مانگ رہا تھا
14:46امان امان
14:48اسلامی لشکر کی تلواریں نیام میں چلی گئیں
14:50اور سلیبیوں کو گرفتار کیا جانے لگا
14:53اسی رانے جنگ میں
14:54حاکیم تلی تلا یعنی اندلس کے
14:56جابر و صفاق اور اسلام دشمن
14:59بیوی لوزی بھی شامل تھی
15:02شہزادہ گارنیٹ
15:02کسی نہ کسی طرح قلعے سے نکل کا فرار
15:05ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا
15:06اس وقت اس کے خوف کی کوئی انتہا نہ رہی
15:09جب اس نے دوسرے گھوڑوں کی
15:11ٹاپوں کی آواز سنی
15:12گارنیٹ نے پلٹ کر دیکھا ایک مسلمان
15:14شہ سفار اس کا تعقب کر رہا تھا
15:16شہزادہ نے اپنے گھوڑے کی رفتار
15:18اور بڑھا دی مگر اس کی یہ
15:20کوشش بھی ناکام رہی
15:22اگر تم خود کو میرے حوالے کر دو
15:24تو میں اپنے امیر کی طرف سے تمہاری جام بخشی
15:27کا اعلان کرتا ہوں
15:28میدان میں مسلمان شہ سفار کی پر جلال
15:31آواز گنجی
15:31شہزادہ گارنیٹ کو یہ اجنبی آواز
15:34اپنے بہت قریب محسوس ہوئی
15:36اگرچہ وہ مسلح تھا اور اپنے پیچھے
15:39آنے والے مسلمان سپاہی کا مقابلہ
15:40کر سکتا تھا لیکن عیسائی فوج
15:43کی شکست کے باوجود وہ بدحواز
15:45ہو گیا تھا شہزادہ گارنیٹ
15:52مگر مسلم شہ سوار
15:54اس کے سر پر آ پہنچا تھا
15:55پھر دیکھتے ہی دیکھتے گارنیٹ کا
15:58گھوڑا لڑ کھڑا گیا اور موں کے بل
16:00زمین پر گر پڑا
16:01یہ حادثہ اس قدر اچانک ہوا کہ شہزادہ
16:04اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا
16:06اور اس کے ہاتھ سے لگام چھوڑ گئی
16:08اور وہ خود بھی گھوڑے کے پشت سے
16:09اچھل کر دور جار گرا
16:11پھر اس پر فوراں ہی یہ راست فاش ہو گیا
16:13کہ تاقب میں آنے والے مسلم
16:16شہ سوار نے اپنے شمشیر کے بھرپور
16:18وار سے گھوڑے کی پچھلی
16:19ٹانگیں کار دی تھی
16:21شہزادہ کے زمین پر گرتے ہی مسلم
16:23شہ سوار نے اپنے گھوڑے کی لگامیں کھینچ لیں
16:26اور تیزی کے ساتھ
16:27شمشیر بکف نیچے اتر آیا
16:29موت کو اپنے قریب دیکھ کر
16:31شہزادہ کے چہرے سے وحشت تپکنے لگی
16:34تم اپنے حواظ درست کر لو
16:36اور مقابلے کے لیے تیار ہو جاؤ
16:38مسلم شہ سوار نے بے نیاز آنا
16:40انداز میں کہا
16:41ہم لوگ اپنے دشمن پر پیچھے سے وار نہیں کرتے
16:44تم بھی پیادہ ہو اور میں بھی
16:46یہ برابر کا مقابلہ ہے
16:47اٹھو اور قسمت آزمائی کرو
16:49دیکھیں قدرت کس کا ساتھ دیتی ہے
16:52شہزادہ کو اپنی بینائی اور سماعت پر
16:54یقین نہیں آرہا تھا
16:55کہ کوئی دشمن اتنا وسیع القلب بھی ہو سکتا ہے
16:58یہ موقع غنیمت جان کے اندلس کا
17:00شہزادہ تیزی کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا
17:02اور اس نے اپنے دشمن پر ایک بھرپور وار کیا
17:04مسلم شہ سوار نے
17:06نہایت چابک دستی کے ساتھ
17:08گارنیٹ کا وار روکا
17:10پھر کچھ دیر تک دونوں شمشیر
17:12زن مختلف پہنترے بدل کر
17:13اپنے اپنے داؤ ازماتے رہے
17:15یہاں تک کہ شہزادہ گارنیٹ کے دائیں ہاتھ پر
17:18کاری زخم آیا اور تلوار چھوٹ کر
17:20دور جا پڑی
17:21مسلم شہ سوار نے اندلس کے شہزادے کو
17:23ایک موقع اور دیا
17:24مگر اب اس کا زخمی ہاتھ شمشیر
17:27کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہا تھا
17:29پھر دیکھنے والوں نے دیکھا
17:31کہ مسلم شہ سوار اپنے گھوڑے کی پشت پر تھا
17:33اور شکست خردہ
17:35عیسائی شہزادہ لڑکھاتا ہوا
17:36گھوڑے کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا
17:38تمام سلیبی سپاہیوں کو پابہ
17:41زنجیر کرنے کے بعد شہزادہ گارنیٹ
17:43کے تلاشی شروع ہوئی
17:44سلطان نور الدین زنگی کو بتائے گیا
17:46کہ وہ کسی خفیہ راستے سے فرار ہو چکا ہے
17:48سلطان عادل نے فوری طور پر
17:51یہ فرمان جاری کر دیا
17:52کہ برخ رفتار شہ سواروں کا ایک دستہ
17:54مختلف راستوں پر نکل جائے
17:56اور شہزادہ کو زندہ گرفتار کر کے
17:58سر دربار پیش کیا جائے
18:00ابھی وہ شہ سوار شہزادہ کی
18:02تلاش میں نکل نہیں والے تھے
18:04کہ شہزادہ گارنیٹ مسلم سپاہی کے ساتھ
18:06قلعے میں داخل ہوا
18:07پھر جب اندلس کا شہزادہ
18:09ندامہ سے سر جھکائے ہوئے دربار میں داخل ہوا
18:12تو سلطان نور الدین زنگی کے
18:14ہوتوں پہ فاتحانہ تبسم اُبھر آیا
18:16یہ تبسم شہزادہ کی
18:18اسیری پر بھی تھا
18:19اور شہ سوار پر بھی
18:21جو اس جنونی سلیوی کو گرفتار کر کے لائے تھا
18:24یہ مسلم شہ سوار
18:26کوئی اور نہیں تھا
18:27سلطان نور الدین زنگی کا مساحب خاص
18:30یوسف یعنی صلاح الدین تھا
18:32جب شہزادہ گارنیٹ
18:34اور اس کی ماں لوزی کے فیصلے
18:36کا وقت آیا تو سلطان نور الدین زنگی
18:38کے تمام سرداروں نے بیق زبان کہا
18:41ان دونوں فتنہ گروں کو
18:43سارے عام قتل کر دیا جائے
18:44اور ان کی لاشیں سلیویوں کی عبرت
18:47کے لیے شہر کے چوراہے پر لٹکا دی جائیں
18:49صرف یوسف ہی تھا
18:50جس نے سرداروں کے اس متفقہ
18:52فیصلے سے اقتلاف کرتے ہوئے کہا
18:54ان دونوں کی لاشیں چوراہے پر
18:57لٹکا دینے سے عبرت کا یہ تماشا
18:59زیادہ سے زیادہ شام تک ختم ہو جائے گا
19:01میری رائے میں اس تماشے
19:03کو اتنا طول دیا جائے
19:04کہ سلیوی قوم روزانہ اس عبرت
19:07ناک منظر کو یاد کرے
19:08اور اپنی شکست و بربادی پر
19:10ہر گھڑی آنسو بہاتی رہیں
19:13یوسف صلاح الدین کی تجویش
19:15سنکہ تمام سرداروں نے
19:17بڑی حیرت سے اس نوجوان کی طرف دیکھا
19:19جس نے شہزادے کو گرفتار کر کے
19:21اپنا پہلا جنگی کا نامہ انجام دیا تھا
19:23ان سرداروں میں
19:25نجم الدین ایوب اور اسد الدین بھی شامل تھے
19:27خود سلطان نور الدین زنگی کی آنکھوں سے بھی
19:30ایک سوال نمائی تھا
19:32کہ آخر کس طرح اس عبرت ناک منظر کو
19:34طول دیا جائے
19:35ہم اہل ایمان ہیں
19:37اس لئے اپنے دشمن کی لاشوں کی بھی
19:40بے حرومتی نہیں کر سکتے
19:41یوسف نے انتہائی باوقار لہجے میں ارز کیا
19:44بہتر یہی ہے کہ جوسلن سانی کی طرح
19:47ان ماں بیٹوں کو بھی
19:48حوالے زندہ کر دیا جائے
19:49پھر جب تک یہ دونوں زندہ رہیں گے
19:52وہ عبرتناک تماشا بھی
19:54اپنے تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا
19:57سلطان نور الدین زنگی
19:58نے اپنے مساہب خاص کی
20:00اس تجویز کو پسند فرمایا
20:01اور ان کے ہوتوں پر مسکراہت ابرائی
20:04نجم الدین ایوب
20:06اور اسد الدین کا سر بھی فخر سے بلند ہو گیا
20:08یوسف
20:09صرف شجاعت ہی میں نہیں
20:11فہم و فراست میں بھی اپنے ہم عمر نوجوانوں سے
20:14بہت آگے تھا
20:16میں سلطان عادل سے ایک اور بات
20:18عرض کرنا چاہتا ہوں
20:19مقتصر سے سکوت کے بعد
20:21یوسف نے دوبارہ لپکشائی کی
20:23ان دونوں ماں بیٹے کو
20:25ایک جلوس کی شکل میں خاص طور پر
20:28عیسائی بستیوں سے گزارا جائے
20:29تاکہ ان کے دلوں پر
20:31اہل ایمان کی حیبت قائم ہو
20:32تاکہ ان کے دلوں میں پیدا ہونے والے
20:35سرکشی اور بغاوت کے جذبات فنا ہو جائیں
20:37یا پھر کم از کم اتنے سرد پر جائیں
20:40کہ بہر سے آنے والی سلیبی ہوائیں
20:42انہیں مزید نہ بھڑکا سکیں
20:44سلطان نور الدین محمود زنگی
20:46نے سردربار یوسف کی ذہنت کی تعریف کی
20:48اور پھر ملکہ لوزی
20:50اور شہزادہ گارنیٹ کو
20:51دوسرے عیسائی قیدیوں کے ساتھ
20:53اپنے بڑے بھائی
20:54سلطان سیف الدین غازی کے پاس بھینج دیا
20:57اور خود حلب کی طرف روانہ ہو گیا
21:00اسی زمانے میں
21:01زنگی خاندان کے شامی مقبوضات میں
21:04عیسائیوں نے عام بغاوت کر دی
21:05اور جگہ جگہ فتنہ فساد کی آگ بھڑکا دی
21:08اس شورش کی وجہ بھی
21:10ایک فتنہ گر راہب
21:11سینڈ مارلوف تھا
21:13سینڈ برنارٹ کی شرمناک اور ابنتناک
21:16موت کے بعد
21:17سینڈ مارلوف نے بھی قسم کھائی
21:19کہ وہ اپنے عظیم مذہبی پیشوہ کی
21:21مقدس مشن کو جاری رکھے گا
21:22اپنی اس مذہبی تحریک کو جاری رکھنے کے لیے
21:25ایک نیا طریقہ اختیار کیا تھا
21:28جب عیسائی قوم اپنی عبادت کے لیے
21:30گرجہ گھر میں جمع ہو جاتی
21:31تو سینڈ مارلوف کے حکوم پر
21:33عبادتگاہ کے تمام دروازے بند کر دیے جاتے تھے
21:36پھر وہ ایار راہب
21:38عبادت کے نام پر جمع ہونے والے
21:40سادہ دل عیسائیوں کو لانت منامت کرتے ہوئے
21:42پرجوش تقریریں کیا کرتا تھا
21:44تم سے یسو مسیح اس قدر ناراض ہیں
21:46کہ مقدس بیٹے کی حالت غزب
21:49کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا
21:51یہ کہہ کر فتنگر راہب
21:53کچھ دیر کے لیے خاموش ہو جاتا تھا
21:55تاکہ اپنے مخاطبین کی
21:57دلی کیفت کا مشاہدہ کر سکے
21:58اپنے مذہبی پیشوہ کی زبانی
22:01یسو مسیح کے غیض و غضب کی بات سن کر
22:03عبادت کے لیے جمع ہونے والے
22:05عیسائی خوف زدہ ہو جاتے تھے
22:07پھر وہ ایار راہب
22:08ان کے منتشر ذہنوں پر ایک اور ضرب لگاتا
22:11اس وقت تک تمہاری کوئی عبادت
22:13بھی قبول نہیں ہے
22:14جب تک تمہارے پیرم میں
22:16مسلمانوں کی زنجیر غلامی پڑی ہے
22:18اس زنجیر غلامی کو کیسے کٹا جائے
22:21گرجہ میں موجود عیسائی
22:22بے قرار ہو کر پوچھتے
22:24اس کا ایک ہی علاج ہے
22:26تم مسلمانوں کے خلاف بغاوت کر دو
22:28سینڈ مارلو بڑی مکاری کے ساتھ
22:30سلیبیوں کو ورغلاتا
22:31سلطان عماد الدین زنگی کے دونوں بیٹے
22:34نا اہل اور ناکارہ ہیں
22:35بس تمہیں تھوڑی سی حمد درکار ہے
22:38اپنی شمشیریں بے نیام کرو
22:40اور جہاں بھی کوئی مسلمان نظر آئے
22:42اسے بے دریخ قتل کر دو
22:43پھر جیسے ہی انتشار پھیلے گا
22:45بارڈوین سانی کی فوجیں
22:47تمہاری مدد کو آ جائیں گی
22:49دراصل اس سادش کی جڑے
22:50یروشلم میں تھی
22:51بارڈوین سالیس کے ایمہ پر
22:53سینڈ مارلو شام کے علاقے میں داخل ہوا تھا
22:56اس سادش کا ایک ہی مقصد تھا
22:58کہ سلطان نور الدین زنگی
23:00اور سلطان سیف الدین غازی
23:08اور شام میں داخل ہو جائیں
23:10شام یروشلم
23:11بارڈوین سالیس نے اس منصوبے کی تکمیل
23:14کے لیے ایک بڑی رقم مخصوص کر دی تھی
23:16جس سے ہتیار خریدے جاتے تھے
23:18اور شام کے گرجہ گھر میں
23:20پہنچا دیے جاتے
23:21یہ سارے ہتیار عیسائی داہبوں کی
23:23لمبی لمبی عباؤں میں پوشیدہ ہوتے
23:26اور پھر گرجہ گھر جا کر
23:27تہخانے میں جمع ہو جاتے
23:29پھر ان ہتیاروں کو بڑی رازداری کے ساتھ
23:32رات کے اندھیرے میں ان طوانہ عیسائیوں کو دے دیا جاتے
23:35جو جنگی صلاحیت رکھتے تھے
23:37جب شہہ بارڈوین سالیس
23:40اور سینڈ مارلف کا منصوبہ مکمل ہو گیا
23:43تو ایک دن سلطان نور الدین زنگی کے مقبوضات میں
23:46بغاوت اور شورش کی آگ بڑک اٹھی
23:48یہ سب کچھ اس قدر اچانک ہوا
23:51کہ اگر سلطان نور الدین زنگی کے علاوہ
23:53کوئی دوسرا حکمران ہوتا
23:54تو یہ صورتحال دیکھ کر گھبرا جاتا
23:56اور ذہنی انتشار کے باعث
23:58سیاسی فیصلے کر ڈالتا
24:00مگر وہ بڑے ضبط و تحمل اور
24:02اسابی قوت کے مالک تھے
24:03سلطان عادل نے اپنے متمس سالاروں
24:06نجم الدین ایوب اور اسد الدین
24:08کو حکم دیا کہ وہ ریاست کے
24:10سرحدی علاقوں کی مکمل ناکہ بندی
24:12کر لیں تاکہ کوئی بھی باغی فرار
24:14ہونے میں کامیاب نہ ہو سکے
24:16یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ
24:18نجم الدین ایوب کے مقابلے میں اسد الدین
24:20کو اپنے بھتیجے یوسف سے زیادہ
24:22محبت تھی اور یہی وجہ تھی
24:24کہ اسد الدین ہر مارکہ آرائی
24:26میں یوسف کو اپنے ساتھ رکھا تھا
24:28اس بار بھی ایسا ہی ہوا
24:30شیرے کو یوسف کو
24:32لے کر شامی سرحدوں پر پہنچ گیا
24:34اپنی جنگی منصوبہ بندی مکمل کرنے
24:36کے بعد سلطان نوردین زنگی
24:38باغیوں کی سرکوبی کے لیے
24:40آگے بڑھے جب شاہی یوروشلم
24:42باردن سانی کے جاسوسوں نے
24:44اسے خبر پہنچائی کہ سلطان
24:46نوردین زنگی کے مقبوضات میں
24:47بغاوض شروع ہو چکی ہے
24:49تو اس نے ایک بہت بڑا لشکر باغیوں کے
24:51مدد کے لیے شام کی طرف روانہ کیا
24:53باردن سالس کو یقین تھا
24:56کہ وہ باغیوں کے تعاون سے سلطان
24:57نوردین زنگی اور سلطان سیف الدین
25:00غازی کے علاقوں پر قبضہ کر لے گا
25:02اور اس طرح دوسری سلیبی
25:03جنگ کی ناکامی کا داق اس کے چہرے
25:06سے دھل جائے گا
25:06مگر جب باردن سالس کے لشکر نے
25:08شام کی تمام سرہودوں پر
25:10مسلمان فوجیوں کا اجتماع دیکھا
25:12تو وہ ناکام و نامراد لوٹ گئے
25:14پھر سلطان نے باغیوں کے قلب
25:17میں داخل ہو کر اس قدر شدید حملے
25:19کیے کہ آن کی آن میں
25:20ہزاروں سلیبی مسلمانوں کی
25:22شمشیروں کا رزق بن گئے
25:24باقی عیسائیوں کے شور و فغنسہ
25:26پورا میدان اور شہر گونج اٹھا
25:28سلیبی گریہ و زاری کے ساتھ
25:30علامان علامان پکار رہے تھے
25:32ہزاروں عیسائی شکست کا
25:34یہ حالناک منظر دیکھ کر فرار ہو گئے
25:36مگر انہیں نجم الدین
25:38ایوب اور اسد الدین کے سپاہیوں نے
25:40قتل کر ڈالا
25:41بمشکل دو چار سلیبی اپنی جانے بچا کر
25:44بھاگنے میں کامیاب ہو سکے
25:45وہ بغاوت جسے پرورش پانے میں
25:48کئی ماہ لگ گئے تھے
25:49سلطان نور الدین زنگی نے
25:51اپنی جنگی حکمت عملی سے
25:53چند گھنٹوں میں کچل ڈالا
25:54سینڈ مارلیف جو اس بغاوت کا سرغانہ تھا
25:58اس نے فرار ہو کا گرجہ گھر میں پناہ حاصل کی
26:00اس کے ساتھ اس کے چند خدمتگار بھی تھے
26:03مسلمان سپاہی چاہتے
26:05تو عیسائیوں کی عبادت خانے میں داخل ہو کر
26:08اس فتنہ گر راہف سینڈ مارلیف کو گرفتار کر لیتے
26:11مگر اہل ایمان اپنی جنگی قوانین سے مجبور تھے
26:14سلطان نور الدین زنگی کا حکم تھا
26:17کہ جنگ کے دوران تمام گرجہ گھر محفوظ ہیں
26:19اگر کچھ عیسائی بھاگ کر اپنے عبادت خانے میں پناہ حاصل کر لیں
26:24تو ان سے بھی کوئی تاروز نہ کیا جائے
26:26یہی وجہ تھی کہ اتنی بڑی بغاوت کی قیدت کرنے والا سینڈ مارلیف
26:30ابھی تک زندہ بھی تھا اور محفوظ بھی
26:33مسلمان سپاہیوں کے ایک مختصر سے دستے نے آگے بڑھ کر
26:37اس گرجہ گھر کا محاصرہ کر لیا
26:38جس میں سینڈ روپوش تھا
26:41فوری طور پر اس واقعے کے اطلاع سلطان نور الدین زنگی کو دی گئی
26:49سوچ میں ڈوب گئے وہ اس فتنہ گر سے ہمیشہ کے لیے نجات حاصل کرنا چاہتے تھے
26:54اور یہ کام ذراب بھی مشکل نہیں تھا
26:56کہ چند سپاہی گرجہ میں داخل ہوتے اور سینڈ کو پکڑ کر سلطان کی خدمت میں پیش کر دیتے
27:02مگر اہل ایمان اپنے اصولیں سے مجبور تھے
27:05آخر سلطان عادل کی ذہنی کشمکش کو یوسف نے اپنی ذہانت سے دور کیا
27:10آپ اپنے ایک غیر مسلح سپاہی کو عیسائیوں کے عبادت خانے میں بھیجیں
27:15وہ سپاہی راہب کو سلطان عادل کی خدمت میں حاضر ہونے کا حکم دے
27:19یوسف نے اپنی تجویز کی وضاحت کرتے ہوئے کہا
27:22اگر اس نے میرا حکم مانے سے انکار کر دیا
27:25سلطان نور الدین زنگی کے لہجے میں تشفیش جھلک رہی تھی
27:28اور وہ ایار و فتنگر ایسا ہی کرے گا
27:31کیونکہ وہ میرے سامنے پیش ہونے کی سزا خوب جانتا ہے
27:34یہ کہتے کہتے سلطان نور الدین زنگی کے چہرے سے شدید غصے کا رنگ جھلکنے لگا تھا
27:41پھر آپ اس مکار انسان پر خوراک اور پانی بند کر دیں
27:44یوسف نے دوسری تجویز پیچ کرتے ہوئے کہا
27:48اگر گرجہ میں کھانے پینے کا کچھ سامان ہوا بھی تو
27:51دو چار دن میں ختم ہو جائے گا
27:52پھر وہ لوگ بھوک و پیار سے مجبور ہو کے خود ہی عبادت خانے سے باہر نکل آئیں گے
27:57اور اپنے آپ کو سلطانی سپاہیوں کے حوالے کر دیں گے
28:01بالفرض محال
28:02سینڈ مارلوف خود کو گرفتاری کے لیے پیش نہیں کرتا
28:05تو خالی شکم اور خوش گلہ دونوں مل کر اسے مار ڈالیں گے
28:09اس طرح آپ کی ذات گرامی پر ایک پادلے کے قتل کا الزام بھی نہیں آئے گا
28:14اور وہ فتنہ بھی ہمیشہ کے لیے زیر زمین دفن ہو جائے گا
28:18سلطان نے سر دربار یوسف کی ذہنت کی بہت تعریف کی
28:22اور اس کی انتہائی مدبرانہ تجویز سے اتفاق کیا
28:26پھر ایسا ہی ہوا
28:28جس کی طرف یوسف نے اشارہ کیا تھا
28:30گرجہ گھر میں مقتصر سے پانی کے زخیرے کے سوا کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا
28:35سینڈ مارلوف کے خدمتگاروں نے بڑی مشکل سے پانی پی کر ایک رات گزاری
28:39پھر جب بھوکی شدہ سے ان کے پیٹ جلنے لگے
28:42تو وہ سینڈ مارلوف سے رو رو کے عرض کرنے لگے
28:44مقدس پیشوا
28:46ہم سے یہ بھوک برداشت نہیں ہوتی
28:48اس لیے ہم خود کو مسلمانوں کے حوالے کر رہے ہیں
28:51سینڈ مارلوف اپنے خدمتگاروں کو مقدس باپ اور بیٹے کی قسمیں دیتا رہا
28:56اگرچہ ان لوگوں کی سماد بحال تھی
28:58لیکن وہ بہرے بن کر عبادتگاہ سے نکل گئے
29:02سلطان کے سپاہیوں نے عیسائی راہب کے خادموں کو گرفتار کرنا چاہا
29:06مگر ان لوگوں نے رو رو کر کہا
29:08ہم زنجیروں کے بغیر ہی اسیر ہو چکے ہیں
29:11تمہیں تمہارے پیغمبر کا واسطہ پہلے ہمیں کھانا کھلا دو
29:15پھر جہاں چاہو لے چلو
29:17پتل کر دو یا زندان میں ڈال دو
29:19پھر دوسرے دن سینڈ مارلوف بھی بھوک سے نڈال ہوکا گر جا گھر سے باہر نکل آیا
29:23زوفو ناتوانی کے باعث اس کے قدم لڑکھا رہے تھے اور آنکھوں کے سامنے اندھیرہ بھی چھا رہا تھا
29:29اس نے بھی اپنے خدمتگاروں کی طرح مسلمان سپاہیوں سے صرف ایک روٹی کی بھیک مانگی
29:34پھر سلطان نوردین زنگی نے
29:37عیسائی راہب سینڈ مارلوف کو زندان کے اس کمرے میں پہنچا دیا
29:41جہاں ایڈیسا کا سابق عیسائی حکمران جوسلن سانی تین سال سے ایک اندھے قیدی کی زندگی گزار رہا تھا
29:48جوسلن سانی نے انسانی قدموں کی آہار سنی تو وہ چونک کر اٹھ بیٹھا
29:53اور اس نے انتہائی بیچارگی کے لہجے میں آنے والے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
29:57اچھا ہوا تم آگئے فوراں آ جاؤ اور اپنے سلطان کو خبر دو کہ مجھے رات سے تیز بخار ہے
30:05سلطان تمہارے سامنے ہیں
30:07اس تک تمہاری بیماری کے خبر پہنچ گئی
30:10سلطان نوردین زنگی نے انتہائی نرم لہجے میں کہا
30:13کچھ دیر بعد ترباری طبیب تمہارا مرز تشخیص کر کے دوہ پہنچا دے گا
30:18فیل حال میں تمہاری تنہائی کا علاج کرنے آیا ہوں
30:21تمہارے مقدس پیشوہ سینڈ مارلوف میرے ہمراہ ہیں
30:25آج سے یہ تمہارے ساتھ اسی کمرے میں رہیں گے
30:28سلطان نوردین زنگی تیزی کے ساتھ کمرے سے نکل گئے
30:32اور دروغہ زندان نے قید خانے کا دروازہ بند کر دیا
30:35جوسلن سانی اور سینڈ مارلوف گرلے مل کر بہت دیر تک روتے رہے
Comments

Recommended