- 4 months ago
Islami tareekh ka janbaaz sipahi
Category
😹
FunTranscript
00:27।
00:30,
00:30,
00:31.
00:31.
00:31.
00:31.
00:33.
00:33.
00:33Joseph comes with a lot of answers,
00:35He said,
00:36He said,
00:38He said,
00:40He said,
00:44He said,
00:45He said,
00:50He said,
00:53He said,
00:56He said,
00:57He said,
00:58his husband, he had a entire death, but his body was against the same and being placed.
01:05He would be aищable man!
01:07But his body couldn't be he?
01:11He could have the whole heart of his eyes and his eyes, but he could not see it.
01:19And he did this whole thing.
01:24ڈیوپ اور اساد الدین کا خیال تھا کہ یوسف کی شکل میں ان کا ایک بازو کمزور ہو گیا ہے
01:30وقت اپنی مقررہ رفتار سے گزرتا رہا یہاں تک کہ یوسف سولہ سال کا ہو گیا
01:35اس کے خد و خالد دلکشت تھے مگر جسم میں سپاہیانہ جھلک نظر نہیں آتی تھی
01:41مذہبی تعلیم کے ساتھ یوسف صلاح الدین کو شیر و شاعری سے بھی بہت زیادہ دلچسپی تھی
01:46اس لیے اس کا طرز گفتگو نرم و شیری اور بڑی حد تک شاعرانہ تھا
01:51وہ مناظروں کی مجلسوں میں بڑے حضوق و شوق کے ساتھ شریک ہوتا
01:55اور علماء کی منطقی بحث سن کر لطف اندوز ہوتا
01:58پھر ایک دن عجیب واقعہ پیش آیا جس نے یوسف کی تمام عادتوں کو یکسر بدل دیا
02:05ایک دن یوسف اپنے استاد گرامی قاضی ابن عرصوں کی خدمت میں حاضر تھا
02:10کہ سلطان نور الدین زنگی قاضی صاحب سے ملنے ان کی درزگاہ تشریف لائے
02:15یوسف صلاح الدین کی ظاہری شخصیت نے سلطان موصف کو بہت زیادہ متاثر کیا
02:20شام کی حکمران کے ذہن میں بار بار ایک ہی خیال اپڑتا تھا
02:25کہ یہ کوئی غیر معمولی جوان ہے
02:28پھر جب سلطان کو یہ معلوم ہوا کہ یہ دلکش شخصیت کا مالک نوجوان
02:32اس کے سپہ حسالار نجم الدین ایوب کا بیٹا ہے تو اس کا تاثر گہرا ہو گیا
02:38پھر جب سلطان نور الدین زنگی قاضی ابن ارسوں سے امور مملکت پر طویل گفتگو کر کے رخصت ہونے لگے
02:44تو انہوں نے یوسف صلاح الدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
02:48تم پابندی کے ساتھ ہمارے دربار میں حاضری دیا کرو
02:51نجم الدین ایوب کے گھر میں یہ خبر بڑی مسررت کے ساتھ سنی گئی
02:56کہ اس کے چھوٹے بیٹے یوسف صلاح الدین کو نور الدین زنگی نے اپنے دربار میں حاضر ہونے کا حکم
03:01دیا ہے
03:02قدرت یہ موقع کسی کسی خوش نصیب کو دیتی ہے کہ خود حاکیم وقت اسے طلب کرے
03:08ورنہ بہت سے لوگ تو اسی حسرت میں مر جاتے ہیں کہ وہ حکمران کے دروازے تک ہی پہنچ جائیں
03:14نجم الدین ایوب نے سولہ سالہ یوسف کو نصیحت کرتے ہوئے کہا
03:18قسمت نے تمہیں ایک سنہری موقع فرہام کر دیا ہے
03:21اب یہ تم پر منحصر ہے کہ تم اس سے کس قدر فائدہ اٹھاتے ہو
03:25یوسف نے حیرت سے باپ کی طرف دیکھا
03:28فائدہ اٹھانے سے آپ کی کیا مراد ہے بابا محترم
03:32یہی کہ حاکم کے مزاج کو پہچانو
03:34اور ہر وقت اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوششوں میں لگے رہو
03:37تاکہ ایک دن بڑے منصب پر پہنچو
03:39اور بڑے جاگیدار بن جاؤ
03:42بابا محترم
03:43مجھے یہ دربار داری کی رسمیں
03:46اور مساحبت کے یہ انداز پسند نہیں
03:48یوسف نے انتہائی باوقار لہجے میں جواب دیا
03:52میں علماء کی مجلسوں اور کتب خانے کے پرسکون ماحول کا دل دادا ہوں
03:58بیٹے کا جواب سن کر نجم الدین حیرت زدہ ہو گیا
04:00تو پھر کیا تم سلطان کے دربار میں حاضری نہیں دو گے
04:04میں دربار میں حاضری دوں گا
04:06مگر اس لالچ میں نہیں کہ مجھے بڑا عہدہ و منصب اور جاگیریں حاصل ہو
04:11یوسف کے لہجے سے عالمانہ شان جھلک رہی تھی
04:14کہ آخر وقت قاضی ابن عرسون جیسے عالم کا ممتاز شاگر تھا
04:18میں صرف اس لیے دربار میں جاؤں گا
04:21کہ سلطان عماد الدین زنگی مرہوم کے ہمارے گھرانے پر بڑے احسانات ہیں
04:26یہ کہہ کر یوسف صلاح الدین چلا گیا
04:29بیٹے کی اس جواب میں نجم الدین کو مزید حیرت میں مبتلا کر دیا
04:34آپ کیا سوچ رہے ہیں
04:35زبیضہ نے شہر کو خیالات میں گم پا کر پوچھا
04:38تم نے اپنے بیٹے کا جواب سنا
04:41نجم الدین ایوب کے لہجے سے ہلکی سی تلقی جھلک رہی تھی
04:44میں تو بہت خوش ہوئی اس لیے کہ مجھے اپنے بیٹے سے اسی جواب کی امید تھی
04:49زبیضہ کے لہجے سے انتہائی مسارت کا اظہار ہو رہا تھا
04:53آپ نے یوسف کی شدہ تے احساس دیکھی
04:56اور اس کے جذبہ غیرت کا اندازہ کیا
04:59اگرچہ وہ اس فقط بہت کم سن تھا
05:02لیکن اسے ابھی تک سلطان مرہوم کے احسانات یاد ہیں
05:08میں اس بات سے کب انکار کر رہا ہوں
05:10نجم الدین ایوب کا لہجہ ہے نہایت خوشک تھا
05:13ایک باپ کی دلی خواہش ہوتی ہے
05:16کہ اس کا بیٹا انچے سے انچا مقام حاصل کرے
05:18لیکن یوسف کے جواب نے مجھے بہت مایوس کیا ہے
05:22آخر اس نے ایسی کون سی بات کہہ دی
05:24جسے سن کر آپ اپنے دل میں گرانی محسوس کر رہے ہیں
05:28زبیدہ کے لہجے سے صاف جھلک رہا تھا
05:30کہ وہ اپنے بیٹے یوسف صلاح الدین کی طرف داری کر رہی ہے
05:32میں اپنے اس بیٹے میں نوجوانوں جیسا جوش نہیں دیکھتا
05:36نجم الدین ایوب کا لہجہ بدستور تلخ تھا
05:40اس کے اندر ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کی تڑپ نظر نہیں آتی
05:44وہ سولہ سال کی عمر میں بوڑھوں جیسا نظر آتا ہے
05:48ہر وقت کھویا کھویا اور دنیا سے بیزار
05:51کتابوں نے اسے کہیں کا نہیں رکھا
05:53یہ کہہ کر نجم الدین ایوب چلا گیا
05:56اور زبیدہ اپنے بیٹے کی سر بلندی کیلئے دعائیں کرنے لگی
06:01جب پہلے دن یوسف سلطان نور الدین زنگی کے دربار میں داخل ہوا
06:05تو اسے سلطان کے حکم پر عمرہ کی سب سے اگلی قطار میں بٹھائے گیا
06:10سلطان کے سارے عمرہ تجربہ کار بھی تھے
06:13اور کسی حد تک سن رسیدہ بھی
06:14ان میں سے کوئی امیر بھی چالیس سال سے کم نہیں تھا
06:17اس لیے ان تمام سرداروں نے ایک سولہ سالہ نوجوان کو
06:22اپنی صرف میں بیٹھا دیکھ کر شدید حیرت کا اظہار کیا
06:24ان میں امیروں میں ایک شخص ابن مرکوم بھی تھا
06:28جو فطرتاً حاسد اور کینہ پرور تھا
06:30اس نے یوسف کو انتہائی ناپسندیدہ نظروں سے دیکھا
06:34اور دل ہی دل میں سلطان نور الدین زنگی کے اس کرم نوازی پر پیچھو تاب کھانے لگا
06:39مگر یوسف درباری عمرہ کے جذبات اور قیاس آرائیوں سے بے نیاز خاموشی سے اپنی نشست پر بیٹھا رہا
06:46پھر یوں ہوا کہ گزرتے دنوں کے ساتھ سلطان نور الدین زنگی یوسف کے قریب ہوتا چلا گیا
06:52یہ صورتحال دیکھ کر دوسرے عمرہ تو خاموش رہے
06:56مگر امیر ابن مرکوم سے برداشت نہیں ہو سکا
06:59اور ایک دن وہ تنہائی میں سلطان سے عرض کرنے لگا
07:03آخر آپ اس نو عمر لڑکے میں ایسی کونسی صلاحیت پاتے ہیں
07:07جس کے باعث دوسرے عمرہ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے
07:10سلطان نے بڑی حیرہ سے امیر ابن مرکوم کی طرف دیکھا
07:14ہم نے کسی امیر کی حق تلفی کی ہے
07:17سلطان کی آواز معمول سے زیادہ تیز تھی
07:19سلطان سے زیادہ ریایہ کے حقوق ادا کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے
07:23امیر ابن مرکوم نے انتہائی خوش آمدانہ لہجے میں کہا
07:28ہم نے اپنی کسی امیر کو اس منصب سے ہٹایا
07:31اب کی بار سلطان نور الدین زنگی کی آواز میں تیزی کے ساتھ تلخی بھی شامل تھی
07:36ابن مرکوم حاسد اور کینہ پرور ہونے کے ساتھ انتہائی شاتر و ایار انسان بھی تھا
07:41اس نے فورا نہیں سلطان کے بگڑے ہوئے تیوروں کا اندازہ کر لیا
07:45اس لئے لہجہ بدل کر بولا
07:47سلطان محترم سے زیادہ اپنے عمرہ پر بارش کرم کرنے والا اور کون ہوگا
07:52پھر وہ کون لوگ ہیں جو ہماری بے توجہی کی شکایت کر رہے ہیں
07:56سلطان نور الدین زنگی کے لہجے سے ناغواری کا رنگ جھلک رہا تھا
08:00وہ لوگ سامنے کیوں نہیں آتے
08:02کیا انہوں نے تمہیں اپنا صفیر بنا کر بھیجا ہے
08:05سلطان کی آواز مزید تلخ ہو گئی تھی
08:07ابن مرکوم گھبرا گیا
08:09مگر اس کے ایار ذہن نے فورا نہیں نئی کروٹ لی اور بگڑی ہوئی بات کو سوارنے کی کوشش کی
08:15وہ سلطان کے روب و جلال سے ڈڑتے ہیں
08:18اس لئے سامنے بات کرنے کی ہمت نہیں رکھتے
08:22رہا یہ غلام
08:23تو یہ دل و جان سے سلطان زیشان کے ہر فیصلے کو قبول کرتا ہے
08:29بظاہر بات تو ختم ہو گئی تھی
08:30مگر ابن مرکوم کے دل میں یوسف کی طرف سے گرہ پڑ گئی تھی
08:34وہ اس خاموش طبعہ نوجوان کو اپنے لئے خطرہ سمجھ رہا تھا
08:39پھر ایک دن سلطان نور الدین نے تنہائی میں یوسف سے پوچھا
08:43کیا تم چوگان کھلنا جانتے ہو
08:46سلطان محترم مجھے شہ سواری کا فن آتا ہے
08:49مگر اس کھیل سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں
08:53یوسف نے عدو احترام کے ساتھ عرض کیا
08:55میں چوگان کا دلدادہ ہوں
08:57سلطان نور الدین نے پرجوش لہجے میں کہا
09:00یہ مردانہ کھیل بھی ہے
09:02اور مجاہدین کے لئے ایک قسم کی عبادت بھی
09:04اس لئے تم بھی چوگان کھیلا کرو
09:08سلطان نور الدین زنگی کو عشق کی حد تک چوگان کی کھیل سے دلچسپی تھی
09:12ان کی اس دلچسپی کو دیکھ کر
09:14ایک دن کسی بزرگ نے انہیں بھرے دربار میں ٹوکتے ہوئے کہا تھا
09:18کسی مسلمان حاکم کو یہ زیب نہیں دیتا
09:21کہ وہ ایک فضول کام میں اپنا قیمتی وقت برباد کرے
09:25سلطان نور الدین نے بڑے صبر و تحمل کے ساتھ
09:28بزرگ کے اس سوال کو سنا
09:29اور پھر نہایت نرم و شیرین لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہا
09:33اللہ شاہد ہے کہ میں اس کھیل کو دل لگی کے واسے نہیں کھیلتا
09:37چوگان میرے لئے ایک ورزش ہے
09:40کیونکہ ایک مجاہد ہمیشہ جنگ میں مصروف نہیں رہتا
09:43جب میں یہ کھیل کھیلتا ہوں
09:44تو میرا گھوڑا کسی دشمن پر اچانک حملے کے لئے تیار رہتا ہے
09:48بزرگ نے بڑی حیرت کے ساتھ سلطان نور الدین زنگی کا جواب سنا
09:52اور بڑے والہانہ انداز میں بولے
09:54اللہ سلطان کی عمر دراز کرے
09:57شاید ہی کسی حاکم نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے یہ کھیل کھیلا ہو
10:02یہی وجہ تھی کہ سلطان نور الدین نے
10:04یوسف کو چوگان کھیلنے کا مشورہ دیا تھا
10:06قدرتی طور پر یوسف بہترین شہ سوار تھا
10:09نتیجتا اس نے چند ماہ کی محنت کے بعد
10:12چوگان جیسے مشکل کھیل میں بھی مہارت حاصل کر لی
10:15پھر ایک دن سلطان نے اپنے تمام امیروں کو
10:18میدان میں جمع کر کے حکم دیا
10:19تم لوگ اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرو
10:22اور ایک دوسرے پر سبقت لجانے کی کوشش کرو
10:25بس یوں سمجھ لو کہ آج تمہارے فن سپاہ گری کا امتحان ہے
10:30سلطان نور الدین نے ایک خاص حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے
10:33اپنے عمرہ کے دلوں کو جوش اور ولولے سے بھر دیا تھا
10:37یوسف بھی چوگان کے اس مقابلے میں شریک تھا
10:40اپنے امیروں کو حکم دینے کے بعد
10:43سلطان اس نو عمر کھلاری سے بھی مخاطب ہوا
10:46یوسف آج تمہاری بھی آزمائش ہے
10:50پھر مقابلہ شروع ہوا
10:52اور تھوڑی ہی دیر میں یہ بات ثابت ہو گئی
10:55کہ سلطان نور الدین زنگی کا کوئی سالار یا امیر
10:59اس کھیل میں یوسف یعنی سلاہ الدین کی برابری نہیں کر سکتا
11:04مقابلہ ختم ہوا اور تمام عمرہ نے بیقت زبان یوسف کی تعریف کی
11:08اور سلطان نور الدین کی پیش بینی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا
11:12ہماری آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ یہ نوجوان آگے چل کر بڑا سپہ سالار ثابت ہوگا
11:19سلطان نور الدین نے بڑی محبت سے یوسف کی کاندے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
11:23میری نظریں جس منظر کو دیکھ رہی ہیں وہ تمہاری نگاہوں سے پوشیدہ ہے
11:27یوسف کے لیے سلطان کی زبان سے یہ ستائشی الفاظ سن کر امیر ابن مرکون کے سینے میں
11:34حسد کی آگ پوری شدہ سے بھڑک اٹھی اور اس کا سرخ چہرہ کچھ دیر کے لیے سیاہ پڑ گیا
11:41ان دنوں نجم الدین ایوب شہر سے باہر تھا
11:44پھر جب وہ واپس آیا اور بیوی نے اسے چوگان کی اس مقابلے کی تفصیلات سنائی
11:49تو وہ فرد مصررہ سے چیخ اٹھا
11:52مرحبا میرے بیٹے یوسف مرحبا تمہیں یہ شاندار کامیابی مبارک ہو
11:56یہ کہہ کر نجم الدین ایوب نے بیٹے کی کشادہ پشانی کو طویل بوسا دیا
12:01اب مجھے یقین ہے کہ تم نے میری نصیحت کو دل سے قبول کر لیا ہے
12:06پھر شام کے تمام امیروں اور وزیروں نے یہ منظر بڑی حیرت سے دیکھا
12:11کہ سلطان نور الدین یوسف کے ساتھ چوگان کھیل رہے ہیں
12:15ابتدا میں یوں ہوا کہ یوسف سلطان سے آگے نکل جانا چاہتا تھا
12:20مگر سلطان کے احترام کے پیش نظر وہ ہر بار اپنے گھوڑے کی لگا میں کھینچ لیتا تھا
12:26کچھ جیرے تک تو سلطان اس طرز عمل کو سمجھنے سے قاسر رہے
12:30مگر پھر انہیں اندازہ ہو گیا کہ یوسف قصدا یہ حرکت کر رہا ہے
12:34اس خیال کے آتے ہی سلطان نور الدین زنگی نے ڈانٹے ہوئے کہا
12:38یوسف اس وقت میں تمہارا سلطان نہیں سخترین حریف ہوں
12:42اپنی پوری صلاحیتوں اور توانائیوں کے ساتھ میرا مقابلہ کرو
12:47سلطان کا حکم سنتے ہی یوسف نے اپنا گھوڑا آگے بڑھایا
12:50اور والی شام کو مقابلے میں شکست دے دی
12:53یہ سلطان نور الدین کا عالی ظرفی تھی کہ اپنی شکست پر نراض ہونے کے بجائے انتہائی مسررت کا اظہار
13:00کیا
13:00اور انعام کے طور پر یوسف کو ایک قیمتی خلط عطا کی
13:04پھر ایک دن یوسف سلطان نور الدین زنگی کے ساتھ چگان کھیل رہا تھا
13:09کہ ایک خوفناک حادثہ پیش آیا
13:11یوسف سلطان کے گھوڑے کا تاقب کر رہا تھا
13:14دونوں گھوڑے اپنی پوری رفتار میں تھے کہ یکا یک یوسف کے گھوڑے کو ٹھوکر لگی
13:19اور وہ اندھے مو زمین پر گر پڑا
13:21اس کے ساتھ ہی یوسف بھی دور تک گھسٹتا چلا گیا
13:24میدان کے کنارے کھڑے ہوئے خدمتگار دور پڑے
13:28سلطان نور الدین زنگی نے بھی فوراں ہی اپنے گھوڑے کی لگامیں کھیچ لی
13:32اور بھاگتے ہوئے یوسف کے پاس پہنچے
13:41کہ گھوڑے کے ساتھ سوار کو بھی شدید جسمانی نقصان پہنچے گا
13:45اور دونوں کی جانے ضائع ہو جانے کا اندیشہ تھا
13:48مگر لوگوں کے سارے اندیشہ غلط ثابت ہوئے
13:51جب سلطان نور الدین زنگی گھبرائے ہوئے یوسف کے قریب پہنچے
13:54تو وہ زمین سے اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا
13:57سلطان نے سہارا دیا تو فوراں اٹھ کے کھڑا ہو گیا
14:00اور مسکراتے ہوئے کہنے لگا
14:03میں اللہ کے فضل و کرم اور سلطان عادل کی دعاوں سے بلکل ٹھیک ہوں
14:07سلطان نور الدین زنگی بڑی بیچانی کے ساتھ
14:10یوسف کے پورے جسم کا جائزہ لے رہے تھے
14:12بڑی عجیب بات تھی
14:14کہ اتنے بڑے حادثے میں یوسف کے ہاتھوں اور پشت پر معمولی زخم آئے تھے
14:18مگر اس کا دلکس چہرہ مکمل طور پر محفوظ تھا
14:22سلطان نور الدین زنگی کی یہ غیر معمولی پریشانی دیکھ کر
14:26صاف محسوس ہو رہا تھا
14:27کہ یوسف یا تو ان کا حقیقی چھوٹا بھائی ہے یا پھر بیٹا
14:31سلطان کی یہ توجہ اور استراب دیکھ کر یوسف کی آنکھوں میں آنسو آ گئے
14:36سلطان محترم
14:38میں آپ کے اس خصوصی التفات کو کبھی فاراموش نہ کر سکوں گا
14:41اور میں اللہ تعالیٰ کی اس انعائد خاص کو بھی کبھی نہ بھلا سکوں گا
14:45کہ اس نے ایک انتہائی خوفناک حادثے کو سلامتی کے ساتھ ٹال دیا
14:50سلطان نور الدین نے نہائید پرسوز لہجے میں کہا
14:53تم میرے دستو بازو ہو یوسف
14:56پھر یوسف گھوڑے کی طرف متوجہ ہوا
14:59جس کی ہڈیاں تو سلامت تھی
15:01مگر پورا بدن زخموں سے چور تھا
15:03یوسف جھکا اور آہستہ آہستہ گھوڑے کی پشت پر ہاتھ پھیننے لگا
15:08میرے وفادار ساتھی
15:10میں تجھ سے شرمندہ ہوں کہ تجھے ناحق میری وجہ سے یہ تکلیف پہنچی
15:13یہ کہتے کہتے یوسف کی آنکھوں میں آنسو آ گئے
15:17سلطان نور الدین نے بڑی حیرہ سے یہ منظر دیکھا
15:20آج پہلی بار سلطان کو اندازہ ہوا کہ یوسف کس قدر حساس نوجوان ہے
15:26بیٹے کی جان بچانے کی خوشی میں نجم الدین ایوب اور زبیدہ نے غریبوں میں کھانا اور کپڑے تقسیم کیے
15:32اس موقع پہ سلطان نے خصوصی دربار آراستہ کیا
15:36اور یوسف کو اپنے تخت کے برابر کرسی پر بٹھایا
15:40پھر درباری موررک اماد کاتب نے کھڑے ہو کر یوسف کے لیے یہ دعائیہ اشار پڑھے
15:47تم کسی امدہ گھوڑے کے لڑکڑانے پہ حیرت کا اظہار نہ کرو
15:52جبکہ اس کی پشت پر تم جیسا مرد سخی سوار ہو
15:56تمہاری گھوڑی کی نظر سلطان نور الدین زنگی پر پڑھی
15:59تو وہ سلام کرنے کے لیے جھکا
16:01اور تمہاری بخشش کا چھوٹا سا حصہ یہ ہے
16:05کہ اس گھوڑے کی لگزش کو ماف کر دو
16:08کیونکہ بڑا بخشش کرنے والا لگزش کرنے والے سے درگزر کیا کرتا ہے
16:13اور تم حاصدوں کی آنکھ اور ان کی برائی سے بچو
16:17میری دعا ہے کہ تم پر کسی کی نظر بد اثر نہ کرے
16:20اور تم نور الدین شاہ عالم کے لیے سلامت رہو
16:24اور ہر قسم کے حادثات میں ان کے معاون و مددگار رہو
16:30سلطان نور الدین یہ اشعار سن کر بہت خوش ہوئے
16:33پھر درباری مورخ اماد کاتب کو قیمتی خلط عطا کی گئی
16:38اور اس کے ساتھ ہی یوسف کو مساہب خاص کا درجہ حاصل ہو گیا
16:42سلطان کے اس اعلان سے اکثر درباری
16:45یوسف کی قسمت پر رشک کرنے لگے
16:47مگر امیر ابن مرکوم کی حسد کی آگ کچھ اوری شدہ سے بھڑکنے لگی
16:54جوسلین سانی جسے نور الدین زنگی نے اندھا کر کے حلب کے قید خانے میں ڈال دیا تھا
16:59وہ دن راز زندان کے دیواروں سے سر ٹکراتا اور گریہ زاری کرتا رہتا تھا
17:05اے خداوند خدا
17:07تو نے سلیب کے بندوں کو کیسا تنہا چھوڑ دیا ہے
17:10جوسلین سانی کی یہ فریاد کچھ دیر تک حلب کے قید خانے میں گونچتی رہتی
17:15اور پھر دم توڑ دیتی
17:17بظاہر یہ فتنہ گرر ہمیشہ کے لیے ناکارہ ہو چکا تھا
17:20مگر عیسائی دنیا نے سلطان نور الدین زنگی کے ہاتھوں ایڈیسا کی عبرتناک شکست کو فرموش نہیں کیا تھا
17:26پھر اچانک سلیبیوں میں ایک اور فتنہ گرر نمودار ہوا
17:30جو اسلام دشمنی میں گارڈ فریے جوسلین سانی اور بارل ونڈ سے بھی کہیں آگے کا تھا
17:37بارل ونڈ کا مقتصر تعرف یہ ہے کہ وہ شاہ یروشلم گارڈ فریے کا چھوٹا بھائی تھا
17:42گارڈ فریے کی شدید خواہش تھی کہ وہ مسلمانوں کا وجود صفحہ حسنی سے مٹا دے
17:47اور پورے مشرق کو اپنے گھوڑے کے سموں سے روند ڈالے
17:52مگر اس کا یہ ارمان پورا نہ ہو سکا
17:55اور اٹھارہ جولائی گیارہ سو عیسفی کو فرشتہ اجل نے اس کی سانسیں غصب کر لیں
18:01مرنے سے ایک دن پہلے گارڈ فریے نے اپنے چھوٹے بھائی
18:05بارل ونڈ کو تنہائی میں مطلب کرتے ہوئے کہا
18:07میرے عزیز بھائی ایسا لگتا ہے کہ میری سانسوں کا شمار پورا ہو چکا ہے
18:12گارڈ فریے کی آنکھوں سے آنسو روا تھے
18:15برادر مہدرم طبیبوں کو امید ہے کہ آپ جل سے ہتیاب ہو جائیں گے
18:19بارل ونڈ نے بڑے بھائی کو تسلیق دیتے ہوئے کہا
18:22مجھ سے جھوٹ مت بولو بارل ونڈ
18:25شاہ یروشلم گارڈ فریے کی آواز نقاح سے کام رہی تھی
18:28اب زیادہ وقت نہیں ہے
18:30اس لئے پورے ہوش و حواظ کے ساتھ میری بات سنو
18:34بارل ونڈ ہمتن گوش ہو گیا
18:37میں ساری دنیا پر مسیحیت کا پرچم لہرانا چاہتا تھا
18:42مگر افسوس وقت میں مجھے محلت نہیں دی
18:44گارڈ فریے کمزوری کے باعث رک رک کر بول رہا تھا
18:48مجھے یقین ہے کہ میرے مرنے کے بعد
18:51یروشلم کے عیسائی تمہیں اپنا بادشاہ منتخب کر لیں گے
18:55پھر جب تم تخت نشین ہو جاؤ
18:57تو میرے ناتمام خواب کی تعبیر تلاش کرنا
19:01آپ کا خواب کیا ہے برادر مدرم
19:03بارل ونڈ نے اداس لہجے میں پوچھا
19:07ہمیں کبھی مذہب کے ماننے والے سے کوئی دشمنی نہیں ہے
19:11گارڈ فریے کی آواز آہستہ آہستہ مدھم ہوتی جا رہی تھی
19:14بس مسلمان ہی ہمارے پہلے اور آخری دشمن ہیں
19:18اس لئے کہ وہ یسو مسیح کو خدا کا بیٹا نہیں مانتے
19:21تم پر فرض ہے کہ تم مسلمانوں سے اپنے پیغمبر کی توہین کا ایسا بدلہ لو
19:26کہ اسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے
19:29بارل ونڈ نے بڑے بھائی کی کامتے ہوئے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر وعدہ کیا
19:33کہ وہ مسلمانوں کے قصر اقتدار کو ڈھا کر ہی دم لے گا
19:37اور آخری نصیحت
19:39گارڈ فریے کی آواز ڈوبنے لگی
19:41اپنے دشمن کو کبھی معاف نہ کرنا
19:44ایک حکمران کے لیے اس سے بڑی ہماکت کوئی اور نہیں ہو سکتی
19:49کہ وہ اپنے دشمن کو اماں بخش دے
19:51گارڈ فریے نے مسلمانوں کے خلاف اپنے دل میں بھرا ہوا زہر کا آخری قطرہ بھی اگل دیا
19:57اور دنیا سے رخصت ہو گیا
20:00گارڈ فریے کی موت کے بعد
20:02یروشلم کی عیسائیوں نے اس کے چھوٹے بھائی بارل ونڈ کو اپنا باشا مندقب کر لیا
20:07سات دن تک یروشلم کی فضائیں گارڈ فریے کے غم سے سوگوار رہیں
20:11پھر بارل ونڈ نے چالیس دن تک اپنا جشن تاش پوشی انتہائی دھوم دھام سے منایا
20:16کہ دیکھنے والے حیر زدہ رہ گئے
20:18شاہی محل میں شراب کی نہریں جاریں تھی
20:21اور حسین رقصائیں عیسائی عمرہ کا دل بہر آ رہی تھی
20:25پھر جب یہ جشن مسررت ختم ہوا
20:28تو اسے اپنے بھائی گارڈ فریے کی وسیعت یاد آئی
20:30پھر وہ سلیبیوں کے ایک کلشکر جرار کے ساتھ
20:33توسیر سلطنت کا جنون لے کر یروشلم کی حدو سے بہا نکلا
20:38چند سالوں کے اندر بارڈ ونڈ نے حیفہ، بسیان، ارسوف، فیساریا، سور، اککہ، ترابلس اور بیروت فتح کر لیا
20:48ان فتوحات کے دوران میں سلیبی لشکر نے مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے
20:53آسمان کی آنکھ شاید ہی کبھی ایسے لرزہ خیز اور دردناک مناظر دیکھ سکے گی
20:59افت ماب، مسلمان خواتین کے سرعام آبرو ریزی تو عیسائیوں کے لیے ایک دلچسپ تفریح تھی
21:06مگر سب سے زیادہ ان کے لیے لذت آمیز تماشا یہ تھا
21:10کہ وہ دودھ پیتے بچوں کو ماں کی گوٹ سے چھین لیتے تھے
21:13پھر ان معصوم کو ہواوں میں اچھال کر اپنی تلواروں پر روکنے کی کوشش کرتے تھے
21:18نتیجہ تنسلیبیوں کی شمشیریں ان شیر خوار بچوں کے جسموں میں اتر جاتی تھیں
21:23اور وہ تڑپ میں لگتے تھے
21:25بارڈوین کے وحشی سپائی کچھ دیر تک یہ خون رنگ تماشا دیکھتے رہتے تھے
21:29پھر بچوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ان کی ماں کے سامنے ڈال دیتے تھے
21:33اور پھر قہ قہ لگاتے تھے
21:35اس قدر کہ بہت دیر تک گرد و نوا کی فضاء اس شور سے گونجتی رہتی تھی
21:42سلیبیوں کے اس بہی مانا فیل پر فرانسیسی موریخ میں چارڈ لکھتا ہے
21:46عیسائیوں کی آنکھوں پر تاثب نے دبیز پٹی باندھ رکھی تھی
21:50انہوں نے سلیب کے جھنڈے تلے ایسے ہولناک جرائم کیے
21:54کہ انسانی فطرت ان کے تصور سے بھی لرز اٹھتی ہے
21:59بارڈوین اپنے بھائی گارڈ فریے کی وسیعت پر پورا پورا عمل کر رہا تھا
22:03پھر جب وہ ایک فاتح کی حیثے سے ترابلس میں داخل ہوا
22:07تو حضب روایت کسی مسلمان کو زندہ نہیں چھوڑا
22:10جب اہل ایمان کے خون سے ترابلس کی گلی کونچے بھر گئے
22:14تو بارڈوین مسلمانوں کے عظیم کتب خانے کی طرف متوجہ ہوا
22:17جس میں تین لاکھ کے قریب نادر و نایاب کتابیں تھیں
22:21اس کتب خانے کی وسط اور عظمت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے
22:25کہ سو سے زیادہ کاتب دن رات نقل میں مصروف رہتے تھے
22:29جب بارڈوین ترابلس کے کتب خانے کی طرف بڑھا
22:33تو اپنے وقت کا متاسب ترین پادری گارزن بھی اس کے ہمرا تھا
22:37پادری کے ہاتھ میں ایک جلتی ہوئی مشعل تھی
22:41اور وہ دنیا کی نہایت قیمتی اور نادر کتابوں کو آگ لگانے جا رہا تھا
22:45جب کتب خانے کے منتظم ارسلان کو سلیبیوں کے اس خوفناک ارادے کی خبر ہوئی
22:52تو وہ امارت کے صدر دروازے پر آگئے
22:54ان کے پیچھے پچاس کے قریب کاتب بھی تھے
22:58قارضی ارسلان نے اس عظیم علمی سرمائے کو بچانے کے لیے
23:02پادری گارزن کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے
23:05اور کسی فقیر کی طرح گرگڑاتے ہوئے کہا
23:07ہمیں پتا ہے کہ ہماری گردنیں تمہاری تیغے خون آشام سے محفوظ نہیں رہیں گی
23:12ہم تم سے اپنی جانوں کی سلامتی کا سوال نہیں کرتے
23:16کہ ایک دن ہمیں جانا ہی ہے
23:17مگر اس کتب خانے کے لیے تمہارے رحم کی بھیگ مانتے ہیں
23:22یہ وہ سرمایہ ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے صدیوں تک کام آئے گا
23:26اور وہ نسلیں تمہاری بھی ہو سکتی ہیں
23:28علم تو تمام انسانیت کی میراث ہے
23:32قاضی ارسلان نے علم دوستی کا حق ادا کر دیا تھا
23:35انہیں اپنی جان سے زیادہ ان یادگار تصانیف کی فکر تھی
23:38جو اہل دانش کی صدیوں کی تحقیق اور جستجو اور ذہنی کاویشوں کا نتیجہ تھی
23:43مگر جنونی پادری گارزن نے قاضی ارسلان کے تمام التجاؤں کا نہایت حقارہ سے ٹھکرا دیا
23:49اور غضبناک لہجے میں بولا
23:51ہم نے یسو مسیح سے وعدہ کیا ہے
23:53کہ ہم اس زمین پر مسلمانوں کی کسی یادگار کو قائم نہیں رہنے دیں گے
23:57پھر پادری گارزن کے اشارے پر
24:00قاضی ارسلان اور پچاس مسلمان کاتبوں کے سر قلم کر دیے گئے
24:04اس کے بعد گارزن نے آگے بڑھ کر کتب خانے کو آگ لگا دی
24:08پادری کی تقلید میں دوسرے عیسائی سپاہیوں نے بھی اپنی مشعلے روشن کر لیں
24:13اور اقل و دانش کے عظیم زخیرے پر حملہ کر دیا
24:17تین لاکھ کتابوں کے جنلے میں کئی گھنٹے لگ گئے
24:20پورا علاقہ دھویں سے بھرا ہوا تھا
24:22اور فضا میں فلیبیوں کے وحشیانہ قہ قہ گونج رہے تھے
24:26قتل و غارت کا طویل کھیل کھیل کر
24:29بارڈوین بھی دنیا سے رخصت ہو گیا
24:31پھر اس کی جگہ بارڈوین سانی تخت نشین ہوا
24:35بارڈوین سانی نے بھی گارڈ فری کی طرح
24:37مسلمانوں کے قتل عام کو عبادت کا درجہ دے دیا تھا
24:40یہ وہ بغیرت عیسائی حکمران تھا
24:43کہ ایک بار رملہ کے قیام کے دوران مسلمانوں نے پورے شہر کو گھیر لیا تھا
24:47اس صورتحال میں بارڈوین سانی کے باہر نکلنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہی تھی
24:52یہاں تک کہ وہ اپنی زندگی سے مایوس ہو چکا تھا
24:55پھر بھی اس موت کی وادی میں ایک مسلمان ہی اس کے کام آیا
24:58یہ وہ مسلمان سپاہی تھا جس پر بارڈوین نے کبھی کوئی احسان کیا تھا
25:02آخر اس مسلمان نے احسان کا بدلہ اتارنے کے لیے
25:05بارڈوین سانی کو ایک خفیہ راستے شہر سے باہر نکال دیا
25:08پھر جب بارڈوین سانی اپنی محفوظ پناہ گاہ تک پہنچ گیا
25:13تو اس نے ایک بھاری لشکر کے ساتھ رملہ پہ حملہ کر دیا
25:16جس کے نتیجے میں بے شمار مسلمان تہہ تیغ ہوئے
25:20سلیبیوں کی طاقت روز بروز بڑھتی جا رہی تھی
25:23یہاں تک کہ عیسائیوں کی چار مضبوط ریاستیں قائم ہو گئی تھی
25:28ابھی یہ سہلاب بلا کچھ اور مسلم علاقوں کو لپیٹ میں لینے والا تھا
25:32کہ اماد الدین زنگی مرہوم نے ایڈیسا میں جوسلن سانی کو شکست دے کر
25:37سلیبی فرما روا کا ایک مضبوط ستون ڈھا دیا
25:40بعد میں سلطان نور الدین نے جوسلن سانی کو اندھا کر کے
25:44ہمیشہ کے لیے اس فتنہ گر کی سادشوں کا خاتمہ کر دیا تھا
25:48ابھی دنیا بھر کے عیسائی ایڈیسا کی شکست کا ماتم کر ہی رہے تھے
25:52کہ سلیبیوں میں ایک اور فتنہ گر پیدا ہوا
25:54جو مذہبی عذبیت میں دوسرے عیسائیوں سے زیادہ صفاق تھا
25:58یہ ایک پر اسرار راہب سینٹ برناٹ تھا
26:02جو بھرگنڈی کے ایک امیر کا بیٹا تھا
26:05یکا یک برناٹ ایش و عشرت کی زندگی چھوڑ کر تاریخ دنیا ہو گیا
26:09اور ایک گار میں بیٹھ کر پندرہ سال تک عبادت کرتا رہا
26:14ایڈیسا کی شکست نے سلیبیوں کو اس قدر بدحواز کر دیا تھا
26:18کہ انہیں یروشلم کے ساتھ باقی عیسائی سلطنتیں بھی خطرات میں گھری نظر آ رہی تھی
26:23اس صورتحال کے پیش نظر عیسائی راہبوں نے گر جاؤں میں بڑی پرجوش تقریریں کی
26:29ان کے قومی غیرت کو للکارہ اور مسلمانوں کے خلاف مذہبی جذبات بھڑکانے کے سخت ترین کوششیں کی
26:35مگر ان کی ہر تدبیر رائے گاں گئی
26:38عیسائی اکثریت پادریوں کے حلقہ اثر سے نکل چکی تھی
26:42اور اس کی ایک ہی وجہ تھی کہ زیادہ تر عیسائی راہب بھی عام لوگوں کی طرح بدکارانہ زندگی بسر
26:48کرتے تھے
26:49نتیجتاً سلیبیوں کے دلوں سے اپنے مذہبی پیشواؤں کا احترام ختم ہو چکا تھا
26:54آخر عیسائی دانشمندوں کو ایک تدبیر سوچی
26:57اور وہ اس غار میں پہنچے جہاں سینٹ برناٹ اپنی عبادت میں مصروف تھا
27:03آپ کون لوگ ہیں؟
27:04تین اجنبیوں کو اپنے سامنے پا کر سینٹ برناٹ حیران ہو رہا تھا
27:08اے عظیم راہب ہم سلیب کے بندے ہیں
27:12اور آپ کو عیسائی قوم کی حالت ازار سنانے آئے ہیں
27:15ایک عیسائی دانشمند نے ریاکاری کے ساتھ اپنے لہجے کو پرسوز بناتے ہوئے کہا
27:21عیسائیت کے نام پر سینٹ برناٹ چونک اٹھا
27:25اور اس کے چہرے سے پریشانی کا رنگ جھلکنے لگا
27:28صاحبوں میں تو ایک طویل عرصے سے اس نیم تاریخ غار میں پڑا ہوں
27:32مجھے باہر کی دنیا کی کوئی خبر نہیں
27:35آپ بتائیں گے میری قوم پر کیا گزری ہے؟
27:39سینٹ برناٹ کی بات سنکے دوسرے عیسائی دانشمند نے بھی انتہائی ایاری کا مظاہرہ کیا
27:43اور رکت آمیس لہجے میں ایڈیسیا کی عیسائیوں کی زلد آمیس شکست کا حال سنانے لگا
27:49یہ علمناک واقعہ سنکر
27:51سینٹ برناٹ کا سرق و سفید چہرہ
27:54عزیت و کرب کے قبار سے ہلکا سیاہی مائل نظر آنے لگا
27:58میں ایک ناتوان راہب اپنے قوم کے کس کام آ سکتا ہوں
28:02سینٹ برناٹ ایک جذباتی انسان تھا
28:05سلیبیوں کی ہلاکت اور بربادی کی خبر سنکر اس کی آنکوں سے نمی جھلکنے لگی تھی
28:10اب آپ ہی سلیبی مقدس کو مسلمانوں کی الغار سے محفوظ رکھ سکتے ہیں
28:15تیسرے عیسائی دانشمند نے پرسوز لہجے میں کہا
28:19وہ کس طرح
28:19سینٹ برناٹ نے حیران ہو کر پوچھا
28:22عیسائیوں کے دلوں پر مسلمانوں کی ایسی حیبت چھائی ہے
28:25کہ وہ کسی طرح بھی ایڈیسا کی شکست کا بدلہ لینے پر آمادہ نہیں ہوتے
28:29پہلے عیسائی دانشمند نے سینٹ برناٹ کو الفاظ کے جال میں پھسانے کی کوشش کی
28:35میں اپنے ہم قوموں کا یہ خوف کیسے دور کر سکتا ہوں
28:38سینٹ برناٹ کی حیرت میں مزیف اضافہ ہو گیا تھا
28:42اب آپ کے واضح تقریریں ہی سلیبیوں کے سر دلوں میں انتقام کی آگ کو بھڑکا سکتے ہیں
28:47دوسرے دانشمند نے اپنی چال چلتے ہوئے کہا
28:50عیسائی دنیا میں مجھ سے بڑے عیسائی راہب موجود ہیں
28:53پھر میری کون سنے گا
28:55سینٹ برناٹ نے چند لمحوں کے سکوت کے بعد کہا
28:59عیسائیوں کے تمام مقدس پیشوا اپنا اعتبار کھو چکے ہیں
29:03اس لیے ان کی کوئی نہیں سنتا
29:05تیسرے دانشمند نے دلیل پیش کرتے ہوئے کہا
29:08سینٹ برناٹ کچھ دیر تک گہری سوچ میں ڈوبا رہا
29:12پھر عیسائی دانشمندوں سے مخاطب ہو کر بولا
29:14میں برسوں سے گوشہ نشینی کی زندگی بسر کر رہا ہوں
29:18چند لوگوں کے سوا مجھے کوئی جانتا تک نہیں
29:21پھر میری تقریریں سلیبیوں کو کیا متاثر کریں گی
29:24یہ کام آپ ہم پر چھوڑ دیں
29:27پہلے عیسائی دانشمند نے انتہائی پرجوش لہجے میں کہا
29:30انقریب پوری عیسائی دنیا آپ کے روحانی مقام کو پہچان لے گی
29:35بس ایک التجاہ ہے کہ آپ خاموشی کے ساتھ ہماری ہدایات پر عمل کرتے رہیں
29:40عیسائی دانشمندوں نے کچھ ایسی دل فریب چالیں چلیں تھی
29:43کہ سینٹ برناٹ کے دل میں نمود اور نمائش کے جذبے نے دوبارہ کروٹ لی
29:47اور وہ غار کے ایک نیم تاریخ گوشے میں بیٹھ کر
29:51عیسائی دنیا کی روحانی قیادت کے خواب دیکھنے لگا
29:56پھر وہ تینوں عیسائی دانشمند غار سے نکل کر فرانس کے چند امیر لوگوں سے ملے
30:00اور انہیں اپنے منصوبے کی تفصیلات بتائیں
30:03سلیپ کے تحفظ کے خاطر فرانسیسی عمرہ نے عیسائی دانشمندوں کو
30:07اپنی مکمل حمایت کا اعلان درائیا
30:09پھر چند روز بعد ہی فرانس کے مشہور شہر وزلی کے گلی کونچوں میں
30:14یہ خبریں بڑی تیزی سے گردش کرنے لگیں
30:16کہ سینٹ برناٹ ایک خدا رسیدہ بزرگ ہیں
30:19اور ان پر یسو مسیح کی رحمتیں براہ راست نازل ہوتی ہیں
30:23جاہل اور کمزور عقیدے کے عیسائی بہت جلد ان خبروں سے متاثر ہو گئے
30:28اور غار سے باہر لوگوں کا حجوم رہنے لگا
30:31اس حجوم میں غربت و افلاس زدہ عیسائی بھی شامل تھے اور بیمار و ناکارہ بھی
30:36عیسائی دانشمندوں کو وزلی کے عمرہ کی در پردہ حمایت حاصل تھی
30:42اس لئے بڑے منظم طریقے سے منصوبہ سازی کی گئی
30:46سینٹ برناٹ جس غار میں پندرہ سال سے مقیم تھا وہ ایک ویران علاقے میں واقع تھا
30:51عیسائی دانشمندوں نے وزلی کے عمرہ کے تعاون سے سات طاقتور محافظ غار کے دروازے پر کھڑے کر دیئے تھے
30:58اور ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ سینٹ برناٹ کے خدمتگار ہیں
31:01ان کی اجازت کے بغیر کوئی شخص غار کے اندر نہیں جا سکتا تھا
31:06پھر جب رات کا اندھیرہ پھیل جاتا تھا
31:08تو عیسائی دانشمند اپنی مرضی کے چند آدمی غار میں داخل کرا دیتے تھے
31:13دوسرے دن جب سورج کے اجالے میں ضرورت مندوں کی بھیر جمع ہو جاتی تھی
31:17تو اچانک ایک شخص چیختہ ہوا غار سے برامت ہوتا تھا
31:21سینٹ برناٹ نے مجھے آنکھیں بخش دیں
31:24میں پیدائشی اندہ تھا
31:26اور دوسرا شخص یہ نعرہ لگاتا ہوا نکلتا
31:29کہ سینٹ برناٹ نے مجھے طاقت رفتار عطا کر دی
31:32میں برسوں سے اپاہش تھا
31:34غرض مقتصر سے وقت میں یہ بات مشہور ہو گئی
31:38کہ سینٹ برناٹ ایک با کرامت ولی ہیں
31:40ان کی روحانی طاقت سے اندھوں کی آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں
31:44بہرے سننے لگتے ہیں
31:46اور لولے لنگڑے دوڑنے لگتے ہیں
31:48عیسائی دانشمندوں کا یہ منصوبہ زبردست کامیابی سے ہم کنار ہو چکا تھا
31:52اور فرانس کے لوگوں نے سینٹ برناٹ کی روحانی عظمت کو دل سے تسلیم کر لیا تھا
31:57پھر سینٹ برناٹ کی شہرت اس قدر عام ہوئی
32:00کہ ایک دن شہنشاہ فرانس لویز ہفتم بھی اس کے دیدار کو حاضر ہوا
32:06عیسائی دانشمند اسی موقع کے انتظار میں تھے
32:09انہوں نے ایڈیسا کی شکست کے حوالے سے ایک مذہبی اجتماع کا خصوص انتظام کیا
32:14جس میں ہزاروں سلیبیوں کے علاوہ
32:16ویزلی کے تمام عمرہ اور خود شہنشاہ فرانس لویز ہفتم بھی شریک ہوئے
32:22جب طویل و عریض میدان شرکہ سے بھر گیا
32:25تو وہ تینوں دانشمند سینٹ برناٹ کو لے کر مسنا تک پہنچے
32:30اس وقت سینٹ برناٹ سے اباہ پہنے ہوئے تھا
32:33اور اس کے ہاتھ میں سلیب تھی
32:35ویزلی کے عمرہ اور شہنشاہ فرانس سینٹ برناٹ کے احترام میں کھڑے ہو گئے
32:40سینٹ برناٹ نے بڑے باوقار انداز میں اپنا دائیں ہاتھ فضا میں بلند کیا
32:45اور اس کا رخ ویزلی کے عمرہ اور شہنشاہ فرانس لویز ہفتم کی طرف تھا
32:49پھر اس کے ہٹوں کو جنبش ہوئی
32:52سینٹ نے گرجدار آواز میں کہا
32:55اہل سلیب پر خداوند خدا کی سلامتی ہو
32:59پھر سینٹ برناٹ مجمع عام کے طرف بڑھا
33:02اور ہزاروں سلیبیوں کو مخاطب کرتے ہوئے بولا
33:05یسو مسیح نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں ان عیسائیوں کو خبردار کروں
33:10جو خواب غفلت کا شکار ہیں
33:12اور اپنے ریشمی بستروں پر پڑے گہری نیند سو رہے ہیں
33:16یہ کہہ کر سینٹ برناٹ چند لمحوں کے لئے خاموش ہو گیا
33:19طویل و عریض میدان پر قبرستان جیسا سناٹا چھایا ہوا تھا
33:24پھر سینٹ برناٹ نے اس سکوت کو توڑتے ہوئے کہا
33:28اس وقت سب سے بڑی عبادت یہ ہے
33:30کہ عرض مشرق کے عیسائیوں کی مدد دل و جان سے کی جائے
33:33اگر سلیب کے نام لے وا
33:35اس وقت اپنے گھر سے نہ نکلے
33:37تو وہ انقریب یرو شلم کو بھی گواں بیٹھیں گے
33:41اور پھر کیا باقی بچے گا
33:43صرف مقدس باپ کا قہر
33:45اور مقدس بیٹے کی نفرت
33:47تمہارے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہوگی
33:50نہ اس دنیا میں
33:51اور نہ اس دنیا میں
33:53سینٹ برناٹ کی جذباتی تقریر
33:55نے عیسائیوں کو جھنجوڑ کر رکھ دیا
33:57وہ چیخیں مار کر رونے لگے
33:59ابھی سینٹ برناٹ کی تقریر
34:01مکمل نہیں ہوئی تھی
34:02کہ شہنشاہ فرانس نے اس کے ہاتھ سے
34:05سلیب لے لی
34:06اور پوری طاقت سے چیختے ہوئے کہا
34:08میں سلیب کی قسم کھاتا ہوں کہ
34:10اماد الدین زنگی کے دونوں بیٹوں
34:12سیف الدین اور نور الدین سے
34:15ایڈیسا کی شکست کا شدید انتقام لوں گا
Comments