- 13 hours ago
Salahuddin Ayyubi's Crusades war story
Category
😹
FunTranscript
00:04جب سلطان اماد الدین زنگی کی شہادت کے خبر موسل پہنچی تو پورے شہر پر کسی ماتم قدے کا سا
00:11گمان ہونے لگا
00:12لوگ روتے ہوئے اپنے گھروں سے شہراؤں پر نکل آئے
00:15وہ سلطان کی دریہ دلی اور ریایہ پروری کا ذکر کر کے زیار و قطار رو رہے تھے
00:21آج وہ شخص اس دنیا سے رخصت ہو گیا جو ہماری عزت و عبرو اور جان و مال کا محافظ
00:27تھا
00:28اور راتوں کو اس لیے جاگتا تھا کہ ہم لوگ اپنے گھروں میں سکون کی نیند سو سکیں
00:32اللہ اس کی قبر کو نور سے بھر دے کہ وہ ہمارے حق میں بڑا ہی مہربان تھا
00:38موسل میں ایک گھر اور بھی تھا جس کے درو دیوار پر ماتمی فیضہ چھائی ہوئی تھی
00:43یہاں نجم الدین ایوب کی بیوی زبیدہ اور اس کے چار بیٹے
00:47توران شاہ شمس الدولہ یوزف اور ملک عادل رہتے تھے
00:52سلطان عماد الدین زنگی کی شہادت نے زبیدہ کو اس قدر استراب میں مبتلا کر دیا تھا
00:57کہ وہ اپنے آسوں پر قابو نہ رکھ سکی تھی
00:59ماں کو روتے ہوئے دیکھ کر یوسف یعنی صلاح الدین بھی بے قرار ہو گیا
01:03ام محترم آپ کیوں روتی ہیں
01:06یوسف نے ماں سے دردمندانہ لہجے میں سوال کیا
01:09اس وقت اس کی عمر نو سال تھی
01:13ہمارے محسن سلطان عماد الدین زنگی شہید کر دئیے گئے ہیں
01:16زبیدہ نے انتہائی رقعت آمی اس لہجے میں کہا
01:19یہ علم نا خبر سن کا یوسف بھی اداس ہو گیا
01:23اور اسے وہ منظر یاد آنے لگے
01:25جب سلطان شہید اس کے ساتھ نہائی شفقت اور محبہ سے پیش آتے تھے
01:30ایک بار عماد الدین زنگی نے محسن میں ایک خصوصی مجلس
01:34مجلس سے قرارت آراستہ کی تھی
01:36اور اس میں ایک کمسن بچوں کو تلاوت قرآن کریم کی دعوت دی تھی
01:41شرکہ میں سات سالہ یوسف بھی شامل تھا
01:44عام طور پر علماء کے بچوں نے اس مجلس سے قرارت میں شرکت کی تھی
01:48صرف یوسف ایک سپہ سلار کا بیٹا تھا
01:51پھر جب یہ قرارت کا مقابلہ شروع ہوا
01:54تو کئی بچوں نے نہائیت خوش الہانی کے ساتھ آیات مقدسہ کی تلاوت کی
01:59مگر جب یوسف کی باری آئی
02:01تو اس نے سلطان عماد الدین زنگی کے ساتھ تمام شرکہ مجلس کو رولا دیا
02:06اس محفل قرآت میں موسل کے بڑے بڑے علماء بھی موجود تھے
02:09یوسف کی آواز میں بے پناہ سوز تھا
02:12اور اسی وجہ سے وہی پہلے انام کا مستحق قرار پایا
02:16سلطان عماد الدین زنگی نے بڑے والہانہ انداز میں
02:19یوسف یعنی صلاح الدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
02:22لڑکے میرے قریب آؤ
02:24یوسف اپنی جگہ سے اٹھا
02:26اور سلطان عماد الدین زنگی کی مسنت کے قریب پہنچا
02:29سلطان نے بڑی محبہ سے یوسف کی پیشانی کو بوسا دیا
02:32اور پھر اس کے باپ نجم الدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
02:37تمہارے بیٹے کی آواز میں بڑا سوز ہے
02:39مجھے یقین ہے کہ اس کے سینے میں بھی اسلام کا درد ہوگا
02:43نجم الدین ایوب اور اسد الدین شہرکو کے سر فخر سے بلند ہو گئے
02:48پھر سلطان عماد الدین زنگی نے یوسف کو اشرفیوں کی ایک تھیلی انام کے طور پر دی
02:53پھر پلٹ کر اپنے خادم خاص سے کہا جو مسنت کے نزدیک سلطان کے پیچھے کھڑا تھا
02:58میری تلوار لے کر آؤ
03:00خادم خاص تیزی کے ساتھ محل سے نکلا
03:03اور پھر کچھ دیر بعد ہی سلطان عماد الدین زنگی کی تلوار لے کر حاضر ہوا
03:08یوسف یعنی صلاح الدین اشرفیوں کی تھیلی لیے خاموش کھڑا تھا
03:12دوسرے شرکائے مجلس بھی حیرت و سکوت کے عالم میں تھے
03:16کہ آخر سلطان نے اپنی تلوار کیوں طلب کی ہے
03:19پھر حاضرین مجلس کی یہ سکوت آمیز حیرت اس وقت دور ہوئی
03:23جب سلطان عماد الدین زنگی نے اپنی شمشیر یوسف کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
03:28یہ تمہارا خصوصی انام ہے
03:30ایک قاری کو مجاہد بھی ہونا چاہیے
03:33اس واقعے کو یاد کر کے یوسف کی آنکھوں میں آنسو آگئے
03:37اس نے رقت آمیز لہجے میں اپنی والدہ سے سوال کیا
03:41سلطان کس جنگ میں شہید ہوئے
03:44سلطان کو اللہ نے میدان جنگ میں شکست کا مو نہیں دکھایا
03:47زمیدہ کی آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری تھے
03:50ایک نمک حرام اور بے زمیر غلام نے سوتے میں حملہ کر دیا
03:54اور سلطان جان بھاق ہو گئے
03:56ایک غلام اپنے آقا کی جان کیسے لے سکتا ہے
03:59یہ بات معصوم یوسف کی شمس سے بالاتر تھی
04:02وہ غلام منافق تھا
04:04زمیدہ نے انتہائی نفرت آمیز لہجے میں کہا
04:07منافق کون ہوتا ہے
04:09یوسف صراح الدین نے حیرت و استجاب کے ساتھ پوچھا
04:12وہ لوگ جو مسلمانوں کے نام رکھ لیتے ہیں
04:15مگر اندر سے اللہ کو نہیں مانتے
04:18زمیدہ نے معصوم یوسف کو سمجھاتے ہوئے کہا
04:21سلطان کا غلام بھی ایک ایسا ہی غلام تھا
04:24میں بڑا ہو کر سلطان کے قاتل سے بدلہ لوں گا
04:27یکا یک جوش و غضب سے
04:28یوسف کا چہرہ سرک انگاری کے طرح دہکنے لگا
04:31میرے بچے جب تک تم جوان ہوگے
04:34وہ مردود پتہ نہیں کہا ہوگا
04:36مر بھی چکا ہوگا
04:37زمیدہ نے انتہائی شکستہ لہجے میں کہا
04:40یوسف کچھ دیر خاموشی سے کھڑا سوچتا رہا
04:43پھر وہ تیزی کے ساتھ ماں کے کمرے سے نکل گیا
04:45زمیدہ بیٹے کی یہ استراری حرکت دیکھ کر گھبرا گئی
04:49اور پھر خود بھی اٹھکا یوسف کے پیچھے پیچھے چلی گئی
04:52اتنے میں یوسف ایک تلوار لے کے پلٹا
04:54زمیدہ بیٹے کا یہ رنگ دیکھ کر پریشان نظر آنے لگی
04:57یوسف نے شمشیر آبدار کو بے نیام کرتے ہوئے کہا
05:01ام محترم یہ وہ تلوار ہے جو سلطان نے مجھے انام میں دی تھی
05:06زمیدہ اس تلوار کو پہچانتی تھی
05:08مگر وہ یوسف کی بات کا مفہوم سمجھنے سے قاسر تھی
05:11میں اس تلوار سے ان لوگوں کو قتل کروں گا جو اسلام کے دشمن ہے
05:15نرم و نازد جسم والا یوسف اس وقت ایک چٹان کی طرح نظر آ رہا تھا
05:20یہ میرا اللہ سے وعدہ ہے کہ میں منافقوں کو نہیں چھوڑوں گا
05:25پھر جب سلطان عماد الدین زنگی کی تطفیر کے بعد
05:28نجم الدین عیوب اور اسد الدین شہرحکو موصل واپس آئے
05:32تو ایک بار پھر گھر کی فضا سوگوار ہو گئی
05:35نجم الدین عیوب رو رو کر اپنے آقا کے احسانات شمار کروا رہا تھا
05:40پھر اس نے ایک سرد آخ کھیج کر کہا
05:43مجھے زندگی بھر اس بات کا افسوس رہے گا
05:46کہ میں آخری وقت میں اپنے آقا کے لیے کچھ نہ کر سکا
05:49میرا خیمہ سلطان کے خیمے سے بہت دور تھا
05:52اسد الدین شہرحکو کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے
05:55میں نے بھی سلطان کو بارہا سمجھایا تھا
05:58کہ وہ اس وقت حالت جنگ میں ہیں
06:00اس لیے انہیں کسی ایک فرد پر بھروسہ کرنے کے بجائے
06:03مکمل حفاظتی دستہ قائم کرنا چاہیے
06:06اسد الدین شہرحکو اداس لہجے میں بولا
06:09کاش سلطان نے میرا مشفرہ قبول کر لیا ہوتا
06:13تو یہ علمناک واقعہ رونما نہ ہوتا
06:15اور ملت اسلامیہ ایک عظیم مجاہد سے محروم نہ ہوتی
06:20بہت دیر تک اسی قسم کی گفتگو ہوتی رہی
06:22زبیدہ بھی اپنے محسن کے غم میں پورے خلوص اور دیانت کے ساتھ شریک تھی
06:26اور اس کی آنکھیں بھی عشق برسا رہی تھی
06:30یوسف بھی اس واقعے سے بہت متاثر تھا
06:32اور اس کے معصوم ذہن میں یہ بات اچھی طرح نقش ہو گئی تھی
06:35کہ دنیا میں اسلام کے بے شمار دشمن موجود ہیں
06:39چند روز تک موسل اور شام کی فضا بہت سوگوار رہی
06:43بغداد میں اباسی خلیفہ مقتدی نے بھی
06:46سلطان عماد الدین زنگی کا سوگ بنایا
06:48تمام مسجدوں اور مدرسوں میں سلطان شہید کے لیے اجتماعی دعائیں کی گئیں
06:53غریب اور محتاج لوگوں میں صدقات اور کپڑے تقسیم کیے گئے
06:59سلطان عماد الدین کے چار بیڑے تھے
07:01سیف الدین غازی، نور الدین محمود، قطب الدین مودود اور لسرت الدین امیران
07:08زنگی خاندان کے دشمن اس بات کا انتظار کر رہے تھے
07:12کہ حصول اقتدار کے لیے چاروں بھائیوں میں تلوار کھن جائے
07:15پھر خون کے دریاں بہیں گے اور اس طرح ہمیشہ کے لیے
07:18عماد الدین زنگی کے وارثوں کا خاتمہ ہو جائے گا
07:21اس تماشے کے منتظرین میں جوسلین سانی اور ہزاروں عیسائی بھی شامل تھے
07:27جنہوں نے ایڈیسا کے مارکہ میں سلطان عماد الدین زنگی کے ہاتھوں شکست کھائی تھی
07:31مگر بدخواہوں کی شدید خواہش کے باوجود
07:35یہ خون رنگ تماشا نہ ہو سکا
07:37اور اللہ نے اس سنگین گھڑی کو سلامتی کے ساتھ ٹال دیا
07:41اقتدار کی منتقلی کا مسئلہ باہسن خوبی حل ہو گیا
07:45زنگی کے سب سے بڑے بیٹے سیف الدین غازی کے حصے میں موسل کا علاقہ آیا
07:50اور دوسرے بیٹے نور الدین محمود زنگی نے شام میں اقتدار سمال لیا
07:55عیسائی دنیا جس نے سلطان عماد الدین زنگی کی شہادت پر رقص و شراب کے ساتھ جشن منایا تھا
08:01سلطنت کی اس تقسیم پر بہت زیادہ خوش نظر آ رہی تھی
08:06سلیبیوں کے خیال میں زنگی کی فوجی طاقت دو حصوں میں بڑھ گئی تھی
08:10جو عیسائیوں کے لیے انتہائی نیک شگون تھا
08:13اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آرمینیا کے عیسائی باشندوں نے ایک نئی چال چلی
08:19ان لوگوں نے اپنے ایک موتمت شخص کو بڑی رازداری کے ساتھ انتاکیا بھیجا
08:24ایڈیسا کی طرح یہ بھی ایک مضبوط عیسائی ریاست تھی
08:28ایڈیسا کا حکمران جوسلین سانی فرار ہو کے انتاکیا چلا گیا تھا
08:34جوسلین سانی نے آرمینیا کے معزز باشندوں کی طرف سے بھیجا ہوا خط
08:38پورے انہماک کے ساتھ پڑھا جس میں واضح طور پر لکھا گیا تھا
08:42عظیم جوسلین کو معلوم ہونا چاہیے
08:45کہ خونخوار اماد الدین زنگی کے سلطنت دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے
08:50زنگی کے دونوں بیٹے اپنے باپ کی طرح جنگجو اور مردے میدان نہیں
08:54مزید یہ کہ ابھی دونوں بھائی اپنے اپنے انداز میں حکومت کے انتظامات مضبوط کرنے میں مصروف ہیں
09:01مقدس باپ اور بیٹے نے سلیب کی سربلندی کیلئے ہمیں ایک اور سنہری موقع فرام کیا ہے
09:07اس سے پہلے کہ زنگی سلطنت میں استقام پیدا ہو
09:11آپ بلا تاخیر مسلمانوں سے ایڈیسا کی شکست کا انتقام لے کر
09:15اہل سلیب کے دلوں کو قرار اور عیسائیت کو سرخرو ہونے کا موقع فرام کریں
09:21آرمینیا کے معززین کا خط پڑھ کر جوسلن سانی کے ہنٹو پر ایک فتنہ گر اور ایار مسکراہت اُبھر آئی
09:28پھر اس نے وہ خط انتاکیا کے حاکم ڈیمورا کی طرف بڑھا دیا
09:33جو اپنے مذہبی تاثر میں شاہ یاروشلم گارڈ فری اور جوسلن سانی سے کسی طرح بھی کم نہیں تھا
09:40ڈیمورا نے آرمینیا کے باشندوں کی طرف سے بھیجے جانے والے دعوت نامے کے ایک ایک حرف کو بہت غور
09:47سے پڑھا
09:47اور ایڈیسیا کی شکست خردہ حکمران کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا
09:53عظیم جوسلن کی کیا ارادے ہیں
09:55اور ڈیمورا کے مذہبی جذبات کو بھڑھکاتے ہوئے انتہائی جذباتی لہجے میں بولا
10:00اس کے سوا میری زندگی کا کوئی مقصد نہیں کہ میں سلیب کے نام پر قتل ہو جاؤں
10:05یا پھر اپنے عظیم پیغمبر کی طرح سلیب پر چڑھا دیا جاؤں
10:09یہ کہتے کہتے جوسلن ثانی بہت زیادہ غم زیادہ نظر آنے لگا
10:13اور اس کی آنکھوں سے بھی ہلکی ہلکی نمی چھلکنے لگی
10:18انتاکیا کا حاکم ڈیمورا جوسلن کی باتوں سے بہت زیادہ متاثر ہوا
10:22میں اس سلسلے میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں
10:25شکست خردہ جوسلن کی دل میں حکمرانی کا جذبہ بڑی شدت کے ساتھ دوبارہ کروٹے لینے لگا تھا
10:31دیمورا کو جذباتی پا کر اس نے بڑی ایاری کے ساتھ ایک اور چال چلی
10:35کچھ سپاہی تو میرے ساتھ ہیں مگر ان کی تعداد ایک بڑی جنگ کے لیے کافی نہیں
10:40اگر حاکم انتاکیا اپنی کچھ فوج انعائد کر دیں
10:44تو میں دوبارہ ایڈیسیا کے خلے پر سلیبی پرچم لہرا سکتا ہوں
10:48کچھ مذہبی جذبات کا اشتیال اور کچھ جوسلن ثانی کی سہر انگیز تقیر کا اثر
10:55دیمورا فوراں راضی ہو گیا
10:56اور پھر بڑی رازداری کے ساتھ ایڈیسا پہ حملے کی منصوبہ افسازی ہونے لگی
11:02سلطان عماد الدین زنگی کی سلطنہ دو بھائیوں میں تقسیم ہونے کے بعد
11:06نجم الدین ایوب اپنی بیوی بچوں کو لے کر موسیل سے شام چلا گیا
11:10جو سلطان نور الدین زنگی کے حصے میں آیا تھا
11:14نجم الدین ایوب کو سلطان عماد الدین زنگی مرہوم کے دونوں بیٹے
11:18سیف الدین غازی اور نور الدین محمود سے بہت محبت تھی
11:23مگر وہ سلطان نور الدین محمود زنگی سے خاص عقیدت رکھتا تھا
11:27اور اس کی ایک ہی وجہ تھی
11:28کہ سلطان نور الدین زنگی اپنے بڑے بھائی کے مقابلے میں زیادہ پاکباز نوجوان تھا
11:34سلطان نور الدین زنگی نے بھی نجم الدین ایوب کی شاندار پذیرائی کی
11:38اور اسے اپنی فوج کا سالار بنا دیا
11:41اس کے ساتھ ہی سلطان نے اس وقت کے مشہور عالم ابن رسون کو قاضی کے عہدے پر فائز کر
11:48دیا
11:48اور انہیں کی ذمہ داری بھی سوپ دی کہ شام کے بڑے بڑے شہروں میں درزگاہیں قائم کریں
11:54تاکہ مسلمانوں میں تعلیم عام ہو
11:56ابن رسون کے قاضی ہونے کے سب سے بڑا فائدہ یوسف صلاح الدین کو پہنچا
12:01اس وقت یوسف کی عمر دس سال تھی
12:03اگرچہ اپنے والد نجم الدین کے اسرار پر اس نے گھر سواری
12:07تیر اندازی اور شمشیر زنی کی تربیت حاصل کرنی شروع کر دی تھی
12:11لیکن حقیقتاً اس کا دل کتابوں کی طرف مائل تھا
12:14وہ اپنا بیشتر وقت قاضی ابن رسون کی خدمت میں گزارتا تھا
12:19اور ان کی تقریریں بہت غور سے سنتا تھا
12:21ابھی سلطان نور الدین زنگی اپنی سلطنت کے استحقام میں مصروف تھا
12:26کہ شعبہ جاسوسی کے نگران
12:28ارقم نے سلطان کو ایک پریشان کنح اطلاع دیتے ہوئے کہا
12:32ایڈیسا کی ازادی خطرے میں ہے
12:35بھگوڑا جوسلین ثانی دوبارہ حملے کے تیاری کر رہا ہے
12:39سلطان نور الدین زنگی نے بڑی حیرت سے یہ خبر سنی
12:42ہماری اطلاع کے مطابق بابا مرہوم و مقفور نے جوسلین کی کمر ہمیشہ کے لئے توڑ دی تھی
12:48اور پھر وہ اپائج انسان ایڈیسا پہ جلغار کس طرح کر سکتا ہے
12:53سلیبیوں نے اسے نئی بے ساکھیاں دی ہیں
12:55ارقم نے وضاحت کرتے ہوئے کہا
12:57انتاکیا کا حاکم ڈیمورا اس کی پشت پر ہے
13:00مزید یہ کہ آرمینیا کے عیسائی باشندوں نے بھی جوسلین کو مالی مدد دینے کا وعدہ کیا ہے
13:06سلطان نور الدین زنگی نے فوراں اپنے سالار نجم الدین ایوب
13:10اور اس کے چھوٹے بھائی اسط الدین کو خلوت میں طلب کر لیا
13:14پھر دونوں بھائیوں نے سلطان کو ایک ہی مشورہ دیا
13:17کہ بلا تاخیر ایڈیسا کی طرف پیش قدمی کی جائے
13:21تاکہ سلطان مرہوم کی اس تاریخ ساز فتح کو برقرار رکھا جائے
13:25سلطان نور الدین زنگی اپنا لشکہ لے کر قہرناک آندھی کیسی رفتار سے ایڈیسا کی طرف بڑھے
13:31مگر اس سے پہلے نومبر گیارہ سو چھالیس میں جوسلین ثانی نے ایڈیسا پہ آدھی رات کے وقت شب خون
13:38مارا
13:39اور گہری نین میں ڈوبے ہوئے ترکمان پہرے داروں کو قتل کر کے شہر پر قبضہ کر لیا
13:44اس کے بعد عیسائی حکمران اور اس کے فوجیوں نے اپنے جسموں سے انسانیت کے قبائیں اتار کر وحشی درندوں
13:51کی کھالے پہن لی
13:52پھر وہ اپنے خونخار دانتوں اور نوکیلے پنجوں کے ساتھ ایڈیسا کے مسلمانوں پر جھپٹ پڑے
13:57سلیبیوں کے جنون کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے مسلمان بڑھوں اور بچوں کو بھی اپنے گھوڑے کی ٹاپوں
14:03سے روند ڈالا
14:04پردہ دار اور معصوم دوشیزاؤں کی بے آبروی کی گئی
14:09پھر انہیں قتل کر کے ان کی لاشیں عام راستوں پر پھیک دی گئیں
14:12جوسلین سانی گھوڑے کی پشت پر سوار شہر کے گرد و نوا میں ایک درندے کی طرح دھارتا پھر رہا
14:18تھا
14:19وہ بار بار اپنی شمشیر کو ہوا میں لہراتا اور فاتح ایڈیسا سلطان عماد الدین زنگی مرہوم کی روح کو
14:25مخاطب کر کے کہتا
14:27تو اپنے ہم مذہبوں کا حشر دیکھ رہا ہے؟ پھر خود ہی جواب دیتا
14:31مگر تو کیسے دیکھ سکتا ہے کہ تیری تو ہڈیاں بھی قبر میں گل سڑ کر خاک ہو چکی ہوں
14:37گی؟
14:37مسلمانوں کے اس قتل عام سے فارغ ہو کے جوسلین سانی ایڈیسا کے قلعے کی طرف بڑھا
14:42قلعے کے محصور مسلمانوں نے بڑی شجاعت کے ساتھ جوسلین کی فوج کا مقابلہ کیا
14:48پھر جب مسلمانوں کے دلوں میں یہ خچیات ابھنے لگے کہ وہ پسپا ہو جائیں گے
14:52اور صلیبی لشکر ان پر غالب آ جائے گا تو این اسی وقت
14:56تائید غیبی کی طرح سلطان نوردین زنگی اپنی تازہ دم فوج لے کر ایڈیسا آ پہنچے
15:02یہ ایک آفت ناغہانی تھی جسے دیکھ کر جوسلین سانی بدحواس ہو گیا
15:08اس کی پشت پر سلطان نوردین زنگی کا لشکر تھا
15:11اور مقابل قلعہ ایڈیسا کے محافظ سپائی
15:14گویا صلیبی لشکر چکی کے دو پاتوں کے درمیان تھا
15:19پھر تھوڑی ہی دیر میں جنگ کا نقشہ بدل گیا
15:21مجاہدین اسلام کے نیزے سلیبی سپائیوں کی ہڈیاں توڑ کر سینوں کے پار ہونے لگیں
15:26اور ان کے سر پکی ہوئی فصل کی طرح کٹ کٹ کر زمین پر گرنے لگے
15:31جوسلین سانی بڑی مشکل سے جان بچا کر بھاگا
15:34اس کے ساتھ بچے کچھ عیسائی سپائی تھے جن کی تعداد بہت مختصر تھی
15:39جوسلین کے فرار کا منظر دیکھ کر
15:42سلطان نوردین زنگی نے نہائید غزبناک لہجے میں اپنے سپائیوں کو حکم دیا
15:47اس درندے کا وہاں تک تاقب کرو کہ اللہ کی وسیع اور عریض زمین تنگ ہو جائے
15:53اور اس کے لئے کوئی جائے امام باقی نہ رہے
15:56اگر وہ تمہاری شمشیروں کی زد میں آ جائے تو اسے قتل مت کرنا
16:00میری آنکھیں اسے گرفتاری کی حالت میں دیکھ کر زیادہ روشن ہوں گی
16:04اور میرے بے قرار دل کو زیادہ اتمنان حاصل ہوگا
16:08اپنے سلطان کا حکم سن کر مجاہدین اسلام اقابو کیوں طرح اپنے شکار پر جھپٹے
16:14اور دریائے فرات تقسلی بھی لشکر کا تاقب کیا
16:17انجامکار ایک معمولی مضامت کے بعد عیسائی سپاہیوں نے ہتھیار ڈال دیئے
16:22اور جوسلین سانی زندہ گرفتار ہوا
16:25وہ عرض شام کے باشندوں کے لئے بڑا ہی عجیب دن تھا
16:29جب وہ شہر کے عام شہراؤں پر کھڑے شدید استراب کے عالم میں
16:33ایک عبرتناک منظر دیکھ رہے تھے
16:36مسلمان سپاہی ایڈیسا کے سابق حکمران جوسلین سانی کو کھیشتے ہوئے دربار شام کی طرف لے جا رہے تھے
16:44جوسلین کے پیروں میں زنجیریں تھیں اور زلط کے احساس سے اس کی گردن جھکی ہوئی تھی
16:49اہل شام کے غیظ و غضب کا عالم یہ تھا کہ اگر سلطان نوردین زنگی کا حکم درمیان میں ہائل
16:55نہ ہوتا
16:55تو وہ اسے سارے عام سنگسار کر دیتے
16:58پھر بھی ان کے ہنٹوں پر شدید حرف ملامت تھے
17:02کوئی کہہ رہا تھا یہ ہے وہ سورما جس نے بڑھوں اور بچوں کو تہے تیغ کیا
17:07اور کلمہ کو دو شیزاؤں کی عبرو ریزی کی
17:10کسی نے اپنی نفرت کا اظہار یوں کیا
17:13تجھ پر اللہ کی لانت ہو
17:15کسی نے مسلمان سپاہیوں کو مخاطب کر کے کہا
17:18ہماری طرف سے سلطان کی خدمت میں عرض کر دینا
17:20کہ اسے ایک موار میں قتل نہ کریں
17:23ترپا ترپا کے مارے
17:24اس کے جسم کا ایک ایک حصہ الگ کریں
17:27دنیا میں عذیت دینے کے
17:29جس قدر طریقے ہیں وہ سب اس پر آزمائے
17:31ایک تو سورج کی گرمی
17:33دوسرے زلت رسوائی کا یہ تماشا
17:35جوسلین ثانی پسینے میں نہائے ہوا تھا
17:38اس کا سر بدستور
17:39جھکا ہوا تھا
17:40دوسری طرف دربار شام کا عجیب رنگ تھا
17:43سلطان نور الدین زنگی
17:45اپنے وزیروں مشیروں اور سالانوں کے ساتھ
17:47تخت پر جلوہ افروز تھے
17:49سلطان کے برابر
17:51قاضی شہر ابن عرسوں کی
17:53کرسی تھی تمام درباریوں کی
17:55مسترب نگاہیں دروازے پہ مرکوز
17:57تھی سب کو ایک شخص
17:59کا انتظار تھا اور وہ جوسلین
18:01ثانی کے سوا کوئی دوسرا نہیں تھا
18:02آخر کشمکش انتظار ختم
18:05ہوئی اور دربار شام
18:07بیڑیوں کے ہلکے ہلکے شور سے
18:09گونج اٹھا یہ شور ان
18:11بیڑیوں کا تھا جو مفتو
18:12عیسائی حکمران جوسلین
18:15ثانی کے پیروں میں پڑی ہوئی تھی
18:16تمام درباری اسی جابرو
18:18صفاق انسان کا انتظار کر رہے تھے
18:21جوسلین ثانی کو پابا
18:22زنجیر دیکھ کر اہل دربار
18:24کے چہرے ناقابل بیان مسررت
18:26کے احساس سے چمک اٹھے
18:28خود سلطان نور الدین
18:30زنگی کے خوشی کا یہ عالم تھا کہ
18:32وہ جوش استراب میں کھڑے ہو گئے
18:34اور سر دربار اللہ
18:36اکبر کا نعرہ بلند کیا
18:38سلطان نور الدین زنگی کی تقلید
18:40میں دوسرے درباری بھی کھڑے ہو گئے
18:42وہ بھی دبی دبی آواز میں
18:44اپنے اللہ کی کبریائی بیان کر رہے تھے
18:47مجاہدین اسلام
18:48کو یہ عظیم شان فتح مبارک ہو
18:50یہ کہہ کر سلطان نور الدین
18:53زنگی دوبارہ تخت پر بیٹھ گئے
18:54مسلمان سپاہی زنجیروں میں
18:56جکڑے ہوئے جوسلین کو آگے لے کر
18:58بڑھے اور تخت سلطانی کے قریب
19:00پہنچ گئے
19:02اب جوسلین ثانی اور سلطان نور الدین زنگی
19:04کے درمیان صرف دو گس کا فاصلہ حائل تھا
19:07یکہ یک سلطان
19:08نے انتہائی قہرناک لہجے میں
19:10جوسلین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
19:12میرے مرہوم و مغفور والد
19:15تو تیرے سوال کا جواب
19:16نہیں دے سکتے
19:18مگر ان کا فرزن نور الدین محمود
19:21تیری ہر بات کا جواب دے سکتا ہے
19:23یہ جوسلین ثانی کی
19:25اس زلط آمیز حرکت کی طرف
19:27اشارہ تھا جب عیسائی حکمران
19:28نے ایڈیسا کے مجبور و معصوم شہریوں
19:30کو قتل کرتے ہوئے
19:32سلطان عماد الدین زنگی مرہوم
19:34کو تحقیر آمیز لہجے میں آواز دے کر
19:37کہا تھا کہ وہ قبر سے نکل کر
19:38اپنی قوم کا حشر دیکھے
19:40جوسلین ثانی کے پاس سلطان
19:42نور الدین زنگی کے اس سوال کا کوئی جواب
19:44نہیں تھا وہ سر جھکائے
19:46خاموش کھڑا رہا
19:48سلطان نور الدین زنگی کی پر جلال آواز
19:50دوبارہ گنچی
19:51اب تو مجھ سے کس سلوک کی توقع رکھتا ہے
19:55جوسلین ثانی
19:56نے بڑی ایاری کے ساتھ اپنا سر اٹھایا
19:58اور انتہائی آجزانہ لہجے میں بولا
20:00یہ مسلمانوں کی روایت رہی ہے
20:02کہ وہ اپنے دشمن کو بھی معاف کر دیتے ہیں
20:04مجھے یقین ہے کہ
20:06سلطان عالی مقام بھی
20:08اپنے ہم مذہبوں کی روایت کو برقرار رکھیں گے
20:11جوسلین ثانی کا
20:12ترجے گفتگو دیکھ کر تمام
20:14اہل دربار حیرت زدہ رہ گئے
20:16وہ فریبکار شخص بڑی ایاری
20:18کے ساتھ سلطان کے
20:20ارد گرد ریا کارانہ
20:22الفاظ کا جال پھیلا رہا تھا
20:25اور
20:29سلطان نے جوسلین کی درخواست
20:31کا جواب دینے کے بجائے
20:32الٹا اسی سے ایک عجیب سوال کر ڈالا
20:35میں جانتا ہوں کہ
20:37عیسائیوں سے کچھ غلطیاں سرزد ہوئی ہیں
20:39جوسلین ثانی نے ایک انتہائی
20:41ہوشیار شاتر کی طرح نئی چال چلتے
20:43ہوئے کہا مگر میں
20:45اپنی قوم کے عامال کا ذمہ دار نہیں ہوں
20:48سلطان نور الدین
20:49زنگی بڑے صبر و تحمل کے انسان
20:51تھے مگر جوسلین ثانی
20:53کی بات سن کے شولی کی طرح بڑا کٹھے
20:55تیرا اپنا عامال نامہ
20:57ان لوگوں سے بھی کم سیحہ نہیں ہے
21:01سلطانِ عالی مقام
21:02میں اپنے اسی سیحہ
21:03عامال نامے کا ذکر کرنے والا تھا
21:05کہ آپ نے درمیان سے میری بات کٹ دی
21:07جوسلین ثانی کے فتنہ گر
21:09ذہن نے ایک اور کروٹ لی
21:11میں خداوند خدا کو درمیان میں
21:13لاکر اپنے تمام سابقہ گناہ سے
21:15تائب ہوتا ہوں اور یقین
21:17دلاتا ہوں کہ آئندہ ایک
21:19گوشہ نشین راہب کی طرح زندگی
21:21بسر کروں گا اور کسی
21:23سلیبی جنگ میں حصہ نہیں لوں گا
21:25مجھے ماف کر دیا جائے
21:27سلطانِ زی شان کہ
21:29افو درگزر اسلام کی بھی شان ہے
21:31اور آپ کی بھی
21:33تمام اہلِ درباد جوسلین
21:35کی مکاریوں پر حیران ہو رہے تھے
21:37اس سے پہلے کہ سلطان نوردین محمود
21:39زنگی جوسلین کی کسی بات
21:41کا جواب دیتے قاضی شہر
21:43ابنِ عرسون اپنی نشست پر
21:45کھڑے ہو گئے اور سلطان نوردین
21:47کو مخاطب کرتے ہوئے بولے
21:49سلطانِ محترم میں
21:51اس قطع کلامی اور مداخلت
21:53کے لئے معذرت خواہ ہوں
21:54قاضی ابنِ عرسون کا لہجہ بہت
21:57نرم و شیرین تھا
21:58سلطان نوردین نے حیرہ سے قاضی شہر
22:01کی طرف دیکھا پھر معدب
22:03لہجے میں کہنے لگے
22:04فرمائیے قاضی صاحب آپ کیا کہنا چاہتے ہیں
22:08سلطان نوردین
22:09ابنِ عرسون کے علم و فضل
22:11کی وجہ سے ان کا بہت اعترام کرتے تھے
22:14یکا یک
22:15قاضی کے چہرے کا رنگ متغیر
22:17ہو گیا بڑی سے بڑی تکلیف
22:19اور بیماری میں پرسکون رہنے والا
22:21قاضی اس وقت حالتِ
22:23جلال میں تھا اور شدتِ جذبات
22:26سے ابنِ عرسون کا چہرہ سرخ
22:27ہو رہا تھا
22:29ملتِ اسلامیہ کے اس دشمن نے
22:31بڑی مکاری اور بےہیائی کے ساتھ
22:33اعتراف کیا ہے کہ ماضیِ قریب
22:35میں عیسائیوں نے مسلمانوں کے ساتھ
22:37کچھ زیادتیاں کی ہیں
22:38قاضی ابنِ عرسون نے جوسلین ثانی
22:41کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
22:42اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوگا
22:45کہ وحشت و درندگی کو زیادتی
22:47کہا جائے یہ کہہ کر
22:49قاضی ابنِ عرسون چند لمحوں کے لئے
22:51خاموش ہو گئے
22:52پورے دربار پر گہرہ سکوت تاری تھا
22:55سلطان نور الدین شدید
22:57حیرت کے عالم میں قاضی
22:59ابنِ عرسون کو دیکھ رہے تھے
23:01یکا یک ابنِ عرسون
23:03نے اپنے کھڑے ہونے کا زابیہ تبدیل کیا
23:05اور سلطان نور الدین زنگی سے
23:07مخاطب ہوئے
23:08یہ آج سے سینٹالیس سال پہلے کا
23:11واقعہ ہے کہ جب سلطان
23:13موصوف پیدا بھی نہیں ہوئے تھے
23:14اور خود یہ گناہگار قاضی ابن عرسون
23:17جو اہلِ دربار کے سامنے کھڑا ہے
23:19اس وقت مشکل سے چار پانچ سال
23:21کا ہوگا
23:22اہلِ دربار کی حیرت میں مزید اضافہ ہو گیا
23:25وہ پلکیں جھپکائے بغیر
23:27قاضی ابن عرسون کے نورانی چہری
23:29کی طرف دیکھ رہے تھے
23:30جو کسی خاص راز کا انکشاف
23:33کرنے والے تھے
23:34یہ واقعہ میں نے پوری تفصیلات کے ساتھ
23:37اپنے والد محروم کی زبانی سنا ہے
23:39قاضی نے سلسلہ کرام جاری
23:41رکھتے ہوئے کہا
23:42وہ اہلِ اسلام کے لئے بڑا سنگین وقت تھا
23:44جب ایک اللہ ایک رسول اللہ
23:47صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
23:48اور ایک کتاب کے ماننے والے
23:50گروہ در گروہ تقسیم ہو گئے تھے
23:53اس وقت مصر پہ فاطمی خلیفہ
23:56ابو القاسم کی حکمرانی تھی
23:57مصر کا یہ حکمران
23:59اپنی ہم سایہ مسلمان حکومتوں
24:01کا شدید دشمن تھا
24:02اس کو عباسی حکمران سے کوئی ہمدردی نہ تھی
24:05اور یہی حل عباسی حکمران کا تھا
24:08کہ وہ فاطمی خلیفہ کے لئے
24:10اپنے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتا تھا
24:12اپنے ہم مذہبوں سے
24:14فاطمی خلیفہ کے بغضوں اناعت کا
24:16یہ عالم تھا
24:17کہ وہ آلِ سنجوک کا نام بھی
24:23شدد کرب سے قاضی کا سخص چہرہ
24:26دھوان دھوان نظر آنے لگا
24:28مسلمانوں کے اسی انتشار
24:30اور اختلاف سے
24:31سلیبیوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا
24:33قاضی ابن ارسن اداس لہجے میں
24:36ماضی قریب کے مسلمانوں کی تاریخ بیان کر رہے تھے
24:39رجب
24:40چار سو باسٹھ ہجری میں
24:41سلیبیوں نے مسلمانوں کے خلاف
24:43ایک خوفناک منصوبہ ترتیب دیا
24:45اور پچاس ہزار منتخب
24:47عیسائی سپائیوں کا لشکہ لے کر
24:49یروشلم کی طرف بڑھے
24:51اس وقت فاطمی خلیفہ
24:53عبدالقاسم کی طرف سے
24:55افتقار الدولہ یروشلم کا حاکم تھا
24:57اس کے جاسوسوں نے
24:59سلیبیوں کی یلغار کی خبر دی
25:01حاکم یروشلم افتقار الدولہ
25:03نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر
25:05اپنے ایک موتبر قاسد کو
25:07خط دے کر فاطمی خلیفہ
25:09عبدالقاسم کی طرف روانہ کیا
25:11ایک خفیہ اجلاس میں افتقار الدولہ
25:13کا خط پڑا گیا
25:14حاکم یروشلم نے فاطمی خلیفہ کو
25:17مخاطب کرتے ہوئے
25:18صاف صاف تحریر کر دیا تھا
25:20امیر المومنین کو معلوم ہونا چاہیے
25:23کہ اس بار سلیبیوں کے ارادے
25:24بہت زیادہ خطرناک نظر آ رہی ہیں
25:27ان کے ساتھ کتنی فوج ہے
25:29اس کا اندازہ یروشلم کے قلعے میں
25:31بیٹھ کر نہیں کیا جا سکتا
25:32پھر بھی میرے جاسوسوں کی اطلاع کے مطابق
25:35عیسائی سپائیوں کی تعداد
25:37ہم سے کہیں زیادہ ہے
25:38میں امیر المومنین سے درخواست کروں گا
25:41کہ اس نازک صورتحال پر فوری توجہ دیتے ہوئے
25:43یروشلم کی حفاظت کے لئے
25:45مزید فوج فرہام کی جائے
25:47اگر میری اس التجاہ پر
25:49بلا تاخیر عمل نہیں کیا گیا
25:51تو پھر اللہ ہی جانتا ہے
25:52کہ یروشلم میں بسنے والے مسلمانوں پر
25:54قیامت کس انداز میں نازل ہو
25:58حاکم یروشلم
25:59افتخار و دولہ نے انتہائی
26:01موثر لہجے میں صورتحال کے سنگینی
26:03کا نقشہ کھیچا دا
26:04مگر اس کی یہ تدبیر کارگر ثابت نہ ہو سکی
26:07فاطمہ خلیفہ ابو القاسم
26:09نے اپنے میر منشی سے
26:11افتخار و دولہ کے خط کا جواب
26:13اس طرح لکھایا
26:15تم اچھی طرح جانتے ہو
26:17کہ قریب و جوار میں میرے کئی دشمن موجود ہیں
26:19جن کی حریسانہ نظریں
26:21ہر وقت مصر کی حکومت پر جمی رہتی ہیں
26:24کہ کب انہیں موقع ملے
26:25اور وہ میرے اقتدار کا خاتمہ کر دیں
26:28خلیفہ بغداد بھی
26:29دن رات اسی قسم کی سادشوں میں
26:31مصروف رہتا ہے
26:32اس صورتحال کے پیش نظر
26:34میں تمہاری مدد کے لیے
26:36ایک سپاہی بھی نہیں بھیج سکتا
26:38اگر یروشلم ہاں سے جاتا ہے
26:40تو اسے جانے دو
26:41اس کے مقابلے میں خلافت مصر کا دفاع
26:43کہیں زیادہ احمد رکھتا ہے
26:46فاطمہ خلیفہ کا جواب پڑھ کر
26:48حاکم یروشلم
26:49افتخار و دولہ کوئی دیر کلی سکتے میں آ گیا
26:51اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا
26:53کہ یہ ابو القاسم کا مکتوب ہے
26:55لیکن مہر خلافت دیکھ کر
26:57افتخار و دولہ کو یقین کرنا پڑا
27:00پھر اس کے چہرے پہ شدید
27:02عزید و کرب کا رنگ اُبھرا
27:03اور پھر خود کلامی کے انداز میں کہنے لگا
27:07امیر المومنین یہ کیوں نہیں
27:08کہتے کہ ملت اسلامیہ کی سربلندی
27:10کے بجائے آپ کو اپنا اقتدار
27:13عزیز ہے
27:13مگر یاد رکھیں کہ یروشلم چلا گیا
27:16تو پھر کچھ بھی باقی نہیں بچے گا
27:19پھر وہی ہوا
27:20پچاس ہزار سپاہیوں پہ مشتمیل
27:22سلیبی لشکر یروشلم کی دیوار کے نیچے
27:25آ کر جمع ہونے لگا
27:26سلیبیوں کو اس بات پہ بڑی حیرت تھی
27:28کہ وہ کسی مضامت کے بغیر شہر کی فصیل
27:31تک پہنچ گئے تھے
27:32افتخار و دولہ شہر سے باہر نکل کر
27:34عیسائیوں کے پیش قدمی کو روک سکتا تھا
27:36مگر بدقسمتی سے
27:38اس کے پاس صد ایک ہزار سپاہی تھے
27:41جنگی اصولوں کے مطابق
27:42دونوں فوجوں میں کوئی تناسب
27:44و توازن ہی نہیں تھا
27:46اس لئے افتخار و دولہ نے
27:48دفاعی حکمت عملی اختیار کی
27:52یہ کہہ کر
27:53قاضی ابن عرسن کچھ دیر کے لئے
27:54خاموش ہو گئے
27:55حاضرین کا گہرہ سکوت دے کر
27:58دربار شام پر کسی قبرستان کا سا گمان ہوتا تھا
28:01سلطان نور الدین
28:02زنگی بھی تصفیر حیرت بنے ہوئے
28:04قاضی ابن عرسن کی گفتگو سن رہے تھے
28:07مختصر سکوت کے بعد
28:09قاضی دوبارہ سلطان سے
28:11مخاطب ہوئے
28:11سلطان محترم
28:13اس خون رنگ اور علم ناک واقعے کی باقی تفصیلات
28:17اس طرح ہیں
28:17کہ شہر یوروشلم کا محاصرہ کرنے کے بعد
28:20سلیوی فوجوں کے سالار نے
28:22اپنے ایک قاسد کو یہ پیغام دے کر
28:24افتخار و دولہ کے پاس بھیجا
28:27اگر تم لوگ جنگ کیے
28:29بغیر ہتھیار ڈال دو
28:30تو تمہیں مکمل امان بخش دیں گے
28:33عیسائی قاسد کے لہجے سے
28:35اس قدر غرور و تقبر جھرک رہا تھا
28:37کہ جیسے وہ اہل ایمان
28:38کے تقدیروں کا مالک ہو
28:41تین خداوں کے ماننے والوں کو
28:43معلوم ہونا چاہیے کہ
28:44ہم خدا واحد پر ایمان رکھتے ہیں
28:46حاکیم یوروشلم کے لہجے سے
28:48غرور و تقبر کے بجائے
28:50جلال ایمانی کا اظہار ہو رہا تھا
28:53عیسائیوں کے عقائد کے مطابق
28:55تین خدا ہیں
28:56ایک مقدس باپ خدا
28:57دوسرہ مقدس بیٹا حضرت عیسیٰ
29:00اور تیسر روح القدس حضرت جبریل احرہ السلام
29:03اسی کو نظریہ تسلیس کہتے ہیں
29:05اور افتقار الدولہ نے
29:07عیسائی قاسد کے سامنے
29:09اسی طرف اشارہ کیا تھا
29:11اپنے سالار کو بتا دینا
29:13کہ مجاہدین اسلام ہتھیار نہیں ڈالتے
29:16یا تو وہ فتح حاصل کرتے ہیں
29:18یا پھر ان کے کٹے ہوئے سر
29:20نیزوں پر بلند کیے جاتے ہیں
29:21اللہ نے اہل ایمان کے لیے
29:23ہر حال میں سر بلندی رکھی ہے
29:26افتقار الدولہ کا جواب سنکے
29:27عیسائی قاسد بے چین نظر آنے لگا
29:30پھر وہ جب واپس جا رہا تھا
29:32تو یروشلم میں رہنے والے ایک عیسائی نے
29:34اسے اپنی زبان میں یہ راز بتا دیا
29:36کہ مسلمان فوجیوں کی تعداد بہت کم ہے
29:40عیسائی قاسد نے
29:41افتقار الدولہ کے جواب کے ساتھ ساتھ
29:43اپنے سالار کو یہ خفیہ اطلاع بھی فراہم کر دی
29:45کہ حاکی میں یروشلم کی دفاعی قوت
29:48نہ ہونے کے برابر ہے
29:49دوسرے دن عیسائی سالار نے
29:51اپنے سپائیوں کو جمع کر کے
29:52مختصر خطاب کیا
29:54میں تمہیں صرف تین دن کی مولا دیتا ہوں
29:57اس عرصے میں شہر کی تمام دیواریں گرا دو
29:59اور فاتحانہ شان کے ساتھ
30:01اندر داخل ہو جاؤ
30:03عیسائی سپاہی کسرت تعداد کے
30:05نشے سے سرشار تھے
30:07اس لیے انہیں پورا یقین تھا
30:08کہ وہ مقتصر سے عرصے میں
30:10مسلمانوں کے انتہائی قلیل لشکر کو شکست دے کر
30:13یروشلم کے پورے شہر پر قابض ہو جائیں گے
30:16مگر عیسائی سپاہیوں کی یہ خوش فہمی
30:18اس وقت دور ہو گئی
30:20جب سینکڑوں سلیبیوں کی بھینٹ چڑھانے کے باوجود
30:23چند گز کا علاقہ بھی وہ فتح نہ کر سکے
30:25اسلامی لشکر نے حیرت انگیز شجاعت کا مظاہرہ کیا
30:29اور سلیبیوں کے مو پھر کر رکھ دیئے
30:32عیسائی سپاہ سالار
30:34گارڈ فری اپنے خیمے میں اس طرح ٹہل رہا تھا
30:36کہ اس کے چہرے پہ وحشت برس رہی تھی
30:38پھر جب اس کا نائب ڈیریک خیمے میں داخل ہوا
30:42تک گارڈ فری کسی جنونی انسان کی طرح
30:44اس پر برس پڑا
30:46تیری ساری اطلاعات غلط تھی
30:48ایک ہزار سپاہی
30:49پچاس ہزار فوجیوں کا مقابلہ
30:51کس طرح کر سکتے ہیں
30:54یقیناً مسلمان تعداد میں
30:55ہمارے برابر ہیں
30:57نائب سالار ڈیریک قسم کھا کھا کے
31:00گارڈ فری کو یقین دلاتا رہا
31:01کہ اس کی فراہم کرتا معلومات
31:03حرف با حرف درست ہیں
31:05ابھی ابھی یروشلم کا ایک عیسائی
31:07یہ خبر لے کے آیا تھا
31:12غالب نہیں آسکیں گے
31:13پھر ہمیں کس طرح غلبہ حاصل ہوگا
31:17گارڈ فری نے
31:18اپنے نائب ڈیریک کو ایک غلیز
31:20غالی دیتے ہوئے کہا
31:21اس شخص کا کہنا ہے کہ افتقار
31:24الدولہ نے بڑی ذہانہ سے اپنی دفاعی
31:26مرچر ترتیب دیئے ہیں
31:27ڈیریک ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے
31:30بول رہا تھا
31:30اس شخص کی رائے کے مطابق اگر شہر
31:34کی فصیل پر شدید سنگباری کی جائے
31:36اور فصیل کی اندہام کے بعد
31:38پورا عیسائی لشکر
31:40شہر میں داخل ہو کر بیعق وقت
31:42مسلمانوں پہ حملہ آور ہو
31:43تو سلیبیوں کو فتح حاصل ہو سکتی ہے
31:47یہ ایک اچھی خبر تھی
31:48جسے سن کر گارڈ فری لے کے
31:50چہرے کا تناؤ کچھ کام ہو گیا
31:51اور اس کے ہنٹوں پہ خفیف سمسکراہت
31:54اُبھر آئی
31:54پھر دوسرے دن گارڈ فری لے نے
31:56اپنے سپائیوں کو حکم دیا
31:58کہ وہ شب و روز کام کر کے
32:00بڑی تعداد میں منجنیقے تیار کریں
32:03پھر جب عیسائیوں کا یہ
32:04نیا اسلحہ تیار ہو گیا
32:06تو گارڈ فری لے کے حکم پہ شدید سنگباری کی گئی
32:09کئی دن کی مسلسل
32:10کوششوں کے بعد
32:11شہر کی فصیل میں دو تین شکاف پڑے
32:14مگر مجاہدین اسلام نے
32:16سلیبیوں کے اندر داخل نہیں ہونے دیا
32:18شہر کا یہ محاصلہ چالیس دن تک
32:21جاری رہا
32:21اس دوران میں عیسائی سالار گارڈ فری لے نے
32:24کئی چالیں چلی
32:25مگر وہ شہر پر قبضہ کرنے میں ناکام رہا
32:28جارو شرم کے عیسائی بھیز بدل بدل کر
32:31گارڈ فری لے کے لشکر میں جا رہے تھے
32:32اور افتقار و دولہ کے دفاعی انتظامات
32:35کی خبر دے رہے تھے
32:36بلاقر گارڈ فری لے نے
32:38اپنا پورا لشکر سمیٹ کر جنگ میں جھونک دیا
32:41بارے گھنٹے تک مسلسل لڑائی ہوتی رہی
32:43مگر سلیبی مسلمانوں پر غالب نہ آسکے
32:46یہاں تک کہ عیسائی لشکر پر
32:48مایوسیوں کے بادل چھانے لگے
32:51اکثر عیسائی سپاہیوں کی زبان پر
32:53ایک ہی جملہ تھا
32:54اب کوئی طاقت جروشلم کو فتح نہیں کر سکتی
32:57اپنے سپاہیوں کی دل شکستگی کا یہ منظر دیکھ کر
33:00گارڈ فری لے بدحواس ہو گیا
33:02اور پھر اس نے فوج کے ساتھ آنے والے پادریوں کو
33:05اپنے خیمے میں طلب کر کے
33:07مشفرے دینے شروع کر دیئے
33:08تمام پادری کچھ دیر تک سر جوڑے بیٹھے رہے
33:11پھر انہوں نے اتفاق رائے کے ساتھ
33:13اپنا پرانا حربہ استعمال کیا
33:15فوری طور پر ایک عیسائی سپاہی کو
33:18راہبوں جیسا لباس پینایا گیا
33:20پھر اسے کچھ ہدایات اور تلوار دیکھ کر
33:23ایک مشہور پہاڑ جبل زیتون پر بھیج دیا گیا
33:27منصوبہ مکمل ہو جانے کے بعد
33:30سالار گارڈ فرلے پادریوں کے ساتھ
33:32اپنے خیمے سے باہر نکلا
33:33اور زیتون کی پہاڑی کی طرف دیکھنے لگا
33:36جہاں راہبوں کا لباس پہنے ہوئے
33:38ایک سپاہی کھڑا تھا
33:40جو بار بار اپنی تلوار ہوا میں لہر آ رہا تھا
33:44منصوبے کے مطابق
33:45گارڈ فرلے نے اپنے تمام سپاہیوں کو
33:47ایک جگہ کر لیا
33:49پھر جبل زیتون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے
33:52ایک پادری سے پوچھا
33:53مقدس پیشوہ یہ شخص کون ہے
33:57پادریوں نے بھی مسنوعی حرط کے ساتھ
33:59یہ منظر دیکھا
33:59پھر ایک راہب انتہائی خوشی کے لہجے میں پوری طاقت سے چیخا
34:04یہ سینٹ جارج ہیں
34:06جو سلیبیوں کی مدد کو آئے ہیں
34:08اور تلوار کے اشارے سے کہہ رہے ہیں
34:10کہ پوری طاقت سے حملہ کرو
34:11میں تمہارے ساتھ ہوں
34:13اور یروشلم تمہارا ہے
34:15سینٹ جارج عیسائیوں میں ایک بڑا عبادت گزار شخص تھا
34:19جسے عیسائی ولی کا درجہ دیتے ہیں
34:21سینٹ جارج کو جرجیز بھی کہا جاتا ہے
34:25پادری کی یہ جذباتی تقریر سن کر
34:28عیسائی سپاہیوں کے مذہبی جذبات
34:30جنگل کی آگ کی طرح بڑا کھٹھے
34:32پھر انہوں نے وحشیانہ انداز میں مسلمانوں پہ حملہ کیا
34:36شہر میں رہنے والے عیسائیوں کی مغبری کے باعث
34:39افتقال الدولہ کے تمام دفاعی مرچے درہم برہم ہو کر رہ گئے
34:43اور سلیبی شہر میں داخل ہو گئے
34:45پھر گھمسان کا رن پڑا
34:48اہل ایمان اتنی بے جگری سے لڑے کے شجاعت کی نئی تاریخ رقم کر دی
34:52مگر وہ پچاس ہزار سپاہیوں کے نرگے میں اس طرح گھر گئے تھے
34:56کہ ایک ایک کر کے تمام مجاہدین اسلام شہید ہو گئے
35:00پھر جب یہ خون کا سلاب تھم گیا
35:02تو افتقال الدولہ کے تلاش شروع ہوئی
35:04وہ مرد شہید
35:06عیسائی سپاہیوں کو اس حالت میں ملا کے
35:08اس کا پورا جسم زخموں سے چھلنی تھا
35:10مگر شہادت کے بعد بھی افتقال الدولہ کے ہاتھ میں تلوار تھی
35:14اور ہوتوں پہ ایک آسودہ مسکرہات
35:17علامہ اقبال نے اپنے فارسی شیر میں مرد مومن کے تصویر کشی اس طرح کی ہے
35:30یعنی میں تجھے دوبارہ مرد مومن کا نشان بتاتا ہوں
35:34کہ جب موت آتی ہے تو اس کے ہوتوں پہ تبسم ہوتا ہے
35:40مجاہدین اسلام کی شہادت کے بعد
35:42سپاہیانہ جنگ ختم ہو گئی تھی
35:44مگر عیسائی سالار گارڈ فرلے نے
35:47بے دستپا مسلمان شہریوں کے خلاف دوسری جنگ شروع کر دی
35:50ایک ایسی جنگ
35:52کہ تاریخ عالم میں شاید ہی
35:54اس کی کوئی دوسری مثال ملتی ہو
35:56گارڈ فرلے نے افتقال الدولہ کے لاش کو
35:58اپنے گھوڑوں کے ٹاپوں سے رون ڈالا
36:00پھر سلیبی لشکر
36:02درندوں کی طرح شہری عبادی پر
36:04ٹوٹ پڑا ستر ہزار
36:06مسلمان قتل کیے گئے
36:08مقتلین میں کچھ یہودی بھی شامل تھے
36:10نہ بڑوں کو اماملی
36:12نہ عورتیں اور بچے محفوظ رہے
36:15پورا شہر ماتم قدہ
36:17بنا ہوا تھا اور
36:18مقدس سرزمین کا گوشہ گوشہ
36:20مقتل میں تبدیل ہو گیا تھا
36:22قتل و غارت کا یہ منظر
36:24بیان کرتے وقت
36:25قاضی ابن ارسوں کی آنکھوں سے آنسو
36:28جاری ہو گئے اور شدید
36:30غم سے ان کی آواز لرس رہی تھی
36:33سلطان نور الدین زنگی
36:34بھی عبدیدہ ہو گئے تھے
36:36کم و بیش تمام درباریوں کی یہی
36:38کیفیت تھی
36:40مگر کچھ درباری ایسے بھی تھے
36:42مگر کچھ درباری ایسے بھی تھے
36:44جن کے چہروں پہ نفرت و غزب
36:46کی تیز آگ روشن تھی
36:49اگر ان کا بس چلتا
36:50تو وہ گارڈ فرلے کا انتقام
36:52جوسلن سانی سے لیتے
36:53اور سرے دربار اس کے جسم کو
36:56ٹکڑوں میں تبدیل کر کے
36:57اپنے سینوں میں بھڑکتی ہوئی آگ کو
36:59ٹھنڈار کتے
36:59قاضی ابن رسو نے بڑی مشکل سے
37:02اپنے آساب پہ قابو پایا
37:03اور سلطان نور الدین زنگی
37:05کو مخاطب کرتے ہوئے بولے
37:07سلطان محترم
37:08میں اس واقعے کا آخری منظر بیان کر دوں
37:11تاکہ اہل ایمان عبرت حاصل کریں
37:14اور اس خونی داستان کو
37:16ہمیشہ اپنے ذہنوں میں محفوظ رکھیں
37:18سلیبی لشکر کی وحشت
37:26لاشوں کے امبار لگ گئے تھے
37:28مسجد اقصہ
37:30جہاں سے میرے آقا
37:31حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
37:34نے سفر محراج شروع کیا تھا
37:36اس کے سہن میں اہل ایمان
37:38کا اتنا خون جمع تھا
37:39کہ اس خون میں عیسائی شہ سواروں کے
37:42گھوڑوں کی لگا میں ڈوب گئی تھی
37:45حضرت عیسیٰ علیہ السلام
37:46کے مزار مبارک کے سوا
37:48بیت المقدس میں ایسا کوئی گوشت
37:50موجود نہیں تھا جو مسلمانوں
37:52کے خون سے تر نہ ہو
37:56مسجد عمر کو بھی جی بھر کے لوٹا گیا
37:58اس کا سارا قیمتی
38:00ارائحی سامان چھے بڑی بڑی
38:02گاڑیوں میں بھر کے لے جایا گیا
38:04یہ کہہ کر قاضی نے
38:06جوسلن سانی کی طرف اشارہ کیا
38:08یہ شخص جو آج
38:10آپ کے سامنے زنجیرے پہنے
38:12کھڑا ہے اور اسلام
38:14کی شان میں قصیدے پڑھ کر
38:15اپنی زندگی کی بھیک مانگ رہا ہے
38:17اسی خون آشام گارڈ
38:20فرلے کا پرجوش ہمنوا
38:21اور معتقد خاص ہے
38:24یہ کہہ کر قاضی ابن عرسون
38:26اپنی نشست پر بیٹھ گئے
38:29سلطان نور الدین نے
38:30سلیبیوں کے مظالم کی لرزہ خیز
38:32داستان سن کر جوسلن سانی
38:35کی قسمت کا فیصلہ کر دیا
38:36تھوڑی ہی دیر بعد
38:38ایک دراز قامت جلاد
38:40اپنے ہاتھ میں لوہے کی ایک تپتی ہوئی
38:42سرخ سلاک لے کر داخل ہوا
38:44کئی سپاہیوں نے
38:46مضبوطی سے جوسلن سانی کے دونوں
38:48بازو پکڑے اور پھر جلاد
38:50نے اس کی آنکھوں میں سرخ سلاک پھیر دی
38:54چند لمحوں تک
38:55جوسلن سانی کی دردناک چیخوں سے
38:57پورا دربار گونٹا رہا
38:58پھر بے ہوش ہو کر فرج پہ گر پڑا
39:01اس کے بعد اسے حلب کے قیت خانے میں
39:04ڈال دیا گیا جہاں وہ دیواروں سے
39:06سر ٹکرا ٹکرا کر
39:07اپنی بدنصیبی کا ماتم کرتا رہتا تھا
39:11اس وقت حاضرین دربار میں
39:13دس سالہ یوسف
39:14سویانی صلاح الدین ایوبی بھی شامل تھا
39:17اس نے اپنے استاد
39:18قاضی ابن عرسون کی زبانی
39:21سلیوی جنگوں اور عیسائیوں کے
39:23مظالم کے تاریخ پوری توجہ
39:25کے ساتھ سنی تھی
Comments