Skip to playerSkip to main content
Fazail-e-Ahl-e-Bait | Special Transmission

Muharram Special || https://www.youtube.com/playlist?list=PLdinBbJPyiSU

Fazail-e-Ahl-e-Bait par ek khoobsurat bayan jismein Ahl e Bait ki fazilat, unki azmat aur Islam mein unke maqam ko bayan kiya gaya hai. Quran o Hadith ki roshni mein Ahl e Bait se muhabbat ka paigham.

Topic: Ahl e Bait RA kay Fazail

Speaker: Dr Syed Hamid Shah Bukhari

#aryqtv #FazaileAhleBai #Muharram #AllamaMuftiMazharMukhtarDurrani

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00Alhamdulillahi Rabbil Alameen
00:03Assalatul Assalamu ala Sayyidil Anbiyahul Murselin wal Aqibatul Al-Murtaqin
00:08Amma بعد
00:10Fa'udu Billahi Minash Shaitanirajim
00:12Bismillahirrahmanirrahim
00:14Wa min annaasimai yashri nafsahu abtiga mardaatillahi
00:19Wallahu rewuhum bil'ibad
00:21Sadakallahu lazim
00:22Innallahu malaykatahu yusalloon ala nabih
00:26يَا يُحَلَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهُ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
00:30اللہم صلی على سیدنا ومولانا محمد
00:34وعلى آل سیدنا مولانا محمد مبارک وصلم وصلم علی
00:40موزد سامعین
00:42آج ہم جس مبارک ہستی کی بارگاہ میں
00:45خیراج محبت
00:47خیراج عقیدت
00:49اور خیراج تحسین پیش کرنے کے لئے حاضر ہیں
00:51وہ مبارک ہستی نبی اکرم علی تحییت وصنا کے مبارک داماد
00:58آپ کی چچازاد
01:00مولا کائنات
01:03شیرِ خدا
01:04حیدرِ کررار
01:06تاجدارِ حلعتا
01:08جنابِ سیدنا علی المرتضی علیہ السلام کی ذاتِ گرامی ہے
01:13آپ کے فضائل بے شمار ہیں
01:18آپ کی خوبیاں انگنت ہیں
01:22اور آپ کے جو محاصن ہیں وہ لا تعداد ہیں
01:26تو آپ کی کسی حسن و خوبی کا تذکرہ کیا جائے
01:30آپ کے کسی وصف کا تذکرہ کیا جائے
01:35تو یقیناً اس کے لئے
01:37اتنا وقت انسان کو درکار ہے
01:40کہ شاید زندگی اس میں بیٹھ جاتی ہے
01:43لیکن مولا کائنات شیرِ خدا کے اصاف کا ایک باپ بھی مکمل نہیں ہو پاتا
01:49جو آیاء کریمہ میں نے خطبہ میں تلاوت کرنے کا شرف حاصل کیا
01:53اللہ کریم میں ارشاد فرماتے ہیں
01:55وَمِنَ النَّاسِ مِنْ يَشْرِي نَفْسَ حُبْتِغَا مَرْدَاتِ اللَّهِ
01:59کہ کچھ لوگ وہ بھی ہوتے ہیں
02:00کہ جنہوں نے اللہ کی رضا پانے کے لئے
02:03اللہ کو راضی کرنے کے لئے
02:05اللہ کی مرضی حاصل کرنے کے لئے
02:08اپنے نفس کو بیچ دیا ہے
02:13اللہ کی رضا ہے
02:15اللہ کی منشاہ ہے
02:18اللہ کی خوشنودی ہے
02:19اور دوسری طرف اپنی جان ہے
02:22اپنا نفس ہے
02:23تو وہ اپنی جان اور اپنے نفس کی کوئی پرواہ نہیں کرتے
02:27بلکہ اللہ کریم کی بارگاہ میں اس کی رضا کو حاصل کر لیتے ہیں
02:32یہ آیاء کریمہ ہے
02:34سورہ بکرہ کی
02:35دوسرے پارے کی
02:36اس کا شان نزول کیا ہے
02:39تو حضرت امام فخر الدین الرازی
02:41رحمت اللہ تعالیٰ اپنی تفسیر میں
02:44تفسیر کبیر میں ارشاد فرماتے ہیں
02:46کہ نازلت
02:47فی علی ابن عبی طالب علیہ السلام
02:50کہ یہ آیاء مبارکہ
02:52مولا کائنات شرح خدا
02:54جناب علی المرتضی علیہ السلام
02:56کی شان میں
02:57نازل ہوئی ہے
02:59حضراتِ گرامی قرآنِ عزیز کا
03:01اگر ہم مطالعہ کرتے ہیں
03:02تو ظاہری سی بات ہے
03:04کہ قرآن کے نزول کا ایک عمومی سبب ہے
03:07وہ یقیناً ہدایت ہے
03:09وہ تقوی ہے
03:10حدل للمتقین ہے
03:11کہ متقین لوگوں کے لئے
03:13اللہ نے سارے قرآن کو
03:14ہدایت بنا کر بھی جائے
03:15یہ عمومی سبب ہے
03:16اور کبھی کبھی
03:18کسی بھی آیت کے شان نزول میں
03:20ہمیں کوئی خصوصی سبب نظر آتا ہے
03:22جیسے ہم
03:23اسباب نزول کی بحث میں
03:25جا کے مطالعہ کرتے ہیں
03:26تو اب اس آیت کا ایک
03:28تو عام مفہوم ہو گیا
03:29کہ جو انسان بھی
03:31اپنے نفس کو
03:31اللہ کی رضا کے لئے بیچتا ہے
03:33میرا رب
03:34اسے اپنی رضا
03:35یقیناً آتا فرماتا ہے
03:37جنت کی نعمتیں آتا فرماتا ہے
03:40لیکن خصوصی طور پہ
03:42حضرت امام ارشاد فرماتے ہیں
03:44کہ نازلت فی علی جبن ابی طالب علیہ السلام
03:47یہ مولا کائنات شہر خدا
03:49جنابی علی المرتضی علیہ السلام کی شان میں
03:51نازل ہوئی ہے
03:52اور یہ نازل کب ہوئی ہے
03:54باتا علی فراش رسول اللہ صلی اللہ علیہ السلام
03:59لیلہ تخروجہی علیہ الغار
04:01کہ جیس رات کو
04:02نبی اکرم علی تحییات و سنا حجرت کے لئے نکلے تھے
04:05شب حجرت کو
04:07نبی اکرم نکلے تھے
04:10غار سور کی طرف آقا روانہ ہوئے تھے
04:12اور اپنے حجرے سے نکلتے ہوئے
04:13آقا نے ارشاد فرمایا
04:15کہ میں اللہ کے حکم سے
04:16علی کو آج اپنا بستر عطا فرماتا ہوں
04:19اور مکہ والوں کی ساری امانتیں بھی عطا کرتا ہوں
04:24اگرامی ذرا غور کرنے والی بات ہے
04:25کہ شیب ابی طالب اس سے پہلے گزر چکی ہے
04:28اور تین سال ہیں
04:30اور تین سال کی تقریباً ایک ہزار راتیں بنتی ہیں
04:33اور مولا کائنات شرح خدا ہر رات
04:35اپنے پیارے نبی کے بستر پہ سوتے ہیں
04:38ان کی حفاظت کرتے ہیں
04:39حالانکہ آپ کا سارا خاندان شیب ابی طالب میں موجود ہے
04:43آپ کے مبارک چچا حضرت ابو طالب بھی
04:45مولا علی کے والد اگرامی بھی تشریف فرما ہے
04:48تو جناب علی ہر رات سویا کرتے تھے
04:50اور وہ ہزار راتیں جو آپ کو وہ مشک اور تمرین اور ایکسرسائز کروائی گئی
04:55اس کا مقصد صرف یہ تھا
04:57کہ جب شبہ حجرت یہ وقت آئے گا
04:59تو مولا علی کے لئے کوئی بھی ججت نہ ہو
05:01اور آپ کے لئے کوئی پریشانی والی چیز نہ ہو
05:04اور آپ فوراں رسول اکرم علی تحییت و سنا کے اس حکم کے سامنے
05:08سر تسلیم خم کر لے
05:10تو اب حضرت امام اس آیت کے شان نزول میں ارشاد فرماتے ہیں
05:14کہ باتا علی فراش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
05:18لیلتا خروج ہیلالغاری
05:20کہ جب آقا کریم شبہ حجرت کو نکلے
05:22اور غار کی طرف یعنی غار سور کی طرف آقا کریم نے اپنے سفر کا سلسلہ شروع کیا
05:27تو اب اس بسٹر پہ کسی کو تو لٹانا تھا
05:29تو پھر اللہ کے حکم سے پیارے رسول نے
05:32رحمت قونین نے جناب محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
05:36آپ نے محبوب علی کا
05:39آپ اللہ کے محبوب ہیں اور علی پھر رسول اللہ کے محبوب ہیں
05:43تو علی کا انتخاب کیا
05:44اور علی پھر بسٹر پہ دراز ہو جاتے ہیں
05:46ایک تو امانتیں دینی تھی اور رات کو سونا تھا
05:50وَيُرَا أَنَّهُ لَمَّا نَامَ عَلَى فِرَاشِهِ
05:53اب یہ بات سننے والی ہے
05:54اب راوی یہ کہتے ہیں کہ جب حضرت مولا کائنات شہرِ خدا
05:58اپنے رسول کے حکم پہ بسٹر پہ دراز ہو جاتے ہیں
06:00اور مبارک چادر وہ کملی اوڑ کے سو جاتے ہیں
06:03قام جبریل علیہ السلام اندہ رأسہی
06:07وَمِقَائِلُ اندہ رِجْلِئِهِ
06:10وَجِبریلُ يُنَادِي بَخْ بَخْ مِنْ مِسْلِقَ
06:13مَنْ مِسْلِقَ
06:14يَا اِبْنَ عَبِي طَالِبْ يُبَاحِ اللَّهُ بِكَ الْمَلَائِكَ
06:18وَنَازَلَتِ الْآیَا
06:19تو جبریل علیہ السلام اللہ کے حکم سے آئے
06:23اور مولا کائنات شہرِ خدا کے سرحانے کی طرف جا کے کھڑے ہو گئے
06:27میکائل علیہ السلام کو میرے رب نے نازل فرمایا
06:30وہ آپ کی پائنٹی کی طرف جا کے کھڑے ہو گئے
06:32اور جناب جبریل نے صدا دی
06:34ندا دی
06:35اور سارے زمانے نے سنا کہ
06:45اے ابو طالب کے بیٹے علی آپ کو مبارک ہو
06:48کہ اس وقت آپ کی مثل کوئی نہیں ہے
06:50کہ میرا رب عرش والوں کی مجلس سے جا کر
06:53وہاں آپ کا تذکرہ فخر کے ساتھ کر رہا ہے
06:55کیونکہ باہر تلواروں کا سایہ ہے
06:58اور یہ موت کا بستر ہے
07:00اور اس پہ سونا کوئی آسان کام نہیں تھا
07:02تو اللہ کے حکم سے
07:03نبی اکرم علی تحییت و سنان علی کو
07:06ارشاد فرمایا
07:07اور علی وہاں بستر پہ دراز ہو جاتے ہیں
07:10تو اس کا مطلب یہ ہوا
07:11کہ مولا علی نے بالکل پرواہ نہیں کی
07:14بالکل پرواہ نہیں کی
07:15اپنی جان کی
07:16اپنے نفس کی
07:18ویسے اپنے نفس کی پرواہ کرنی بھی کیا تھی
07:20انفسہ نا و انفسہ کم کا فیضان بھی
07:23اللہ نے آپ کو عطا فرمایا تھا
07:25تو اپنے نفس کی پرواہ نہیں کی
07:27ساری رات سو جاتے ہیں
07:29اب مولا علی کی اس جان ساری پہ
07:37کہ آج کے بعد
07:38جو انسان بھی
07:39اپنے نفس کو بیچے گا
07:41اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے
07:42تو پھر اسے پریشان ہونے کے ذوت نہیں ہے
07:44میرا رب اس انسان کی
07:46جان اور مال کے بدلے
07:48اسے جنت کی اعلی نعمتیں عطا فرمائے گا
07:50تو قرآن کریم کی
07:52یہ آیت مبارکہ تو
07:54بطور خاص مولا کائنات
07:56شیر خدا جناب علی المرتضی علیہ السلام
07:58کی عظمت کو
07:59آپ کی فضیلت کو بیان کرنے کے لئے
08:01اللہ کریم نے نازل فرمائے
08:03ایک اور آیت مبارکہ
08:06یعنی مبارکہ سورہ مائدہ کی
08:16کہ میرے رب نے ارشاد فرمایا
08:18کہ تمہارا ولی اللہ ہے
08:20یعنی تمہارا مددگار اللہ ہے
08:21اللہ کا رسول ہے
08:23اور وہ مومن ہیں
08:24جو نماز پڑھتے ہیں
08:26اور حالت رکو میں زکاة بھی
08:28ادا کرتے ہیں
08:29اب اس آیت مبارکہ کا
08:31مصداق کیا ہے
08:32میں پھر ارز کروں گا
08:34اور میں پہلے ارز کر چکا ہوں
08:35کہ ہر آیت کا
08:36ایک عام شان نزول ہے
08:38اور وہ ہدایت ہے
08:39جس طرح پہلی آیت بھی
08:40میں نے ارز کر دیا
08:41اور یہ آیت مبارکہ بھی ہے
08:42لیکن کوئی خاص بھی شان نزول ہے
08:45نہ خاص سبب نزول ہے
08:46تو حضرت امام فخرودین الرازی
08:48رحمت اللہ علیہ
08:49تفسیر کبیر میں
08:50اس آیت مبارکہ کا بھی
08:51شان نزول بیان کرتے ہیں
08:53وہ کہتے ہیں
08:53کہ یہ حضرت سیدنا
08:54ابو ذر رضی اللہ عنہ
08:56اس حدیث مبارکہ کو
08:57روایت کرتے ہیں
08:59اب ابو ذر یہ کہتے ہیں
09:01کہ
09:05کہ میں نے ایک دن
09:06رسول اکرم علی تحییت
09:08والسناد کے ساتھ
09:09زہر کی نماز ادا کی
09:10زہر کی نماز
09:11رسول اکرم کی
09:12معیت میں ادا کی
09:13تو اسی دوران
09:18جب نماز ہو رہی تھی
09:19سارے سحابہ اکرام
09:20اور آقاہ کائنات
09:22بھی وہاں تشریف فرما ہے
09:23تو ایک سائل آ گیا
09:23اور اس نے آکے سوال کیا
09:26اپنے مقصد کو بیان کیا
09:28اپنی طلب کو
09:29سب کے سامنے رکھا
09:30فلم جوتے ہی آحد
09:31تو کسی نے بھی کچھ آتا نہیں کیا
09:33کوئی نماز میں ہے
09:35اور کوئی قرآن کی تلاوت کر رہا ہے
09:38تو عبادت ہے
09:38خشوق عالم ہے
09:39تو کوئی بھی
09:40اس کے طرح متوجہ نہ ہو پایا
09:43فرفع السائل
09:44جادہوی للسما
09:45تو اب اسی دوران
09:46اس سائل نے
09:47اپنا ہاتھ آسمان کے طرف اٹھا دیا
09:49اس نے اپنے ہاتھ بلند کر دی
09:51اور اللہ کریم کی بارگاہ میں ارز کیا
09:54اللہم مشہد
09:55انی سالتو فی مسجد الرسول
09:57صلی اللہ علیہ وسلم
09:58فما آتانی احدن شیعہ
10:00اب وہ سائل احز کرتا ہے
10:02مولا تو گواہ ہو جا
10:04میں نے تیرے رسول کی مسجد میں جا کے
10:06مسجد نبوی میں جا کے
10:07سوال کیا
10:08لوگوں کے سامنے
10:09اپنے دامن طلب کو دراز کیا
10:12اور اپنے خالی ہاتھ کو سامنے رکھا
10:14فما آتانی احدن شیعہ
10:16لیکن کسی نے بھی
10:17میری جھولی کو نہیں بارا
10:19میری ضرورت کو پورا نہیں کیا
10:21کسی نے کچھ آتا نہیں کیا
10:26اب وہ کیفیت یہ تھی
10:28وہ دعا کر رہا ہے
10:29اور مولا کائنات نے
10:30مات پڑھتے پڑھتے
10:31رکو کی کیفیت میں آگئے
10:33تو مولا کائنات شیعہ
10:38خدا رکو کی حالت میں ہے
10:44اب مولا کائنات نے
10:46اپنے دائیں ہاتھ کی
10:48چھوٹی انگلی کے ساتھ
10:49اس کی طرف اشارہ کیا
10:50اور اس دائیں ہاتھ کی
10:52چھوٹی انگلی میں
10:53آپ نے انگوٹھی پہنی ہوئی تھی
10:55آپ رکو کی حالت میں
10:56اور آپ نے اسے اشارہ کر دیا
11:01اب وہ سائل آگے بڑھا
11:04اور مولا کائنات شیعہ خدا
11:05کی اس مبارک انگوشت سے
11:07آپ کی مبارک انگلی سے
11:08اس انگوٹھی کو اتار لیا
11:10اب یہ سارا باقیہ
11:14رسول اکرم سامنے دیکھ رہے ہیں
11:16ابو ذر کہتے ہیں
11:17میں نماز کے لئے گیا
11:18آقا کے ساتھ حاضر ہوا
11:20آقا نے نماز پڑھائی
11:22ہم نے آقا کے پیچھے نماز پڑھی
11:23پھر سائل آیا
11:24پھر سائل نے سوال کیا
11:26مانگا
11:27کسی نے کچھ عطا نہیں کیا
11:28پھر سائل نے ہاتھ اٹھائے
11:30اللہ کی بارگاہ میں شکوا کرنے لگا
11:32تو مولا علی اس وقت
11:33رکو کی کیفیت میں تھے
11:34تو علی نے پھر اپنے دائیں
11:36ہاتھ کی چھوٹی انگلی کے ساتھ
11:37اس کی طرف اشارہ کر دیا
11:38جس میں انگوٹھی تھی
11:40وہ آگے بڑھا
11:40اور اس نے انگوٹھی اٹھا دیا
11:41اب یہ سارا معاملہ
11:43رسول اکرم علی تحییت والسنہ
11:45اپنے مبارک نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں
11:48فقالا
11:48حضرت ابو ذری سے روایت کرتے ہیں
11:50اور امام فخردین الرازی نے
11:52اس آیت و مبارکہ کے شان نزول میں
11:54اسے لکھا ہے
11:54کہ نبی اکرم علی تحییت والسنہ
11:56نے پھر اپنے رب کے بارگاہ میں
11:58ایک دعا کی اور ہاتھ اٹھائے
11:59اور ارز کی
12:03کہ ایک موقع ایسا تھا
12:05کہ جب تُو نے جناب موسیٰ کو
12:07میرے بھائی موسیٰ قلیم اللہ
12:08کو رسول اکرم اپنے بھائی ہونے کی نسبت
12:10جناب موسیٰ کی طرف کر رہے ہیں
12:12کہ میرے مولا تُو نے موسیٰ کو
12:14میرے بھائی کو حکم دیا تھا
12:16فیرون کے دربار میں جانے کے لیے
12:18تو موسیٰ نے تیری بارگاہ میں ایک ارز کی تھی
12:21اور وارز کیا تھی
12:22کہ جناب موسیٰ نے کہا
12:23رب شرح لی صدری ویسر لی امری
12:29اب یہ دعا مانگی
12:31اور اس میں عرض یہ کیا
12:35مولا میں تیری بارگاہ میں
12:36ارز کرتا ہوں کہ تُو اتنے
12:38مشکل کام کے لیے رخصت ہونے کا
12:40مجھے حکم دے رہا ہے
12:41تو میرے آہل و عیال میں سے کسی کو
12:44میرا وزیر بنا دے
12:46حارون اخی میرا بھائی جو حارون ہے
12:49اسے ہی میری وزارت میں
12:50اور میرے ساتھ معاملت کے لیے رخصت کر دے
12:53اب یہ نبی اکرم نے
12:55وہ دعا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی
12:56سول میں پارے میں سورہ تاہہ میں بیان ہوئی ہے
12:59دوسرے رکوع میں
12:59تو نبی اکرم نے وہ ساری دعا
13:01اللہ کریم کی بارگاہ میں عرض کی
13:04پھر آقا کریم نے یہ بھی عرض کیا
13:06فَانْزَلْتَ قُرَانًا نَاطِقَا
13:08سَنَشُدُّ عَدُدَكَ بِأَخِيْكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَ سُلْطَانًا
13:12اور پھر جناب آقا کریم نے
13:14اللہ کریم کی بارگاہ میں عرض کیا
13:16کہ جب موسیٰ نے یہ دعا مانگی
13:17اور حرون کو بطور وزیر
13:19اپنے لئے مانگ لیا
13:20تو تو نے پھر قرآن ناطق کو نازل کیا
13:23تو نے قرآن کو بولتے ہوئے
13:25قرآن کو نازل کیا
13:26اور سورہ قصص کی سائد کو نازل کیا
13:28کہ میں نے اے موسیٰ
13:30تمہیں حرون بطور وزیر
13:32عطا کر دیا
13:33تمہارا بھائی اب تمہارے ساتھ
13:35سلطان مبین بن کے جائے گا
13:37اللہ کی واضح دلیل بن کے جائے گا
13:40اور وہ وہاں جا کے خطابت کرے گا
13:42کلام کرے گا
13:43اور تمہاری معونت کرے گا
13:45نبی اکرم نے جب حضرت ابو زر کہتے ہیں
13:47کہ اللہ کریم کی بارگاہ میں یہ دعا پیش کر دی
13:49تو پھر آقا کریم نے ارز کیا
13:51مولا اب میں بھی تیری بارگاہ سے کچھ مانگنا چاہتا ہوں
13:54انما ولی یکم اللہ ورسولہ
13:57واللزین آمن اللزین
13:59یقیمون الصلاة ویوتون زکاة
14:02وہم راکعون
14:03اس آیت کا شان نزول حضرت امام فخردن الرازی
14:06تفسیرِ قبیر میں بیان کر رہے ہیں
14:08پھر آقا کریم نے ارز کیا
14:10اللہم وآنا محمد النبی
14:12یکا وصفی یکا مولا
14:14میں محمد بھی تو تیرا نبی ہوں
14:16تیرا چنا ہوا ہوں ورسول
14:18اکا تیرا رسول ہوں وحبیب
14:20اکار تیرا حبیب ہوں
14:21جنابِ موسیٰ سے زیادہ میری اور تیری
14:23نسبتیں ہیں
14:25تو پھر آقا کریم نے یہ دعا کی
14:27فَشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيُسْرْ لِي أَمْرِي
14:30وَجْعَلْ لِي وَزِيدًا مِّنْ أَحْلِي
14:33عَلِيًّا اُشْدُدْ بِهِ زَهْرِي
14:36جس طرح حضرتِ موسیٰ علیہ السلام
14:38نے حرون کا نام لے کر
14:40جنابِ حرون علیہ السلام کا نام لے کر
14:42اللہ سے مانگا تھا
14:43تو نبی اکرم نے حضرتِ مولا
14:46کائنات شرِ خدا کو اپنے رب کی بارگاہ
14:48سے نام لے کر مانگا
14:49اب حضرتِ ابو زر کہتے ہیں
14:51فَوَاللَّهِ مَا أَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ
14:53صَلَّى اللَّهِ صَلَّى اللَّهِ
14:54حَاظِهِ الْقَالِمَةِ
14:56ابھی اللہ کی صدقی قسم
14:58نبی اکرم نے یہ دعا کے
14:59کلمات مکمل نہیں کیے تھے
15:01ابھی آپ نے دعا مانگتے مانگتے
15:03ان کلمات کو مکمل نہیں کیا تھا
15:05اور آپ نے چہرے پہ ہاتھ نہیں پھیراتا
15:07حتی نازال جبریلو
15:08یہاں تاک کہ اللہ نے جبریل کو نازل کر دیا
15:11جبریل رسول اکرم کی بارگاہ میں نازل ہو گئے
15:13اور آ کر پھر یہ آیتِ مبارکہ پڑھی
15:16کہ اِنَّمَا وَلِجُكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ
15:18وَالَّذِينَ آمَنُ اللَّذِينَ
15:20يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّقَاةَ وَهُمْ رَاکِعُونَ
15:24تو اس کا مطلب یہ ہے
15:26کہ اس آیتِ مبارکہ میں
15:27رقوع کی حالت میں
15:29زکاة دینے والی ہستی کون ہے
15:31حضرت امام فخر الدین الرازی کے
15:33قول کے مطابق وہ مولای کائنات
15:35شعرِ خدا جنابِ علی المرتضی علیہ السلام کی
15:37ذاتِ گرامی ہے
15:39اور بھی بہت ساری آیات ہیں
15:40جو بطور خاص مولای کائنات
15:43کے لئے نازل ہوئی
15:44یا ان آیات کا مصداقِ کامل
15:46یا مصداقِ عتم
15:48یا مظہرِ کامل بن کر مولای کائنات
15:50شعرِ خدا جنابِ علی المرتضی علیہ السلام کی
15:53ذاتِ گرامی ہمارے سامنے آتی ہے
15:54وہ آیائے تطہیر ہو
15:56یا وہ آیتِ مباحلہ ہو
16:00اور بھی بہت ساری آیات ہیں جو آلِ بایت کی شان
16:03میں آئی ہیں
16:07مولا کائنات شعرِ خدا کی
16:09محبت کا بطور خاص حکم ارشاد فرمائے گا
16:11لیکن یہ دو آیات
16:13بطور خاص اور ان کے شانِ نزول
16:15میں نے آپ کے خدمت میں پیش کرنا چاہا
16:17تاکہ ہمیں اندازہ ہو سکے
16:19کہ اللہ کے پیارے رسول کی
16:21اس مبارک ہستی نے
16:23کس طرح اپنی زندگی
16:24اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں قربان کی ہیں
16:28تو جب مولا کائنات
16:29نے اپنے نفس کی پروان
16:32نہیں کی اپنے رب کی بارگاہ میں
16:33قربان کرنے کے لئے رضا پانے کے لئے
16:35تو پھر اللہ نے اپنی رضا بھی عطا فرمائی
16:38اور جنابِ محمد الرسول اللہ
16:39صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا بھی عطا فرمائی
16:42اور پھر وہ وقت آیا
16:43کہ مولا کائنات شعرِ خدا
16:45اللہ کے محبوب بھی بن گئے
16:47محب تو تھے ہی
16:48اللہ کے محمد الرسول اللہ کے محبوب بھی بن گئے
16:53محبوبِ الٰہی بھی ہو گئے
16:55محبوبِ محمد بھی ہو گئے
16:57محمدی بھی ہو گئے
16:59یہ دونوں مقام اللہ نے آپ کو عطا فرمائے
17:01اور حدیثِ مبارکہ کیا ہے
17:03حضرتِ انس بن مالک روایت کرتے ہیں
17:04یہ حدیثِ تیر
17:06وہ پرندے کا گوشت کھانے والی
17:08بڑی مشہور حدیث ہے
17:09کہ رسولِ اکرم کی بارگاہ میں
17:11بھنا ہوا پرندہ پیش کیا گیا
17:13اور آقا کریم کو رغبت ہوئی
17:15کہ آپ اسے تناول فرمائیں
17:16تو آپ کی خواہش ہوئی
17:17حضرتِ انس بن مالک وہاں کھڑے تھے
17:20آقا کے خادم تھے جنابِ انس
17:21تو حضرتِ انس کہتے ہیں
17:23کہ آقا کریم نے
17:24اس گوشت کو کھانے سے پہلے
17:26بھنا ہوا پرندہ تناول کرنے سے پہلے
17:28آقا کریم نے ہاتھ اٹھائے
17:30اور اپنے رب کی بارگاہ میں ارز کیا
17:31اللہم معتنی بیہب بخلقکا
17:34کہ مولا میں تیری بارگاہ میں ارز کرتا ہوں
17:36کہ اپنی مخلوق میں سے
17:38جو سب سے زیادہ تیرا محبوب ہے
17:40جسے تُو سب سے زیادہ محبت کرتا ہے
17:43جسے تیری محبت کا قرب حاصل ہے
17:46اس مبارک ہستی کو میری بارگاہ میں
17:49تُو خود بھیج دے
17:50اب رسولِ اکرم نے کوئی نومائندہ نہیں بھیجا
17:53رسولِ اکرم نے جنابِ انس کو روانہ نہیں کیا
17:56رسولِ اکرم نے کسی اور صحابی کو نہیں کہا
17:59حضرتِ انس اندر کھڑے ہیں
18:00آقا کریم کی بارگاہ میں کھانا پیش کیا گیا
18:03انس کہتے ہیں آقا نے ہاتھ اٹھائے
18:04کہا مولا تُو خود بیج دے
18:07اب حضرتِ انس کہتے ہیں
18:09کہ تھوڑی دیر میں انتظار کرتا رہا
18:10کہ وہ کون سی ہستی ہیں جو اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں
18:13تھوڑی دیر بعد دروازے پر دستق ہوتی ہے
18:15تو میں نے دیکھا کہ وہ ابو طالب کے بیٹے مولا علی ہیں
18:19تو رسولِ اکرم مسکرائے
18:20اور آپ نے کھڑے ہو کر علی کا استقبال کیا
18:23اور آقا کریم نے سنایا
18:24علی تُجھے مبارک ہو
18:25پہلے صرف تُو اللہ سے محبت کرتا تھا
18:27آج اللہ نے بھی اپنی محبت کا مجدہ تیرے لیے عطا فرما دیا ہے
18:32تو حضرتِ انس بن مالک نے
18:35اس سارے واقعے پر مہرِ تصدیق ثبت کی ہے
18:38کہ آقا کریم علی تحییت و السنا
18:40کس طرح علی سے محبت کرتے تھے
18:42اور آقا یہ چاہتے تھے
18:43کہ میرا رب بھی علی سے محبت کرے
18:45اور میرے رب نے محبت بھی کی
18:48غدوہِ خیبر کا واقعہ ہے
18:49بڑا مشہور واقعہ
18:52سترہ دنوں تک وہ جنگ جاری رہتی ہے
18:54بس اللہ کی طرف سے کوئی حکمت ہے
18:57منشاہ ہے
18:57ابھی فتح نصیب نہیں ہو رہی
19:00ایک شام کو آقا نے سارے صحابہ کو کٹھا کیا
19:03میدانِ خیبر میں
19:04اور آقا کریم نے اشارت فرمایا
19:06کل میں جھنڈا اسے دوں گا
19:08جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے
19:11اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے
19:14اور اس کے ہاتھ پہ پھر میرا رب فتح آتا فرمائے گا
19:17اب ہر صحابہ کی یہ خواہش ہے
19:19کہ میرا رب کل جھنڈا اپنے رسول کے ذریعے
19:22مجھے آتا فرمائے
19:23ہر صحابہ جید صحابہ اکرام مہتشف فرما ہے
19:28اور ساری رات کروٹیں بدلتے ہوئے گزر جاتی ہے
19:31کہ کل یہ نصیب کس کا جاگے گا
19:33اور یہ محبت کا ہما کس کے سر پہ بیٹھے گا
19:37صبح ہو گئی ہے
19:38سفرائی ہو گئی ہے
19:39ہر ایک منتظر ہے
19:40آقا مجھے جھنڈا آتا فرمائے
19:41آقا نے اعلان کیا
19:43این علی ان کے علی کہاں ہے
19:45بتایا کہ انہیں عشوب چشم ہے
19:48کوئی آنکھوں کا ظاہری مرض ہے
19:50اس لئے وہ آج یہاں نہیں آسکے
19:52آقا کریم نے فرمایا
19:53کہ علی کو ہی بولایا جائے
19:55علی کو بولایا گیا
19:56رسول اکرم کی بارگاہ میں پیش کیا گیا
19:58سب سے پہلے تو آقا کریم نے
20:00لعب دہن کو بطور موجزہ
20:02علی کی آنکھوں پہ لگایا
20:03میرے رب نے فوراں علی کی آنکھوں کو شفاہ آتا فرمائے
20:06پھر میرے آقا نے علی کو جھنڈا آتا فرمایا
20:09کہ علی یہ جھنڈا تیرے ہاتھ میں ہوگا
20:11کیونکہ تو وہ ہستی ہے
20:13جو اللہ اور اس کے رسول سے
20:15سب سے زیادہ محبت کرتی ہے
20:16اور اللہ اور اس کے رسول
20:17اس سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے
20:20کتنے ایسے مواقع ہیں
20:23کتنے ایسے مواقع ہیں
20:24جن میں نبی اکرم علی تحییت والسنہ
20:26نے علی کو
20:27اپنی بھی اور اپنے رب کی
20:29محبت کا مجدہ سنایا ہے
20:32اور مولا علی نے بھی یہ کر کے دکھایا ہے
20:35وہ قرآن کی تلاوت کی بات ہو
20:37وہ نماز میں جب مولا علی حاضر ہوتے تھے
20:40آپ کی زہد
20:41آپ کی عبادت
20:43آپ کی خشو حضو
20:44آپ کے ورہ و تقویٰ کا یہ عالم ہوتا تھا
20:46کہ جیسے آپ تکبیر تحریمہ کہتے تھے
20:49تو حقیقی معنوں میں وہ تکبیر تحریمہ ہوتی تھی
20:51موزد سامین حضرات
20:53ہم بھی تکبیر تحریمہ کہتے ہیں
20:55تکبیر تحریمہ کا مفہوم اور معنی
20:57تو یہ ہے کہ تکبیر کہنے کے بعد
20:59دنیا و معافیہ آپ پہ حرام ہو جائے
21:02اور آپ یوں سمجھئے
21:03اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے
21:04مناجات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے
21:06شاید ہم ایسا سجدہ زندگی بھر نہ کر سکے
21:10علی کا ہر سجدہ ایسا ہوتا تھا
21:13وہ مشہور واقعہ
21:14کسی میدان جنگ میں آپ کی
21:15مبارک ایڑی میں تیر لگتا ہے
21:17دوستوں نے نکالنا چاہا
21:19عذیت اور تکلیف کا احساس ہوا
21:21آپ نے فرمایا ابھی چھوڑ دو
21:22نماز میں گئے تکبیر تحریمہ کا ہی
21:24چہرے کا رنگ بدل گیا
21:26زافرانی کیفیت ہو گئے
21:27جس موم کی طرح نرم ہو گیا
21:29دوستوں نے ہاتھ لگایا
21:31تیر ایسے نکلا جیسے مکھن میں سے
21:32بال نکلتا ہے
21:33کوئی احساس نہیں تھا
21:35اللہ کے محبوب علی کو
21:37اور جب نماز مکمل ہو گئے
21:39تو اس تفتار کیا
21:40تو بتایا کہ یہ واقعہ تو ہو چکا ہے
21:42علی کہنے لگے
21:43اللہ کی عزت کی قسم
21:44میں اس کے دیدار میں
21:45ایسے معب ہوتا ہوں
21:46کہ مجھے دنیا کا کوئی احساس نہیں ہوتا
21:50تو جب ایسی محبت
21:51اللہ کا بندہ کرے گا
21:53تو میرا رب تو بڑا ہی قدردان ہے
21:56وَقَانَ اللَّهُ شَاقِرًا عَلِيمًا
22:00معزز سامین قرآن کریم میں
22:02جب کسی ایک لفظ کی
22:04یا ایک وصف کی
22:05یا ایک صفت کی نسبت
22:06اللہ کی طرف ہو جائے
22:08تو اس کا مانا بدل جاتا ہے
22:11جب میں بحثیت بندہ شاقر بنوں گا
22:14تو اس کا مطلب ہے
22:14میں شکر گزار ہوں
22:16اللہ شکر گزار نہیں ہوتا
22:18جب اسے شاقر کہا جائے گا
22:20تو اس کا مطلب ہے
22:21وہ شکر کرنے والوں کی
22:22قدردانی کرتا ہے
22:24میرا رب تو بہت قدردان ہے
22:27تو جس نے اپنی جان
22:29مال
22:29نفس تک
22:30ہر چیز اللہ اور اس کے رسول کے لئے
22:32قربان کی ہوگی
22:33تو میرا رب پھر اسے محبت
22:35کیوں نہیں آتا فرمائے گا
22:37تو دو حدیث
22:38میں نے آپ کے خدمت میں پیش کی ہیں
22:40جن سے ہمیں یہ اندازہ ہو جاتا ہے
22:42کہ مولا کائنات شرِ خدا کی ذاتِ گرامی سے
22:45میرا رب بھی کتنی والحانہ محبت کرتا ہے
22:47اور میرا رسول بھی کتنی محبت کرتا ہے
22:50مولا کائنات شرِ خدا
22:52کہ اگر علوم کی بات کی جائے
22:53تو آقا کریم کا وہ مشہور ارشاد ہے
22:55آقا نے فرمایا
22:57آنا دار الحکمت وعلی جنبابوہا
23:01اور ایک روایت میں آتا ہے
23:03آنا مدینة العلم وعلی جنبابوہا
23:06کہ میں حکمت کا گھر ہوں
23:07یا علم کا شہر ہوں
23:09اور علی اس کا دروازہ ہے
23:10تو آقا حکمت کا گھر بن جائیں
23:13یا علم کا شہر بن جائیں
23:14علی بہرحال دروازہ ہے
23:16آقا نے دروازہ کیوں ارشاد فرمایا
23:18اس کی وجہ یہ ہے
23:19کہ دروازہ ہی اصل گزرگاہ ہے
23:22جس نے آنا ہے
23:23اس نے دروازے سے گزرنا ہے
23:25جس نے جانا ہے
23:26اس نے دروازے سے گزرنا ہے
23:27تو اس کا مطلب ہے
23:29اللہ کی پیارے رسول کے علم کا فیضان
23:31حاصل کرنے کے لئے
23:32جس نے بھی آنا ہے
23:33آتے ہوئے بھی
23:34علی کے قدموں میں آنا ہوگا
23:36جاتے ہوئے بھی
23:37علی کی بارگاہ سے
23:38گزر کر جانا ہوگا
23:39اور جو مولا علی کی
23:41ذات سے ہی اجتناب کرے
23:43جب وہ دروازے سے
23:44گزر ہی نہیں سکتا
23:44تو آقا کریم کے
23:46علم کا فیضان
23:47اسے کیسے نصیب ہو سکتا
23:50حضرت ابن عباس
23:51ارشاد فرماتے ہیں
23:52کہ نبی اکرم نے
23:53ارشاد فرمایا
23:54کہ اللہ کریم نے
23:55علم کو نو حصے
23:56تقسیم فرمایا
23:58علم کے نو حصے ہیں
24:00اب وہ علم کے نو حصے
24:02کن نو حصے
24:03اللہ کریم نے
24:03مولا علی کو آتا فرمائے
24:06اب وہ قرآن کا علم ہو
24:08تفسیر قرآن کا علم ہو
24:09وہ حدیث کا علم ہو
24:10اصول حدیث کا علم ہو
24:12فقہ کا علم ہو
24:13اصول فقہ کا علم ہو
24:14کوئی بھی علم ہے
24:15اللہ کریم نے
24:17جو بھی علم بنایا ہے
24:19اپنے رسول کے صدق علی کو
24:20آتا فرمایا
24:21اور آپ نے جامع مسجد
24:23کوفہ کے ممبر پہ بیٹھ کے
24:24یہ ایک مرتبہ نہیں
24:2510 mertabah rishad
24:27فرمایاتا لوگو
24:28سَلُونِ اَمَّا شِئْتُم
24:30کہ جو پوچھنا چاہتے ہو
24:32مجھ سے پوچھ لو
24:33یہ کائنات میں یہ واقعہ
24:35ہمارے پیارے نبی جنابِ محمد
24:37رسول اللہ کے بعد
24:39اللہ نے علی کے ذریعے سرزد کروایا
24:41اس کے علاوہ کسی نے علم کا وہ دعویٰ نہیں کیا
24:45حضرتِ سیدنا فاروقِ آدم
24:47خلیفہِ دوم مرادِ رسول
24:50آپ تو یہ کہا کرتے تھے
24:54اگر علی نہ ہوتے
24:55تو علمی اعتبار سے
24:57ام تو ہلاک ہو جاتا
24:59تو اللہ نے اتنے علم کی نعمتیں
25:01آپ کو عطا فرمائیں
25:02شاید یہ ہمارے ذہن کے
25:05کسی گوشے میں نہیں ہوگا لیکن حقیقت یہ ہے
25:09کہ وہ علم جسے ہم عربی گرامر
25:11کا علم کہتے ہیں اور درسِ نظامی
25:13کی زبان میں اسے سرف و ناو کا علم
25:15کہا جاتا ہے
25:16وہ سرف و ناو کا علم بھی مولا علی
25:19شیرِ خدا جنابِ علی المرتضاء نے
25:21ہی ایجاد فرمایا ہے
25:23آپ موجد ہیں اس کے
25:26آپ نے اپنے خلیفہِ خاص
25:28خادمِ خاص
25:29شغیردِ اول
25:30حضرتِ سیدنا ابو الاسود
25:32دولی رحمت اللہ علیہ
25:33کے حکمِ ارشاد فرمایا تھا
25:35اور انہوں نے سرف و ناو کے یہ ساری
25:37اصول یہ قوانین یہ
25:38ضوابط مرتب فرمائی تھے
25:42تو جہاں مولا علی کی
25:43کرامات
25:44مولا علی کی ذات کے اوصاف
25:46مولا علی کی ذات کے خسائل
25:48ہمیں نظر آتے ہیں
25:49وہاں ہمیں یہ دیکھنا چاہئے
25:50اللہ نے علم کی کتنی نعمتیں
25:52انہیں عطا فرمائے
25:52تو سرف و ناو کے بانی مبانی
25:55ہونے کے احساس بھی
25:57اور یہ میرے رب نے
25:59نعمت بھی آپ کو عطا فرمائی
26:01اور آپ کے صدقے یہ ساری چیزیں
26:03ہاں ہمارے سامنے ہیں
26:04تو زمانے کا کتنا بڑا ہی مفسر
26:07کیوں نہ ہو جائے
26:07محدث کیوں نہ ہو جائے
26:09سیرت نگار کیوں نہ ہو جائے
26:10فقیحِ آزم کیوں نہ ہو جائے
26:13ہر ایک مرہون منت ہے
26:14اس علم کے
26:15جو اللہ نے اپنے رسول کے صدقے
26:17جناب علی المرتضی علیہ السلام
26:19کو عطا فرمائے
26:21تو حضراتِ گرامی
26:23مولا علی کی کس فضیلت کا
26:25تذکرہ کیا جائے
26:26اور کس فضیلت کو چھوڑا جائے
26:28یہ ہمارے بس کی بات نہیں ہے
26:30اس سے بڑی فضیلت کیا ہوگی
26:32کہ علی وہ ہیں
26:33جنہیں اللہ نے
26:33قابے میں ولادت عطا فرمائے
26:36کبھی کبھی یہاں
26:37اشتباع ہوتا ہے
26:38اور یہ بات کی جاتی ہے
26:40اپنی اپنی تحقیق کی بات ہے
26:42اور اپنی اپنے مزاج کی بات ہے
26:45اپنی اپنی محبت کا پیمانہ ہے
26:48کبھی یہ کہا جاتا ہے
26:49کہ علی قابے میں پیدا نہیں ہوئے
26:51کیونکہ اس وقت
26:52قابہ یا اس کے اردگرد
26:54ماحول کی وہ
26:55قیفیت نہیں تھی جو آج ہے
26:57کہ کتنے کلو میٹر
26:59تک آج حرم پھیلا ہوا ہے
27:00اور اس کے بعد
27:01کہیں جا کر
27:02آبادی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے
27:04تو تب تو ایسا نہیں تھا
27:06تب حرم کے اردگرد
27:07یعنی قابہ کے
27:08خانہ قابہ کے اردگرد
27:10بھی گھر موجود تھے
27:11تو کبھی یہ اشتبا پیدا ہوتا ہے
27:13کہ چلیں علی
27:15اپنے گھر میں پیدا ہوئے
27:17اور اس گھر کو کیوں کہ
27:18اس وقت قابے سے قربت تھی
27:20تو اس لئے کہہ دیا گیا
27:21کہ علی قابہ میں پیدا ہوئے
27:22لیکن حضرت امام حاکم
27:24رحمت اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں
27:26کہ علی فی جو فی القابہ
27:28بطنے قابہ میں
27:29جو فی قابہ میں
27:31درمیانے قابہ میں
27:32اصل قابہ میں پیدا ہوئے
27:36حکیم بن حضام کے لئے
27:37ہم کہتے ہیں وہ پیدا ہوئے
27:39تو مولا علی بھی
27:40جو فی قابہ میں پیدا ہوئے
27:42تو اب جس کی پیدائش
27:43کا سلسلہ جو ہے
27:44وہ قابہ میں ہوتا ہے
27:46اور قابہ میں پیدا ہونے
27:47کے باوجود
27:48مولا علی نے
27:49پہلی نظر قابے کے
27:51درو دیوار کو نہیں دیکھا
27:53بلکہ آپ کی
27:54والدہ حضرت سیدہ
27:55فاطمہ بن تیسد
27:57سلام علیہ علیہ
27:57آپ کو اٹھاتی ہیں
27:58رسول اکرم کی بارگاہ میں
28:00جا کے پیش کرتی ہیں
28:01تو جیسے ہی
28:02لم سے
28:02ید مصطفیٰ علی
28:04محسوس کرتے ہیں
28:05تو آنکھیں کھول دیتے ہیں
28:06تو گویا علی نے
28:07یہ پیغام دیا ہے
28:08کہ میں پیدا قابے میں
28:09ہوا ہوں
28:10لیکن سب سے پہلے
28:11میں نے قابے کا
28:12قابہ دیکھا
28:14رسول اکرم کا
28:15دیدار کیا ہے
28:16اب یہ فضیلت
28:17ہم کہاں سے لائے
28:18یہ علی کی فضیلت بھی ہے
28:20یہ علی کا نصیب بھی ہے
28:21یا علی کا مقدر بھی ہے
28:22یا علی کی شان بھی ہے
28:24یا علی کا مرتبہ بھی
28:27اور پھر
28:28مولا علی کی ذات
28:29وہ ہے
28:29کہ حضرت زید بن اسلم
28:31روایت کرتے ہیں
28:32رضی اللہ تعالی عنہ
28:33یا حضرت زید بن ارکم
28:34روایت کرتے ہیں
28:37کہ اول من اسلم علی جن
28:40کہ علی کی ذات
28:41وہ ہے
28:42کہ جس نے
28:42سب سے پہلے کلمہ پڑا
28:44مسلم اول
28:46مومن اول
28:47ہونے کا عزاز
28:47بھی اللہ نے
28:48آپ کو عطا فرمایا
28:50تو جس کی فضیلت
28:51کا سلسلہ
28:52اولیت سے شروع ہوتا ہے
28:54ایک روایت
28:55تو یہ کہتی ہے
28:56کہ آقا کریم نے
28:57سوموار کے دن
28:59اعلان نبوت فرمایا
29:00اور منگل کے دن
29:01مولا علی نے
29:02رسول اکرم کی اقتداء
29:03میں نماز ادا کرنے
29:04کا شرف بایا ہے
29:07تو یہ بھی
29:07آپ کی فضیلت ہے
29:08اور ہر صیرت نگار
29:11پوری کائنات کا
29:13ہر صیرت نگار
29:13اس بات پر متفق ہے
29:14کہ مولا علی نے
29:15ساری زندگی
29:16کبھی شرک نہیں کیا
29:19آپ کی والدہ
29:20محترمان
29:20کبھی بدھ کو
29:21سجدہ نہیں کیا
29:22بلکہ آپ کی فضیلت
29:23میں آپ کی صیرت
29:24میں یہاں تک
29:24بات آتی ہے
29:25کہ آپ کی والدہ
29:26اگرامی
29:27اس قفیت میں بھی
29:28محفوظ رہی
29:29جب مولا علی
29:30ابھی اپنی والدہ
29:31کے بطن مبارک میں
29:32تھے
29:32تو علی
29:32اپنی والدہ
29:34کو کسی بدھ
29:34کے سامنے
29:35جھکنے نہیں دیتے
29:36تو علی کا
29:37گھر وہ ہے
29:38جو کبھی بھی
29:39شرک سے
29:39آلودہ نہیں ہوا
29:42تو علی کا
29:47اللہ کریم نے
29:48جب دس سال
29:48عمر مبارک ہوتی ہے
29:49تو دعوت
29:50ذل عشیرہ
29:51کا میزبان
29:52ہونے کا شرفتہ پڑھ
29:53جب وہ آیت
29:54نازل ہوئی
29:55سورة شعرہ میں
29:56کہ وانظر
29:58عشیرت
29:59کل اقربین
30:00کہ میرے
30:00محبوب اٹھو
30:01اور سب سے پہلے
30:02اپنے رشتہداروں
30:03کو
30:03اپنے اہل خاندان
30:05کو
30:05اپنے گھر والوں
30:05کو ڈرائیے
30:06اور اللہ کے
30:07قریب کیجئے
30:08فاقہ کریم نے
30:09مولا علی سے
30:10دس سال کا
30:11بچہ ہے
30:11مشورہ کیا
30:12تو علی نے
30:12اپنے گھر میں
30:14حضرت ابو طالب کے
30:15گھر میں
30:16وہ پہلی
30:17دعوت ہوتی
30:19تو حضرت
30:20زیاؤل امت
30:20حضرت جسٹس پیر
30:21محمد کرم
30:22شلح ذری رحمت اللہ
30:23علیہ
30:24آپ سیرت
30:25زیاؤل نبی میں
30:26اس بات کو
30:26رکم کرتے ہیں
30:27کہ ایک بار نہیں
30:27دو بار نہیں
30:28تین بار
30:29وہ دعوت ہوتی ہے
30:30اور پھر میرا
30:30آقا نے
30:31اپنے خطبہ
30:31ارشاد فرمائے
30:32تو دعوت
30:34زل عشیرہ
30:35یعنی
30:35زل عشیرہ
30:36کا مطلب ہے
30:36کہ خاندان
30:37والے
30:37قبیلے والے
30:38گھر والے
30:39قریبی لوگ
30:40ان کی دعوتی
30:41سے ہم یہ
30:41کہہ سکتے ہیں
30:42کہ یہ اسلام کی
30:43یعنی
30:44توحید کی
30:44سب سے پہلی
30:45دعوت تھی
30:45تو دعوت
30:47توحید
30:47کا پہلا
30:48میزبان ہونے
30:49کا شرف
30:49بھی
30:49اللہ نے
30:49علی کو
30:50عطا فرمائے
30:50تو یہ بھی
30:51علی کی
30:52فضیلت ہے
30:52علی کا
31:02آقا کریم
31:03نے جب
31:03ارشاد فرمایا
31:04کہ علی
31:04تم میرے
31:04بستر پہ آ جاؤ
31:05سو جاؤ
31:07تو شبہ
31:07حجرت
31:08مصطفیٰ کریم
31:09کے بستر
31:09پہ سونے
31:10کی سعادت
31:10بھی
31:11اللہ نے
31:11علی کو
31:11عطا فرمائے
31:12تلواروں
31:13کے سائے
31:13سے آقا
31:14نکلے ہیں
31:14اللہ نے
31:15رسول اللہ
31:16کو بھی
31:16مفہود فرمایا
31:17اور مولا
31:17علی کو
31:18بھی
31:18مفہود فرمایا
31:19اور پہ
31:20حجرت
31:21کرنے کے بعد
31:22مولا
31:22علی بھی
31:22مدینہ پاک
31:24پہنچتے ہیں
31:24تو بدر
31:26کا جب آغاز
31:26ہوا
31:27پہلے چند
31:27انساری سے
31:28ہوا گئے
31:30تو مکہ والوں
31:31نے تانہ دیتے
31:32ہوئے کہا
31:32کہ ہمارے
31:33قبیلے کے
31:33لوگ آئے ہیں
31:34پھر آقا کریم
31:34یا اپنے چچہ
31:35جناب حمزہ کو
31:37سید شہدہ کو
31:38اور مولا
31:39کائنات شریف خدا
31:39کو
31:40اور جناب عبیدہ
31:41بن الحارس کو
31:42جو اپنے
31:43تائع ذات تھے
31:43انہیں اٹھایا
31:45تو بدر کا آغاز
31:47یوں سمجھئے
31:47کہ مولا
31:48کائنات شریف خدا
31:49کے ہاتھوں سے ہوا
31:50اور آپ کی
31:51شجاعت کی داستان
31:52یہ ہے
31:53کہ سیرت نگار
31:54کہتے ہیں
31:54کہ ستر کفار
31:55مارے گئے تھے
31:56اور غالباً
31:57ان میں سے
31:57سینتیس لوگوں
31:58کو تنہا
31:59مولا علی نے
32:00واصل جہنم کیا تھا
32:02شجاعت کا
32:03یہ عالم ہے
32:04لا فتا
32:05الا علی
32:06لا صیف
32:07الا ذلفقات
32:10کیسے لگتا تھا
32:11بدر میں
32:12کہ علی کے سوا
32:12شاید کوئی جوان ہی نہیں ہے
32:14اور علی کی
32:15تلوار کے سوا
32:15زمانے میں
32:16تلوار ہی کوئی نہیں ہے
32:19سرطن سے
32:20جدا کر دیتے
32:21جو اللہ اور
32:21اس کے رسول کا
32:22دشمن سامنے ہوتا
32:24اُحط میں بھی
32:25آپ نے جو جان
32:26ساری کا مظاہرہ کیا
32:29خیبر کی بات
32:30ہم پہلے کر چکے ہیں
32:32اللہ نے
32:32اپنی محبت بھی
32:33اور جناب رسول اللہ
32:34نے اپنی محبت
32:35کا توفہ
32:35عطا فرمائے
32:36پھر مولا علی
32:38کی شیر خدا کی
32:38جناب علی المرتضی علیہ السلام
32:40کی اس سے
32:41بڑی فضیلت کیا ہوگی
32:42کہ اللہ کریم نے
32:44جناب زہرہ
32:46کو آپ کا
32:46زوج بنایا ہے
32:49زوج فاطمہ
32:50ہیں
32:51شوہر نامدار
32:52ہیں جناب زہرہ پاک
32:54اور پھر
32:55اس محبت کے ساتھ
32:56دونوں ہستیوں
32:57نے زندگی گزاری
32:57دونوں کے مقامات
32:59بلند ہیں
32:59وہ مولا کائنات ہیں
33:00وہ سیداتو
33:02نساء العالمین ہیں
33:04وہ سارے
33:06جہانو کی
33:06خواتین کی
33:07سردار ہیں
33:08اور انہیں
33:09میرے رب نے
33:09ساری کائنات
33:10کا مالک
33:11بنایا ہے
33:13لیکن آپ کی
33:14جو ازدواجی
33:15زندگی
33:15اپڑھنے کے
33:16لائک ہے
33:16اور آج
33:17ہمیں سمجھ رہا ہو
33:17آج اگر ہم
33:19اپنے گھروں میں
33:19افرہ تفریق
33:20کو ختم کرنا
33:21چاہتے ہیں
33:22اور میاں بیوی
33:23کے رشتے کو
33:23تقدس معاب
33:24کرنا چاہتے ہیں
33:25تو کائنات
33:26کے عظیم ترین
33:27دل ہے
33:28اور کائنات
33:29کی عظیم ترین
33:30دلہن کی
33:30اس ازدواجی
33:31رشتے کو
33:31ہمیں پڑنا ہو
33:33ہمارے پاس
33:34مسلمانوں کے پاس
33:35نظریاتی طور پہ
33:36تو سب کچھ
33:37موجود ہوتا ہے
33:38لیکن عملی طور پہ
33:39ہمیں قدم
33:40نہیں اٹھا پاتے
33:41جس سے کامیابی
33:42نصیب ہوتی
33:42تو یہ علی کا
33:43مرتبہ ہے
33:44یہ علی کی
33:45فضیلت ہے
33:46یہ علی کا
33:46مقدر ہے
33:47یہ علی کا
33:48نصیب ہے
33:48علی کی شان ہے
33:50کہ میرے رب نے
33:51علی کو فاطمہ
33:52آتا فرمائے
33:54حسن اور حسین
33:55آتا فرمائے
33:57آقا کریم
33:58نے ایک موقع پہ
33:58ارشاد فرمایا
33:59یہ دونوں
34:00سرداران
34:01نوجوانان
34:02جنت ہیں
34:03یعنی جو جنت
34:04کے نوجوان ہیں
34:05ان کے سردار ہیں
34:06حسن اور حسین
34:07اور آخری جملے میں
34:08آقا نے ارشاد فرمایا
34:09اور ان کے بابا کو
34:10علی کو
34:11میرے رب نے
34:12اس سے بھی بھڑ کر
34:12فضیلت آتا فرمائے
34:14اور علی کے یہ فضیلت
34:16کہ آقا نے
34:16ہجرت کے موقع
34:17جب مواخات قائم کی
34:18اور علی
34:19یہ کونے میں بیٹھے ہیں
34:20آقا کریم
34:21پاس گیسینے کے سال
34:22لگائے
34:22اور کہا
34:23یا علی
34:23انتا خی فی الدنیا
34:25والآخرہ
34:26تو دنیا میں بھی
34:27میرا بھائی ہے
34:27تو آخرت میں بھی
34:28میرا بھائی ہے
34:30آقا نے دعا کی تھی
34:31پہ مولا
34:32تو علی
34:33عطا فرما دے
34:34جیسے تونج
34:35جناب موسیٰ کو
34:35حرون عطا فرمائے
34:36اسی طرح آقا نے
34:37مواخات قائم کی ہے
34:39دنیا اور آخرت میں
34:40اپنے درمیان
34:41اور علی کے درمیان
34:42اور پھر وہ
34:43وقت آیا
34:45کہ آقا کریم نے
34:46حجت الودا کے
34:47موقع پہ
34:47غدیر خم کے
34:48مقام پہ
34:49مولا علی
34:49کا ہاتھ
34:50بلند کر کے
34:51لاکھوں کے
34:51مجمع میں کہا
34:52من کنت مولاہ
34:54فہذا علی
34:55جن مولاہ
34:56کہ جس کا
34:57میں مولا ہوں
34:57اس کا
34:58علی مولا ہے
34:59تو ولادت
35:00کعبہ سے
35:01آغاز ہوتا ہے
35:02اس ہستی کا
35:03اور ولایت
35:04کے اعلان سے
35:05ہوتے ہوتے
35:05اللہ کے گھر میں
35:07شہادت کا
35:07سلسلہ پہنچتا ہے
35:09یہ سارے
35:10فضائل ہیں
35:10یہ سارے
35:11کمالات ہیں
35:12یہ سارے
35:12محاصن ہیں
35:13یہ ساری
35:14خوبیاں ہیں
35:14جو اللہ کریم نے
35:15اس ہستی کو
35:16عطا فرمائے
35:17حمود و سامین
35:18آخری جملہ
35:19یہ ہے
35:19کہ ہمارے
35:20بس کی بات
35:21نہیں ہے
35:21کہ ہم اس کے
35:22فضائل بیان کرسکے
35:23جسے میرے رب نے
35:24علی بنایا ہے
35:26علی ہوتا ہی وہ ہے
35:27جو آلہ ہو
35:28جو بلند ہو
35:29اللہ کریم ہمیں
35:30ان ہستیوں کے
35:31نقش قدم پہ
35:32چلنے کی
35:32توفیق عطا فرمائے
35:33وَمَا عَلَيَّ
35:34إِلَّا الْبَلَا
Comments

Recommended