Skip to playerSkip to main content
Azmat e Risalat SAWW - Rabi ul Awwal Special

Rabi ul Awwal Special Programs ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XicvC4nrCXyXnWSIt6IWRNwt

Speaker: Mufti Mazhar Mukhtar Durrani

#aryqtv #MuhammadﷺHmare #rabiulawwalspecial #AzmateRisalatSAWW

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00Surah Al-Fatihah
00:30ناظرین اکرام
00:33اللہ رب العزت کے بے پایاں فضل و عیسان
00:37اور حضور سید العالمین
00:41صل اللہ علیہ وآلہی و بارک و سلم کی تصدق
00:45آج ہم
00:47اے آر وائی کیو ٹی وی کے زیرے تمام
00:51رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہی و بارک و سلم کے
00:56خلقِ عظیم پر
01:00کچھ گفتگو کرنے جا رہے ہیں
01:03خلقِ عظیم کو سمجھنے کے لیے
01:08ہمیں خلق کی تعریف کو سمجھنا ہوگا
01:12امامِ رازی نے
01:15تفسیرِ قبیر کے اندر لکھا
01:18کہ خلق
01:20وہ ملکہِ نفسانیہ
01:24یعنی طبی مہارت ہے
01:26جس کی وجہ سے
01:28انسان کے لیے
01:31نیک کام کرنا آسان ہو جاتے ہیں
01:34اس کو امامِ غزالی نے
01:37اپنے انداز میں بیان کیا
01:39آپ فرماتے ہیں
01:41خلق
01:43نفس کی وہ قوتِ راسخہ ہے
01:46اس کا تعلق
01:49باطن کی کیفیات کے ساتھ ہے
01:52اس کا تعلق فطرت کے ساتھ ہے
01:56جس کی وجہ سے
01:58انسان کے لیے
01:59نیکی کے امور
02:02سہل اور آسان ہو جاتے ہیں
02:04یعنی
02:06خلق
02:07انسان کی فطرت کے اندر داخل ہے
02:11کہ انسان فطری طور پر
02:15ان نیک کاموں کو کر رہا ہوتا ہے
02:18حاضرینِ کرام
02:22خلق دو صورتوں سے حاصل ہوتا ہے
02:26ایک قوتِ علمیہ سے
02:29اور ایک قوتِ عملیہ سے
02:33رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
02:38قوتِ علمیہ کے متعلق
02:41اللہ رب العزت نے
02:43ارشاد فرمایا
02:44وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمْ
02:48وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلِيْكَ عَزِيمًا
02:50جو آپ نہیں جانتے تھے
02:54اللہ رب العزت نے
02:55اس کا علم آپ کو اتا فرمایا
02:58وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلِيْكَ عَزِيمًا
03:01یہ آپ پر
03:03اللہ کا فضلِ عَزِيمًا ہے
03:05اور جہاں تک
03:08سید العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی
03:12قوتِ عملیہ کا تعلق ہے
03:14اس کے متعلق بھی
03:16قرآنِ مجید میں
03:17اللہ رب العزت نے
03:18ارشاد فرمایا
03:19وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَزِيمًا
03:24بے شک آپ ضرور
03:26اخلاقِ حسنہ پر فائز ہیں
03:29ناظرینِ کرام
03:31دونوں آیات کو
03:33اگر ہم پڑھتے ہیں
03:34تو یہ ایک نکتہ سامنے آتا ہے
03:37کہ جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
03:42قوتِ علمیہ کا تعلق تھا
03:46تو اللہ رب العزت نے
03:48اس کو فضلِ عزیم سے عبارت کیا
03:53جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ عملیہ کا تعلق تھا
04:00اللہ رب العزت نے اس کو خلقِ عظیم سے تابع کیا
04:07یہاں پر مختلف مفسرین نے ایک نقطہِ عجیبہ بیان کیا
04:15میں مناسب سمجھتا ہوں ناظرینِ کرام
04:19وہ آپ کی خدمت میں پیش کر دیا جائے
04:22مفسرین اکرام فرماتے ہیں
04:26کہ یہاں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا
04:28وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَزِيمٍ
04:32کہ بے شک آپ
04:36اخلاقِ عظیم پر فائز ہیں
04:39یہاں
04:41علا کا لفظ ارشاد فرمایا
04:43علا استعلا کے لیے ہے
04:46غلبہ کے لیے ہے
04:48اس کا معنی یہ ہوگا
04:50کہ آپ خلقِ عظیم پر حاکم ہیں
04:56حاضرین محترم جیسے کہا جاتا ہے
05:02فُلَانُن رَكِبَ عَلَى الفَرَسِ
05:04کہ فُلَان شخص گھوڑے پر سوار ہوا
05:09جب سوار سواری پر سوار ہوگا
05:13تو پھر سواری اس کے تابع ہوگی
05:18تو اس کا مطلب یہ ہوا
05:22اس آیتِ کریمہ کا معنی یہ ہوا
05:25کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
05:30اپنے عظیم ہونے کے لیے
05:35خلقِ عظیم کے تابع نہیں
05:38بلکہ خلقِ عظیم اپنے عظیم ہونے کے لیے
05:44رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہے
05:47ناظرینِ کرام
05:51جیسا کہ کہا جاتا ہے
05:53کہ یہ انسان اچھا ہے
05:56اس کی اچھا ہونے کا تعلق اچھائی کے ساتھ ہوتا ہے
06:02وہ اچھائی کے تابع ہے
06:05جیسے کہا جاتا ہے
06:08کہ یہ انسان نیک ہے
06:10اس کے نیک ہونے کا تعلق یہ ہے
06:13کہ وہ نیکی کے تابع ہے
06:15مگر یہاں
06:18رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ
06:21اس کے برعکس ہے
06:22کہ یہاں خود خلق اپنی عظمت کے لیے
06:27رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہے
06:30یعنی
06:32اللہ اکبر
06:34کہ جس فعل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
06:39کر دیں
06:41جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کر دیں
06:45جس کام کو میرے آقا پسند کر لیں
06:48جو کام حضور کی بارگاہ میں پسندیدہ ہو جائے
06:53وہ خلق عظیم بن جاتا ہے
06:55اور جس کام کو میرے آقا
06:58صلی اللہ علیہ وسلم ترک کر دیں
07:01چھوڑ دیں
07:01تو وہ خلق خصیص ہو جاتا ہے
07:04با الفاظ دے گر
07:07نیکی
07:09نیکی ہونے کے لیے
07:12رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل
07:16اور میرے کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے
07:19خلق تابع ہمیں نظر آتی ہے
07:22ام المؤمنین
07:25سیدہ عیشہ صدیقہ
07:27رضی اللہ تعالی عنہ نے
07:30رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق کو
07:34بڑے حسین انداز کے ساتھ بیان کیا
07:37امام مسلم نے
07:38امام النسائی نے
07:39دیگر محدثین نے اس کو نکل کیا
07:41آپ نے ارشاد فرمایا
07:43وَقَانَ خُلُقُهُ الْقُرَانِ
07:46کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق
07:50قرآن ہے
07:52اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن کیسے ہے
07:57اس کی وضاحت بھی ام المؤمنین
08:00سیدہ عیشہ صدیقہ
08:01رضی اللہ عنہ نے فرما دی
08:03کہ قرآن جس سے راضی ہوتا ہے
08:07سرکار اس سے راضی ہوتے ہیں
08:10قرآن جس سے نراض ہوتا ہے
08:14رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم
08:17اس سے نراض ہو جاتے ہیں
08:19یعنی قرآن مجید کی تعلیمات کا عملی نمونہ
08:24وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات
08:29ہے
08:31اور اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما
08:36بُعِسْتُو لِعْتَمْ بِمَا مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ
08:41فرمایا میں مبعوس کیا گیا
08:44تاں کہ اخلاق حسنہ کی تکمیل کر سکوں
08:49ناظرین کرام
08:51رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
08:56اخلاقِ کریمانہ کی مختلف صورتیں ہیں
09:01آج ہم
09:03ان میں سے
09:04اف اور درگزر کو لے رہے ہیں
09:07معافی اور درگزر
09:10بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں
09:13یہ انصر ختم ہو گیا
09:15یہ صفات
09:17ناپید ہوتی جا رہی ہے
09:19جس کی وجہ یہ ہے
09:21کہ معاشرے کے اندر انتشار اور فساد
09:24یہ قائم ہوتا جا رہا ہے
09:27اف کس کو کہتے ہیں
09:30آپ نے بغور سننا ہے
09:32العفو
09:35هو ترک المواخذات
09:38کہ زیادتی کرنے والے سے
09:42بدلہ لینے کا سوچے بھی نہیں
09:46اس کو اف کا نام دیا جاتا ہے
09:49اس کو معافی کا نام دیا جاتا ہے
09:52اور قرآن مجید میں
09:54اللہ رب العزت نے اس کو واضح کیا
09:57ارشاد فرمایا
09:59خزیل عفو
10:01وامر بالعرف
10:03واعرض ان الجاہلین
10:05کہ خطاکاروں کی معذرت کو قبول کیجئے
10:10اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم
10:12نیک کام کرنے کا حکم دیجئے
10:17اور نادانوں سے اپنا رخ انور پھیر لیجئے
10:22یہ آیت کریمہ اخلاق کے باب میں اس قدر اہم ہے
10:27کہ اس آیت کریمہ کے متعلق حضرت امام جعفر السادق
10:32رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا
10:35آپ نے ارشاد فرمایا
10:37وَلَيْسَ فِي الْقُرَانِ اَجْمَعُ لِمَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ مِنْ حَذِي الْآیَةِ
10:43آپ فرماتے ہیں پورے قرآن مجید میں
10:47اخلاق کے باب کے اندر
10:50یہ آیت مبارکہ جامع ترین ہے
10:53اور قرآن مجید کے اس مفہوم کو
10:57رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
10:59بڑی وضاحت اور تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا
11:02کہ جب یہ آیتِ کریمہ اتری
11:06تو حضرتِ جبریل علیہ السلام سے
11:10میرے کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا
11:13انہوں نے ارز کی میرے آقا
11:17مجھے اللہ کریم کی بارگاہ میں
11:18جانا پڑے گا
11:20وہ بارگاہِ خدابندی میں پیش ہوئے
11:24اور پھر بارگاہِ رسالتِ معاب میں حاضر ہوئے
11:27اور ارز کیا
11:29اِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكْ
11:34اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے
11:36اَنْ تَسِلَ مَنْ قَتَعَكْ
11:40اے غبیب جو آپ سے قطع رحمی کرے
11:43من قطعک جو آپ سے قطع رحمی کرے
11:46آپ اس سے صلح رحمی کیجئے
11:49وَتُعْتِيَ مَنْ حَرَمَكْ
11:53جو آپ کو محروم کر دے
11:55آپ اس کو عطا کر دیجئے
11:57وَتَعْفُ وَعَمَّنْ زَلَمَكْ
12:01جو آپ سے ظلم کرے
12:03حبیب اسے معاف کر دیجئے
12:06اور خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما
12:10اَمَرَنِي رَبِّي بِتِسْعِن
12:13اللہ رب العزت نے مجھے نو باتوں کا حکم دیا
12:17ناظرین اکرام
12:18آج کے اس دور کے اندر یہ جو نو باتیں ہیں
12:22ایک ضابطہ حیات کی حیثیت رکھتی ہے
12:25کوئی شخص ان نو باتوں پر اگر عمل پیرا ہو جائے
12:30تو وہ اخلاق کی بلندی تک پہنچ سکتا ہے
12:33وہ نو باتیں کیا ہیں
12:35میرے کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما
12:39الاخلاص فی السر والعلانیہ
12:41فرما میں ظاہر اور باطن میں
12:45اخلاص کو اپنا شعار بنا لوں
12:49وَالْعَدْلُ فِي الْرَضَاءِ وَالْغَضَبِ
12:54فرمایا کہ نرازگی کی حالت میں
12:57اور رضمندی کی حالت میں
13:01عدل کروں
13:02وَالْقَسْتُ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَا
13:05میرے کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم
13:08اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما
13:11خوشحالی اور تنگدستی کے اندر
13:14میانہ روی کو اختیار کروں
13:16وَأَنْ أَعْفُ وَعَمَّنْ
13:19زَلَمَنِي
13:21جو مجھ پہ ظلم کرے
13:23میں اسے معاف کر دوں
13:24وَأَسِلَمَنْ قَطَعَنِي
13:27جو مجھ سے قطع رحمی کرے
13:30میں اس سے صلح رحمی کروں
13:31وَأَعْتِيَا
13:33مَنْ حَرَمَنِي
13:34جو مجھے محروم کر دے
13:35میں اس کو عطا کر دوں
13:36وَأَنْ يَكُونَ نُتْكِ ذِكْرَةِ
13:38اور میرا بولنا ذکرِ الٰہی ہو
13:41وَسَمْتِ فِكْرَةِ
13:43میری خموشی
13:46آیتوں کے اندر تدبر
13:49اور تفکر ہو
13:49وَنَزْرِ عِبْرَةِ
13:51اور میری نگاہ میں
13:53میری نگاہ میں
13:55میری نگاہ کے اندر
13:58عبرت پذیری ہو
13:59دیکھئے
14:01صرف ایک مثال پر
14:02ہم بات کو ختم کی دیتے ہیں
14:04فتح مکہ کے موقع پر
14:06رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:08نے اس کا برملہ اظہار فرمایا
14:10ابو جہل جو بدترین دشمن تھا
14:14اس کے بیٹے اکرمہ کو
14:16رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
14:18نے ماف کیا
14:19اور وہ حضرت اکرمہ بن گئے
14:21حضرت صفوان بن امیہ
14:25حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں
14:29کہ یہ وہ شخص تھا
14:31جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
14:33کے پاس مدینہ المنورہ میں
14:35حضور کو شہید کرنے کے لئے
14:37بندے کو بیجا
14:38مگر جب
14:40فتح مکہ ہوئی
14:42وہ بھاگا
14:43اور وہ جدہ سے یمن پہنچنے لگا
14:46تاکہ سمندر کے اندر کود جاؤں
14:49حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ
14:51بارگاہ رسالت ماب میں پیش ہوئے
14:53آقا وہ ایک قبیلے کا سردار ہے
14:56میرے آقا اسے امان دیجئے
14:58میرے کریم آقا نے اسے امان دی
15:01صحابی رسول نے عرض کی
15:03امان کے کوئی علامت بتائیے
15:05نشانی بتائیے
15:07رسول اللہ نے وہ تاریخ رقم کی
15:10ایسی مثال پیش کر دی
15:12جو کائنات کا کوئی فرد
15:14ایسی مثال پیش نہیں کر سکتا
15:16میرے کریم آقا نے
15:18امان کی علامت کے طور پر
15:21اپنا وہ امامہ شریف
15:22جو رسول اللہ نے
15:24فتح مکہ کے موقع پر پہنا تھا
15:26اسے اتارا
15:27اور حضرت عمیر کو دے دیا
15:30اور ارشاد فرما دیا
15:32یہ میری طرف سے امان کی
15:34علامت اور امان کی نشانی ہے
15:36تو اگر آج ہم
15:38اپنے اخلاق کو درست
15:40کرنا چاہتے ہیں
15:41اپنی عظمت رفتہ کو
15:43پھر سے زندہ کرنا چاہتے ہیں
15:46اپنی سیرت و کردار کے اندر
15:49سیرت کا نور پیدا کرنا چاہتے ہیں
15:52تو ہمیں آقا دوجہان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
15:57اخلاق حسنہ کی طرف آنا پڑے گا
16:00اللہ رب العزت ہم سب کو عمل کی توفیق اتا فرمائے
16:04موسیقی
Be the first to comment
Add your comment

Recommended