- 1 day ago
Hayat e Umar Farooq RA | Special Program
Hazrat Umar Farooq (RA) was the second Caliph of Islam and one of the most distinguished companions of Prophet Muhammad (ﷺ). Renowned for his justice, courage, and visionary leadership, he played a pivotal role in strengthening the Islamic state and spreading the message of Islam across vast regions.
🎙️ Speaker: Allama Shujauddin Shaikh
👉 Like, Share & Subscribe for more Islamic talk shows and spiritual programs.
👉Hazrat Umar Farooq RA | Special Transmission 2026
https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XieyQNhAaYolDta406cM9PUo
👉 Islamic Short Clips 2026:
https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xie2u7z3IRNMFwrgw_B1L7M2&si=GKxU1ofBnyLaf7iG
👉 Qasas ul Quran | Ramzan Special | 2026:
https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XicgtcCM2J1-35YysaTJPb0v&si=-MVzB2jNKNAS753b
👉 Islamic History Unfolded:
https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidF-zYO69M8DSTkdnLRfCst&si=r66nx-gXmN3rkGnD
👉 The Rise Of Islam:
https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XieworVshBiZcEFtnsAwu5ve&si=lPCGQVXM3EOLwlbR
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Hazrat Umar Farooq (RA) was the second Caliph of Islam and one of the most distinguished companions of Prophet Muhammad (ﷺ). Renowned for his justice, courage, and visionary leadership, he played a pivotal role in strengthening the Islamic state and spreading the message of Islam across vast regions.
🎙️ Speaker: Allama Shujauddin Shaikh
👉 Like, Share & Subscribe for more Islamic talk shows and spiritual programs.
👉Hazrat Umar Farooq RA | Special Transmission 2026
https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XieyQNhAaYolDta406cM9PUo
👉 Islamic Short Clips 2026:
https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xie2u7z3IRNMFwrgw_B1L7M2&si=GKxU1ofBnyLaf7iG
👉 Qasas ul Quran | Ramzan Special | 2026:
https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XicgtcCM2J1-35YysaTJPb0v&si=-MVzB2jNKNAS753b
👉 Islamic History Unfolded:
https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidF-zYO69M8DSTkdnLRfCst&si=r66nx-gXmN3rkGnD
👉 The Rise Of Islam:
https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XieworVshBiZcEFtnsAwu5ve&si=lPCGQVXM3EOLwlbR
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:01Alhamdulillahi Rabbil Alameen
00:02wa salatu wa salamu ala
00:03siyyidil anbiyai wal mursanin
00:05amma ba'd
00:06a'udhu billahi min ashshaytani rajim
00:08bismillahirrahmanirrahim
00:09wa umirthu li a'adila bainakum
00:12sadaq Allahul arzim
00:13Allahumma salli wa sallim
00:15ala nabiyyina muhammad
00:16rabi shraha li sidri
00:18wa yassir li amri
00:19wa ahlul qudatan min lisani
00:20yafqahun qawli
00:21majعل li waziran min ahli
00:23amin ya rabbal alameen
00:24نازی کرام
00:25السلام علیکم
00:26wa rahmatullahi wa barakat
00:27امید آپ خیر آفیت سے ہوں گے
00:28اور ہماری دعا ہے
00:29آپ جہاں کہیں بھی ہوں
00:30اللہ تعالی آپ سب کو
00:32اور ہم سب کو
00:32اپنے زمان میں رکھیں
00:33آفیت و سلامتی سے
00:34نوازیں
00:35اور رحمت اور بلکت
00:36عطا فرمائیں
00:36اللہ تعالیٰ کی توفی سے
00:38کیو ٹی وی کی خصوصی
00:39نشریت آپ ملحظہ فرمارے
00:40حیات سیدن عمر
00:41رضی اللہ عنہ کے
00:42تعلق سے
00:43ہم کلام کر رہے ہیں
00:44اور ہمارا فوکس ہے
00:45سیدن عمر
00:46رضی اللہ عنہ کے
00:47طرز حکمرانی پر
00:49گدشتہ نشیس میں
00:50ہم نے کلام کیا تھا
00:51سیدن عمر
00:52رضی اللہ عنہ کے
00:52حکمرانی کے
00:53طرز عمل کے حوالے سے
00:54ان کی ذاتی خصوصیات
00:56کا ہم نے مطالعہ کیا
00:57اور کچھ ان کی
00:58تعلیمی اور
00:59سماجی خدمات
01:00کا تذکرہ کیا
01:01آج ہم بات کو آگے پڑھائیں گے
01:02اور اسی نکتے پر
01:04فوکس کریں گے
01:04سیدن عمر
01:05رضی اللہ عنہ کا
01:06طرز حکمرانی
01:07اور آج بھی
01:08دو حصے ہوں گے
01:09گفتگو گے
01:09پہلا حصہ ہوگا
01:10جس میں
01:10عدل اور انصاف
01:12یعنی جسٹس کی
01:12ہم بات کریں گے
01:13اور دوسرا حصہ ہوگا
01:14جس میں ہم
01:15انتظامیہ کے اعتبار سے
01:16ایڈنسٹریشن کے اعتبار سے
01:17کلام کریں گے
01:18تو عدل
01:19جسٹس کی ہم بات کریں گے
01:21اور انتظامی عمور
01:22ایڈنسٹریشن کی ہم بات کریں گے
01:24سیدن عمر
01:25رضی اللہ عنہ کے
01:26طرز حکمرانی کے
01:26تعلق سے
01:27اور آج بھی
01:28پانچ جمع پانچ
01:29دس باتیں
01:29ہم آپ کے سامنے رکھیں گے
01:30گفتگو گے
01:31پہلا حصہ
01:32عدل
01:32انصاف
01:33جسٹس
01:33اس کے حوالے سے
01:34یاد رکھیے گا
01:35اسلام کی تعلیم کا
01:36کیچ ورڈ
01:37عدل ہے
01:38جسٹس
01:38اللہ تعالی نے
01:40رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
01:41سے کہلوایا ہے
01:42سورت الشورہ
01:44آیت نمبر پندرہ میں
01:45الفاظ ہیں
01:46وَأُمِرْتُ لِي أَعَدِلَ بَيْنَكُم
01:47اور مجھے حکم دیا گیا ہے
01:49کہ میں تمہارے درمیان
01:50عدل کو قائم کروں
01:52یہ رسول اکرم علیہ السلام کا
01:53مشن تھا
01:54اور تمام رسولوں کو بھی
01:55مشن یہ بیان ہوا
01:56سورت الحدید
01:57آیت نمبر ٢٥ میں
01:58سورت الحدید
01:59آیت نمبر پچیس میں
02:00اللہ تعالی فرماتا ہے
02:01تمام رسولوں کے بارے میں
02:02علیہ السلام
02:03لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْتِ
02:05رسولوں کو اللہ نے بھیجا
02:06موجزات ان کو عطا فرمائے
02:08کتابیں ان کو عطا فرمائیں
02:09شریعت کا قانون
02:10شریعت اللہ ان کو عطا کیا
02:12کیوں؟
02:13لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْتِ
02:14تاکہ انسانیت قسط پر عدل پر قائم ہو جائے
02:17اللہ تعالی کی اپنی ایک شان ہے
02:18سورہ عالی مران آیت نمبر ٢٨ میں ذکر آتا ہے
02:21قو امم بالقسط
02:23اللہ قسط کا عدل کا جسٹس کا قائم کرنے والا ہے
02:25اللہ تعالی کے نیک بندوں کی صفات آتی ہیں
02:28سورہ عالی مران کی آیت نمبر ٢٨ میں
02:30یہ امرون بالقسط
02:31وہ کیا کرتے ہیں اللہ کے نیک بندے
02:32قسط کا عدل کا حکم دیتے ہیں
02:34اور اللہ تعالی ہم مسلمانوں سے مطالبہ کرتا ہے
02:37سورہ نساء کی آیت نمبر ٢٥ ہے
02:39اور سورہ مائدہ کی آیت نمبر ٢٨
02:41ایک مقام پر الفاظ ہیں
02:43فرمائے
02:43کونو قوامین بالقسط
02:45ایمان والو قسط کے عدل کے جسٹس کے
02:47قائم کرنے والے بن کر بن جاؤ
02:50کیا بن جاؤ
02:50قسط کے قائم کرنے والے بن کر
02:52کھڑے ہو جاؤ
02:53یہ مطلب ہے
02:54تو یہ ہے جو بار بار قرآن پاک میں عدل کا تذکرہ
02:57اور سیدن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا عدل
02:59بڑا مشہور ہے
03:00عدل فاروقی
03:01بڑا مشہور ہے
03:02آئیے پانچ باتیں
03:03سیدن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے طرز حکمرانی کے زیل میں
03:06عدل اور انصاف کے حوالے سے سمجھتے ہیں
03:09سب سے پہلی بات
03:10قانون کی بالا دستی
03:11ہم سب چاہتے ہیں
03:12کہا بھی یہ جاتا ہے
03:13پڑھایا بھی جاتا ہے
03:15اور بیان بھی کیا جاتا ہے
03:16مگر ایسا ہوتا وہ کم ہی ہمارے معاشروں میں
03:19اور نظام حکمرانی میں دکھائی دیتا ہے
03:21لیکن
03:21ادھر کیا ہے
03:22سیدن عمر رضی اللہ عنہ
03:24آپ نے ثابت کیا کہ قانون حاکم وقت کے تابع نہیں
03:27بلکہ حاکم قانون کے تابع ہے
03:29اللہ اکبر
03:31قانون حاکم وقت کے تابع نہیں
03:33وقت کا حاکم بھی قانون کے تابع ہے
03:36کوئی استثناء کسی کے لئے نہیں
03:38کوئی ایکسپشن کسی کے لئے نہیں
03:40سبحان اللہ
03:41اور سیدن عمر رضی اللہ عنہ کی دور میں
03:44ایک دو واقعات ہوئے
03:45جب قریبی نشہ داروں میں سے
03:46کسی کا کوئی معاملہ پیش آیا
03:48تو کوئی لحاظ نہ کیا
03:50کیوں
03:50قانون سب کے لئے ایک ہے
03:52اور یہ تربیت کس کی ہے
03:53رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
03:56یاد ہے نا واقعہ
03:57عورت نے چوری کی نام اس کا بھی فاطمہ تھا
03:59اور بڑے گھرانے کی تھی
04:00مادار گھرانے کی تھی
04:08سرخ ہو گیا
04:08اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
04:11دیکھو
04:11تم سے پچھلی قومیں اس لئے ہلاک ہوئیں
04:13بڑا جنم کرتا چھوڑ دیتے
04:15چھوٹا جنم کرتا
04:16جس کو سزا دیتے تھے
04:18یہ تقسیم کر دیتی چھوٹے بڑے کی
04:20فرمایا
04:20بالفرض محال
04:22اگر میری بیٹی نے بھی یہ کام کیا ہوتا
04:24اسی چوری کی سزا کا
04:25جو حکم ہے اس پر بھی میں نافذ کرتا
04:27یہ تعلیم ہے حضور کی صلی اللہ علیہ وسلم
04:30اور اس کا عکس عملم
04:31نظام کی سطح پر
04:32سیدن عمر رضی اللہ تعالیٰ کے دور میں دکھائی دیتا ہے
04:35تو پہلی بات قانون کی بالہ دستی
04:37حاکم وقمی قانون کے تابع ہے
04:39نہ کہ قانون حاکم وقمی قانون کے تابع ہو جائے
04:42یہ بڑا قیمتی اور بھاری جملہ ہے
04:44ہمارے دور کے حکمرانوں کے لئے بھی
04:46دوسرا نقطہ عدل کے حوالے سے
04:48وہیں فوری انصاف
04:49اچھے ایک فرق کر لیں
04:50عدل اور انصاف ہم لفظ استعمال تو کر لیتے ہیں
05:00ایک بیٹا ابھی بارہ سال کا ہے
05:02یہ چلے تھوڑا سو اور
05:03ایک بیٹا چیز کر لیں
05:04ایک بیٹا پندرہ سال کا
05:05اور ایک چھوٹا بیٹا جو ابھی چار سال کا ہے
05:07کیا دونوں کے کھانے کی مقدار برابر ہوگی
05:09نہیں نا
05:10الگ الگ ہوگی نا
05:12پندرہ والے کو اس کے حساب سے دیا جائے گا
05:14چار سال والے کو پانچ سال والے کو
05:15اس کے حساب سے دیا جائے گا
05:16یہ عدل ہے
05:17جس کا جو حق بنتا ہے اس کو دیا جائے
05:19تو عدل قرآن پاک کا ورڈ ہے
05:21انصاف بھی اچھا لفظ ہے
05:22لیکن یہ ذرا ہلکا ہے
05:24اس میں آدھے آدھے کی بات ہوتی ہے
05:26عدل میں آدھے کا معاملہ نہیں
05:27جس کا جو due right بنتا ہے
05:30rightful right جو بنتا ہے
05:31جس کا جو صحیح ترحق بنتا ہے
05:33وہ اس کو دیا جائے
05:33یہ بہرحال عدل ہے
05:34بہرحال
05:35اسی کے حوالے سے فوری انصاف کی بات
05:37فوری عدل کی بات آپ کے سامنے رکھتے ہیں
05:39آپ کا ماننا تھا
05:40کہ دیر سے ملنے بارا انصاف
05:49deny it
05:50عدل کے فیضوں میں تاخیر ہو رہی ہے
05:52تو عدل نہیں ہو رہا ہے پھر
05:54چنانچہ
05:55اسی مقدمات کا فیضہ
05:56موقع پر کرنے کی ہدایت تھی
05:58آج ہمارے نظام حکومت کے تہم دیکھتے ہیں
06:00کہ ججز کی تعدادی پوری نہیں ہوتی
06:02اتنے ججز ہی نہیں ہیں
06:03ہزاروں کیسی سپینڈنگ پڑے ہوئے
06:05پچیس پچیس سال سے لوگ بچارے جیل میں ہیں
06:08ماضی قریب میں کچھ واقعات سامنے آئے
06:11اور پچیس برس کے بعد کسی کو
06:13باعزت
06:14انورٹیڈ کامہ باعزت بری کیا گیا
06:16اور عدالت نے معذرت کی
06:17اس کے پچیس سال برباد
06:19اس کا گھرانہ برباد
06:20اگر شادی شدہ تھا بچے برباد
06:22اور ہم کہہ رہے ہیں جناب وہ تو
06:24ٹھیک تھا بندہ
06:25کوئی غزلہ نہیں تھا
06:26پچیس سال کس بات کس حضاء بھکتی ہے اس نے
06:28یہ ہمارے ہیں
06:29جسٹس ڈیلیڈ والی بات
06:30جسٹس ڈینائیڈ والی بات
06:32مگر فوری مقدمات
06:33ان کی فوری فیصلی ہوئی
06:35سیدن عمر نے اس کو جاری کیا
06:36اور شریع اصول سمجھنے
06:38ہر شخص شریف ہے
06:42باعزت ہے
06:42سوائے سے کہ ثابت ہو جائے
06:44تو جرم کو ثابت کرنا پڑتا ہے
06:46لوگ خیر
06:47فوری عدل فوری انصاف کا معاملہ
06:49سیدن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے
06:51ترزیح حکمرانی میں ہمیں دکھائی دیتا ہے
06:52تیسری بات
06:53قاضیوں کا تقرر
06:54اب انگلیش میں کہوں گا
06:55تو فوراں سب کو سمجھ آجائے گی
06:57زیادہ
06:57ججس کا تقرر
06:58اب یاد آگیا
06:59اب سمجھ آگئی
07:00تو سیدن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے
07:02ہاں
07:02قاضیوں کے تقرر کا معاملہ کیا تھا
07:04ججوں کے لئے کڑے میار مقرر کیے
07:06ان کے لئے کرائیٹیریا کڑا
07:08اس لئے کہ لوگوں کے ساتھ
07:09معاملات کرنے
07:11ذرا غلط فیصلہ کسی کی زندگی برباد کر سکتا ہے
07:14ذرا غلط فیصلہ کسی کا حق تلفی کا معاملہ کر سکتا ہے
07:17تو کڑے میار ججس کو تقرر کرنے کے لئے
07:20صرف وہی قاضی بنتا جو فقی ہونے کے ساتھ ساتھ غیر جانبدار بھی ہو
07:24فقی کسے کہتے ہیں
07:25فقہ اسلامی کا علم رکھنے والا
07:27کتاب و سنت کی تعلیمات کا علم رکھنے والا
07:29اس سے مسائل اخص کس طرح کیے جائیں
07:31یہ فقہی بصیرت بھی ہوتی اس کے پاس
07:34اور غیر جانبدار بھی ہو
07:36یہ بہت اہم بات ہے
07:37لوگوں کے ایموشنل سے متاثر ہو کر
07:41تو غلط فیصلہ جج بھی کر جائے گا
07:43نو نو
07:43غیر جانبدار ہو کر
07:44لیکن کڑے میار سے گزر کر آنے والا جج
07:47فقہ اسلامی کا علم رکھنے والا جج
07:50اور غیر جانبدار رہ کر فیصلے کرنے والا جج
07:53یہ سیدن عمر کا ٹرائٹیریا تھا
07:55ججوں کے تقرر کے اعتبار سے
07:57کتنی پیاری باتیں
07:58تو باتیں تو بہت پیاری ہیں
08:00کیا ہمارے عمل درامت ہو رہا ہے
08:01یہ سوال یا نشان ہے
08:02آگے چلتے ہیں
08:03چوتہ نقطہ
08:04ادریہ کی آزادی
08:05من پسند کے فیصلے کرائے جاتے ہیں
08:14ادریہ کی آزادی
08:15سیدن عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں
08:17قاضی کو اتنی طاقت دی
08:19کہ وہ خلیفہ کے خلابی فیصلہ دے سکے
08:21اور خلیفہ اسے تسلیم کرے
08:23اللہ اکبر
08:24کیوں قانون
08:26حاکم وقت کتابے نہیں ہیں
08:28حاکم وقت قانون کتابے ہیں
08:30تو وقت کا قاضی یا جج
08:32اگر وقت حکمرہ کے خلابی فیصلہ دے
08:34تو اسے قبول کرنا ہوگا
08:36اور خلیفہ کو چاہیے
08:38کہ اس کے سامنے سرے تسلیم خم کر دے
08:39اور اس کی چند مثالیں بھی
08:41سیدن عمر رضی اللہ عنہ کی تاریخ سے
08:43ہمیں ملتی ہیں
08:44پانچ بھی بات
08:45برابری کا صلو
08:46ایکوالیڈی فور آل
08:47کتنا پیارا نعرہ ہے
08:48جب آپ خود کسی مقدمے میں عدالت جاتے
08:51تو قاضی کے برابر
08:52بیٹھنے کے بجائے
08:53مدعی کے ساتھ کھڑے ہوتے
08:55ایک جیسے پیشی ہوتی عدالت میں
08:58ایک مدعی ہوتا ہے
09:06کہ قدقہ معاملات پیش آئے
09:08تو قاضی کے سامنے حاضر ہوئے ہیں
09:10عدالت میں
09:11کوئی استثناء نہیں تھا بھائی
09:13کوئی پریولیج نہیں تھی
09:15کوئی آزادی نہیں تھی
09:17کہ ہم کیا بھائی
09:18سب ہمارے نیچے
09:18قانون بھی ہمارے نیچے
09:19نو
09:20سیدن عمر تشریف نے جاتے عدالت میں
09:22اور مدعی کے سامنے کھڑے ہوتے
09:24جج کے ساتھ نہیں بیٹھتے تھے
09:25کس قدر بھاری بھاری
09:27ایکزامپلز دے کر گئے
09:28سیدن عمر رضی اللہ تعالی عنہ
09:29طبیعت و سلطنت میں
09:30آمن بھی تھا
09:31سکون بھی تھا
09:32اپنان بھی تھا
09:33اور بڑوتری بھی تھی
09:34اور لوگوں کو خوشحالی بھی
09:35محصر آ رہی تھی
09:36یہ پانچ باتیں
09:37میں آپ کی سامنے رکھی
09:38سیدن عمر رضی اللہ تعالی عنہ
09:39کے تعلق سے
09:40عدل اور انصاف
09:41یعنی جسٹس کے تعلق سے
09:42قانون کی بالدستی کا معاملہ
09:44فوری عدل اور انصاف
09:45کا میسر آنا
09:46قاضیوں کا ججس کا تقر
09:48اس کے میارات
09:58کو تسلیم کرے
09:59اور برابری کے سلوک کا معاملہ
10:00عدالت میں خود بھی
10:01سیدن عمر پیش ہوتے تھے
10:02رضی اللہ تعالی عنہ
10:04اب چلتے ہیں
10:05آج کی گفتگوں کے دوسرے حصے کی
10:06ترسکم ایڈنسٹریشن کہتے ہیں
10:08انتظام یہ جسے کہا جاتا ہے
10:09سرکاری طور پر جو بھی
10:12شعبہ جات ہیں
10:13فائننس کی منسٹری
10:14فورن افیرز کی منسٹری
10:16انٹرنل افیرز کی منسٹری
10:17عقاف کی منسٹری
10:18human rights کی منسٹری
10:20قانون کی منسٹری
10:20and so on
10:21تو جو پورا ایک
10:22state craft
10:23جسے ہم انگلش میں کہتے ہیں
10:24انتظامیہ کہتے ہیں
10:25باس
10:25administration کے حوالے سے بھی
10:27پانچ بات ہیں
10:28سیدن عمر
10:28رضی اللہ تعالی عنہ
10:29کے طرز حکمرانی کے
10:30زیر میں میں آپ کے سامنے
10:31رکھنا چاہوں گا
10:32اب اس انتظامی معاملے
10:34کے حوالے سے پانچ بات ہیں
10:35پہلا نقطہ
10:36احتساب کا نظام
10:37سیدن عمر
10:38رضی اللہ تعالی عنہ
10:38کا دور
10:39نوٹ کیجئے گا
10:40گورنروں کی تقروری سے
10:41اچھا گورنر
10:42آج والا انگلش والا
10:43گورنر نہیں
10:43انگلش میں تو گورنر
10:45کہتے ہیں
10:45عربیق میں
10:46گورنر کا لفظ نہیں ہوگا
10:47پتہ ہے کیوں
10:47گاف عربی میں نہیں ہے
10:49تو گورنر کا لفظ
10:50انگلش سے آیا
10:51عمال
10:52ذمہ داران
10:52آفسرز
10:53جن کو مختلف
10:54لیولز پر ذمہ داریاں
10:55دی جاتی ہیں
10:56گورنروں کی تقروری سے
10:57پہلے ان کے اساس
10:58نوٹ کی جاتے
10:59تاکہ بعد میں
11:09ذمہ داری ختم
11:10یا
11:11ریٹائرمنٹ
11:11یا
11:12فائر کیا جا رہا ہے
11:13اب بتاؤ
11:13تمہارے پاس کیا ہے
11:14جب تم آئے تھے
11:15تو یہ تھا
11:16آج تمہارے پاس
11:17یہ ہے
11:18تو یہ
11:19ون سے ہی
11:19اگر ٹین ہو گیا
11:20یہ نائن
11:21کہاں سے آئے
11:22ریپورٹ پیش کرو
11:23سبحان اللہ
11:25آج دنیا میں بھی
11:26کم کم یہ چیزیں
11:27دکھائی دیتی
11:27سیدہ نعمر نے
11:28تو یہ نظام
11:29ہمیں دیا ہے
11:29سبحان اللہ
11:31ذمہ داری کا
11:32تعین ہو رہا ہے
11:33اپنا ایکاؤنٹ
11:34پیش کرو کتنا ہے
11:35ذمہ داری کے
11:36خطام ہو رہا ہے
11:36اپنا ایکاؤنٹ
11:37پیش کرو کتنا ہے
11:38یہ ڈیفرنس
11:39اتنا بڑھ کیسے گئے
11:39اب بتاؤ بھی
11:40کہاں سے آیا
11:41سبحان اللہ
11:42یہ پوری
11:42ایکاؤنٹیبلیٹی کا
11:43کانسیپٹ
11:44وہاں پر موجود
11:44نمبر دو
11:45مجلس شورہ
11:46شورہ مشاورہ سے ہے
11:47اور ایمان والوں کے
11:49معاملات
11:49مشورے سے تیہ ہوتے ہیں
11:50قرآن کریم
11:51سورہ شورہ
11:52کی آیت میں
11:5238 ہے
11:54سورہ شورہ
11:54آیت امر 38
11:55وَأَمْرُهُمْ شُورَ
11:56بَعِنَهُمْ قرآن پاک
11:58کہتا ہے
11:58ان کے آپس کی معاملات
11:59باہمی مشوروں سے
12:00تیہ ہوتے ہیں
12:01تو مجلس شورہ کا قیام
12:02سید عمر رضی اللہ تعالی
12:04نے جمہوریت کے
12:05بنیاد رکھی
12:06اچھا بھائی
12:07کونسی جمہوریت
12:07مادر پدر آزاد
12:09جمہوریت نہیں
12:10جو چاو
12:11اکثریت کی رائے سے
12:12جو چاو
12:13حرام کو حلال کر دو
12:14نا نا نا
12:15جمہور کا مطلب ہے
12:17مجورٹی کی رائے
12:18مگر یہ رائے
12:18تابع رہے گی
12:19کتاب و سنت کے
12:20سٹاپ پر
12:21اللہ کے کتاب
12:22اس کے رسول کی
12:22سنت کی تعلیم ہوگی
12:23اس کے تحت
12:24اکثریت کے رائے
12:25مان لینے میں
12:26کوئی حرج کی بات نہیں
12:27ذہن میں رکھیے گا
12:28آپ نے جمہوریت
12:29کے بنیاد رکھی
12:30ہر بڑا فیصلہ
12:31جلیل و قدر
12:31صحابہ اکرام کی
12:32مشاورت کے بغیر
12:33نہیں ہوتا تھا
12:34آپ اپنے صحابہ
12:35کو مشورے میں
12:36شامل لگتے
12:37اور مشورے کا حکم
12:38تو اللہ نے حضور
12:38کو بھی دیا
12:39حالکہ حضور پر
12:40تو وحی نازل ہوتی تھی
12:41مگر کیوں حکم دیا
12:42سورہ علیمران
12:43آیت ون ففٹی نائن
12:44سورہ علیمران
12:45آیت امریک سون سٹھ میں ہے
12:48وشاورہم فی الامر
12:49اور اے نبی علیہ السلام
12:50اسے معاملات میں
12:50مشورہ کیجئے
12:51کیوں
12:51قیامت تک
12:52امت نے چلنا ہے
12:53تو امت کیسے
12:54اپنے معاملات کو چلائے
12:55مشوروں کے ذریعے
12:56آمر نہ بنے
12:58ڈکٹیٹر نہ بنے
12:59ٹوٹیلٹی میں
13:00افارٹی والا نہ بنے
13:01بندہ لوگوں کو
13:02آن بورڈ لے کر چلے
13:03مشورے کی سنت میں
13:04یہ برکتیں ہیں
13:05تو سیدن عمر
13:06مشوروں سے فیصلے کرتے
13:07اور اہم فیصلے
13:08صحابہ اکرام کی
13:09مشاورت سے کرتے تھے
13:10رضی اللہ عنہم
13:12اجمعین
13:12تیسا نکتہ
13:13انتظامیہ کے تعلق سے
13:15ہوئے مرکزی
13:16کنٹرول کا معاملہ
13:16سنٹرل کنٹرول کا معاملہ
13:18کنٹرول سے کیا مراد ہے
13:19مدینہ منورہ سے بیٹھ کر
13:21پوری سلطنت کے
13:22ہر چھوٹے بڑے
13:22واقعے کی خبر رکھتے
13:23ہر علاقے کے میں
13:24ذمہ دار
13:25ذمہ داران موجود ہیں
13:26اور اس زمانے میں
13:27سمارٹ فون تو تھے نہیں
13:28ایمیل تو تھی نہیں
13:29فون تو تھا نہیں
13:30پھر وہ آتے تھے
13:31لوگ اور خبریں پیش کرتے تھے
13:33لوگوں کے حالات کے بارے میں
13:35وہ پیش کرتے تھے
13:36کس کا کیا معاملہ
13:37کس کا کیا معاملہ
13:37شکایتیں بھی پہنچتی تھیں
13:39اور اس شکایتوں کا
13:40مدینہ شریف میں بیٹھ کر
13:41جو کہ دار و خلافہ تھا
13:42اسلامی نیاست کا
13:43وہاں پر بیٹھ کے
13:44فیض سے بھی کیا جاتے تھے
13:45کریکشن بھی کی جاتی تھی
13:46انسٹرکشنز بھی دی جاتی تھی
13:48ایون گورنرس کو
13:49رہنمائی کے لیے
13:50خطوط بھی بھیجواتے تھے
13:51نماز کے بارے میں
13:52کھانے پینے کے بارے میں
13:53پہننے کے بارے میں
13:54اور رعایہ کے ساتھ
13:55اس سے صدوق کے بارے میں
13:56بارحال یہ پورا
13:57مرکزی کنٹرول
13:58اس معنی میں تھا
13:59کہ کہیں کوئی مسائل ہو
14:00تو علم ہو مرکز کو
14:01اور وہاں سے پھر
14:02رہنمائی سنٹرلی دی جا سکیں
14:04چوتھی بات
14:05شکایت کا ازالہ
14:06یہ ایسے بھی ہوتا
14:07کہ شکایت پہنچتی ہے
14:08مدینہ مرورہ میں
14:09اور آپ رضی اللہ تعالیٰ
14:10اس کا ازالہ فرماتے
14:11اور ایک بڑا
14:12اینول معاملہ ہوتا تھا
14:14سالانہ معاملہ
14:14حج کے موقع پر
14:15چنانچہ حج کے موقع پر
14:17عام آدمی کو بھی
14:18اجازت تھی
14:19کہ وہ کسی بھی
14:19افسر یا گورنر کے خلاف
14:21کھلے ہم شکایت کر سکے
14:22حج پر لوگ آتے تھے
14:24سارے عرب کے عرب سے
14:25بہار سے بھی آتے تھے
14:26ساری سلطنت سے آتے تھے
14:28اور سید عمر
14:29رضی اللہ تعالیٰ
14:29موجود رہتے تھے
14:30اور لوگ اگر آگے
14:32شکایات پیش کرتے
14:33تو ان شکایات کو سنتے
14:34اور وہ جینون ہوتی
14:35تو ان کا ازالہ کرتے
14:36ان کے لیے
14:36انسکشنز اور رہنمائی
14:37دیتے تھے
14:38تو ایک تھا
14:39آپ کے ذمہ داران
14:40خود خبریں پہنچاتے
14:41اور ایک عوام جو آتے تھے
14:43پوری ریاست سے
14:44حج ادا کرنے کے لیے
14:46تو اس حج کے موقع پر بھی
14:47وہ لوگوں سے گفتگو کرتے
14:49اور انفرمیشن لیتے
14:50اور اس کے مطابق
14:51کریکشن کیا کرتے تھے
14:53سیدن عمر کے دور کی باتیں
14:55آج چودہ
14:56ساڑھے چودہ
14:57سردیوں کے بعد
14:57ہم بیٹھے ہیں
14:58نظر آتا ہے کچھ
14:59حکمانہ انہوں کے پاس
15:00تو ٹائم ہی نہیں
15:01کیا چھا حج کا موقع ہوتا ہے
15:02ساری دنیا سے
15:03مسلمان آتا ہے
15:04ایک دوسرے کے حالات
15:05کا علم ہو جائیں
15:05اور اس کے مطابق
15:06پولیسیز فریم کی جائیں
15:07انسٹرکشنز دی جائیں
15:08کس قدر خیر
15:09امت کو میں اثر آئے گا
15:10پانچ وی اور آخری بات
15:11اہلیت کی بنیاد پر
15:12تقروری
15:13میریٹ جس انگلیش میں
15:14ہم کہتے ہیں
15:14آپ فرماتے ہیں
15:15اگر کسی نے
15:16سفارش پر نا اہل
15:17کو اہدہ دیا
15:18تو اس نے
15:18اللہ اور رسول
15:19علیہ السلام سے
15:20خیانت کی
15:21سبحان اللہ
15:22اگر اہدہ دیا جا رہا ہے
15:24ناجائز طور پر
15:25بدنا کالفائی نہیں کرتا
15:26یہ اللہ اور اللہ کے
15:27رسول سے خیانت ہے
15:28کیوں
15:29یہ سلطنت کی ذمہ داری
15:30اللہ کی طرف سے آئی
15:31پیغمبر کی بحاف پر
15:32کام کر رہے ہیں
15:33تو اگر یہاں
15:34نا اہل لوگوں کو
15:35ذمہ داری دی جائے گی
15:36تو پھر یہ
15:36سلطنت کا معاملہ
15:38خیانت کی طرف
15:39چلا جائے گا
15:39آج میریٹ کا
15:40کتنا گلہ گھوڑ دیا گی
15:41ہم سب کو پتا ہے
15:42یہ ناظر کرام
15:43انتظامی اعتبار سے بھی
15:44پانچ باتیں
15:45میں نے آپ کے سامنے رکھی
15:46احتساب
15:47مجلس شورہ
15:48مرکزی کنٹرول
15:49شکایات کا ازالہ
15:50اور تقروری
15:51اہلیت کی بنیاد پر
15:52یہ ہیں خوبصورت نظارے
15:53جو سیدن عمر
15:54رضی اللہ تعالیٰ
15:55ان کے دور خلافت سے
15:56ہمارے سامنے آتے ہیں
15:57اگر آج ان پر عمل ہو
15:58تو کس قدر خوبصورت زندگی
15:59ہماری یہاں پر ہوگی
16:00اللہ ہمارے حکمرانوں کو
16:02اس سے انسپریشن لینے
16:03اور صحیح معنی میں
16:04شریعت کے مطابق
16:05خلافت کا نظام قائم کرنے
16:07کی توفیق عطا فرمائے
16:08آمین یا رب العالمین
16:09و آخر دعوانہ
16:10الحمدللہ رب العالمین
16:12السلام علیکم ورحمت اللہ
16:13وبرکاتہ
Comments