00:00امی دیکھیں سارا سامان پلاسٹک کی تھیلیوں میں دیا جا رہا ہے
00:04اسی لئے جب یہ تھیلیاں گندی اور خالی ہو جاتی ہیں تو لوگ اسے سڑکوں پر پھیک دیتے ہیں
00:08اور وہ اڑ کر دریاں میں چلی جاتی ہیں جس سے مچھلیاں مر جاتی ہیں
00:11تو تمہارا کیا خیال ہے؟ لوگ سارا سودا ہاتھوں میں لے کر جائیں
00:15انسان کے پاس صرف دو ہاتھ ہوتے ہیں ان ہاتھوں میں اتنا سودا کیسے اٹھا سکتے ہیں؟
00:19امی میں تو بس یہ کہہ رہا ہوں کہ کوئی اور حلپی تو ہو سکتا ہے نا
00:23ان خطرناک پلاسٹک کی تھیلیوں کے علاوہ
00:26چلو بیٹا آپ گھر چلتے ہیں
00:31سمیر اپنا بیگ لے کر آؤ ہومورٹ نہیں کرنا کیا؟
00:34ابھی تو ہائیٹی کا وقت ہے میں ہومورٹ کیات میں کروں گا
00:38اور رات میں آپ کہیں گے کہ کھانے کا وقت ہے
00:40تمہاری زندگی میں کھانے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہے کیا؟
00:43زویا وہ دیکھو تقریباً ہر موٹر سائیکل پر پلاسٹک کی تھیلیاں لٹکی ہوئی ہیں
00:49سہارا سامان لوگ تھیلیوں میں ہی لے کر جا رہے ہیں
00:52آمیر تم تو بلکل باگل ہو گئے ہو
00:54تمہیں اتنی اکل نہیں ہے کہ لوگ اپنی آسانی کے لیے مختلف چیزیں ایک ہی شاپر میں ڈال لیتے ہیں
00:58تاکہ انہیں گھر لے جانے میں آسانی ہو
01:00بھلا اس میں کونسی عجیب بات ہے
01:02آہ مگر وہ پلاسٹک کی تھیلی
01:05ارے زویا تم سمجھی نہیں
01:07بھائی کہہ رہا ہے کہ لوگوں کو سیپ
01:09کےلے، انگور، سبزیاں، دودھ، دہی
01:12سب پلاسٹک کی تھیلیوں میں نہیں
01:13بھلکہ اپنی جیبوں میں ڈال کر لے جانی چاہیے
01:16آہا