00:00ابن نفیس
00:03سن بارہ سو اٹھاون میں منگولوں نے عالم اسلام کے دارالحکومت بغداد پر حملہ کیا
00:10یہ حملہ صرف انسانی جانوں کا ہی نقصان نہ تھا
00:14بلکہ منگولوں نے مرکز خلافت میں موجود تمام کتابوں کو بھی دریائے دجلہ میں بہا دیا
00:20مورخین لکھتے ہیں کہ پہلے دریائے دجلہ کا پانی خون سے سرخ ہوا
00:24اور پھر جب اس میں کتابیں ڈالی گئیں تو کتابوں کی انگ سے وہ سرخ دریا کالا ہو گیا
00:30یعنی مسلمانوں کا علم و فن سب ہی تباہ کر دیا گیا تھا
00:34مگر اسلام چونکہ اللہ کا آخری پیغام ہے
00:37اسی لیے عالم اسلام کی حفاظت بھی اللہ نے اپنے ذمہ لی ہے
00:41چنانچہ جس وقت منگول ناقابل تسخیر جانے جاتے تھے
00:46اسی دور میں مصر کے حاکم سلطان بیبریس منگولوں سے مقابلے کے لیے تیاری کر رہے تھے
00:52تیاری مکمل ہو چکی
00:54تو سلطان بیبریس نے حکم دیا
00:56کہ لشکر میں طبیبوں اور جراہوں یعنی سرجنوں کو بھی رکھ لو
01:00تاکہ دوران جنگ زخمیوں کا فوری علاج کیا جا سکے
01:03سلطان نے شہر کے مرکزی ہسپتال جو بیمارستان کہلاتا تھا
01:08وہاں کے رئیس الطبیب یعنی ڈائریکٹر کو بھی بلوا لیا
01:11رئیس الطبیب دربار میں آئے
01:13تو سلطان نے کہا
01:14ہم آپ کی خدمات سے واقف ہیں
01:16اور ہم یہ بھی جانتے ہیں
01:18کہ شہر میں آپ کی زیادہ ضرورت ہے
01:20لیکن ہم اسلام دشمنوں سے لڑنے فلسطین جا رہے ہیں
01:23اور ہمارے پاس منگولوں کے مقابلے میں کمک بھی کم ہے
01:27اسی لئے آپ کا چلنا لازمی ہے
01:29کیونکہ ہم جانتے ہیں
01:30کہ آپ بہترین سرجری کر کے
01:32زخمیوں کو فوری شفایاب کر دیتے ہیں
01:35اس پر رئیس الطبیب نے کہا
01:36سلطان معظم آپ کا حکم سر آنکھوں پر
01:39میں آپ کے کہنے سے قبل ہی
01:41اس جنگ میں جانے کا خواہش مند تھا
01:43اسی لئے مجھے آپ کا فیصلہ منظور ہے
01:45ویسے بھی بیمارستان میں
01:47اب بہت سے ڈاکٹر اور سرجن بھیج چکا ہوں
01:49جو میری غیر موجودگی
01:51یا شہادت کی صورت میں
01:52علم کو آگے بڑھاتے رہیں گے