Skip to playerSkip to main content
  • 18 minutes ago
پلوامہ، جموں وکشمیر (سید عادل مشتاق)عہدِ قدیم سے اس دن مختلف امراض میں مبتلا افراد اپنے جسم کے مختلف حصوں پر جونک لگوا کر علاج کرواتے رہے ہیں اور یہ روایت آج بھی پوری طرح زندہ ہے۔ موجودہ دور میں بھی نوروز کے موقع پر لیچ تھراپی کروانے کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد ماہرین کے پاس پہنچتی ہے۔ دراصل جونک ایک آبی کیڑا ہے جو فاسد خون چوسنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انسانی جسم کے کسی حصے یا زخم میں جب فاسد خون جمع ہو جاتا ہے تو اسے خارج کرنے کے لیے جونک لگائی جاتی ہے۔ عموماً جونک کو تقریباً 30 منٹ تک متاثرہ حصے پر رکھا جاتا ہے، جس دوران وہ فاسد خون کو چوس لیتا ہے۔یونانی طب کے ماہرین کے مطابق جونک کے لعاب میں موجود قدرتی کیمیائی اجزاء جسم میں داخل ہو کر خون کی روانی کو بہتر بناتے ہیں، سوزش کو کم کرتے ہیں اور درد میں کمی لاتے ہیں۔ اسی بنا پر لیچ تھراپی کو ایک مفید طریقۂ علاج تصور کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ جلدی بیماریوں، دانتوں کے مسائل، امراضِ چشم، ذہنی دباؤ، نفسیاتی امراض، اعصابی نظام کی خرابیوں اور سوزش کے علاج میں مؤثر مانا جاتا ہے، جب کہ بعض ماہرین اسے امراضِ قلب میں بھی معاون قرار دیتے ہیں۔ لیچ تھراپی کے ماہر غلام رسول حجام کا کہنا ہے کہ لیچ تھراپی، جسے طبی اصطلاح میں Hirudotherapy کہا جاتا ہے، ایک قدیم مگر مؤثر طریقۂ علاج ہے جو آج بھی مختلف بیماریوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق خاص طور پر جوڑوں کے درد، گاؤٹ، جلدی امراض اور خون کی روانی سے متعلق مسائل میں اس کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس طریقۂ علاج میں مخصوص قسم کے جونک جسم کے متاثرہ حصے پر لگائے جاتے ہیں، جو خون چوسنے کے ساتھ ساتھ اپنے لعاب کے ذریعے شفا بخش اجزاء جسم میں منتقل کرتے ہیں۔ یہ اجزاء سوزش کم کرنے، خون کو پتلا کرنے اور درد میں کمی لانے میں مدد دیتے ہیں، جس سے مریض کو نمایاں آرام ملتا ہے۔ غلام رسول حجام کے مطابق وہ گزشتہ چالیس برسوں سے اس شعبے سے وابستہ ہیں اور انہوں نے ہزاروں مریضوں کا کامیاب علاج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گاؤٹ، جوڑوں کے درد، سوجن اور بعض جلدی بیماریوں میں لیچ تھراپی نہایت مفید ثابت ہوتی ہے اور یہ ایک قدرتی طریقۂ علاج ہے جس کے مضر اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ آج کے دور میں جدید اسپتالوں اور متبادل علاج کے مراکز میں بھی لیچ تھراپی دستیاب ہے، جہاں یہ علاج تربیت یافتہ ماہرین کی نگرانی میں انجام دیا جاتا ہے۔ تاہم طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ اس طریقۂ علاج کو اپنانے سے پہلے مستند ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے تاکہ علاج محفوظ اور مؤثر ثابت ہو سکے۔

Category

🗞
News
Transcript
00:30.
01:00.
01:30.
02:00.
02:31.
02:31.
02:31.
02:31.
02:31.
02:31.
02:39.
02:40.
02:41.
02:41.
02:42.
02:42.
02:42.
02:42.
02:42.
02:43.
02:44.
02:44.
02:45.
02:45.
02:45.
02:45.
02:46.
02:46.
02:47.
02:47.
02:47.
02:48.
02:49.
02:49.
02:49.
02:49.
02:50.
02:52.
02:53.
02:53.
02:53.
02:53.
02:53.
02:53.
02:54.
02:55.
02:55.
02:55.
02:56.
02:58.
02:59.
03:00.
03:00.
03:00.
03:01.
03:02.
03:03.
03:04.
03:05.
03:06.
03:06.
03:06.
03:06.
03:07.
03:07.
03:08.
03:09.
03:09.
03:10.
03:11.
03:11.
03:11.
03:12.
03:12.
03:13.
03:13.
03:14.
03:15.
03:15.
03:15.
03:15.
03:16.
03:17.
03:17.
03:17.
03:17.
03:18.
03:19.
03:19.
03:19.
03:20.
03:21.
03:21.
03:21.
03:22.
03:49You
Comments

Recommended