شوپیاں، جموں وکشمیر (سید عادل مشتاق شاہ)تاریخی اہمیت کی حامل یہ شاہراہ ہر سال شدید برف باری کے باعث کئی ماہ تک بند رہتی ہے، جس سے نہ صرف ٹریفک کی آمد و رفت متاثر ہوتی ہے بلکہ مقامی آبادی کو بھی روزمرہ زندگی میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم رواں سال متعلقہ محکمہ نے غیر معمولی محنت، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریکارڈ مدت میں برف صاف کرنے کا عمل مکمل کیا ہے۔ محکمۂ بارڈر روڈز آرگنائزیشن کے 52 روڈ کنسٹرکشن کمپنی (آر سی سی) بیکن یونٹ نے شوپیاں سے پیر کی گلی تک تقریباً 41 کلومیٹر طویل سڑک پر برف ہٹانے کی ذمہ داری سنبھالی۔ سخت موسمی حالات، منفی درجۂ حرارت اور کئی فٹ موٹی برفانی تہوں کے باوجود عملے نے دن رات مسلسل محنت جاری رکھی۔ بھاری مشینری، اسنو کٹرز اور جدید آلات کی مدد سے شاہراہ کو محفوظ اور قابلِ استعمال بنانے کے لیے انتھک کوششیں کی گئیں۔حکام کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ سڑک کی تعمیر کے بعد فروری کے اختتام تک اس اہم شاہراہ کو گاڑیوں کی آمد و رفت کے لیے کھولنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ اگر موسم سازگار رہا تو آئندہ چند دنوں میں ٹریفک مکمل طور پر بحال کر دی جائے گی، جس سے شوپیاں، راجوری اور پونچھ اضلاع کے درمیان زمینی رابطہ دوبارہ قائم ہو جائے گا۔ مقامی لوگوں، تاجروں اور ٹرانسپورٹروں نے محکمہ کے عملے کی کوششوں کو بے حد سراہتے ہوئے کہا کہ مغل روڈ کی بروقت بحالی سے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی بلکہ سفر کا دورانیہ بھی نمایاں طور پر کم ہوگا۔ عوام کا ماننا ہے کہ اس شاہراہ کی جلد کھلنے سے سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ اس کے ساتھ ہی ر دور دراز علاقوں کے لوگوں کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔ مغل روڈ کی یہ پیش رفت نہ صرف انتظامیہ کی کارکردگی کا ثبوت ہے بلکہ خطے کی معاشی، سماجی اور سیاحتی ترقی کے لیے ایک خوش آئند قدم بھی ثابت ہوگی۔
Comments