Skip to playerSkip to main content
  • 3 months ago
ادبی تنظیموں، اداروں اور ان کا دائرۂ عملزبانوں کے فروغ کے لیے مختلف ادبی تنظیمیں اور اکیڈمیز برسوں سے سرگرم عمل ہیں۔ وہ سیمینارز، مشاعرے، مذاکرے اور فکری نشستوں کا اہتمام کرتی ہیں تاکہ زبان و ادب کے فروغ کے ساتھ ساتھ نئی نسل کو اپنے تہذیبی اور فکری ورثے سے جوڑا جا سکے۔ تاہم، ان کوششوں کا اثر محدود دائرے تک محسوس ہوتا ہے۔ اکثر سیمینارز مخصوص حلقوں تک محدود رہ جاتے ہیں، جن میں زیادہ تر وہی چہرے دکھائی دیتے ہیں جو پہلے ہی ادب کے شائق ہیں۔ یوں یہ سرگرمیاں زبان و ادب کے موجودہ چاہنے والوں کے لیے تو تازگی کا باعث بنتی ہیں، مگر نئی نسل کے لیے ان میں وہ کشش نہیں جو ڈیجیٹل دنیا کی چمک دمک میں ان کی توجہ کھینچ سکے۔

نئی نسل اور ادب کے درمیان بڑھتا فاصلہنئی نسل کے لیے دنیا اب کتاب کے صفحے میں نہیں بلکہ اسکرین کی روشنی میں سمٹ آئی ہے۔ یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بُک نے ان کے اظہار کے انداز بدل دیے ہیں۔ لمبی تحریروں کی جگہ مختصر ویڈیوز نے لے لی ہے۔ اس صورتحال میں ادب کو زندہ رکھنے کے لیے پرانے طریقے کافی نہیں رہے۔
ماہرین کی رائے، ادب کا فکری تسلسل اور اداروں کا کردارماہرین کا ماننا ہے کہ ادبی اداروں کو اب سوچنا ہوگا کہ ادب کو وہیں پہنچایا جائے جہاں نئی نسل موجود ہے یعنی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز۔ آن لائن مشاعرے، ڈیجیٹل لائبریریز، ای بکس، آڈیو بکس، پوڈکاسٹس اور یوٹیوب لٹریری چینلز وہ نئے ذرائع ہیں جن کے ذریعے ادب کو ایک نئی زندگی دی جا سکتی ہے۔ ادب صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک فکری تسلسل ہے جو قوموں کی شناخت اور شعور کی علامت ہوتا ہے۔ اگر یہ تسلسل ٹوٹ جائے تو زبان محض اظہار کا ذریعہ نہیں رہتی، بلکہ اپنی روح کھو بیٹھتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ادبی اداروں، اکیڈمیوں اور تنظیموں کو روایت اور ٹیکنالوجی کے درمیان ایک فکری پل بننا ہوگا۔ ان کے ذمے صرف ماضی کی حفاظت نہیں بلکہ مستقبل کی تعمیر بھی ہے۔ انہیں نئی نسل کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ ادب محض تاریخ نہیں، بلکہ زندہ گفتگو ہے جو آج بھی دلوں کو چھو سکتی ہے۔ 

Category

🗞
News
Transcript
00:00foreign
00:28foreign
00:58foreign
01:08foreign
01:18foreign
01:28foreign
01:30foreign
01:40foreign
01:42foreign
01:52foreign
02:02foreign
02:04foreign
02:14foreign
02:16foreign
02:26foreign
02:28foreign
02:30foreign
02:40foreign
02:42foreign
02:44foreign
02:46foreign
02:48foreign
02:56foreign
03:06foreign
03:08foreign
03:10foreign
03:12foreign
03:14foreign
03:16foreign
03:18foreign
03:19foreign
03:20foreign
03:24foreign
03:28foreign
03:30That is our bad-customer, that is our new path, our new path, this is our own way to try to go out.
03:39But in the world, the world has seen that which has been told by our own way,
03:44or which has been told by our own way,
03:47that our own way to go out,
03:51that our own way to go out.
03:55The question is about digital palette.
03:57foreign
04:27foreign
04:57foreign
05:27foreign
05:57foreign
Be the first to comment
Add your comment

Recommended