00:00غریب مزدور کی بیٹی نے کیتلی میں دودھ گرم کیا
00:03اس کا ڈھکن اٹھایا اور تھنڈا ہونے کے لیے تھوڑی دیر کے لیے چھوڑ دیا
00:07تھوڑی دیر بعد آئی ڈھکن کیتلی پر رکھا
00:10دودھ سے بھری کیتلی اٹھائی اور باہر کی طرف چل دی
00:14جاتے جاتے اس کے ہاتھوں سے کیتلی اچانک چھوٹ کر نیچے گری
00:17سارے کا سارا دودھ زمین پر پھیل گیا
00:20باپ خاموشی سے ایک طرف بیٹھا یہ منظر دیکھ رہا تھا
00:24اس کے ایک دن کی کمائی کے برابر نقصان ہو چکا تھا
00:27اس نے آسمان کی جانب نگاہ اٹھائی اور بولا
00:30اے میرے مالک اس طرح کے چھوٹے بڑے نقصانات
00:33ہم غریبوں کا مقدر ہی ہمیشہ کیوں بنتے ہیں
00:36کیا ہم غریب ہی تو جنظر آتے ہیں
00:39دنیا جہان کی مسئیبتیں ہم غریبوں کے لیے ہی ہیں
00:42غرض وہ کافی دیر تک اللہ کے سامنے شکوا کرتا رہا
00:46اور پھر خاموش ہو گیا
00:47تھوڑی دیر گزری تھی کہ اچانک اس نے عجیب منظر دیکھا
00:51ایک بلی کہیں سے نمودار ہوئی
00:54اس نے زمین پر پھیلا ہوا دودھ چاٹنا شروع کر لیا
00:57جب وہ جانے کے لیے موڑی
00:59تو ایک دم لڑ کھڑائی اور زمین پر گر کر لوٹ پوٹ ہونے لگی
01:03وہ بھاگ کر پہنچا
01:05لیکن اس کے پہنچنے سے پہلے ہی بلی کی موت ہو گئی
01:08اسے صدمہ ہوا
01:10یقیناً انجانے میں دودھ میں کوئی محلک چیز شامل ہو گئی تھی
01:14اس نے کیتلی کو اندر سے دیکھا
01:16تو اس کے اندر ایک چھپ کلی مری پڑی تھی
01:19اسے خیال آیا
01:20کہ اگر یہ دودھ زمین پر نہ گرتا
01:22تو کیا ہو جاتا
01:24فوراں رب کی بڑائی کا اسے احساس ہوا
01:27ندامت کے آنسوں گرنے لگے
01:29وہ بیٹھے بیٹھے زمین پر سجداریز ہو گیا
01:32یا اللہ معاف کر دے کا ورد کرنے لگا
01:35وہ کہہ رہا تھا
01:36کہ یا رب تیرے ہر کام میں کوئی نہ کوئی مسلحت پوشیدہ ہوتی ہے
01:40ہم کتنے نادان ہیں
01:42کہ چھوٹے سے چھوٹے نقصان پر بھی تقدیر کا گلا کرنے لگتے ہیں
Comments