Skip to playerSkip to main content
  • 3 months ago
Sulih E Hudebia Aur Sorah Fath Ka Nazool - Seerat E Nabi

Category

📚
Learning
Transcript
00:00بسم الله الرحمن الرحيم
00:01السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
00:04ناظرین آج کی ویڈیو
00:06ایک اہم تاریخی واقعہ
00:07سلح خدیبیہ اور سورة فتح
00:09کے نزول پر مبنی ہے
00:11جو نہ صرف اسلامی تاریخ بلکہ
00:13امت مسلمان کی عظیم کامیابیوں
00:15میں سے ایک سنگمیل ہے
00:17اس معاہدے نے مسلمانوں کو دین اسلام
00:19کی دعوت و تبلیغ کے لیے
00:21ایک وسیع میدان فراہم کیا
00:23اور اس کے نتیجے میں اسلام کے نور
00:25نے پورے عرب سرزمین کو منور
00:27کر دیا آئیے ہم اللہ رب العزت
00:30کی حمد و سنہ کے ساتھ
00:31آغاز کرتے ہیں اور نبی کریم
00:33صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:35پر درود و سلام پیش کرتے ہیں
00:37اللہم صلی علی محمد
00:40وعلى آل محمد
00:41تو چلیے ناظرین اگرامی
00:43اس ایمان افروز سفر کا آغاز
00:45کرتے ہیں ناظرین حجرت کے
00:47چھتے سال ماہ زلقت کے آخری
00:49دنوں کی ایک پر نور رات تھی
00:51اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:54کفار مکہ کے ساتھ
00:55سلح حدیبیہ کے معاہدے کے بعد
00:58واپس مدینہ منورہ تشریف
01:00لے جا رہے تھے چودہ سو
01:02صحابہ قرآن رضوان اللہ علیہ
01:03اجمعین آپ کے ساتھ تھے
01:06جن کی اکثریت اس معاہدے سے
01:08خوشنات تھی لیکن اللہ کے
01:09نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
01:11کے فیصلے اللہ کے فیصلے
01:14تھے نگاہ رسالت صلی اللہ
01:15علیہ وآلہ وسلم نے اس کے
01:17دور رس نتائج کا مشاہدہ
01:20فرما لیا تھا اس کے باوجود
01:21آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
01:23کو اپنے رفقہ کی اداسی کی
01:25قیفیت کا بخوبی علم تھا
01:27ابھی یہ قافلہ مکہ مکرمہ سے
01:29چالیس کلومیٹر دور
01:31قرآن غنیم کے مقام پر پہنچا تھا
01:33کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ فتح
01:35کا نزل فرمایا اور اس کی
01:37ابتدا ہی اس آیت سے فرمائی
01:40اِنَّا فَتِحَنَا لَكَ فَتْحَمْ مُبِينَا
01:42یعنی بے شک
01:43اے نبی ہم نے آپ کو
01:45ایک کھلی فتح دی
01:47نظرین صلح حدیبیہ کو رب زلجلال
01:50نے فتح مبین سے تعبیر
01:51فرمایا اور پھر یہ صلح
01:53نہ صرف فتح مکہ کا پیش
01:55خیمہ ثابت ہوئی بلکہ اس کے
01:57دینی و دنیاوی سمرات و برکات
02:00نے مسلمانوں کو مالا مال
02:01کر دیا سورت کے نزول کے بعد
02:03رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
02:06نے تمام صحابہ قرآن
02:07رضوان اللہ علیہ وآجمعین کو
02:09جمع کیا خاص طور پر حضرت
02:11عمر کو بلایا کیونکہ وہ سب سے
02:13زیادہ رنجیدہ تھے پھر فرمایا
02:15آج رات مجھ پر جو صورت
02:17نازل ہوئی وہ مجھے دنیا و
02:19مافیا سے زیادہ محبوب ہے
02:21اور یہ سورہ فتح تھی جس میں
02:2329 آیات اور چار
02:25رکو ہیں یہ قرآن کی
02:2748 سورہ ہے حضرت
02:29عبداللہ بن مسعود حضرت جابر
02:32بن عبداللہ اور بعض
02:33دیگر صحابہ قرآن رضوان اللہ
02:35علیہ وآجمعین یہ فرمایا کرتے
02:37تھے کہ تم لوگ تو فتح
02:39مکہ کو فتح کہتے ہو اور ہم
02:41صلح خدیبیہی کو فتح
02:43سمجھتے ہیں حضرت برہ
02:45بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ
02:47نے فرمایا کہ تم لوگ تو فتح
02:49مکہ ہی کو فتح سمجھتے ہو
02:51اور کوئی شک نہیں کہ وہ فتح ہے
02:53لیکن ہم تو واقع خدیبیہ
02:55کے وقت بیت رضوان کو
02:57اصل فتح سمجھتے ہیں
02:59حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:01کو مکہ مکرمہ سے عجرت فرمائے
03:03چھ سال ہو چکے تھے
03:05ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:07نے خواب میں دیکھا
03:09کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:11اپنے صحابہ قرام کے ساتھ
03:13مکہ مکرمہ میں عمرہ ادا کر رہے ہیں
03:15عمرے سے فارغ ہو کر
03:17آپ بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے
03:19بیت اللہ کی چابی آپ
03:21صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:23کے دستہ مبارک میں ہے
03:24انبیاء کے خواب بھی وہی ہوتے ہیں
03:27صبح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:29نے اپنا خواب صحابہ قرام
03:31کو سنایا تو وہ سب فرد مسرت سے سرشار ہو کر فوراً ہی مکہ مکرمہ جانے
03:36کے لئے بے قرار ہو گئے اور زور و شور سے تیاری شروع کر دی حالانکہ حضور
03:42اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خواب میں کسی خاص مہینے یا سال کا ذکر
03:47نہیں تھا لیکن صحابہ اکرام کا جوش و خروش دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ
03:52وسلم بھی تیار ہو گئے مدینہ منورہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:57نے نمیلا بن عبداللہ علیسی رضی اللہ تعالی عنہ کو حاکم مقرر فرمایا
04:02آن حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یکم ذلقاد چھے ہجری بروز پیر
04:08روانگی کا دن مقرر فرمایا صبح ہی سے مہاجرین و انصار کی ایک بڑی تعداد
04:14مسجد نبوی کے باہر جمع ہو چکی تھی محدثین نے ان کی تعداد چودہ سو بیان
04:20کی ہے روانگی سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل
04:25فرمایا نیا لباس زیب تن کیا اور اپنی ناکہ قسوہ پر تشریف
04:30فرما ہوئے ام المومنین حضرت سلمہ سلام اللہ علیہ اس سفر میں آپ کے
04:36ساتھ تھیں مدینہ سے دس کلومیٹر کی مسافت پر ایک مقام ذل خلیفہ ہے جسے
04:42آج کل بیر علی کہتے ہیں یہاں سے آپ نے عمر کا احرام باندھا اس سفر
04:47میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قربانی کے ستر اونٹ بھی تھے جبکہ
04:53صحابہ کے پاس نیام کے اندر رکھی تلواروں کے سوا کسی قسم کا کوئی اور
04:58ہتھیار نہیں تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بشر بن
05:02صفیان کو پہلے مکہ مکرمہ روانہ کر دیا تاکہ وہ خفیہ طور پر کفار کے
05:08حالات کا مشاہدہ کر کے آپ کو اطلاع کریں مکہ مکرمہ میں آن حضرت
05:13صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ مکہ کے
05:18یہ روانہ ہونے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح فیل چکی تھی چنانچہ سب قبیلوں
05:24کے سردار سر جوڑ کر بیٹھے اور فیصلہ کیا کہ کسی بھی صورت مسلمانوں
05:29کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا اگر اس وقت یہ مکہ میں داخل ہو
05:34گئے تو پورے عرب میں یہ مشہور ہو جائے گا کہ مسلمان ہم پر غالب آ گئے
05:39اس طرح ہم پورے عرب میں کہیں مو دکھانے کے قابل نہ رہیں گے
05:43قریش کے لوگوں کے لیے زیقات کا مہینہ جنگ و جدل کے لیے حرام تھا
05:48لیکن اس کے باوجود ان سب نے عہد کیا کہ خواہ کتنی ہی خون ریزی ہو جائے
05:53لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا
05:59چنانچہ فوری طور پر اپنے سب سے بہادر جنگجو خالد بن ولید کو دو سو جنگجوؤں کا
06:05لشکر دے کر مکہ سے مدینہ جانے والی مرکزی شہرہ کے ایک مقام
06:10قرآن الغنیم پر تعینات کر دیا
06:13رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ سے دو دن کی مسافت پر ایک مقام
06:19اسفان پہنچے تو مخبر نے اطلاع دی کہ اہل مکہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ کے لیے
06:25پوری تیاری کے ساتھ مکہ سے باہر زید توا کے مقام پر منتظر ہیں
06:29جبکہ خالد بن ولید لشکر کے ساتھ قرآن الغنیم کے مقام پر مسلمانوں کا راستہ روکنے کے لیے موجود ہے
06:37اس اطلاع کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرکزی راستہ ترک کر کے
06:42گھاٹیوں کے درمیان سے گزرنے والا پر پیچ رستہ اختیار کیا
06:47اور اس گھاٹی پر پہنچے جس سے مکہ میں اترتے ہیں
06:51یہ جگہ خدیبیہ کے نام سے مشہور تھی
06:53جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلامی لشکر خدیبیہ پہنچے
06:58تو ناقع نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہاں آ کر بیٹھ کے سو گئی
07:03ہر چند لوگوں نے اسے اٹھانا چاہا لیکن وہ نہ اٹھی
07:06تو سب مسلمانوں کو تعجب ہوا اور انہوں نے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے استفسار کیا
07:13آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
07:16کہ اس کی ایسی عادت نہیں ہے جس ذات نے صحابہ فیل کے ہاتھوں کو روکا تھا
07:23اسی ذات نے اسے بھی بٹھا دیا ہے
07:25پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ قرآن سے فرمایا
07:29کہ ہم لوگ اسی جگہ قیام کریں گے
07:32صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:36یہاں تو پانی نہیں ہے
07:38لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
07:41کہ ہمیں اسی جگہ قیام کرنا ہے
07:43تعمیل ارشاد میں لشکر کے تمام افراد نے اسی جگہ قیام کیا
07:48حضرت برا بن عازب بیان کرتے ہیں
07:51کہ غزوہ حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ
07:56ایک ہزار چار سو یا اس سے بھی زیادہ تعداد میں لوگ تھے
08:01خدیبیہ کے مقام پر ایک کوئے کے قریب پڑاؤ کا حکم ہوا
08:05کوئے میں بہت تھوڑا پانی تھا
08:07جسے لشکر کے لوگوں نے کھینچ لیا
08:09یہاں تک کہ کوئں بالکل خوشک ہو گیا
08:11صحابہ رضوان اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے
08:18اور پانی نہ ہونے کی اطلاع دی
08:20حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے ساتھ کوئے پر تشریف لائے
08:25اور اس کی منڈیر پر بیٹھ گئے
08:27پھر فرمایا کہ ایک ڈول میں اسی کوئے کا پانی لاؤ
08:30آپ کی خدمت میں پانی پیش کیا گیا
08:33آپ نے اس پانی سے وضو فرمایا
08:35اور کوئے میں کلی کر دی
08:37پھر دعا کر کے فرمایا
08:38کہ کوئے کو تھوڑی دیر کے لیے یوں ہی رہنے دو
08:42کچھ دیر بعد کوئے میں اس قدر زیادہ مقدار میں پانی آ گیا
08:45کہ سارا لشکر خود بھی سہراب ہوتا رہا
08:49اور اپنی سواریوں کو بھی خوب پلاتا رہا
08:52صحیح بخاری کی دوسری حدیث میں حضرت مخرمہ رضی اللہ تعالی عنہو
08:57اور حضرت مروان سے روایت ہے
08:59کہ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
09:03اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر دیا
09:06کہ اسے اس میں گاڑ دیں
09:08تیر گاڑتے ہی پانی ابلنے لگا
09:11اور لشکر کے تمام لوگ پوری طرح سہراب ہو گئے
09:14ناظرین حدیبیہ کے مقام پر اہل مکہ سے بات چیت کا یہ سلسلہ شروع ہوا
09:19سب سے پہلے قبیلہ بنو خزاع کا سردار بدل بن ورقہ
09:24جو بعد میں مسلمان ہو گئے تھے
09:26وہ اپنے قبیلے کے چند افراد کے ساتھ ملنے آیا
09:29آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بتایا
09:32کہ ہم یہاں صرف عمرے کی غرص سے آئے ہیں
09:35ہم کسی سے لڑنے کے لیے نہیں آئے
09:37بدل نے آن حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ پیغام
09:41سرداران قریش تک پہنچا دیا
09:43لیکن کفار اپنی زد پر اڑے رہے
09:45پھر انہوں نے احابیش قبائل کے سردار حلیس بن القمہ
09:50کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا
09:53اس نے جب یہ دیکھا کہ پورا لشکر احرام باندھے ہوئے ہیں
09:56اور قربانی کے اونٹ ساتھ ہیں
09:58تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی بات کیے بغیر واپس چلا گیا
10:03اور سرداران قریش کو بتایا
10:05کہ مسلمان زیارت کی نیت سے آئے ہیں
10:08میں خود اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ کر آیا ہوں
10:11انہیں زیارت سے نہ رکو
10:13سرداران قریش زدی خودسر اور متکبر لوگ تھے
10:17اس مرتبہ انہوں نے مشہور سردار عروہ بن مسعود سقفی کو
10:22آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا
10:25عروہ ایک نہایت زیرک سمجھدار اور جہان دیدہ شخص تھا
10:30وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو کے دوران
10:34گرد و پیش کا جائزہ بھی لے رہا تھا
10:36آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بھی وہی بات کی
10:40کہ ہم عمرہ ادا کر کے واپس چلے جائیں گے
10:43عروہ واپس مکہ پہنچا اور قریش کے سرداروں سے کہا
10:47کہ میں قیسر و قسرہ اور نجاشی کے درباروں میں بھی گیا ہوں
10:51مگر خدا کی قسم میں نے
10:53اسحاب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
10:57جس طرح محمد کا فدائی دیکھا ہے
10:59ایسا منظر کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کے یہاں بھی نہیں دیکھا
11:04ان لوگوں کا حال تو یہ ہے
11:06کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کرتے ہیں
11:09تو ان کے اسحاب پانی کا ایک قطرہ تک زمین پر گرنے نہیں دیتے
11:14اور سب اپنے جسم اور کپڑوں پر مل لیتے ہیں
11:17اب تم لوگ خودی سوچ لو کہ تمہارا مقابلہ کن لوگوں سے ہے
11:21گفت و شنید کا سلسلہ چلتا رہا
11:23قریش مسلمانوں کو اشتعال دلانے کے لیے
11:26چھاپا مار کاروائیاں کرتے رہے
11:29لیکن ہر مرتبہ صحابہ کے صبر و تحمل
11:32اور حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت و فراست نے
11:36ان کی ساری تدبیروں کو ناکام بنا دیا
11:40اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مناسب سمجھا
11:44کہ اپنے کسی نمائندے کو مکہ بھیجا جائے
11:46تاکہ وہ مسلمانوں کے موقف کی وضاحت کر سکے
11:50اس مقصد کے لیے پہلے حضرت عمر کو بلائیا گیا
11:53لیکن پھر ان کی درخواست پر یہ اہم ذمہ داری
11:56حضرت عثمان بن افہان کو سونپی گئی
11:59حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے تین رات مکہ میں قیام کیا
12:04اور رعوسہ قریش کو رضا مند کرنے کی کوشش کرتے رہے
12:08اسی دوران قریش نے رازداری کے ساتھ پچاس تیر انداز
12:12اس کام پر لگائے
12:13کہ کسی وقت خاموشی کے ساتھ
12:16معز اللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قصہ تمام کر دیں
12:20لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت پر معامور
12:25حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے
12:28کمال بہادری سے ان سب کو گرفتار کر کے
12:32آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا
12:36قریش کو جب اپنے تیر اندازوں کی گرفتاری کا علم ہوا
12:39تو انہوں نے حضرت عثمان کو مکہ میں روک لیا
12:42اس کے ساتھ ہی کفار کے تیر اندازوں کی ایک جماعت نے
12:46مسلمانوں کے لشکر پر تیر برسانے شروع کر دیئے
12:50جس سے ایک صحابی حضرت ابن زینم رضی اللہ تعالی عنہ شہید ہو گئے
12:55اس کے ساتھ یہ خبر بھی عام ہو گئی
12:57کہ حضرت عثمان کو شہید کر دیا گیا ہے
13:00حضرت عثمان بن عفان کی شہادت کی خبر نے
13:03آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سخت رنجیدہ خاطر کر دیا
13:07آپ نے فرمایا کہ ہم جب تک عثمان کی شہادت کا بدلہ نہ لیں
13:12اس جگہ سے واپس نہیں جائیں گے
13:14آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک درخت کے نیچے سب کو جمع کر لیا
13:19اور تمام صحابہ سے جان ساری کی بیعت لی
13:23حضرت عثمان کی بیعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
13:27اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر کر لی
13:30لیکن اسی حسنا میں حضرت عثمان بھی آ گئے
13:33اور انہوں نے بھی بیعت کی
13:35یہ بیعت تاریخ میں بیعت رزوان کے نام سے مشہور ہے
13:39جس کے بارے میں اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا
13:43اللہ مومنین سے راضی ہوا جبکہ وہ آپ سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے
13:49بیعت کی اس خبر نے کفار مکہ کے احسان خطا کر دیئے
13:52انہوں نے سہیل بن عمرو کو چند تجاویز کے ساتھ دوبارہ بھیجا
13:57سہیل کے ساتھ طویل گفت و شنید کے بعد
14:00آن حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش کی تجاویز کو تسلیم کر لیا
14:05اور حضرت علی سے فرمایا کہ معاہدہ تحریر کریں
14:09حضرت علی علیہ السلام نے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھ کر
14:13معاہدے کی شروعات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام سے کی
14:19سہیل نے ان دونوں الفاظ پر شدید اعتراض کیا
14:22چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مولا علی سے فرمایا
14:27کہ یہ دونوں مٹا دیں
14:28لیکن بے عدبی کے پیش نظر حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم نے مٹانے میں تعمل کیا
14:34چنانچہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
14:37اپنے دستہ مبارک سے بسم اللہ کی جگہ بسمک اللہ اور محمد بن عبداللہ تحریر فرمایا
14:44سلے نامے کے شرائط یہ تھے
14:46نمبر ایک
14:47مسلمان واپس جائیں
14:48اگلے سال آئیں
14:49اور صرف تین دن قیام کریں
14:51صرف تلواریں ساتھ لائیں
14:53وہ بھی نیام میں ہوں
14:54نمبر دو
14:55مکہ سے کوئی شخص مدینہ گیا
14:57تو واپس کر دیا جائے گا
14:59لیکن اگر کوئی مسلمان مکہ جائے گا
15:01تو وہ واپس نہیں کیا جائے گا
15:03نمبر تین
15:04قبائل عرب کو یہ اختیار ہوگا
15:06کہ وہ فریقین میں سے جس کے ساتھ چاہیں اتحاد کر لیں
15:10نمبر چار
15:11سلے نامے کی مدت دس سال ہوگی
15:14اس عرصے میں دونوں جانب مکمل امن و امان ہوگا
15:17کوئی کسی پر ہاتھ نہ اٹھائے گا
15:19ناظرین ابھی معاہدہ تحریر ہی کیا جا رہا تھا
15:22کہ قریش کے نمائندے سحیل بن عمرو کے مسلمان بیٹے
15:26حضرت ابو جندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ
15:29لہو لہان حالت میں پاؤں کی بیڑیاں گھسیٹتے ہوئے چلے آئے
15:33وہ کفار کی قید سے فرار ہو کر
15:35زخموں سے چور یہاں پہنچے تھے
15:38شقی القلب باپ نے جب بیٹے کو دیکھا
15:41تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا
15:44یہ ہمارا قیدی ہے
15:45اسے ہمارے حوالے کریں
15:47آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
15:50کہ سحیل ابھی تو معاہدے پر دستخط بھی نہیں ہوئے
15:53لیکن وہ اپنی زد پر اڑ گیا اور کہا
15:56کہ اگر اسے واپس نہیں کروگے تو معاہدہ نہیں ہوگا
15:59حضرت ابو جندل نے جب یہ دیکھا
16:02تو التجا کی کہ قریش نے مجھے نیم مردہ کر دیا ہے
16:06اب یہ لوگ مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے
16:08کیا تم اپنے بھائی کو ان قاتلوں کے حوالے کرنے پر تیار ہو
16:12ابو جندل کے ان الفاظ نے جلتی پر تیل کا کام کیا
16:15اور صحابہ کو تڑپا کر رکھ دیا
16:17حضرت عمر فاروق کے زبد کے بندھن ٹوٹ کے
16:20حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر عرض کیا
16:24کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:27کیا ہم حق پر نہیں ہیں
16:29آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
16:31بے شک ہم حق پر ہیں
16:33حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہو
16:35پھر حضرت ابو بکر کے پاس پہنچے
16:38انہوں نے فرمایا کہ
16:39اے عمر حضور خدا کے پیغمبر ہیں
16:41ان کا ہر عمل اللہ کے حکم سے ہے
16:44اور ہم سب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہر حکم کے تابع ہیں
16:50حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بار پھر سویل سے فرمایا
16:54کہ تم ابو جندل کو میرے خاطر چھوڑ دو لیکن اسلام دشمنی خونی رشتے پر غالب آ چکی تھی
17:01کہا یہ اب میرا بیٹا نہیں بلکہ ہمارا دشمن قیدی ہے
17:04وہ بڑے سبر آسماء لمحات تھے
17:07صحابہ قرآن رضوان اللہ علیہ وآجمعین کو
17:10اپنے بپھر جذبات قابو میں رکھنا بڑا دشوار تھا
17:14ایسے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
17:17ابو جندل رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس تشریف لے گئے
17:21اور شفقت و محبت بھرے لہجے میں فرمایا
17:23اے ابو جندل اس وقت تم سبر سے کام لو
17:26اللہ بہت جلد تم مظلوموں کے لئے کوئی راہ نکالے گا
17:30سحیل بن عمرو نے بیٹے کی زنجیر پکڑی
17:34اور اسے گھسیڑتا ہوا واپس لے گیا
17:37آن حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا
17:41کہ سب جانور زباہ کر کے حلق کروا لیں اور احرام کھول لیں
17:45آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم تین مرتبہ دھورایا
17:50لیکن دل شکستہ لوگ اپنی جگہ بیٹھے رہے
17:52حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خیمے میں آئے
17:56اور حضرت امی سلمہ سے اس بات کا ذکر کیا
18:00انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:04آپ اپنی قربانی اور حلق کروا کر احرام کھول لیں
18:08آپ باہر تشریف لے گئے
18:09اور خاموشی کے ساتھ اپنی قربانی کی حجام سے سر منڈوایا
18:14اور غسل فرمایا احرام اتار دیا
18:16اب صحابہ کو یقین ہو گیا
18:18کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم یہی ہے
18:22چنانچہ سب نے ایسا ہی کیا
18:23سلح حدیبیہ دراصل وہ عظیم فتح تھی
18:27کہ جس کے بعد کفار قریش نے مسلمانوں کی حیثیت کو تسلیم کیا
18:31مکہ اور مدینہ کے درمیان آمد و رفت اور تجارت کو فروغ ملا
18:36اسلام نہایت تیزی سے پھیلا
18:38اور فتح مکہ تک مسلمانوں کی تعداد دس ہزار سے کہیں زیادہ ہو گئی
18:43مسلمانوں کے لیے زیارت بیت اللہ کے حق کو تسلیم کیا گیا
18:47جنگ بندی سے مسلمانوں کو امن میسر آیا
18:50عرب نے اسلام تیزی سے پھیلا
18:52غیر ملکی بادشاہوں کو خطوط لکھ کر دین کی دعوت دی گئی
18:56سلح حدیبیہ کے صرف تین ماہ بعد ہی یہودیوں کا سب سے بڑا گڑھ خیبر فتح کیا گیا
19:03یہودیوں کی دیگر بستیاں فدق وادی قررہ اور تیما مسلمانوں کے زیر نگی آ گئیں
19:10پورے عرب میں طاقت کا توازن مسلمانوں کی حق میں ہو گیا
19:14خیبر کی فتح میں مسلمانوں کو جس بڑی تعداد میں مال و دولت ہاتھ آیا
19:19اس نے ان کی مادی قوت کو بہت زیادہ مستحکم کر دیا
19:23اور پھر بہت جلد قریش نے معاہدہ توڑ ڈالا
19:26اور صرف بیس ماہ بعد ہی فتح مکہ ہو گیا
19:30اور بیت اللہ شریف کی چابی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک میں تھی
19:36جبکہ غرور و تکبر کے پیکر سرداران قریش
19:39سر جھکائے بیچارگی اور بیبسی کی تصویر بنے
19:43اپنی قسمت کے فیصلے کے منتظر تھے
19:45سب کو اپنے بیانک انجام کی خبر تھی
19:48ایسے میں اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح پرور آواز نے مکہ کی فضاؤں کو مہکا دیا
19:56فرمایا آج میں تم سے وہی بات کرتا ہوں
20:00جو حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کی تھی
20:04یعنی آج تم پر کوئی گرفت نہیں
20:06جاؤ تم سب آزاد ہو
20:09سبحان اللہ
20:10دوستو ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری آج کی یہ ویڈیو آپ کو ضرور پسند آئی ہوگی
20:16اگر ویڈیو پسند آئی ہو تو اپنے دوستو احباب کے ساتھ
20:20اس ویڈیو کو شیئر ضرور کر دیں
20:22اللہ پاک آپ کا ہمارا ہم سب کا حامی و ناصر ہو
20:26آمین
20:27فی امان اللہ
20:28السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Comments

Recommended