00:00جنابِ احمد ندیم قاسمی کی ایک مشہور غسل
00:03کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
00:09میں تو دریاں ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
00:16تیرے پہلو سے جو اٹھوں گا تو مشکل یہ ہے
00:20صرف ایک شخص کو پاؤں گا جدھر جاؤں گا
00:26اب تیرے شہر میں آؤں گا مسافر کی طرح
00:30سایہِ عبر کی مانند گزر جاؤں گا
00:35تیرا پیمانِ وفا راہ کی دیوار بنا
00:40ورنہ سوچا تھا کہ جب چاؤں گا مر جاؤں گا
00:46چارہ سازوں سے الگ ہے میرا میار کہ میں
00:50زخم کھاؤں گا تو کچھ اور سمر جاؤں گا
00:56اب تو خرشید کو ڈوبے ہوئے صدیاں گزریں
01:01اب اسے ڈھوننے میں تابہ سہر جاؤں گا
01:07اور مختا
01:09زندگی شمہ کی مانند جلاتا ہوں نتیم
01:15بش تو جاؤں گا
01:18بگر صبح تو کر جاؤں گا
Comments