00:00ہسنے والی بات ہے کہ میرے ہی آفس میں میرا ہی چیک تے چیک کر دیا جاتا ہے
00:05جب تک میں یہاں بیٹھے ہوں نا سب کچھ میری مرضی سے اکھا
00:08ایک دفعہ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ محبت جیسے جذبے پر ایکی نہیں ہے مجھے یہی وجہ تھی
00:14کس عظیم انسان نے دیا آپ کو یہ انسٹرکشن
00:16سر وہ میس پنیز زین ہے
00:20اری تم یہ کیس کا پائپ کیوں نکال رہی ہو
00:23چھوڑنے سے ہمیشہ نقصان عورت کا ہوتا ہے
00:26فریدہ بیگم تو علیزہ کو صرف گھر سے نکالنا چاہتی تھی
00:37لیکن یہاں پر تو عریشہ اس کی جان ہی لینا چاہتی ہے
00:40عریشہ ایک دن کچن میں آ کر گیس کا وال کھول دے گی
00:43تاکہ علیزہ جیسے ہی کچن میں آئے اور وہ جل کر مر جائے
00:46لیکن فریدہ اس کو یہ سب کرتا دیکھ لے گی
00:48اور وہ عریشہ کو روکے گی کہ وہ یہ سب نہ کرے
00:51کچن میں کوئی اور بھی آ سکتا کسی اور کی جان بھی جا سکتی ہے
00:54لیکن عریشہ اس کو بولے گی
00:56کہ ہم لوگ کسی اور کو بھی یہاں پر نہیں آنے دیں گے
00:58جبکہ دوسری جانب حمزہ جب علیزہ سے اس کے ماضی کے بارے میں پوچھے گا
01:02تو علیزہ اس کو بتا دے گی کہ کیسے وہ اس کو بتانا چاہتی تھی
01:05اور اس نے خود ہی اس کو منع کیا تھا
Comments