00:00کہانیے بھی ختم ہوں کیونکہ کھیل بہت لمبا ہے
00:03حمزہ اور سکندر کلوس نے آمنے سامنے نہ کھڑا کیا
00:07وہ کھیل کھیل رہی ہیں حمزہ کے دماغ سے
00:09سوچھ حادثے ایسے ہوتے ہیں کہ
00:11تھائی زندگی کے لیے نا آپ کے تل اور دماغ پر نقش ہو جاتے ہیں
00:15آج کے بعد
00:16میری پرمیشن کے بغیر کسی کا چیک کیش نہیں مکھا
00:19آنٹی نے مجھے گم کی دیا
00:21وہ کہہ رہی تھی وہ مجھے گھر سے نکال دیں کی
00:23کون ہو تو بھی
00:24مجھے دیمت کہلے
00:26چیز ہو یار تم دیکھنے میں ایک تم ہوا سو
00:29دیکھو تم
00:30اور اندر سے ایک تم صفا
00:32تمہاری وجہ سے کسی لڑکی کو اپنی جان نہیں لینے تو
00:34علیزہ نے سکندر کا مقام اس گھر میں بلکل ختم کر دیا ہے
00:38اب تو حمزہ اور اس کا باپ سکندر کو ایک بیکار انسان سمجھنے لگ پڑے ہیں
00:42کیونکہ سکندر کی وجہ سے ان کو آفس میں بھی کافی نقصان ہو چکا ہے
00:45اور گھر میں بھی سکندر عجیب و غریب قسم کی حرکتیں کرتا رہتا ہے
00:54اور وہاں پر علیزہ دور کھڑی اس کا تماشا دیکھ رہی ہے
00:57کہ کیسے اس نے انوشے کو تڑپایا تھا
00:59اور اب وہ خود تڑپ رہا ہے
01:00اور سب لوگوں کو اپنی باتوں کا یقین دلانے کی کوشش کرتا
01:03لیکن کوئی بھی اس کی بات پر یقین نہیں کرتا
01:05ساتھی جلدی علیزہ اس کو آفس سے بھی نکلوا دے گی
Comments