00:00As-salamu alaykum nāzirīn
00:02आप देख रहे हैं
00:04। ड्रामा सीरिस शिराकत
00:06जिसकी आने वाली एपिसोड
00:07बहुत आने वाली है
00:09इंटरस्टिंग आप देखेंगे
00:11कि बिल आखर माहम अपने इंजाम
00:13को पहुंची गई और जो उसने
00:15दूसरों के साथ किया
00:17बिलाखर उसी के साथ
00:18भी वही हुआ ये सब कुछ जानने
00:21से पहले अगर आप
00:22मेरे चैनल पर नहीं हैं तो प्लीज
00:24मेरे चैनल को लाइक शिर और सब्सक्राइब
00:27करें आप ने देखा
00:29कि जरूर ने उसे दे दी है
00:30तलाक और उसे अपने घर से
00:32निकाल देता है और जब उसे घर से
00:34वो निकाल देता है तो
00:36माहाम को उसकी माँ और उसका
00:38बाई घर लेकर आ जाते हैं लेकिन
00:40जब वो घर आती है तो वो ही
00:42वो पागलों वाली बाते करती रहती
00:44और कहती है कि तुम लोग मुझे
00:46کیوں اپنے گھر لے کر آئے ہو میں اپنے گھر میں ہی رہوں گی وہ میرا
00:50گھر ہے وہ شفق کا گھر نہیں ہے اس پر اس کی ماں اسے سمجھاتی ہے
00:54کہ بیٹا پاگل مت بنو تم جانتی ہو کہ اب تمہارا اس گھر میں کوئی
00:59تعلق نہیں ہے تمہیں ذارون نے اپنی زندگی سے نکال دیا اور مجھے
01:03کہہ دیا ہے کہ میں تمہیں لے جاؤں تو اب میں کیا کروں اگر وہاں
01:07سے تمہیں میں واپس نہیں لاتی تو تم کیا کرتی تم کہاں جاتی تو
01:11اس پر وہ کہتی ہے کہ نہیں میں نے ادھر نہیں رہنا میں نے ذارون
01:15ہی کے گھر جانا ہے ابھی یہی باتیں کر رہی ہوتی ہے تو وہ بھاگ
01:18کر اپنے کمرے میں چلی جاتی اور اندر سے کنڈی لگا لیتی ہے اور
01:22یہ باہر ماہم کی ماں اور اس کا بھائی بیٹھ کے باتیں کرنا شروع
01:26جاتے ہیں اور وہ کہتی ہے اس کی ماں بیٹا میں کیا کروں میں جب اپنی
01:29بیٹی کو دیکھتی ہوں تو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے کیونکہ اسے تو دنیا
01:33میں ہی اللہ تعالیٰ نے سزا دے دی ہے تم جانتے ہو نا کہ اس نے پتہ
01:37نہیں کسے کے ساتھ برا کیا یا نہیں اس کے ساتھ کتنا برا ہو
01:40رہا ہے کوئی اور یہ چیز برداشت نہیں کرتی کہ اس کا گھر اس سے
01:44چھن جائے اس پر آگے سے رمیز کہتا ہے کہ امی آپ جانتی ہے نا کہ
01:49باجی نے جو ہم سب کے ساتھ کیا اس کی سزا تو انہیں ملنی تھی یہی
01:53ابھی باتیں کر رہی ہوتی ہیں تو کافی دیر گزر جاتی ہے اور اس کی ماں
01:56اپنے بیٹے کو کہتی ہے رمیز بیٹا تمہاری بہن کی آواز نہیں آ رہی
02:00میں شاید وہ اندر سو تو نہیں گئی میں جا کر دیکھو ادھر آپ
02:04دیکھیں گے جا کر وہ دروازہ نوک کرتی ہے تو وہ آگے سے دروازہ
02:07نہیں کھولتی لیکن اس کی ماں بہت کوشش کرنے کا پاوجود جب دروازہ
02:11کھولتی ہے تو دیکھتی ہے کہ آگے کیا ہو رہا وہ تو حیران رہ جاتی
02:14ہے جیسے کہ اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین ہی نکل جاتی ہے جب وہ
02:18اپنی بیٹی کو اس حالت میں دیکھتی ہے تو اس کا تو جیسے سینہ ہی
02:22دل ہی بھٹ جاتا ہے وہ کہتی ہے کہ یہ کیا ہوگی وہ زور سے چیخیں
02:26مارنا شروع کر دیتی ہے اور ماہم کے پاس آ جاتی ہے اور کہتی
02:29ہے کہ ماہم بیٹا یہ تم کیا کری ہو تم کیا پاگل ہو گئی ہو کیوں
02:33نہیں تم میری سنتی لیکن ماہم تو بلکل اب کسی کی نہیں سنتی جیسے
02:37کہ وہ ستے میں آ چکی ہوتی ہے اور وہ اپنا زینی توازن بھی
02:40کھو بیٹھتی ہے ابھی یہی چیخیں جب اس کی ماہم آرتی ہے تو تو نیچے
02:43سے زارہ اور رمیز باگ کر آتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ کیا
02:47ہو گیا ہے میز جب وہ دیکھتے ہیں ماہم کا خال تو وہ بھی حیران
02:50ہو کر رہ جاتے ہیں کہتے ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے ماہم نے
02:53کینچو اٹھائی ہو ہی ہوتی اور اپنے سالے بال کٹنگ کر رہی ہوتی
02:56ہے جس کی وجہ سے سب لاکھ کوشش کرنے کا باوجود بھی وہ نہیں
03:00رکتی تو اس پر زارہ کہتی ہے کہ انٹی پیچھے ہو جائے مجھے لگتا
03:04ہے کہ بابی نے اپنا ذہنی توازن کھو دیا ہے اب یہ ہم جو مرضی
03:07کہتے رہیں گے یہ ہماری نہیں بانے کہ اب ہم کیا کرے تو اس کی
03:10ماہ کہتی ہے کہ بس کرو زارہ ایسی باتیں تم کیا ہو کر رہی ہو
03:14میری بیٹی ایسی نہیں ہو سکتی میری بیٹی کبھی ایسا کر ہی نہیں
03:17سکتی وہ پاگل نہیں ہے تم کیوں اسے پاگل کہہ رہی ہو وہ
03:19رمیز کہتا ہے کہ امی ٹھیک کہہ رہی ہے زارہ پیچھے ہو جائے میں
03:23ڈاکٹر کو کال کرتا ہوں کہ اسے انہیں لے کر شاید ہسپیٹل
03:27جانا پر ہے ادھر آپ دیکھیں گے کہ جب ڈاکٹر کو کال کر دیتا ہے
03:30اور اسے ہسپیٹل لے کر جاتے ہیں تو ڈاکٹر جیکپ کے کرنے کے بعد
03:33یہ چیز بتاتے ہیں کہ یہ شاید اپنا ذہنی توازن کھو رہی ہے اسے
03:37پچھلی باتیں بوڑی ہیں بس ایک ہی بات اسے یاد ہے کہ میں نے
03:40زارون کے گھر جانا اور شفق کو مہا نہیں لینے دی رہا ہے اس پر وہ
03:43ڈاکٹر سے پوچھتا ہے یہ کون ہے تو وہ بتاتی ہے کہ یہ اس کا
03:47محیات اور اسے اسے طلاق دے دی اور یہ شفق اس کی سوتن ہے جس
03:50کی وجہ سے اس کا یہ حال ہوا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اسی کی
03:53وجہ سے اب ان کا ذہنی توازن خراب ہو رہا ہے لگتا نہیں ہے کہ اب
03:56یہ دوبارہ کبھی ان کا ذہنی توازن ٹھیک ہو سکے یہی عرکتہ
03:59کرنے کرنے پر ڈاکٹر ماسومہ کو اصلاح دیتا ہے کہ میں تو یہ
04:04ہی کہوں گا کہ انہیں کچھ دنوں کے لئے آپ منٹل ہسپیٹل میں
04:06داخل کروا دے شاید وہاں پر رہے تو ان کی منٹل کنڈیشن صحیح
04:10ہو جائے پہلے تو بہت سوچی تھی ہے سوچنے کے بعد پھر سے
04:13ماسومہ کہتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب آپ کو جو بہتر رکھتا ہے وہ
04:16ہی کریں میری بیٹی کو ٹھیک ہو جانا چاکہ میں اپنی بیٹی کو اس
04:19حال میں نہیں دیکھ سکتی ادھر ادھر آپ دیکھیں یہ بھی دیکھیں گے کہ
04:22ماہم کو ہسپیٹل میں داخل کروا دیا جاتا اور وہاں سے محصومہ
04:26گھر آ جاتی ہے رونے شید ہوتی تھی ہے دوسرے دن جب ہزارہ اپنی
04:30ماں کے گھر جاتی ہے تو اسے وہ سارہ بتاتی ہے تو اس کے ماں
04:32پریشان ہو جاتی ہے اور کہتی ہے کہ نہیں بیٹا میں کبھی بھی نہیں
04:35چاہتی تھی کہ ماہم کے ساتھ ایسا ہو کیونکہ جو بھی ہو وہ ہے
04:39تو میری بہو تھی نا تو اس پر وہ آگے سے ہزارہ بولتی ہے کہ ہمیں
04:42آپ تو ٹھیک ہے نہیں لیکن ماہم باب نے جو ہم سب کے ساتھ کی ہزارہ اور
04:46آپ پھر بھی ابھی اسے کسائیڈ لے رہے ہیں تو وہ کہتی ہے کہ
04:48نہیں میں تو یہی چاہوں گی کہ ذارون ایک دفعہ جائے اس سے ملے شاید
04:51اس کی منٹل کی کنڈیشن ٹھیک ہو جائے تو اس پر وہ کہتی ہے کہ
04:55نہیں میں تو یہی چاہوں گی کہ کہ اگر انہیں سب کے ساتھ برا کیا ہے
04:58تو اللہ تعالیٰاج انہیں خود ہی اس چیز کے سزا دے رہے ہیں تو اس
05:01پر وہ رونا شروع ہوجاتی ہی کہتی ہے کہ بیٹا بس کر ابھی یہی
05:04foreign
05:34foreign
06:04. . . . . . . . . . . .
06:34I'll see you next time.
Comments