Skip to playerSkip to main content
  • 6 months ago
Tiktok

Category

😹
Fun
Transcript
00:00ایڈین سی میں ہوں آکاش سیاسی
00:02زیلہ گجرات میں دیکھا گیا ہے کہ ٹرین ہاں ساتھ بھی اکثر پیش آتے رہتے ہیں
00:06حاصل پر جب سے ٹک ٹاک آئی ہے تو ٹک ٹاک بناتے ہوئے
00:10نو جوان جو ہیں ٹرینوں کے ساتھ اکثر جو ہے ویڈیوز بنانے کی کوشش کرتے ہیں
00:15جس کے باعث اکثر وہ ٹرین کی ازاد میں آ کر
00:18یا تو زہمی ہو جاتے ہیں مگر اکثر اپنی زندگی کی باز ہی ہار جاتے ہیں
00:23اپنی زندگی جرات کے علاقہ سروس مورٹ کے قریب سائن راجہ پھاٹک پر موجود ہیں
00:27سائن راجہ پھاٹک وہ پھاٹک ہے کہ جہاں پر دیکھا گیا ہے
00:31کہ اکثر یہاں پر جو ہیں بہت زیادہ خاص ساتھ پیش آتے ہیں
00:35وہاں کو بتاتے چلیں کہ آپ دیکھ سکتے ہیں
00:37کہ اس وقت پھاٹک بند کرنے کی پیاریاں بھی شروع ہو رہی ہیں
00:41سیٹیاں بچنی شروع ہو گئی ہیں
00:42مگر دیکھا جاتا ہے کہ جب ٹریفک کا پھاٹک بند بھی کر دیا جاتا ہے
00:46اس کے باوجود جو گرد و نوہ کے علاقے ہوتے ہیں
00:49وہاں سے لوگ گزرنے کی کوشش کرتے ہیں
00:52جس کے باعث یہاں بھی آپ دے سکتے ہیں
00:54کہ کچھ ہاردار تارے یہ لگائی گئی ہیں
00:57کہ تاکہ لوگ یہاں سے نہ گزر سکیں
00:59اس سائٹ پر بھی ہم آپ کے مارکمنا کو دکھائیں گے
01:02کہ آپ دیکھیں پہلے لوگوں کو دیکھا جاتا تھا
01:04جب پھاٹک بند کیا جاتا تھا
01:06تو یہاں پر بھی لوگ اکثر یہاں سے گزرتے تھے
01:09جس کے باعث کئی بار
01:10وہ ٹرین کی ازاد میں بھی آ جاتے تھے
01:12مگر ٹرین کی حوالہ سے دیکھا گئے
01:14کہ زلہ گجرات میں زیادہ تر افراد
01:16یہ بھی دیکھا گیا ہے
01:18کہ یہاں پر جب بیٹھی ہوتے ہیں نوجوان
01:21جس میں کچھ سالت علم بھی شامل ہیں
01:23تو وہ اس قدر مگن ہوتے ہیں
01:25اپنی ٹک ٹاک پر فیس بک پر
01:27یا موبائل میں
01:28کہ اچانک انہیں ٹرین آنے کا پتہ ہی نہیں چلتا
01:31اور اس وقت پتہ چلتا ہے
01:32جب ٹرین جو ہے ان کے سر پر آ جاتی ہے
01:35اور اس کے باعث وہ زنگی کی بازی بھی خار جاتے ہیں
01:37اس حصہ میں جو
01:39یہاں کی پولیس ہے
01:40اور یہاں کی جو انتظامی ہے اس کی جانب سے
01:42کہ اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں
01:44یہاں پر ریسکیو وامن ٹوٹاک دفتر بھی اس کے قریب ہے
01:47اور کئی دفعہ یہ بھی دیکھا ہے
01:48کہ لوگ جو اپنے زنگی کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں
01:51وہ بھی سائن راجہ پھاٹک کا ہی انتہاب کرتے ہیں
01:54بڑی بڑی دور سے آ کر یہاں پر جو ہے
01:56وہ ٹرین کے نیچے لیٹ جاتے ہیں
01:58اور تب پتہ چلتا ہے
01:59کہ جب ان کی گردن کٹ جاتی ہے
02:01یا جسم کے ٹکڑے ہو جاتے ہیں
02:03مگر لوگوں کی زنگیہ بچانے کے لئے
02:06کچھ بیگتر اقزامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں
02:07مگر کیونکہ یہ جو ٹریفک کا نظام ہے
02:10یہاں پر خاص طور پر
02:11سائن راجہ پھاٹک
02:12یہاں پر جو ہے
02:13اوور ہیڈ بریج جو ہے
02:14اس کی بنانے کی بھی
02:16تمام تر تیاریاں جو ہیں
02:17مکمل کی جاری ہی
02:18ہم آپ کو دکھاتے ہیں
02:19کہ دوسری سائٹ پر
02:20اوور ہیڈ بریج جو ہے
02:21اس کی تعمیر
02:22اب جو ہے
02:23اس کا کام بھی کافی تیزی کے ساتھ
02:25اب شروع کر دیا گیا ہے
02:26جو کہ اب
02:27بتایا جارہا ہے
02:28کہ اس سال کے تتام تک
02:29اس کو مکمل کر لیا جائے گا
02:31جس کے باعث
02:32یہاں جو حاصات پیش آتے ہیں
02:33جو سے گاڑیاں گزرتی ہیں
02:34وہ اوپر سے گاڑیاں گزرا کریں گی
02:36جس کے باعث
02:37ایسے حاصات کی روک تھام کو
02:39یقینی بنایا جا سکے گا
02:41ایڈین سے میں ہوں آکا شنیل
Comments