Skip to playerSkip to main content
#Pakistan #PakistaniPolitics #PTI
Post-Arrest Bail: Supreme Court to Hear Imran Khan’s Appeal against LHC Order Today || Imran Riaz Khan Exclusive

#Pakistan #PakistaniPolitics #PTI #ImranKhan #Establishment #Political #Economy #Crisis #imranriazkhan #imrankhanpti #imrankhanyoutubechannel #imrankhan #news #pakistan #currentaffairs #supremecourt #ptijalsa #SupremeCourt #imranriazkhan #imrankhanpti #imrankhanyoutubechannel #imrankhan #news #pakistan #currentaffairs #aliamingandapur #arifalvi

Like us on Facebook: / imranriazkhan2

Subscribe to our Channel: https://bit.ly/3dGeB3h

Follow us on Twitter: / imranriazkhan

Pakistan Pakistani Politics
PTI
Imran Khan
Establishment
Political
Economy
Crisis

Category

🗞
News
Transcript
00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ان کے ساتھ ایک اور محزیز جج جسٹس محمد شفی صدیقی صاحب یہ دو رکنی بینچ یہ عمران خان صاحب کی اپیلیں سنے گا یہ کیس بڑا انٹرسٹنگ ہے اور یہ کیس ہے نو مئی کے حوالے سے اور یہ سلمان صفدر صاحب عمران خان صاحب کے وکیل ہیں انہوں نے یہ کیس سپریم کورٹہ پاکستان میں دائر کیا ہوا ہے
00:51اس میں ذرا سمجھیں نو مئی کو ہوا یہ تھا کہ عمران خان صاحب کو غیر قانونی طور پہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احادتے سے جو پرانی والی بلڈنگ سی وہاں سے شیشے توڑ کے دروازے توڑ کے رینجرز نے گرفتار کر لیا تھا
01:04اس کے بعد رد عمل کے طور پہ شہری نکلے پورے پاکستان میں اور مختلف کنٹونمنٹس کے علاقوں کی طرف گئے اور پھر جو منظر ہم نے دیکھے بلکہ دیکھے ہی نہیں آج تک سی سی ٹی وی فوٹیج ہی نہیں ملی
01:14اور کئی لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم جب پہنچے تو پہلے ہی تباہی ہو چکی تھی
01:18بڑے حیرت انگیز طور پہ سیکیورٹی وہاں سے غائب ہو جاتی ہے بڑے حیرت انگیز طور پہ وہاں پہ جو رستے میں کوئی روکتا نہیں ہے
01:25کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جاتی کوئی پکڑنے نہیں آتا اور پھر وہاں پہ توڑ پھوڑ ہو جاتی ہے
01:30اس کے بعد نو مئی کے نام کے اوپر پاکستان طریقہ انصاف کے اوپر ایک عذاب مسلط کر دیا جاتا ہے پاکستان میں
01:44کر دیا جاتا ہے لیکن نو مئی کو جب عمران خان صاحب گرفتار ہوئے تو سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمران خان صاحب کو بلوا لیا
01:53عمران خان صاحب سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئے تو انہوں نے اس کو غلط قرار دیا کہ یہ غلط ہوا
01:58کسی جگہ پہ بھی لاو این اوڈر کی سیچویشن نہیں بننی چاہیے تھی بلکہ انہوں نے اس کی مضمت کی
02:03لیکن ساتھی عمران خان صاحب نے کہا کہ میں تو گرفتار تھا میں اندر موجود تھا اب ایک آدمی
02:08اندر تھا تو وہ اس جرم کے لیے کیسے ذمہ دار ہو سکتا ہے تو اس میں سپریم کورٹ آف پاکستان
02:14نے عمران خان صاحب کی نو مئی کی گرفتاری کو غلط قرار دیا تھا اور یہ کہا گیا تھا
02:19اس کے اوپر انکواری کی جائے گی اور جو ہائی کورٹ آئے اسلام آباد کی انہوں نے بھی کہا تھا
02:24اس کے اوپر انکواری کریں گے اب انٹرسٹنگ بات یہ ہے کہ نو مئی کے لگ بگ
02:28سوا دو سال کے بعد یہ کیس واپس جا رہا ہے سپریم کورٹ آف پاکستان میں اب وہی
02:34چیف جسٹس آف پاکستان ہیں وہ چینج ہو گئے ہیں اس کے بعد ایک اور چیف جسٹس آیا
02:37پھر ایک اور بندیال صاحب تھے پھر قاضی صاحب آئے اور اب یا یافریدی صاحب ہیں
02:41اب ان کے سامنے معاملہ جائے گا تو وکیل پہلے تو یہ معاملہ اٹھائے گا جناب عمران خان
02:46کو نو مئی کو گرفتار کیا گیا ہائی کورٹ اسلام آباد کے آہاتے سے
02:49غیر قانونی گرفتاری تھی اور سپریم کورٹ نے اپنے آرڈر میں کہا تھا
02:53کہ یہ غیر قانونی گرفتاری ہے ان کو رہا کیا جائے
02:55تو پہلے تو آپ یہ بتائیں کہ جناب وہ غیر قانونی گرفتاری کے اوپر
02:59اب تک کیا ایکشن ہوا اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی پوچھا جائے گا جناب آپ
03:03نے سوا دو سال میں کون سا انصاف فرام کیا کہ جن لوگوں نے عمران خان
03:07صاحب کو سابق وزیراعظم کو گھسیٹ کے غیر قانونی طور پر
03:10ٹورچر کر کے گرفتار کیا جن مناظر کی ورہ سے پورے پاکستان میں آگ
03:14لگی وہ لوگ جو رسپونسبل ہیں وہ کون لوگ ہیں اور یہ کس نے کیا
03:17تھا ایک تو معاملہ یہ اٹھے گا دوسرا یہ جو پورا کا پورا پوسٹ
03:22مارٹم جو آلریڈی ہو چکا ہے نو مائی کے مقدمات کا کہ ایک پولیس
03:27والا صوفے کے نیچے چھپ گیا ایک پولیس والا چھوٹی سی ٹیبل کے
03:30نیچے چھپ گیا اور عمران خان صاحب کے گھر کے اندر داخل بھی ہو
03:33گئے اور انہوں نے ساری سازش سن کے عمران خان صاحب پہ ایک
03:36کیس بھی بنا دیا اب ان پولیس والاں کو ثابت کرنا پڑے گا میرے
03:40خیال میں سلمان جو صاحب جو ہیں سلمان صفدر صاحب انہیں چاہیے
03:45کہ عمران خان صاحب کے زمان پارک والے گھر سے وہ صوفہ اور وہ
03:49چھوٹی ٹیبل یہ دونوں چیزیں اٹھا کے سپریم کوٹ آف پاکستان میں لے
03:53جا کے چیف جسٹس اور پاکستان کے سامنے رکھ دیں اور انہیں
03:56کہیں سر یہ وہ ٹیبل ہے اور یہ وہ صوفہ ہے یہ دو پولیس والے
04:00ان کو کہیں ان کے نیچے چھپ کے دکھائیں تاکہ ہم دیکھیں یہ ان کے
04:03نیچے کیسے چھپتے ہیں پریکٹیکلی ذرا انہیں کہیں چھپ کے دکھائیں
04:05سارا کیس وہیں ختم ہو جائے گا نمبر ایک یعنی جو ٹیبل وہاں پڑی
04:10ہوئی تھی نا وہ ٹیبل اٹھائیں اور اٹھا کے لے جا کے وہاں رکھ
04:12دیں کہ جناب یہ وہ ٹیبل ہے جو عمران خان صاحب کے وہاں
04:16پہ کمرے بے شمار ویڈیوز ہیں تو وہ ساری ٹیبلز نظر آتی ہیں
04:19روزانہ ویڈیوز بنتی تھی وہاں پہ لوگ اندر آتے تھے اپنے
04:23موبائل سے دوسرے بھی ویڈیو بناتے تھے وہ کیمرہ بین بھی تھا
04:25وہ سارا فلم آیا ہوا وہ جگہ وہ جو وہاں پہ ٹیبلز نہیں
04:29وہ لے جا کے سپریم کورٹ آف پاکستان میں رکھیں اور پولیس والے
04:31کو بلا کر کہیں کہ جناب اس کے نیچے گسکے آپ دکھائیں
04:33چھپ کے دکھائیں اگر یہ چھپ گیا تو ٹھیک ہے
04:36دوسرا ہر جگہ پہ انہوں نے تعداد الگ بتائی ہے
04:40لاہور میں کچھ اور ہے گجرہ والا میں کچھ اور ہے
04:42فیصلہ باد میں کچھ اور ہے سرگودہ میں کچھ اور ہے
04:44ہر جگہ پہ سازش کے دوران لوگوں کی تعداد الگ بتائی
04:48یہ بھی یہ گلتی ہے
04:49تیسرا وہ پولیس والا اس دن ڈیوٹی پہ نہیں تھا
04:52بھاگا ہوا تھا اس کے گلتا ریپورٹ لکھی ہوئی ہے
04:53جس دن وہ کہہ رہا ہے جی کہ میں نے جا گئی
04:55سازش یہ پکڑی ہے
04:57اس دن وہ ڈیوٹی پہ نہیں تھا
04:59پانچمہ جو تفتیشی ہے وہ کبھی اس جگہ پہ نہیں گیا
05:02اس جگہ پہ وہ تفتیشی کبھی گیا ہی نہیں
05:05جس جگہ پہ یہ وقوع وہ کہتے ہیں ہوا ہے
05:08اور وہ جو جائے وقوع ہے
05:10عمران خان صاحب کا گھر جس کے بارے میں وہ کہتے ہیں
05:12اس کا نقشہ بھی ان کے پاس نہیں
05:14ان کو یہ آئیڈیا ہی نہیں ہے کہ عمران خان صاحب کا کمرہ کس طرف ہے
05:16دروازہ کس طرف ہے
05:17صوفہ کس طرف ہے
05:18اور وہاں کا کوئی انہوں نے دورہ بھی نہیں کیا
05:21تفتیشی وہاں گیا ہی نہیں
05:23اتنے زیادہ لکونہ ہیں
05:24لیکن اس کے بعد جو عمران خان صاحب کو سزا ہوگی
05:26اب سپریم کورٹ آف پاکستان میں گیا معاملہ
05:29یہ نہیں وہاں زمانت مسترد ہوگی نا
05:31سپریم کورٹ آف پاکستان میں یہ زمانت کا معاملہ گیا ہے
05:34اب ججوں کا بہت بڑا امتحان آ گیا
05:36یہ جب بھونڈا ترین تاریخ کا کیس ججوں کے سامنے آئے گا
05:40تو دیکھتے ہیں سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک بہت بڑا امتحان ہے
05:44یا یا افریدی کا کہ وہ اس میں انصاف دے پاتے ہیں یا نہیں دے پاتے
05:47کیونکہ اسی سپریم کورٹ سے یہ سارا معاملہ شروع ہوا تھا
05:50اسی سپریم کورٹ میں یہ سارا معاملہ واپس آ گیا ہے
05:54اور تفتیشی کا پولیس والوں کا پروسیکیوشن کا بہت بڑا امتحان ہے
05:58کیونکہ یہ کیس لڑنے کے قابل ہے ہی نہیں
06:01اس کیس کو لڑا ہی نہیں جا سکتا
06:04عمران خان کی حد تک تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہ کیس لڑا جا سکے
06:08کیونکہ پولیس والوں نے جو بھونڈے انداز میں یہ مقدمہ درج کیا ہے
06:12دنیا کا کوئی بنانا رپبلک بھی ہوگا نا
06:14اس کی جو سب سے بہترین اطالت بھی ہوگی نا
06:16اس کے اندر بھی اس کو ثابت نہیں کیا جا سکتا
06:18اب دیکھنا یہ ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان
06:23اس معاملے کو کیسے ہینڈل کرتے ہیں
06:25تو بڑی انٹرسٹنگ چیز ہونے جا رہی ہے
06:27نمبر دو وزیراعلا خبر پکتون خواہ کے جو بڑے سخت بیانات آئے تھے
06:31ان پہ حکومت کا رد مل آیا ہے رانہ سناؤلہ صاحب نے کہا
06:34خبر پکتون خواہ کے وادیہ تیرہ کے انسیڈنٹ سے پہلے
06:37جو وادیہ تیرہ کے اندر قتل و غارت گری ہوئی ہے
06:40بچوں کی شہادت کے بعد لوگ اعتجاج کرنے کے لیے نکلے
06:43پھر ان کے اوپر سٹیٹ فائر کر دیا
06:45سیکیورٹی فورسز نے بقول پاکستان تحریک انصاف کی گورنمنٹ کے
06:48اور جب ان کے اوپر سٹیٹ فائر کیا گیا تو اس میں لوگ شہید ہو گئے
06:53اور حالات بڑے خراب ہو گئے
06:55اب لوگوں نے جا کے طالبان سے کہا
06:57بہت بڑی تعداد میں کہ آپ یہ علاقہ چھوڑنے
06:59ہم فوج سے کہیں گے وہ بھی علاقہ چھوڑ دے
07:01تو کیا یہ علاقہ واقعی میں
07:03جو وہاں کی عوام ہے وہ
07:05طالبان سے اور فوج سے خالی کروا سکتی ہے
07:07پاکستان تحریک انصاف نے بھی
07:09بڑا سخت موقف لے لیا انہوں نے کہا
07:10ٹھیک ہے فوج پندرہ دن کے اندر نکل جائے ان علاقوں سے
07:13لیکن رانہ صنعہ علیہ صاحب
07:15کہنے کے وزیر اللہ خیبر پکتون کا کے بیانات پر مت جائیں
07:17ان کے بیانات کو
07:19بلکل سنجیدہ مت لیں
07:20وہ سیاسی بیانیے کے لیے بولتے ہیں صرف
07:23جہاں ان کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے
07:26وہ تعاون کر دیتے ہیں حکومت کے ساتھ
07:28یہ رانہ صنعہ علیہ صاحب نے دعویٰ کیا ہے
07:29اب وزیر اللہ خیبر پکتون کا کے اوپر چند سوالات
07:32کھڑے ہو رہے ہیں
07:33ابھی تک کسی ایک بھی
07:35ڈرون حملے کی ایف آئی آر
07:36علی امین گھنڈاپور صاحب نہیں کر سکے
07:39دیکھیں نا علی امین گھنڈاپور صاحب
07:41پانچ گھنٹے اونچی آواز میں
07:43تقریر کرتے رہے یا چلاتے رہے
07:44اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا
07:46صرف ایک چھوٹی سی ایف آئی آر درج کر دیں
07:48ڈرون حملے کی اس سے فرق پڑتا ہے
07:49آپ دیکھیں نا پریکٹیکلی آپ دیکھیں
07:51جعوید حاشمی صاحب نے کیا کہا تھا
07:54جعوید حاشمی صاحب نے کہا کہ مجھے
07:55ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا
07:57یا آئی ایس آئی کے چیف نے کہا
07:58کہ ہم آپ کو سیٹ پہ کامیاب کروا دیتے ہیں
08:01آپ الیکشن آپ کو جتوا دیتے ہیں
08:03آپ ہمیں بڑا بھلا کہتے رہا کریں
08:04لیکن جب آپ ضرورت پڑے ہمیں آپ کی
08:07تو آپ ووٹ ہمیں دے دیا کریں
08:08یا ہمارا کام کر دیا کریں
08:09ہمیں جتنا مردی بڑا بھلا کریں
08:11کوئی فرق نہیں پڑتا
08:12تو ایمل ولی خان کیا کرتے ہیں
08:15انہیں سیٹ دلوائی گئی ہے نا
08:17وہ کتنا بڑا بھلا کہتے ہیں فوج کو
08:19لیکن جب ووٹ کی ضرورت پڑتی ہے
08:20تو وہ فوج کے حق میں ووٹ ڈال دیتے ہیں
08:22یا اسٹیبلشمنٹ کے حق میں ووٹ ڈال دیتے ہیں
08:24جو بھی ان کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کہتی ہے
08:26وہ ویسے کر دیتے ہیں
08:27تو ایمل ولی خان صاحب بھلا فارمولا
08:29باقی جگہ بھی اپلائی ہو
08:30کیا گنڈاپور صاحب پہ یہ فارمولا اپلائی نہیں ہوتا
08:33گنڈاپور صاحب جتنا مرضی اونچا بولیں
08:35چلائیں چار گھنٹے تین گھنٹے بولیں
08:37بہت بولتے چلے جائیں لیکن بولنے سے فرق نہیں پڑتا
08:40پریکٹیکلی وہ ایک ایف آئی آر درج کریں
08:43اگر تو اس سے فرق پڑتا ہے
08:45اور میں نے جب بات کی تھی اس وقت تک
08:47یہ جو سانیہ ہوا وادیہ تیرہ کا
08:49اس کی بھی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی
08:51حالانکہ سٹیٹ فائر کیے گئے ہیں
08:53مدعیوں سے پوچھ کر ایف آئی آر درج کرنی چاہیے
08:55ان لوگوں کے خلاف جنہوں نے
08:57یہ سٹیٹ فائرنگ کی ہے
08:58اب اسلام آباد میں ایف آئی آر نہ ہو سکے فائرنگ کرنے والوں پر
09:02تو یہ تو بات سمجھ آتی ہے
09:03کہ وہ وزیر داخلہ کے کنٹرول میں ہے
09:05محسن نکوی کے
09:06لیکن خیبر پکتونخواہ میں تو
09:08علی امین گنڈاپور کی حکومت ہے پاکستان تحریک انصاف کی
09:11وہاں پہ اگر نہتے شہریوں کے اوپر
09:13فائرنگ ہو اور وہ قتل ہو جائیں
09:14اور وہاں پہ بھی اگر ایف آئی آر نہ ہو سکے
09:17تو پھر علی امین گنڈاپور بھی وہی ہیں
09:19جو محسن نکوی ہے
09:20پھر دونوں میں کوئی فرق تو نہیں ہے نا
09:22اور فرق ہو بھی نہیں سکتا جب ایف آئی آر ہی نہیں ہو رہی
09:25دوسرا گنڈاپور صاحب کو
09:27ایف آئی آر کے علاوہ سادہ قانون سادھی وہ کر سکتے ہیں
09:29یعنی جو ایک گورنر کا
09:31ایک آڈیننس جاری کیا گیا ہے
09:33جس کے تحت فوج کو خیبر پکتونخواہ میں
09:35بہت سارے اضافی اختیارات دیے گئے ہیں
09:38جن کے ذریعے سے وہ کاروائی کرتی ہے
09:39اگر واقعی پاکستان طریقہ انصاف چاہتی ہے
09:42کہ فوج کی کاروائی خیبر پکتونخواہ کے اندر محدود ہو جائے
09:45یا وہ جو کر رہے ہیں وہ اس طرح سے وہاں پہ نہ کریں
09:47تو وہ جو اضافی اختیارات دیے گئے ہیں
09:50سادہ قانون سادھی سے واپس لے سکتے ہیں
09:51پندرہ منٹ کا کام ہے
09:53صبحی اسمبلی میں
09:54کیونکہ آرڈیننس کو ضائع کرنے کے لیے
09:57صبحی اسمبلی کے پاس طاقت ہوتی ہے
09:58جو بھی آرڈیننس ہے
10:00اس کو اسمبلی سے پاس کیا جاتا ہے
10:03جو بھی آرڈیننس ہے
10:04اس کو اسمبلی سے فائنل کیا جاتا ہے
10:07اور اگر اسمبلی اس کو ریجیکٹ کر دیتی ہے
10:09تو آرڈیننس آٹومیٹکلی ختم ہو جاتا ہے
10:11یا جا کے ایڈووکیٹ جنرنل
10:13جو ہیں خیبر پکتونخواہ کے
10:14وہ عدالت سے اپنا کیس واپس لے لیں
10:17اور سٹیک ختم کر دیں
10:18اور پشاور ہائی کورٹ کا جو فیصلہ تھا
10:21یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں
10:22جو آپ نے ایکسٹرا پاورز دیمی ہے
10:24خیبر پکتونخواہ کی سطح کے اوپر
10:27فوج کو یہ واپس لینی چاہیے
10:29ورنہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں
10:31یہ بات کی ہوئی ہے پشاور ہائی کورٹ نے
10:33وہ فیصلہ ایمپلیمنٹ ہو جائے گا
10:36تو علیہ بن گنڈاپور صاحب کو
10:37ان میں سے کوئی ایک کام
10:38یا تو وہ اپنے ایڈوکیٹ جنرل کو کہیں
10:40فوری طور پہ جائیں
10:41اور جا کر اپنی جو سٹے ہے اس کو اٹھا لیں
10:43یا وہ ایف آئی آرز درج کرنا شروع کریں
10:46یہ بھی وہ ابھی تک نہیں کر پائے
10:48نہ ڈرون حملوں کی نہ باقی چیزوں کی
10:49اور سادہ قانون سادی کے ذریعے سے
10:52وہ فوج کو ملے ہوئے اضافی اختیارات بھی
10:54واپس لے سکتے ہیں
10:55اور ایک اور چیز کر سکتے ہیں
10:56کہ خیبر پکتونخواہ کی مادنیات کے حوالے سے
10:59جتنی بھی مائننگ ہو رہی ہے
11:01اس کا ایک آڈٹ کروا سکتے ہیں
11:03اور بتا سکتے ہیں
11:04کس کس کو بغیر ٹینڈر کے ٹھیکہ ملا ہے
11:06اور کون کون اس کے اندر ملوث ہے
11:08اور کہاں کہاں یہ چیزیں چاہ رہی ہیں
11:10اور کتنے پیسے کے مادنیات یہاں سے نکالے گئے ہیں
11:13کتنی مائننگ ہو چکی ہے
11:14یہ ساری چیزیں کریں تو پھر
11:16سمجھ آجے گی کہ علی امین گنڈا پور صاحب
11:19واقعی اس کام پر لگے
11:20ناظرین جو لوگ موجودہ حکمرانوں کو
11:23مہاتمہ بنا کر پیش کر رہے تھے
11:25یا ان کو لے کر آ رہے تھے
11:26جبکہ جناب یہ بہت اچھے ہیں
11:28یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے
11:29ڈار صاحب آ گئے ہیں ہنینج کر دیں گے
11:31میاں نواز شریف واپس آ گیا
11:32پاکستان کی قسمت بدل دے گا
11:34اسٹیبلشمنٹ اور نواز شریف کی گیم اٹھا رہے تھے
11:37وہ لوگ اب بہت مایوس دکھائی دے رہے ہیں
11:40بلکہ میں ایک چیز ایسی نوٹ کر رہا ہوں
11:42کہ ہمارے یہاں پہ دو طرح کے صحافیوں کا اکٹھ ہو گیا تھا
11:46ایک وہ صحافی جو پی ڈی ایم کی جماعتوں کے قریب ہے
11:49کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کے مسائل کا حل ہے
11:53کوئی سمجھتا ہے اے این پی
11:54کوئی فضل الرحمان صاحب کی پاکستان کو پسند کرتا ہے
11:57کسی کو جماعت اسلامی میں
11:59یا کسی کو مسلم لیگ نون کے اندر
12:01پاکستان کی بقار نظر آتی ہے
12:03اپنی اپنی سوچ ہے اور یہ اچھی بات ہے
12:05سب کی سوچ اپنی اپنی ہونی چاہیے
12:06تو پی ڈی ایم کے جماعتوں کے جو صحافی ہیں
12:09وہ اور جو اسٹیبلشمنٹ کے
12:11قریبی یا ٹاؤٹ صحافی ہیں وہ
12:13ان سب کا میں نے دیکھا
12:15کہ ایک اکٹھ ہو گیا تھا گزشتہ
12:17دو تین سالوں میں اور یہ سب
12:19اکٹھے ہو کے پہ جاتے تھے
12:21عمران خان صاحب کو یا ان کے
12:23ہمائیتی میڈیا کو یا جو ان کی
12:25آواز سنانے والا میڈیا اس کو
12:27تو یہ سارے اکٹھے ہو کر پڑ جاتے تھے
12:29تو ایک بڑا زبردست اکٹھ تھا
12:31اسٹیبلشمنٹ کے صحافیوں میں اور پی ڈی ایم
12:33کے جماعتوں کے صحافیوں میں
12:35اب میں یہ نوٹ کر رہا ہوں گزشتہ
12:37چند دنوں سے اور یہ کچھ ایک
12:39ڈیڈ افتے کی بات ہے کہ ان دونوں
12:41طرح کے صحافیوں کے اندر دوبارہ اختلاف
12:43پیدا ہونا شروع ہو گیا
12:44یہ بڑی عجیب بات ہے
12:46یعنی جو پی ڈی ایم کی جماعتوں کے صحافی ہیں
12:49وہ اب اسٹیبلشمنٹ کے اوپر الزامات
12:51لگانا شروع ہو گئے ہیں
12:52کہ سارے اختیارات تو ان کے پاس ہیں
12:54چیزیں تو یہ کنٹرول کرتے ہیں
12:55سیاستدان تو بدنا وہ اپنی باتیں کر رہے ہیں
12:57اس قسم کی
12:57دوسری طرف جو اسٹیبلشمنٹ کے قریبی صحافی ہیں
13:01وہ سیاستدانوں کو برا کہنا شروع ہو گئے ہیں
13:03کہ جناب سیاستدان ڈیلیوری نہیں کر سکے
13:05ان کو اتنا موقع دیا
13:06اسٹیبلشمنٹ نے ان کو لا کر بٹھایا
13:08اس کے باوجود یہ ڈیلیور کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہ گئے
13:11اب اسٹیبلشمنٹ بھی ان سے مایوس ہو جو اس طرح کی باتیں
13:14اب دونوں طرح کے لوگ کر رہے ہیں
13:16اس کا مطلب یہ ہے کہ
13:17انہیں اس بات کا آئیڈیا ہو گیا ہے
13:20اسٹیبلشمنٹ کو بھی اور حکومت کو بھی
13:22کہ ہم جو مرضی کر لیں
13:23ہم اس ملک کو اس طرح سے نہیں جلا سکتے
13:27الٹیمنٹلی یہ ملبا گرنا ہے
13:29تو اب یہ ملبا ایک دوسرے پر ڈالنے کی ایسا لگتا ہے
13:31کہ کوشش کرنا شروع ہو گئے ہیں
13:33کامران خان صاحب کا اپنے ٹویٹ پڑا ہوگا
13:35ان کا بیام دیکھا ہوگا
13:37جس میں انہوں نے کہا کہ
13:38تاجر جو ہیں ان کو آرمی چیف بڑا اچھا چلاتے ہیں
13:40معیشت کو آرمی چیف بڑا اچھا کرتے ہیں
13:42یہ سب وہ آرمی چیف کی زمین آسمان کے
13:44کلابے ملانے کے بعد انہوں نے سیاست دانوں کو
13:47برا بلا کہنا شروع کر دیا
13:48اس کی ایک مثال ہے
13:49سوہیل بڑائج کا ایک حالیہ کالم ہے
13:51جس میں انہوں نے بڑے صاحب کہہ کے
13:52آرمی چیف کو مخاطب کیا
13:54کہ جناب وہ نیوٹرل رہنا چاہتے ہیں
13:55لیکن ان کو مشورے یہ دیے جا رہے
13:57تو انہوں نے بھی بتایا
13:58کہ جناب بڑے قسم کے مشورے ہیں
14:00جیسے شاید کوئی مارشل لاک کی بات
14:02یا کوئی ایسی چیزیں
14:02کہ یہ سیاست دان ڈیلیور نہیں کر پا رہے
14:05اور وہ کام ہی نہیں کر پا رہے
14:07تو یہ چیزیں گھوائی دیتی ہیں
14:09کہ بڑی مایوسی پھیل گئی ہے
14:10پورا نظام مایوس ہو گیا
14:13اسٹیبلشمنٹ بھی مایوس ہو گئی ہے
14:14اور حکمران بھی مایوس ہو گئے ہیں
14:16کہ ہم نے اتنا زور لگایا
14:18اتنا زور لگایا
14:18ملک چلائی نہیں پائے
14:20آج پاکستان کے پاس اپنا پیسہ ہی نہیں ہے
14:21مانگے تانگے کا پیسہ آپ کے خزانے میں پڑا ہوا ہے
14:23جس کو آپ ذریب مبادلہ کے ذخائر کہتے ہیں
14:26عمران خان کے دور میں
14:27سولہ عرب ڈالر سے زیادہ کے پڑے ہوئے تھے
14:28آج چودہ عرب ڈالر سے زیادہ ہیں
14:30لیکن ان میں سے ساڑھے تیرہ عرب ڈالر وہ ہے
14:33جو آپ نے مانگ کے رکھا ہوا ہے دوسروں کا
14:35آپ کا اپنا اس میں کیا پڑا ہوا ہے
14:37یہ بڑے گھمبیر حالات ہیں
14:39رانہ سناولہ صاحب نے چینی کے معاملے پر
14:41ایک بڑا اعتراف کیا ہے
14:42انہوں نے کہی چینی کی مسنوی قلت پیدا کر کے
14:45میڈل مین نے دہاری لگائی ہے
14:46وزیراعظم کی ناک کے نیچے آپ کی کابینہ کے
14:49وزیر اس میں ملوث ہے نظیم ملک صاحب نے جب یہ کہا
14:51تو انہوں نے کہا جی اس میں مافیا ملوث ہے
14:53جناب آپ کی حکومت اور مافیا ملوث ہے
14:55مفتہ اسماعیل صاحب نے کیا بتایا
14:57اور انہوں نے کہا وزیراعظم کے دو بیٹوں کی
14:59بیٹوں کی دو ملے ہیں
15:00وزیراعظم کے
15:02تو یہ کنفلکٹ آف انٹرسٹ نہیں ہے
15:04جتنے حکومت میں بیٹھے ہوئے لوگ ہیں ان سب کی ملے ہیں
15:07جتنے حکومت کے اتحادی ہیں ان سب کی ملے ہیں
15:09اب وہ اپنی اپنی ملوں سے
15:11منافع کم آ رہے ہیں
15:12دڑا دڑ انہوں نے پیسہ بنایا ہے
15:15چاہے گندم سکینڈل ہو چاہے چینی سکینڈل ہو
15:17ابھی کھانے کا تیل جو ہے جس کو کونکنگ آئل کہتے ہیں
15:20اس کا بھی ایک سکینڈل آ گیا ہے
15:21جیسے پیٹرول میں انہوں نے عوام کا خون نچوڑا ہے
15:24تو انہوں نے تو تباہی پھیڑ دیئے
15:25پاکستان کی معیشت کی اور لگاتار پھیڑتے جا رہے ہیں
15:28عوام کو مایوس کرنے کے لیے
15:30یہ ایک کے بعد ایک ہتھ گھنڈا کرتے ہیں
15:33ابھی میں آپ کو ایک نئی چیز بتانے جا رہا ہوں
15:34لیکن پاکستان طریقہ انصاف کے ایک ایم پی اے نے ہاتھ اٹھایا
15:37پی ایم ایل این کے ایک ایم پی اے کے اوپر
15:39اس لیے کہ وہ عمران خان کے خلاف بدزبانی کر رہا تھا
15:42صبائی اسمبلی کے اندر
15:43تو میرے خیال میں مارک اٹھائی تک بات نہیں جانی چاہیے
15:47اور اسمبلی ایک ایسی جگہ ہے
15:49جہاں پہ آپ عوامی مسائل پہ توجہ دیں تو زیادہ بہتر ہے
15:52آپ وہاں پہ عوامی مسائل پہ بات کریں
15:54لیکن ایک جالی حکومت لاکر وہاں پہ بٹھائی گئی ہے
15:57اور اس کے نتائج پھر اسی طرح کے نکلتے ہیں
15:59کہ ایک گھٹر کی فضاء پیدا ہو جاتی ہے
16:02لیکن مارک اٹھائی سے گریز کرنی چاہیے
16:04بعد میں کچھ پی ایم ایل این کے بندے آئے
16:06باہر کھڑے ہو کر وہ گالم گلوچ انہوں نے شروع کر دی
16:08اور اس کو کچھ لوگ اپریشیئٹ کر رہے تھے
16:10کہ یہ ٹھیک کیا ہے تو یہ غلط بات ہے
16:12جو مارک اٹھائی ہاتھا پائی
16:16یہ جمہوریت کے اندر
16:18آپ کو بات کرنے کا اور بات سننے کا
16:20حوصلہ پیدا کرنا چاہیے
16:21اور دوسرا یہ ہے کہ گالم گلوچ
16:24بدتمیزی نجی زندگی میں جانا
16:25اس سے بھی گریز کرنا چاہیے
16:27دوسرے کی دل ادھاری سے بھی گریز کرنا چاہیے
16:30یہ نامناسب ہے
16:31ناظرین پاکستان تحریک انصاف کے
16:33عراقین اسمبلی ایک ایک کر کے فارق کیے جا رہے ہیں
16:35خبریں یہ آ رہی ہیں کہ زیادہ تعداد میں
16:37فارق کیا جائے گا یہ کیوں کر رہے ہیں
16:39آپ نے کبھی سوچا
16:40یعنی اس وقت دو تحیی اکثریت حکومت کی پوری ہے
16:43قومی اسمبلی میں بھی
16:45اور سینٹ کے اندر بھی
16:47تو پھر انہیں کیا ضرورت ہے
16:49کہ یہ پاکستان تحریک انصاف کے تیس چالیس
16:51ایم این ایز مزید فارق کر دیں
16:53ایم پی ایز فارق کر دیں
16:54سینٹرز کو اڑا دیں ایک دو کو
16:57اور دوبارہ وہاں پہ پھر الیکشن کروا دیں
16:59اور اپنے بندے لاکر وہاں پہ بٹھا دیں
17:02اس کی کیا ضرورت ہے
17:03دو تحیی اکثریت تو ان کے پاس ہے
17:05لیکن یہ کرنا کیوں چاہتے ہیں
17:07یہ وجہ میں آپ کو بتاتا ہوں
17:08یہ کرنا یہ چاہتے ہیں
17:11کہ پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ
17:13پاکستان میں مایوس ہی پھیلانا چاہتی ہے
17:14جو ایک نئی کلاس جس کو عمران خان صاحب
17:17پاکستان کی پولٹکس کے اندر لے کر آئے
17:19اور انہیں پاکستان کی پولٹکس کا حصہ بنائے
17:21میڈل کلاس پاکستان کی جو ملک کو چلاتی ہے
17:24وہ کلاس جو پاکستان کی سیاست میں کردار ادا کر رہی ہے
17:28اسے مایوس کرنا چاہتے ہیں
17:30یہ انہیں کہنا چاہتے ہیں
17:31کہ آپ کے ووٹ کی کوئی قدر نہیں ہے
17:33ہم جو چاہیں گے اس ملک میں وہ کریں گے
17:35لہٰذا آپ ارریلیونٹ ہو جائیں
17:37آپ کو یاد ہے پاکستان میں آج سے بیس پچیس سال پہلے
17:39یہ ایک ٹرینڈ ہوتا تھا
17:41انہیں نہیں میں سیاست پر بات ہی نہیں کرتا
17:42یہاں سیاسی بات کرنی نہیں چاہیے
17:44اور بھی سیاستدان سارے ہی گندے ہیں
17:46سارے سیاستدانوں کو گالیاں دیتے تھے لوگ
17:49یہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے کئی سالوں کی محنت کے بعد
17:52یہ چیز پیدا کی تھی
17:53کہ سارے سیاستدانوں کو گالیاں دو
17:55پھر پرویز مشترف کے دور میں سیاستدان اکٹھے ہوئے
17:58حالات تھوڑے سے بدلے
17:59لیکن اس کے بعد دوبارہ سے وہی سلسلہ شروع ہو گیا
18:02آج جو ہے وہ اسٹیبلشمنٹ دوبارہ زور لگا رہی ہے
18:05کہ عوام کو یہ بتایا جائے
18:07کہ ان کی کوئی اوقات نہیں ہے
18:08عوام کو مایوس کیا جائے
18:10تاکہ عوام پاکستان کی سیاست سے
18:12اتنی مایوس ہو جائے
18:13کہ وہ یہ کہیں کہ یہ سلسلہ ایسے ہی چلنا ہے
18:15کوئی فائدہ نہیں
18:16باہر نکلنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں
18:19اعتجاج کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں
18:21ہمارے ملک کی قسمت نہیں بدل سکتی
18:23اپنا اپنا دعولگوں جو ہوتا ہے وہ کر دو بس
18:24عوام کو بار بار یہ کہا جاتا ہے
18:28کہ عوام کچھ نہیں کر سکتی
18:29یہ قوم نہیں ایک حجوم ہے
18:30یہاں کبھی انقلاب نہیں آسکتا
18:32ایسی باتیں عوام کے دماغ میں بٹھائی جاتی ہیں
18:34آپ کے ذہن کو
18:36شکست خوردہ بنایا جاتا ہے
18:38آپ کو مایوس کیا جاتا ہے
18:40تاکہ آپ کے اوپر مضبوطی سے
18:42حکمرانی کی جا سکے
18:43پاکستانی بلکل گمزور قوم نہیں ہے
18:46پاکستانی بلکل فارق قوم نہیں ہے
18:48پاکستانی ایک مضبوط قوم ہے
18:51پاکستانی بڑے شاندار لوگ ہیں
18:53پاکستانی اپنا حق لینا اور اپنا حق چھیننا جانتے ہیں
18:57ہماری قوم ہے
18:58حجوم نہیں ہے
19:00ہم بہت ساری چیزوں میں پہلے یہ ثابت کر چکے ہیں
19:03اور آئندہ بھی ثابت کریں گے
19:05میری تمام پاکستانیوں سے ایک گزارش ہے
19:08کہ جتنا مرضی یہ سلسلہ چلتا رہے
19:11آپ کے اوپر یہ جبر کرتے رہے
19:12آپ سے سیٹے چھینتے رہے
19:14آپ کے ووٹ کی توہین کرتے رہے
19:16لیکن آپ اپنے ووٹ کی توہین کے باوجود
19:19بار بار کھڑے ہوئے گا
19:21کیونکہ یہ آپ کا فرض بھی ہے
19:23ایک ملک میں آپ رہتے ہیں
19:24آپ کا بھی ایک فرض ہے
19:25آپ نے مایوس نہیں ہونا بس
19:27آپ نے دل نہیں چھوڑنا
19:28ایک دن آئے گا
19:29یہ پورا کا پورا سسٹم
19:31آپ کے قدموں میں سرنڈر کرے گا
19:33مجھے پورا یقین ہے
19:35کہ پاکستانی ان سے سرنڈر کروائیں گے
19:37اور یہ پورا نظام
19:38جو نائنصافی پہ چل رہا ہے
19:40یہ پاکستانیوں کے قدموں میں سسکرا ہوگا
19:43اور پاکستانیوں کے سامنے سرنڈر کرے گا
19:46ہم حجوم نہیں ہیں
19:47ہم قوم ہیں
19:48اور ہم ثابت کریں گے
19:49یہ وقت آئے گا
19:50اور اپنے ثابت کیا ہے
19:51بار بار ثابت کیا ہے
19:52ناظرین اور میرے پاس خبریں ہیں
19:54یہاں پہ آپ کو دینے کے لیے
19:55انٹرنیشنل فرنٹ سے بڑی امپورٹنٹ خبریں ہیں
19:58لیکن ایک آخری خبر پہ
19:59میں یہاں پہ اختتام کر لیتا ہوں
20:01پھر باقی چیزیں آپ کو
20:02نیکسٹ وی لاؤگ میں بتاؤں گا
20:03حماد اذر صاحب نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا
20:05کہ ان کے گھر کے اوپر بار بار
20:07ریڈز کیے جا رہے ہیں
20:08یا ریڈ نہیں کیے جا رہے ہیں
20:09یعنی پولیس کو باہر بھیجا جا رہا ہے
20:11پولیس یہاں پہ چیکنگ کرتی پھر رہی ہے
20:12ابھی ان کے والد کی قبر کی مٹی گی لیے
20:15فر گاڈ سیک
20:16یا ان کے والد کے انتقال ہوا
20:18وہ پاکستان کا ایک عزتدار آدمی تھا
20:20وہ پاکستان کا ایک ایسا سیاستدان تھا
20:22جس نے لمبا عرصہ پاکستان میں سیاست کیا
20:25اور آپ اس کے اوپر کیچڑ نہیں اچھال سکتے
20:27اس نے بہت ساری مرتبہ
20:29بہت ساری اپورچنٹیز کو چھوڑا بھی ہے
20:31اگر آپ
20:32میاں عذر کی سیاست کے بارے میں پڑھیں
20:35یا غور کریں
20:36تو انہوں نے کچھ ایسے موقع
20:39انہیں زندگی میں ملے جیسے موقع سیاستدانوں کو بلتے ہیں
20:41تو وہ ایک دوسرے کی ٹانگ کھیج دیتے ہیں
20:43لیکن انہوں نے ایسا کیا نہیں
20:45نوازشریت صاحب نے بھی ان کو ایک ایسی آفر دی تھی
20:48انہوں نے انکار کر دیا تھا
20:49جس پہ نوازشریت صاحب سے ان کی بگڑ گئی تھی
20:51تو میاں عذر صاحب ایک
20:53اچھی شخصیت تھے
20:55اور اب ان کے بیٹے لکھتے ہیں
20:57کہ میری رہائشگاہ پر پولیس افراد
20:59کی بار بار آمد
21:01تین پولیس کے ڈالے بھی
21:03ابھی گھنٹہ پہلے آئے
21:04اور ملازمین سے پوچھ گچھ کرتے رہے
21:07یہ زیابتی ہے
21:08اس وقت یہ نہیں کرنا چاہئے
21:10حماد عذر بھی یہی پہ ہے
21:11پاکستان طریقہ انصاف بھی یہی پہ ہے
21:13تو آپ بدلہ لے سکتے ہیں
21:15جب چاہئے آپ سیاسی انتقام لے سکتے ہیں
21:17لیکن یہ وقت نہیں ہے
21:18اب تک لئے اتنی اپنا خیال رکھی گا
21:20اپنے اس چینل کا بھی اللہ حافظ ہے
Be the first to comment
Add your comment

Recommended