#Pakistan #PakistaniPolitics #PTI
Inside Jail Brutality – Shocking Truth Revealed! || Supreme Court Case || Imran Riaz Khan VLOG
#Pakistan #PakistaniPolitics #PTI #ImranKhan #Establishment #Political #Economy #Crisis #imranriazkhan #imrankhanpti #imrankhanyoutubechannel #imrankhan #news #pakistan #currentaffairs #supremecourt #ptijalsa #SupremeCourt #imranriazkhan #imrankhanpti #imrankhanyoutubechannel #imrankhan #news #pakistan #currentaffairs #aliamingandapur #arifalvi
Like us on Facebook: / imranriazkhan2
Subscribe to our Channel: https://bit.ly/3dGeB3h
Follow us on Twitter: / imranriazkhan
Pakistan Pakistani Politics
PTI
Imran Khan
Establishment
Political
Economy
Crisis
Inside Jail Brutality – Shocking Truth Revealed! || Supreme Court Case || Imran Riaz Khan VLOG
#Pakistan #PakistaniPolitics #PTI #ImranKhan #Establishment #Political #Economy #Crisis #imranriazkhan #imrankhanpti #imrankhanyoutubechannel #imrankhan #news #pakistan #currentaffairs #supremecourt #ptijalsa #SupremeCourt #imranriazkhan #imrankhanpti #imrankhanyoutubechannel #imrankhan #news #pakistan #currentaffairs #aliamingandapur #arifalvi
Like us on Facebook: / imranriazkhan2
Subscribe to our Channel: https://bit.ly/3dGeB3h
Follow us on Twitter: / imranriazkhan
Pakistan Pakistani Politics
PTI
Imran Khan
Establishment
Political
Economy
Crisis
Category
🗞
NewsTranscript
00:00موسیقی
00:30امران خان صاحب کو توڑنے کی کوشش ہے
00:31یعنی اگر آپ یہ دیکھیں کہ لگاتار
00:34ان کے کیسز لگنے نہیں دیا جا رہے
00:35اور ان سے ملاقاتیں روکی ہوئی ہیں
00:38اور جو ملاقات کے لیے بھیجا گیا
00:40علی بخاری صاحب کو ایک آدمی کو بھیجا گیا
00:42اور انہوں نے باہر آ کر
00:44کوئی ایسی بات نہیں کی
00:45جو باتیں امران خان صاحب تواتر کے ساتھ
00:48اپنے پچھلے بہت سارے بیانات میں
00:50کہہ رہے تھے
00:51تو ایک تو مجھے لگتا ہے کہ انفرمیشن کو
01:00معافی والی زد ہے
01:01یا جو آرمی چیف کی ایکسٹینشن
01:03والا معاملہ آ رہا ہے ان چیزوں کو
01:05لے کر امران خان پر دباؤ بڑھانے کی کوشش
01:07کی جا رہی ہے
01:08اب میں نے آپ کو یہ بتایا تھا کہ
01:11جیل میں حالات بہت پریشان کن ہیں
01:13کچھ اور معلومات بھی میرے تک پہنچیں گی
01:15تو میں آپ کو بتاؤں گا تو
01:16ایک تو بشرا بی بی صاحبہ کو کرنٹ پڑا ہے
01:19اور وہ کرنٹ انہیں ایسے لگا کہ بارش کی وجہ سے
01:22پانی جو ہے
01:23وہ تاروں کے ساتھ لیگ ہو گئے
01:24جو بجلی کا وہ ہے اس کے اندر آیا
01:27وہاں پانی تھا اور دیوار میں سیلنگ تھی
01:30وہ گیلی تھی
01:31تو وہاں سے انہیں کوئی کرنٹ پڑا ہے
01:33ایک تو یہ معاملہ ہوا بشرا بی بی کے ساتھ
01:36کیونکہ یاد رکھی گا جیلوں کے اندر سوچ اندر نہیں ہوتے
01:38وہ باہر ہوتے ہیں
01:40باہر سے جو ہے وہ سوچ وغیرہ دبائے جاتے ہیں
01:42نارملی
01:43جہاں میں رہا ہوں جیلوں میں وہاں تو یہ ہی تھا
01:46کہ وہ باہر لگاتے ہیں
01:47سوچ اندر نہیں لگاتے
01:48وہ قیدی اپنی مرضی سے آن آف نہیں کر سکتا
01:50اور قیدی کہیں خودکشی نہ کر لے
01:52اس لیے بجلی کی چیزوں کو اور کنیکشنز کو باہر سے لگاتے ہیں
01:55اور جو اندر لائٹ وغیرہ ہوتی ہے
01:57وہ اونچی ہوتی ہے
01:58وہ قیدی کی پہنچ سے باہر ہوتی ہے
01:59اب ناظرین جو بشرا بی بی کا یہ معاملہ ہے
02:03دوسرا
02:04کیونکہ جو ہے وہ برسات کا موسم ہے
02:06تو کچھ برساتی کیڑے
02:08وہ بھی اب سیلز کے اندر ہیں
02:10اب پتہ نہیں وہ ڈیلیبریٹلی چھوڑے جا رہے ہیں
02:12کیونکہ اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے
02:15کہ جان بوچ کر ایسے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں
02:18جس سے یہ میاں بی بی بی
02:19بہت زیادہ تنگ آ جائیں
02:21پاکستان کا سابق وزیراعظم
02:22اور سابق خاتونیں اول
02:24ان کی زندگی کو اس وقت اجیرن کیا ہوا ہے
02:27اڈیالا جیل میں
02:28پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے
02:30اور وہ پوری کوشش کر رہے ہیں
02:32بھی کسی طرح یہ ٹوٹ جائیں
02:33اب پاکستان طریقہ انصاف نے اس کے اوپر ردعمل دیا
02:36وہ یہ کہتے ہیں کہ
02:38پاکستان طریقہ انصاف محترمہ بوشرا بی بی کے ساتھ
02:41رواہ رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک
02:42اور توہینہ میں سلوک کی شدید ترین مضمت کرتی ہے
02:46بوشرا بی بی کو صرف اس جنم کی پاداش میں
02:49قید کیا گیا ہے
02:50کہ وہ چیرمن عمران خان کی اہلیہ ہیں
02:52ان پر جیل میں ظلم و ستم کے ایسے پہاڑ
02:55توڑے جا رہے ہیں
02:56جو کسی محضب معاشرے میں ناقابل تصور ہیں
02:58ان کے پاؤں پر کیڑے کاٹنے کے باعث
03:01زخم پر پٹی باندھی گئی ہے
03:03ان کے کمرے کے اندر بجلی کے بورڈ پر
03:06بارش کے پانی سے شارٹ سرکٹ ہوا
03:08اور جب انہوں نے
03:10بٹن دمانے کے لیے ہاتھ لگایا
03:12میرے پاس جو انفرمیشن آئی ہے شاید وہ دیوار میں کرنٹ تھا
03:14تو انہیں دوبارہ
03:16دو بار کرنٹ لگ چکا ہے
03:18انہیں پینے کے لیے ساپ پانی میں اثر نہیں ہے
03:20یہ انفرمیشن میرے پاس بھی ہے
03:22کہ جب انہیں پانی دیا جاتا ہے
03:23تو پینے کے لیے پانی
03:26الگ ہے لیکن جو وضو کرنے کے لیے
03:28یا سرد ہونے کے لیے جو دوسرا پانی ہے
03:30وہ جو بالٹی میں بھر کے دیتے ہیں
03:33تو اس میں ایسی مٹی ہوتی ہے
03:34کہ یہ پھر انتظار کرتے ہیں کہ مٹی نیچے بیٹھ جائے
03:36پھر اس پانی کو استعمال کیا رہے ہیں
03:38برتن میں پانی بھرتے ہیں
03:39تو پانی اتنا گندہ آ رہا ہے
03:40کہ اس کو وہ مٹی بیٹھنے کا انتظار کرتے ہیں
03:43اس کے بعد اس پانی کو استعمال کرتے ہیں
03:45وضو کرنے اور نہانے پہ مجبور کیا جا رہا ہے
03:48گندے پانی سے
03:48کپڑے دھونے کے لیے بھی
03:50صاف پانی دستیاب نہیں ہے
03:52اور بشرا بی بی نے کپڑے فیملی کو دیئے
03:55تاکہ گھر پر دھو کر واپس لائے جائیں
03:56لیکن جیل انتظامیہ نے وہ کپڑے باہر تک نہیں آنے دیئے
04:01ملاقاتوں پر بھی پابندیاں عید کر دی گئی ہیں
04:04دو ہفتے بعد خان صاحب سے ملاقات ہوئی
04:06اور فیملی سے ایک ماہ سے زائد
04:08عرصے کے بعد ملاقات
04:10اس وقت ممکن ہو سکی
04:12جب بی بی نے بھوک ارتال کی
04:14اب یہ جو ہے وہ
04:16بشرا بی بی نے بھوک ارتال کی
04:18اس کے بعد ان کی ملاقات کروائے گی
04:19ان کی فیملی سے
04:20میں نے آپ کو پہلے بتایا کہ
04:21صورتحال بہت مشکل
04:23بہت مشکلات پیدا کر دی گئی ہیں
04:25عمران خان صاحب اور ان کی
04:27اہلیہ کے لیے اور لگتار
04:29مشکلات بڑھائی جا رہی ہیں
04:31آج کے دن میں دوبارہ سے
04:33عڈیالہ جیل میں عمران خان صاحب سے
04:36ملاقات کا دن ہے
04:37کیونکہ جمرات کا دن ہے
04:38جمرات والے دن بھی ملاقاتیں ہوتی ہیں
04:39منگل کو اور جمرات کو
04:40اور آج دو مزید صحافیوں کا نام بھی
04:44ڈالا گیا ملاقات کی لسٹ میں
04:45جن میں ایک عصدالہ خان ہے
04:47اور دوسرے بشارت راجہ صاحب ہیں
04:49لیکن پچھلے کافی عرصے سے
04:52کوشش کی جاری ہے صحافیوں کی جانب سے بھی
04:54اور پاکستان تحریک انصاف کے
04:57لوگوں کی جانب سے بھی
04:58کہ عدالتی احکامات کے مطابق
05:00ان کی جیل میں عمران خان صاحب سے
05:02ملاقات کروائی جائے
05:03لیکن عدالتی احکامات کو پسے پشت
05:06ڈالتے ہوئے
05:07نہ ہی عمران خان صاحب کی فیملی کی
05:08ملاقات کروائی جاتی ہے
05:09اور نہ ہی عمران خان صاحب کے جو
05:12ساتھی ہیں پولیٹیکل ان سے ملاقات
05:14کروائی جاتی ہے
05:15نہ ہی ان کے وقلہ کو عمران خان صاحب سے ملنے دیا جا رہا ہے
05:18یہ صورتحال ناظرین بنی ہوئی ہے
05:20اور ابھی جو لیٹسٹ خبر آئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ پھر
05:23جو توشا خانہ ٹو والا کیس چل رہا ہے
05:26اڈیالہ جیل کے اندر
05:28وہ دوبارہ سے اس کے اندر ایک تاریخ دے دی گئی
05:31اب کہہ دیا گیا جی پھر سماعت ملتوی ہوگی
05:33اب نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا
05:35یعنی یہ کیس گیارہ تاریخ کو لگنا تھا سماعت ملتوی ہوگی
05:38پندرہ تاریخ کو لگنا تھا سماعت ملتوی ہوگی
05:41انیس تاریخ کو لگنا تھا سماعت ملتوی ہوگی
05:44آج اکیس تاریخ ہے
05:45آج پھر کیس لگنا تھا سماعت ایک دفعہ پھر ملتوی ہوگی
05:49تو عمران خان صاحب کو آئیسولیٹ کیا جا رہا ہے
05:52کوشش کی جاری ہے ان کا کوئی سٹیٹمنٹ باہر نہ آئے
05:55وہ جو بات کرنا چاہتے ہیں وہ بات باہر نہ آئے
05:58اور بات باہر نہ ہے یہ کون چاہ رہا ہے ملٹری اسٹیبلشمنٹ چاہ رہی ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کو یہ لگتا ہے کہ اس وقت اگر عمران خان صاحب کے سٹیٹمنٹ باہر آتے ہیں تو ان کا براہ راست نقصان پاکستان کے فیلڈ مارشل آسیم منیر صاحب کو ہوگا
06:11اب پاکستان میں جو اسٹیبلشمنٹ کی مقمولیت ہے وہ تو آپ کے سامنے ہیں لوگ انہیں روزانہ برا برا کہہ رہے ہیں وہ ساری کوششیں کرنے کے باوجود عالمی صدہ کے اوپر پورا ہر طرح کا کمپرومائز کرنے کے باوجود جو کچھ ان کے پلے تھا انہوں نے امریکہ کے سامنے کمپرومائز کیا عالمی صدہ بھی کمپرومائز کیا پاکستان کے وسائل تک بیچ دیئے ہر چیز گڑوی رکھنے کے لیے تیار ہو گئے لیکن انہیں مقمولیت نہیں ملی کیونکہ پاکست
06:41باوجود آرمی جیب نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایک سال کے اندر معیشت کو بلکل ٹھیک کر دیں گے ان کا کام ہی نہیں ہے بندہ کیا ان سے شکوا کرے بھی انہیں علبے نہیں پتا معیشت کی تو وہ کیسے ٹھیک کر سکتے ہیں معیشت کو ایک سال میں انہوں نے دعویٰ کی ادھا ٹھیک کر دیں گے آج دھائی سال ہونے کو آگئے ہیں معیشت کا مزید بڑا غرق ہو گیا ہے آپ دیکھیں کہ پینٹالیس فیصد پاکستانی غربت کی لکیڑ سے نیچے چلے گئے پہلے تو نہیں
07:11پاکستان میں جو غربت کا اضافہ ہو گیا جو بینوزگاری کا اضافہ ہو گیا پاکستان میں جو انڈسٹری بند ہو رہی ہے پہلے تو ایسا نہیں تھا ریکارڈ ٹیکسز آپ لے رہے ہیں مہنگائی بڑھتے بڑھتے کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے پہلے تو ایسا نہیں تھا زرے مبادلہ کے جو دخائر ہے ان میں سارا پیسہ دوست ملکوں کا پڑھا ہوا ہے پہلے تو ایسا نہیں تھا تو یہ ساری تباہی گزشتہ چند سالوں میں ہوئی ہے اور اس تباہی کی ذمہ د
07:41حالات ٹھیک کرنے کی تو کپیسٹی ہے نہیں نالائک ہے نکمہ ایموٹی گھوپڑی ہے تو حالات ٹھیک تو کر نہیں سکتے جو حالات ٹھیک کر سکتا ہے یا اس کی نشاندہ ہی کر سکتا ہے اس کو یا تو جیل میں ڈالو یا سب کی آوازیں بند کر دو اب ایک اور کہانی دوبارہ سے ری لانچ کی گئی جب بھی کبھی اسٹیبلشمنٹ کا برا وقت آتا ہے نا تو بہت سارے ٹاؤٹ ایکٹیویٹ ہو جاتے ہیں اب کہانی یہ سنائی گئی کہ عمران خان صاحب پہ جو آخری دن تھا و
08:11کہیں ان کے اوپر ٹورچر کیا گیا تھا یہ کہانی پہلے بھی سنائی گئی تھی یہ کہا گیا تھا کہ جناب نو اور ناس اپریل کی رات کو عمران خان صاحب جناب نو اپریل کی رات کو موجود تھے اور وہاں پہ کوئی ہیلیکوپٹر اترے آرمی کے وہ لوگ آئے جناب انہوں نے آگے عمران خان پہ ٹورچر کر دیا اور تب تو یہ بھی کہانیاں سنائی گئیں تھیں کہ عمران خان کے چیرے پہ زخم ہیں تو جناب علی عمران خان صاحب جو ہیں وہ میڈیا کے سامنے نہیں آسکتے تو مہادہ ع
08:41مہیت میردادہ صاحب بھی تھے اور شہید عرشہ شریف بھی تھے سابر شاکر بھائی بھی تھے اس میں جمیل فاروقی صاحب تھے فریہ عدریس صاحبہ تھی اور ایک جنرلسٹ اور بھی تھے یعنی ہم کچھ سات جنرلسٹ اس رات کو وہاں پہ موجود تھے مہی اچھی طرح یاد ہے اور عمران خان صاحب نے ہمیں بلائیتہ سائفر دکھانے کے لیے اور سائفر ہم نہ دیکھ لیں اس کے لیے پوری کی پوری اسٹیبلشمنٹ ایکٹیو ہوئی تھی پھر ایک بیرو گریڈ ماں سے
09:11ہمیں سائفر دکھانے کے لیے جو اپروول ہے وہ کیبنٹ کی چاہیے تھی تو عمران خان صاحب نے کیبنٹ کے اندر وہ اپروول اسی دن دلوائی تھی کہ یہ سائفر ان صافیوں کو دکھایا جائے تو میں اور میں شامل دام سائفر دیکھنے گئے تھے عمران خان صاحب سے ہماری ملاقات بھی ہوئی تھی میں نے وہ آپ کو بتایا بھی ہے پہلے بھی لیکن وہاں اسٹیبلشمنٹ نے پورا زور لگایا اور سائفر کو وہاں سے نکلوا دیا سب سے آخر تک میں اور شہید عرشت شریف انتظار کرتا ر
09:41گئے ہیں تو شہباز گل صاحب نے پھر نکالی وہ چیزیں بھائر جو اس سے پہلے وہ نہیں بتاتے تھے اور انہیں بتانی پڑ گئیں گے وہ گوائیں وہ اس رات وہاں پہ موجود تھے مراد سعید بھی موجود تھے کچھ اور لوگ بھی موجود تھے تو شہباز گل نے پور کھول دیا کہ جناب ندیم انجم صاحب ملنے آئے تھے یہ ملنے ہی آئے تھے کوئی ہیلیکوپٹر آ کے نہیں اترا تھا اور کوئی اس طرح کا واقعہ نہیں ہوئے تھا میرے سامنے عمران خان صاحب گئے ہیں بھلے چنگ
10:11یا اس سے کوئی چیز چھین لی گئی ہے یا وہ تھکا ہو جانے جرنل باجوہ جب اپنی سٹک حوالے کر رہے تھے آسم منیر صاحب کے تو ایسا لگتا تھا کہ مرگی کا دورہ پر جائے گا ایسا لگتا تھا کہ ابھی گر جائیں گے چلتے چلتے یہ دیکھیں نا آپ ذرا یہ ہلکی دی ویڈیو دکھائیں ذرا یہ دیکھیں جب جرنل باجوہ جا رہے ہیں سٹک دینے کے لیے جرنل آسم منیر کو تو ایسا لگتا تھا کہ مرگی کا دورہ پر جائے گا یہ گئ
10:41وہ ایسے ایک شیر کی طرح نکلا ایک مرد کی طرح یعنی اس کو فکر نہیں تھی اقتدار کا اس کو پرواہ نہیں تھا اس کو ایک لڑنے کے لیے نئی لڑائی مل گئی تھی اور اس نے کہا جی میں یہ لڑائی لڑوں گا اس کیابلشمنٹ کے ساتھ ایسے تو بھی ایسے ہی تھی تو یہ بات اب شہباز گل صاحب نے بتائی کہ جناب وہ آئے ضرور تھے لیکن انہوں نے سائفر کے معاملے پر ایک ریکویسٹ کی تو عمران خان صاحب نے کہا کہ آپ نے چوروں کو لاکر مسلط کر دیا ہے اب مجھے کس م
11:11موجود تھے بلکہ عمران خان کے جانے کے بعد میں نے وہی پہ کھڑے ہو کے ایک وی لاغ کیا تھا اسی وزیراعظم ہاؤس میں اور پھر میں وہاں سے نکلا تھا کیونکہ میں اسلام آباد بھی میرا گھر نہیں ہے نہ سٹوڈیو تھا تو میں نے وہی سے ایک وی لاغ کیا اور پھر میں وہاں سے چلا گیا تھا تو یہ مجھے اچھی طرح یاد ہے یہ جھوٹی کہانیاں پھیلائی جا رہی ہیں پہلے بھی یہ پھیلائی گئی ہیں یہ بکا ہوا سادہ دوبارہ دوبارہ سے بیچنے کے لیے لے آتے ہیں محمود خان
11:41نہیں آتی آپ لوگوں نے ڈی چوک پر نہتے معصوم بچوں کے سروں پر گولیاں ماری اگر یہاں کسی خارجی نے قبضہ کیا ہوتا وہ ہمارے ساتھ یہی کرتے بچیوں کی بے عزت ہی کرتے بڑوں کے کپڑے اتارتے یہی کام آپ لوگوں نے اپنے ملک کے بچوں کے ساتھ کیا آپ کو شرم آنی چاہیے یہ بات محمود خان اچکزئی صاحب نے کی انہیں نومینیٹ کیا امنان خان صاحب نے اپوزیشن لیڈر کے لیے اور اس کی کنفرمیشن بھی آئی ہے کہ محمود خ
12:11اپوزیشن کی جانب سے اور دیکھیں ایک تو وہ بلوچستانس ان کا تعلق ہے دوسرا وہ اپنا ایک سخت موقف بھی رکھ سکتے ہیں اور سخت بات بھی کر جاتے ہیں محمود خان اچکزئی صاحب اور پاکستان طریقہ انصاف کے اندر جو ہے بڑی سپورٹ ہو جائے گی اور طریقہ انصاف میں بھی کچھ لوگ ہیں جنہیں اپوزیشن لیڈر بنایا جا سکتا تھا لیکن طریقہ انصاف میں بہت سارے اقتلافات پیدا ہو رہے تھے اپوزیشن لیڈر کی سیٹ کو لے کر اور بہت سارے لو
12:41سٹیٹمنٹ بھی دے رہے تھے کہ میرا شاید نمبر لگ جائے میں بن جاؤں اپوزیشن لیڈر لیکن طریقہ انصاف کا جو بھی بندہ بنے گا اگلے ایک ڈیٹ میں اس کو بھی فارق کر دیں گے لہذا محمود اچکزئی صاحب کو بنایا گیا کہ جناب ان کو بنا دیتے ہیں پھر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے تو محمود اچکزئی صاحب کا یہ سٹیٹمنٹ میں نے آپ کے سامنے رکھا ایک اور ناظرین رولہ پڑ گیا ہے یہ جو چھبیسویں آئینی ترمیم کا معاملہ ہے نا یہ
13:11اور ان کا یہ فیصلہ آ چکا ہے اب آئینے پاکستان اور قارون کے مطابق جو ججز کمیٹی ہے اس کا فیصلے پر عمل ہونا تھا اور عمل درامت ایسے ہونا تھا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل کورٹ نے سننا تھا لیکن یا یا فریدی صاحب نے اس کو منیج کر لیا تھا اب تھوڑے دن پہلے یا یا فریدی صاحب نے اس کے بارے میں کچھ معلومات شیئر کی جب ڈسکشن دی اس کو باہر نکالا منٹس کو تو اب جسٹس منیب اختر صاحب نے اور جسٹس منصور د
13:41یا یا فریدی صاحب کو خط لکھ دیا دونوں ججز نے منٹس کے رد میں اپنا مواقف اب پیش کیا ہے جو یا یا فریدی صاحب نے کیا اس کا جواب تو آنا تھا انہوں نے کہا بطار کمیٹی میمران ہم نے چھبیسمی ترمیم پر فل کورٹ کا فیصلہ کیا تھا کمیٹی فیصلے کی خلاف ورزی میں کیس مقرر نہیں کیا گیا تھا یعنی جو ہم نے فیصلہ کیا تھا یہ کیس لگنا چاہیے تھا قانونی طور پر اکتیز اکدوبر دوہزار چوبیس کو بطار کمیٹی ہم نے ف
14:11کیس نہ لگنے پر چار دوہمر کو دوبارہ ہم نے خط بھی لکھا تھا کہ کیس لگنا چاہیے ہمارے فیصلے پر چیف جسٹس کے لکھے دونوں نوٹس ہمیں نہیں دیئے گئے چیف جسٹس نے اپنا نوٹ جوڈیشل کمیشن کی میٹنگ میں پڑا جوڈیشل کمیشن اس معاملے پر مجاد فورم ہی نہیں تھا اندازہ کریں اب آپ
14:30منٹس میں کہا گیا کہ بینچ تشکیل کا معاملہ آئینی بینچ اور آئینی کمیٹی کو بھیجا گیا اب آپ یہ اندازہ کریں کہ منٹس میں یہ کہا گیا کہ یہ جو بینچ تشکیل دیے جانا ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ فل کوٹ بنایا جائے جو چبیسویں آئینی ترمیم کو سارے جج بیٹھ کے سنے کہ یہ ٹھیک ہوئی ہے یا غلط ہوئی ہے اس میں کہا گیا کہ یہ معاملہ آئینی بینچ اور آئینی کمیٹی کو بھیجا گیا یہ اس میں دعویٰ کیا گیا اور حالانکہ اس وقت آئینی بینچ
15:00یہ تو کلیبری فونڈ علا کام نہیں ہو گیا
15:02کہ فونڈ بعد میں بنا
15:04اور تحریر پہلے آگئی اس فونڈ کے اندر
15:07اور
15:08ٹرسٹ ڈیڈ جو ہے وہ پہلے سے لکھی گئی
15:10فونڈ بعد میں مارکیٹ میں آیا
15:11یہ تو وہی کام ہو گیا نا
15:13کہ آئینی بینچ
15:14اور آئینی کمیٹی وہ بعد میں بنی
15:17لیکن معاملہ ان کو پہلے چلا گیا
15:19کیونکہ یہ معاملہ تو پرانا تھا
15:22اس وقت یہ دونوں چیزیں تھی ہی نہیں
15:23اور چیپ جسٹس آپ نے دعویٰ کر دیا
15:25دونوں چیزیں ان کو بیجی ہیں
15:26تو ناظرین سپریم کورٹ اور پاکستان میں
15:28ایک معاملہ لگاتار لٹک رہا ہے
15:30اور یہ گلے کی ہڈی بنے گا
15:33یہ نظام اس کے اندر پھس جائے گا
15:34جس دن بھی عوام بائر آئے اور عوامی طاقت کا مظاہرہ ہوا
15:37جب بھی کبھی وکلا کھڑے ہو گئے
15:39ججس کھڑے ہو گئے
15:40ان سوالوں کا جواب دینا پڑے گا
15:42کیونکہ ان سوالوں کا جواب ابھی تک کسی کے پاس
15:45نہیں ہے
15:46ناظرین ایک مرتضی سلنگی صاحب ہے
15:48یہ شاید آپ نے نے کہیں دیکھا ہو
15:50یہ پاکستان کے انفرمیشن منسٹر بھی بنائے گئے تھے
15:53نگران سیٹ اپ میں
15:54اور ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک جنرلسٹ ہے
15:57اس سے پہلے انہیں پاکستان پیفت پارٹی کے دور میں نوازا گیا
16:00یہ ریڈیو پاکستان میں بھی رہے
16:03ان کے اوپر الزامات بھی لگے
16:04خواتین کو حراسہ کرنے کے
16:05اور دیگر سکینڈلز کے اندر یہ موجود رہے پہلے بھی
16:08پھر یہ زرداری صاحب کے بہت قریبی ہیں
16:11بہت پیار محبت ہے ان کے ساتھ
16:14تو یہ بطور صحافی کے بحیروپ میں کام کرتے ہیں
16:17جب مجھے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا
16:19تو بین الاقوامی میڈیا نے ان سے یہ سوالات کیے جب
16:22کہ عمران ریاض کھاں غائب ہے
16:23تو انہیں نے کہا جی وہ تو صحافی نہیں ہے
16:25وہ تو جنرلسٹی نہیں ہے
16:26میں نے آج تک اپنی زندگی میں
16:28کسی بھی حکومت سے ایک ٹکے کا فائدہ نہیں لیا
16:31آپ دیکھ لیں
16:32جب سے میں صحافت کر رہا ہوں
16:34کہ چار بانچ حکومتیں بدل گئی ہیں
16:35کوئی ایک حکومت آج تک یہ دعویٰ نہیں کر سکتی
16:38کہ میں نے ان سے کوئی ایک ٹکے کا کام کروایا ہو
16:40یا کہا ہو کہ یہ کام کر دو
16:41کبھی زندگی میں ایسا نہیں ہوا
16:43ایون میں نے کبھی بھی
16:46کوئی غیر ملکی دورہ بھی نہیں کیا
16:48بہت سارے صحافی جاتے ہیں
16:50غیر ملکی دوروں پر جاتے ہیں
16:51مجھے عمران خان صاحب نے کہا تھا
16:52کہ رشیہ کا دورہ آ رہا ہے غیر ملکی
16:54اور صحافی بھی جارے ہیں
16:55آپ بھی جائیں
16:55میں نے ان سے بھی ریکویسٹ کر دی تھی
16:56کہ میں نہیں جاؤں گا
16:58آپ مجھے تھوڑا رسا پہلے بتاتے ہیں
16:59میں اپنے خرچے پر وہاں پہنچ جاتا
17:01تو میں سرکاری خرچے کے اوپر ٹریول بھی نہیں کرتا
17:03اور میں نے کوئی اصول اپنے زندگی میں رکھے
17:05میں نے کبھی کوئی کام نہیں کہا
17:07انٹرسٹنگ بات یہ ہے
17:08کہ یہ آدمی جو بار بار سرکاری عوضہ لیتا ہے
17:12جیسے یہ ہو گیا
17:13جیسے وہ ہو گیا
17:14کیا نام ہے اس کا
17:16اب سارا عالم
17:17یہ لوگ سرکاری عوضوں پہ بیٹھ جاتے ہیں
17:19بار بار بعد میں آگے صحافی بن جاتے ہیں
17:21اور پھر یہ
17:22وہ ایک دوسرے کوکتداریوں کے سرٹیفیکٹ بھی بانٹتے ہیں
17:26پھر یہ سرٹیفیکٹ بھی دیتے ہیں
17:28کہ یہ صحافی ہے اور یہ نہیں ہے
17:30یعنی جو آدمی ہر تھوڑے عرصے کے بعد
17:32جب بھی پیپل پارٹی کی حکومت آئے
17:34وہ بینیفیشلی بن جائے
17:35اب صدر پاکستان کا ترجمان بن گیا
17:36اور ترجمان بن گیا
17:39بڑی اچھی بات ہے
17:40مجھ تو بڑی خوشی ہو رہی ہے اس بات پہ
17:42کہ لوگ خود ہی ایکسپوز ہو جاتے ہیں
17:43ان کی اصل شکل خود ہی سامنے آ جاتی ہے
17:46سارا دن یہ سوشل میڈیا کے اوبر
17:48گالم گلوچ کرتا ہے
17:49کبھی اس کو گالی دیتا ہے
17:50کبھی اس کو گالی دیتا ہے
17:51کبھی اس کو گالی دیتا ہے
17:52جیسی تربیت ہوگی
17:53یہ انسان ویسا ہی کرے گا نا
17:55جیسا لکمہ انسان کے اندر جائے گا
17:57وہی انسان کے اندر سے باہر آئے گا
17:59سارا دن لوگوں کو گندی گالیاں دیتا ہے
18:01سارا دن لوگوں کی توہین کرتا ہے
18:03سارا دن یہ آدمی نفرت بانٹا ہے
18:05اور نفرت بیچتا ہے
18:07اور صحافیوں کی
18:08خال کے اندر چھپا ہوا
18:10ایک ایسا آدمی ہے
18:11جو ایک پولٹیکل پارٹی کا ایسا ورکر ہے
18:14جو بار بار عوضے بھی لے لیتا ہے
18:15کبھی ایک عوضہ
18:16کبھی دوسرا عوضہ
18:17کبھی تیسرا عوضہ
18:18اور اب ترجمان صدر پاکستان
18:20تو لوگ کیسے ایکسپوز ہوتے ہیں
18:22ناظرین بارشوں کا ایک بڑا خوفناک
18:24نیا سپیل آ رہا ہے
18:25پنجاب میں
18:27بلوچستان میں
18:28اور سندھ میں
18:28یہ بائیس اگست اور تئیس اگست سے پنجاب میں
18:32اور اس سے پہلے جو ہے
18:33ابھی اکیس بائیس اگست کے بعد
18:35یہ بلوچستان اور سندھ کے بارے میں کہا جا رہا ہے
18:37کہ وہاں بہت دیز بارشیں ہو سکتی ہیں
18:39اور
18:40کلاوڈ برسٹ کے خطشات کا اظہار کیا جا رہا ہے
18:43کہ دوبارہ سے کوئی اس طرح کی صورتحال بن سکتی ہے
18:46یہ ایک کلاوڈ برسٹ ہوتا کیا ہے
18:48ادھر میں تھوڑا سا آج آپ کو سمجھا دیتا ہوں
18:50بہت سارے لوگ یہ پوچھ رہے تھے
18:52کہ یہ آسان الفاظ میں اگر بتایا جائے
18:54کہ یہ کلاوڈ برسٹ ہے کیا
18:55یہ ایسا نہیں ہے کہ بادل پھٹ جاتے ہیں
18:57اس طرح کی چیز نہیں ہے
18:59یہ صرف برسٹ اس کو اس لیے کہتے ہیں کہ
19:00ایک دم بچھاڑ ہوتی ہے
19:02بہت زیادہ بارش کی
19:03اس کی سادہ definition میں آپ کو بتاتا ہوں
19:06کہ وہ بارش جو کئی ہفتوں میں ہونی ہوتی ہے
19:08یعنی کئی بارشوں کے اندر جو پانی آنا ہوتا ہے
19:12وہ اگر اچانک چند منٹوں میں
19:13یا چند گھنٹوں میں آ جائے
19:14تو اسے ایک کلاوڈ برسٹ کہتے ہیں
19:16مثال کے طور پر
19:18اس کا ایک سیٹ پیٹرن رکھا گیا ہے
19:20کہ اگر سو میلی میٹر بارش
19:22نارملی یہ سو میلی میٹر بارش جو ہے نا
19:24وہ بہت لمبے
19:25ٹائم کے بیچ میں ہوتی ہے
19:27ایک ساتھ نہیں ہوتی
19:28اگر ایک گھنٹے کے اندر اندر
19:30بیس سے تیس سکوائر کلومیٹر کے ریڈیس میں
19:34یعنی بیس سے تیس کلومیٹر کا ایک ریڈیس ہے
19:37اس علاقے میں
19:38ایک مقصود علاقے کے اندر
19:40جو ایک محدود ہے
19:41بیس سے تیس کلومیٹر کا
19:48اسے کلاوڈ برس کہتے ہیں
19:49یعنی اس میں پانی بہت تیزی سے آتا ہے
19:53یہ اس طرح پانی نہیں آتا
19:55جس طرح نارمل بارش کے اندر
19:56کتروں کے ساتھ تھوڑا تھوڑا پانی آتا ہے
19:57وہ نہیں ہوتا
19:58اور یہ ہوتی کیوں ہے
19:59یہ کلومیٹ چینج کی وجہ سے ہوتی ہے
20:01دیکھیں سمندروں اور دریاؤں کا پانی جو ہے نا
20:03جب گرمی بڑھتی ہے تو آبی بخارات بنتا ہے
20:06یہ پانی جو ہے
20:08یہ ہوا کے اندر آ جاتا ہے بخارات بن کے
20:10اور ہوا میں نمی پیدا ہوتی ہے
20:13اب جو ہوا گرم ہوتی ہے
20:15وہ گرمی کی وجہ سے وہ اوپر اٹھتی ہے
20:17ہوا کبھی بھی سیدھی اوپر نہیں جاتی
20:19یہ تھنڈے علاقے کی طرف جاتی ہے
20:20تو یہ پہاڑی علاقوں کی طرف موف کرتی ہے ہوا
20:23لگاتار نیچے سے گرمی کی وجہ سے
20:26ایویپوریشن ہوتی رہتی ہے
20:27آبی بخارات بن کے پانی اوپر آتا رہتا ہے ہوا میں
20:29اور تھنڈے علاقوں کی طرف بڑھتا جاتا ہے
20:31بڑھتا جاتا ہے
20:32اب جتنی گرمی پنجاب کے علاقوں میں بڑھ چکی ہے
20:37جتنی گرمی خیبر پکتون کھا کے علاقوں میں بڑھ چکی ہے
20:40سمندر سے لے کے دریاؤں تک
20:41اور جیلوں تک
20:42ہر جگہ سے جس طرح آبی بخارات اٹھ رہے ہیں
20:45اور بہت تیزی سے
20:46ہوا کے اندر آبی بخارات
20:48گرم ہوا کے ساتھ یہ تھنڈے علاقے کی طرف موف کر رہے ہیں
20:51نارملی جب یہ ایک سرٹن لیول تک
20:53تھنڈے ہوتے ہیں تو اس کے بعد
20:54ایک عمل کے ذریعے بادل بن جاتا ہے
20:56اور وہ بادل وقتن پر وقتن
20:58جب تھنڈک اسے ملتی ہے تو وہ برستا ہے
21:00پہاڑوں پر مختلف علاقوں میں
21:01جہاں اسے تھنڈک ملتی ہے وہ برستا ہے
21:03لیکن یہاں پہ یہ ہو رہا ہے
21:06کہ گرمی اتنی شدید بڑھ گئی ہے
21:08درختوں کی کٹائی کی وجہ سے
21:09اور اتنی زیادہ گرمی ہو گئی ہے
21:12گلوبل وارمنگ کی وجہ سے
21:14یا جسے آپ کہہ دیں
21:16کلائمیٹ چینج کی وجہ سے
21:17گرمی پاکستان کے ریجن میں
21:19ایڈیا کے ریجن میں
21:20ایون اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے
21:21کہ نیچے سے بہت تیزی سے
21:24آبی بخارات جا رہے ہیں
21:25لگاتا تھنڈے علاقوں کی طرف
21:27اور اس سے پہلے کہ وہاں جا کے
21:29جو پہلے سے موجود آبی بخارات ہیں
21:31وہ تھنڈے ہو
21:32یہ نیچے سے اور زیادہ سپلائی ہوتی ہے
21:34تو جو سپلائی ہے
21:36وہ اتنی زیادہ گرم ہوا کی بڑھ گئی ہے
21:38کہ وہ جو بادل بننے کا پروسس ہے
21:40اور بارش ہونے کا پروسس ہے
21:41وہ ایک ٹائم لیمٹ ٹک کے لیے رک جاتا ہے
21:44اور پھر اتنے زیادہ بادل بن جاتے ہیں
21:47اتنے زیادہ بادل بن جاتے ہیں
21:48ان پہاڑوں کی چوٹیوں کے قریب
21:49کہ پھر وہ ایک دم پانی برستا ہے
21:51اور وہ ہے کلاود برست
21:54یہ سیچویشن گزشتہ
21:56چند سالوں سے ہم دیکھ رہے ہیں
21:59اور اب یہ سیچویشن بڑھتی چلی جا رہی ہے
22:01بڑھتی چلی جا رہی ہے
22:03اس کے اندر رستے میں جو بھی آتا ہے پانی
22:05اس کو بہا کر لے جاتا ہے
22:06یعنی وہ پانی بارش کا
22:08جو کئی ہفتوں تک بینا چاہیے تھا
22:10آہستہ آہستہ آنا چاہیے تھا
22:11اسے زمینیں سہراب ہونی چاہیے تھیں
22:13اس پانی کو جمع کیا جا سکتا تھا
22:16وہ آپ کے دریاؤں کے اندر بیہ سکتا تھا
22:17نیروں میں جا سکتا تھا
22:19وہ سارا کا سارا پانی
22:20ایک شدت کے ساتھ ایک دم آتا ہے
22:22چند منٹوں کے اندر کلاوڈ برسٹ ہوتا ہے
22:24ایک ڈیٹھ دو گھنٹے کی ساری کہانی ہے
22:26اور وہ پانی بے کے نکل جاتا ہے
22:28نہ وہ پانی کسی کام آتا ہے
22:30بلکہ وہ ایک تباہی اور بربادی کر دیتا ہے
22:32اور اس پانی سے آپ کا زمینی کٹاؤ ہو جاتا ہے
22:34بہت زیادہ تباہی ہو جاتی ہے
22:36لوگوں کے گھر بہ جاتے ہیں
22:37جو پاکستانیوں کے ساتھ اس وقت ہو رہا ہے
22:39میں نیکسٹ وی لاغ میں
22:41کچھ چیزیں آپ کے سامنے رکھوں گا
22:42کہ پاکستانیوں کو کن چیزوں کی ضرورت ہے
22:45جہاں پہ یہ بڑا خوفناک فلڈ آیا ہوا ہے
22:47اور میں نے کچھ صحافیوں سے بات چیت کی ہے
22:49وہ بھی آپ کے ساتھ میں شیئر کروں گا
22:51اگلے وی لاغ میں
22:52کلائمٹ چینج ایک بڑا مسئلہ ہے
22:54اور ہمیں جتنے ہو سکیں درخت لگانے چاہیے
22:58کلائمٹ چینج سے نمٹنا
22:59اس پورے ریجن کا
23:01ایک بڑا اہم ایشو ہے
23:03اور سب کو مل کر اس سے نمٹنا پڑے گا
23:05اب تک لئے اتنے اپنا خیال رکھئے گا
23:07اپنے چینجل کا بھی
23:07اللہ حافظ
Be the first to comment