00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:30شیر میرا پیچھا کرتا آ رہا ہے
00:31میں نے دیکھا کہ ایک درخت کی جڑے لٹک رہی ہیں
00:34میں شیر سے بچنے کے لئے اس درخت کی جڑ کو پکڑ کر کونے میں اترنے لگا
00:39اتنے میں شیر کونے کے موپر آ گیا اور وہ نہایت غصے میں اوپر سے مجھے گھولنے لگا
00:45شاید وہ اس انتظار میں تھا کہ میں اوپر آؤں تو وہ مجھے اپنا لکمہ بنا لے
00:49اندازہ لگانے کے لئے کہ کونے میں کتنا پانی ہے
00:53میں نے جو نیچے نگاہ ڈالی تو لڑ سے اٹھا کیونکہ وہ کونہ خوشک تھا
00:58اس میں پانی کی وجہ ایک نہایت خوفناک ازدہا تھا جو مو پھاڑے
01:01اس انتظار میں تھا کہ میں نیچے اتروں اور وہ مجھے ہڑپ کر لی جائے
01:05کونے کے مو پر بھوکا شیر اور تہم میں خوفناک ازدہا
01:09دونوں مجھے نگر لینے کے لئے تیار
01:12درخت کی جڑ کی ایک شاہ کی میرے واحد سہارہ تھی
01:15میں نے اسے مضبوطی سے تھام لیا
01:17اور تقدیر کے فیصلے کا انتظار کرنے لگا
01:20تھوڑی دیر بعد جو میں نے نگاہ اٹھائی
01:23تو ایسا منظر دیکھا کہ میں کام اٹھا
01:25اور موت میری آنکھوں کے سامنے مجھے دکھائی دینے لگی
01:28کیا دیکھا کہ ایک صوفیت اور ایک سیاہ پرندہ ہے
01:31دونوں کونے میں لٹکی ہوئی اس جڑ کو کتر رہے ہیں
01:35اب میری موت یقینی تھی
01:37کیونکہ جس تیزی سے وہ پرندے اس شاہ کو کتر رہے تھے
01:41بہت جلد وہ شاک ٹو جاتی اور میں دھڑم سے ازدہا کے موہ میں چلا جاتا
01:44میں سخت اس طرح میں تھا کہ میری آنکھ کھل گئی
01:49جسم پر لرزہ تاری تھا
01:51اور سارا بدن پسینے میں شرابور
01:53میں بھاگا بھاگا آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں
01:55خدا کے لئے مجھے اس خواب کی تعبیر بدلائیے
01:58کہ کون سی مصیبت آنے والی ہے
02:00حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آنکھیں
02:03اس کا خواب سن کر چمک اٹھیں
02:05فرمایا یہ خواب نہیں حقیقت ہے
02:08سن لو کہ وہ شیر فرشتہ عجل ہے
02:11جو ہر وقت تیری گھات میں لگا ہوا ہے
02:13درخت جس کی جڑ کو پکڑ کر
02:16تو لٹکا ہوا تھا
02:17یہ تیرا تارے حیات ہے
02:19اور دو سفید اور سیاہ پرنجے
02:23دن اور رات ہیں جو تیری زندگی کی محلت
02:25کو کم کرتے جا رہی ہیں
02:27کون کی تہہ میں جو ازدہا مو کھولے ہوئے ہیں
02:30تجھے نگل لینے کے انتظار میں
02:32یہ ازدہا نہیں تیری قبر ہے
02:34جس میں تجھے ایک نیک دن
02:36ضرور گر جانا ہے
Comments