Skip to playerSkip to main content
آپ نے جو جملہ لکھا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت کی عزت، حیاء اور پردہ ایک قیمتی خزانے کی طرح ہے، جسے چھپانا اور محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ اسلام میں عورت کی حفاظت، عزت اور پاکدامنی کے لیے پردہ اور حیاء کا حکم دیا گیا ہے۔ کوئی بھی ایسا عمل، لباس، یا انداز جو نامحرم مرد کو اپنی طرف مائل کرے، جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ فتنہ اور گناہ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

تفصیل

1. عورت کی مثال خزانے سے کیوں؟

خزانہ قیمتی ہوتا ہے اور اسے چھپایا جاتا ہے تاکہ کوئی چوری نہ کرے۔

اسی طرح عورت کی عزت اور حیاء ایسی نعمت ہے جس کی حفاظت پردے اور شریعت کے احکام سے ہوتی ہے۔



2. پردے کا حکم قرآن میں:
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

> "وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا"
(سورۃ النور: 31)
ترجمہ: "اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں، اپنی عصمت کی حفاظت کریں، اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو خود ظاہر ہو جائے۔"




3. نامحرم کو متوجہ کرنا کیوں منع ہے؟

یہ شیطانی وسوسوں اور برے خیالات کو جنم دیتا ہے۔

اس سے معاشرے میں بے حیائی اور فتنہ بڑھتا ہے۔



4. لباس اور عمل کا اثر:

لباس شریعت کے مطابق ڈھیلا، بدن چھپانے والا اور غیر شفاف ہونا چاہیے۔

انداز و اطوار میں بھی نرمی، وقار اور حیا ہونی چاہیے۔



5. عورت کی اصل خوبصورتی:

عورت کی اصل خوبصورتی اس کی حیاء، پردہ، اور اچھے اخلاق میں ہے، نہ کہ ظاہری نمائش میں۔

#عزت_عورت_کی #حیا_ایمان_کا_حصہ #پردہ_فرض_ہے #اسلامی_تعلیمات #عورت_کا_خزانہ #نامحرم_سے_حفاظت #فتنہ_سے_بچاؤ #پاکیزگی #شرم_و_حیا #اسلامی_زندگی

Category

📚
Learning
Transcript
00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:02عن ابی حریرہ رضی اللہ تعالی عنہ قال
00:05قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
00:09طیب الرجال ما ظہر ریحوه وخفی لونه
00:13وطیب النساء ما ظہر لونه وخفی ریحوه
00:18رواہ الدمدی
00:19نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
00:24مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی محق پھیل رہی ہو
00:27اور رنگ چھپا ہوا ہو
00:29اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے
00:32جس کا رنگ ظاہر ہو لیکن محق چھپی ہوئی ہو
00:35دوستو عورت پردہ کی چیز ہے
00:41عورت کا کوئی بھی ایسا کام کرنا
00:44جس سے لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں
00:47یہ درست نہیں ہے
00:48شریعت کی نظر میں پسندیدہ نہیں ہے
00:51اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
00:54نے ایک دوسری روایت میں ارشاد فرمایا
00:57کل عین زانیہ
00:59ہر آنکھ زناکار ہے
01:01اور فرمایا
01:02وَالْمَرْأَةُ اِذَا سْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ بِالْمَجْلِسْ فَهِيَ كَذَا وَكَذَا
01:07یعنی زانیہ
01:10کہ عورت جب خوشبو لگا کر مجلس کے پاس سے گزرے
01:13تو وہ بھی ایسی ایسی ہے
01:14یعنی وہ بھی زانیہ ہے
01:16آپ دیکھیں کس قدر سخت وعید ہے
01:19عورت کے لیے
01:21کہ وہ خوشبو لگا کر
01:22اس طرح بازار میں جائے
01:24مجلس میں نکلے
01:25جہاں غیر محرم مرد موجود ہیں
01:28تو اس لیے عورت کو ایسی خوشبو لگانا
01:31جسے مہک بہت زیادہ پھوٹ رہی ہو
01:34وہ صرف گھر میں شوہر کے لیے جائز ہے
01:37اس کے علاوہ بازار میں جاتے ہوئے
01:40کسی اور جگہ جاتے ہوئے
01:42محک والی خوشبو لگانا
01:43جسے محک بہت زیادہ پھوٹ رہی ہو
01:45لوگ اس خوشبو کی طرف متوجہ ہوں
01:47عورتوں کے لیے ایسا کرنا قطعاً جائز نہیں ہے
01:51نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
01:53بہت سختی سے منع فرمایا ہے
01:55ہمارے معاشرے میں دیکھا یہ گیا ہے
01:58کہ عام طور پر خواتین جب بازار کا رخ کرتی ہیں
02:01تو وہ خوشبو لگاتی ہیں
02:03بہت ساری خوشبو لگا لیتی ہیں
02:05جس سے لوگ ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں
02:07وہ کسی دکان پہ جائیں
02:09کسی اور جگہ پہ جائیں
02:10تو لوگ ان کے خوشبو کی وجہ سے
02:12ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں
02:13یاد رکھئے
02:14یہ بات شریعت کی نظر میں انتہائی ناپسندی دہ ہے
02:18اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
02:20بہت شدت کے ساتھ اس سے منع فرمایا ہے
02:23السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Comments

Recommended