Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:24بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30اور ہم یہاں تک پہنچے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب آپ عمرے کے لئے تشریف
00:38لے گر وہاں روک دیا گیا
00:39اور باقیدہ صلح ہدیبیہ مارز وجود پہ آیا جس میں یہ تیہ ہوا تھا کہ اس سال آپ واپس جائیں
00:45گے اگلے سال تشریف لائیں گے
00:47دس سال کا تقریباً امن معاہدہ ہوا اور ایک شق یہ بھی رکھی گئی کہ جو بھی مرد مکہ سے
00:54حضرت کر کے بھاگ کر مدینہ پہنچے گا
00:56اسے واپس کرنا ہوگا اور اگر کوئی آپ کے پاس سے آپ کا شخص ہمارے پاس آگیا بھاگ کر تو
01:02ہم واپس نہیں کریں گے
01:04اور اس پر یہ معاہدہ تیہ پایا
01:07اس کے بعد یہ بھی آپ کو بتایا تھا کہ جب کوئی حج یا عمرے کا احرام پہن لے اور
01:12کسی عذر کی بنا پر حج یا عمرے کی تلقی نہ کرے
01:15اور احرام اتارنا پڑ جائے ایسے شخص کو محصر کہتے ہیں
01:19تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اکرام بھی محصرین میں شامل ہوئے کیونکہ انہیں روک دیا تھا
01:25چنانچہ آپ نے جو قربانیاں ساتھ لائے تھے وہ قربانیاں کی گویا کے دم دیا اور احرام سے باہر تشریف
01:32لے آئے
01:32یہاں تک ہم نے بات بیان کر دی تھی
01:35جو بھائی بہن ہمارے ایسے ہیں
01:37ابھی درس بخاری کو جوائن کیا ہے
01:40یا پہلے ان کے کچھ پروگرامز نکل گئے ہیں
01:42تو میری گزارش ہے کہ آپ یوٹیوب پر جائیں
01:44اور اس سے پیچھے کے جو اپیسوڈز ہیں وہ انشاءاللہ ایر وائی جو ہمارا افیشل چینل ہے اس کے اوپر
01:51موجود ہوں گے
01:51ایر وائی کیو ٹی وی کا اس پر آپ ضرور ملحظہ فرمالے تاکہ ربد قائم ہو جائے
01:57اس کے بعد حراوی کہتے ہیں کہ پھر نو مومن عورتیں آئیں
02:03یعنی سرکار کی طرف آگئیں
02:05اب چونکہ معاہدہ تو یہ ہوا تھا کہ مرد آئے گا تو اس کو واپس کریں گے
02:09لہٰذا عورتوں کا استثناء تھا
02:12تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی
02:15کہ اے ایمان والو جب تمہارے پاس ایمان والی عورتیں حجرت کر کے آئیں
02:21تو تم ان کا امتحان لے لیا کرو
02:24سورہ ممتحانہ کی آیت نمبر دس ہے
02:28گویا کہ ان کا ذرا امتحان لو ایسا تو نہیں کہ
02:31حالت کفر میں بھاگ کر آئیں ہیں
02:33بلکہ مسلمان ہو کر آئیں ہیں
02:35اللہ رسول کی خاطر حجرت کی ہے
02:37تو بالکل ان کا تحفظ ضروری ہوگا
02:40راوی کہتے ہیں کہ پس حضرت عمر فاروخ رضی اللہ تعالی عنہ نے
02:44اس دن اپنی ان دو بیویوں کو طلاق دے دی
02:48جو مشرقہ تھی
02:50یعنی اس سے پہلے منع نہیں تھا مشرقہ سے نکاح
02:53لیکن پھر منع کیا گیا
02:55اس آیت کا اگلا حصہ جو ہے وہ یہ ہے
02:57کہ اللہ تعالی نے فرمایا
03:04اور اللہ تعالی نے مسلمانوں کو حکم دیا
03:08کہ وہ کافرہ عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ روکے رکھیں
03:12لہذا عمر فاروخ رضی اللہ تعالی عنہ نے دو عورتوں کو طلاق دے دی
03:16پھر ان میں سے ایک کے ساتھ معاویہ بن ابی سفیان نے نکاح کر لیا
03:21اور دوسرے کے ساتھ صفوان بن امیہ نے نکاح کیا
03:26پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی جانب لوڑ گئے
03:29پھر آپ کے پاس حضرت ابو بصیر آ گئے
03:33یہ قریش کے ایک برت تھے جو اسلام لا چکے تھے
03:37اب معایدہ کیا تھا کہ جو مسلمان ہو کر اس طرف آئے گا
03:41حجرت کر کے مکہ سے تو واپس کرنا ہوگا
03:44قریش نے ان کا مطالبہ کرنے کے لیے دو آدمیوں کو بھیجا
03:48پس انہوں نے کہا کہ آپ نے جو معایدہ ہم سے کیا ہے
03:52اس کے مطابق ابو بصیر کو ہمارے حوالے کر دیں
03:56نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بصیر کو ان دونوں کے حوالے کر دیا
04:01اب یہ ہے دیکھیں زبردست قسم کا آہد پورا کرنا
04:05کہ کیا نبی کریم بھی نہیں جانتے تھے
04:08کہ ان پر کس قدر وہاں ظلم ہو رہے ہیں مسلمانوں پر
04:11اور جو بھاگ کر آیا اس کو تو پھر اور سزائیں دیں گے
04:14لیکن اللہ کے نبی اللہ تعالیٰ کی عطا سے بڑے حکمتیں جانتے تھے
04:19اور بہرالاہد کا پورا کرنا یہ ایک عام آدمی کے لئے بھی لازم ہوتا ہے
04:23چاہے جائے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو سید الانبیاء ہیں
04:27وہ وعدہ خلافی کیسے کر سکتے تھے
04:29لہذا ان دو آدمیوں کے آپ نے ابو بصیر کو حوالے کر دیا
04:33وہ دونوں ان کو لے کر چلے حتیٰ کہ ذل حلیفہ پر پہنچ گئے
04:38یہ مدینے سے جب مکہ کی طرف آئیں
04:40تو میکات آتی ہے جہاں سے احرام پہن کے پھر آپ آگے جا سکتے ہیں
04:45اگر مکہ جانے کا ارادہ ہے
04:47وہاں تک وہ پہنچ گئے ذل حلیفہ تک
04:49پس وہ اتر کر اپنی کھجوروں کو کھانے لگے
04:53پھر حضرت ابو بصیر نے ان میں سے کسی ایک سے کہا
04:57کہ اے فلاں اللہ کی قسم میں دیکھ رہا ہوں
05:00کہ تمہاری یہ تلوار بہت امدہ ہے
05:03اس کے دوسرے ساتھی نے تلوار میان سے نکال لے
05:06اور کہاں کہ ہاں اللہ کی قسم یہ بہت امدہ تلوار ہے
05:09میں نے اس کا بارہا تجربہ کیا ہے
05:11تو حضرت ابو بصیر نے کہا
05:13کہ ذرہ مجھے دکھاؤ
05:14میں اس کا معاینہ کر لوں
05:17پھر اس شخص نے یہ تلوار
05:18ان کے حوالے کر دی
05:20آپ نے اس سے تلوار لے کر
05:22اسے اپنے قبضے میں کر لیا
05:24پھر اس تلوار کو
05:25اس شخص پر ایک ایسی
05:27اس تلوار سے ایسی ضرب لگائی
05:29کہ وہیں ٹھنڈا ہو گیا
05:31اور دوسرا مدینہ کی طرف بھاگ گیا
05:33حد تک مدینہ پہنچ گیا
05:35پھر وہ دوڑتا ہوا مسجد میں داخل ہوا
05:37تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
05:39نے اس کو دیکھ کر فرمایا
05:40کہ یہ شخص خوف زدہ ہے
05:43جب وہ رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
05:45تک پہنچا تو اس نے کہا
05:46کہ اللہ کی قسم
05:47میرا ساتھی قتل کر دیا گیا ہے
05:50اور بے شک میں بھی ضرور قتل کر دیا جاؤں گا
05:53پھر حضرت ابو بصیر بھی وہیں تشریف لے آئے
05:56پس انہوں نے کہا
05:57کہ اے اللہ کے نبی
05:58بے شک اللہ نے آپ کو
06:00آپ کے ذمہ سے بری کر دیا ہے
06:03آپ نے مجھے ان کی طرف واپس کر دیا تھا
06:05پھر اللہ نے مجھ کو ان سے نجات دے دی
06:08نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
06:10نے شات فرمایا
06:11کہ اس کی ماں پر افسوس ہو
06:12یعنی محاورتن سرکار نے فرمایا
06:14اگر وہاں پر اس کا ایک بھی مددگار ہوتا
06:17تو یہ جنگ کی آگ کو بھڑکانے والا ہوتا
06:21یعنی ابو بصیر کے بارے میں فرمایا
06:24کہ وہ تو چھوہ کے اور لوگ نہیں تھے
06:25ورنہ تو پھر جنگ بھڑک جاتی
06:27کہ وہاں وہ جاتا مدد کے لئے
06:29مکہ وہاں سے لشکر آتا
06:30پھر یہاں سے اور جنگ شروع ہو جاتی
06:33جب حضرت ابو بصیر نے یہ بات سنی
06:35تو انہوں نے سمجھ لیا
06:36کہ آپ ان قریب ان کو مشرقین کی طرف
06:39واپس کر دیں گے
06:40سو وہ وہاں سے نکل گئے
06:42اور سمندر کے ایک کنارے پر آ گئے
06:45اور حضرت ابو جندل بن سحیل بھی
06:47مشرقین کے پاس سے بھاگ کر
06:50ان کے پاس آ گئے
06:51ابو جندل کا واقعہ آپ کو یاد ہوگا
06:54کہ رفصولہ حدیبیہ ہو رہی تھی
06:56اور یہ شیق لگتی گئی تھی
06:57کہ جو مرد اس طرح فائے گا
06:59اس کو واپس کر دیا جائے گا
07:01تو ابو جندل زنجیروں سمیت
07:03کیونکہ مسلمان ہو گئے تھے
07:04ان کو مقید کیا ہوا تھا
07:06تو وہ بچارے زنجیریں گھسیٹتے ہوئے آئے
07:09تو رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم سے
07:11اور مسلمانوں سے فریاد کی
07:12کہ مجھے بچایا جائے
07:14تو سحیل بن عمر جو تھا
07:16اس نے کہا کہ آپ اس کو واپس کریں
07:18سرکان نے فرمایا
07:19ابھی تو معایدہ کمپلیٹ نہیں ہوا
07:20اس نے کہا اگر ایسا ہے
07:22تو پھر میں معایدہ نہیں کروں گا
07:23تو رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے
07:25ان کو واپس کر دیا تھا
07:27اس کے زد کی وجہ سے
07:28حالانکہ ابھی معایدہ کمپلیٹ نہیں تھا
07:30تو وہ والے ابو جندل
07:31دوبارہ بھاگ کر
07:32ادھر ہی آگئے ابو بصیر کے پاس
07:35تو وہاں سے نکل گئے
07:36اور سمندر کنارے آگئے
07:38حضرت ابو جندل بن سہیل بھی
07:39مشرقین سے بھاگ کر
07:40ان کے پاس آگئے
07:41اور حضرت ابو بصیر سے آمیلے
07:44اب صورتحال یہ تھی
07:46کہ جو شخص بھی اسلام لاکے
07:48قریش کے پاس سے نکلتا
07:49وہ حضرت ابو بصیر سے آ کر مل جاتا
07:53حتیٰ کہ وہاں ان کی ایک جماعت بن گئی
07:57پس اللہ کی قسم جب بھی
07:58وہ یہ خبر سنتے
08:00کہ قریش کا کوئی قافلہ
08:02شام کی طرف جا رہا ہے
08:03تو وہ قافلے والوں کو قتل کر دیتے
08:06اور ان کے اموال کو
08:08بطور غنیمت لوٹ لیتے
08:10پھر قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس
08:13اللہ اور صلح رحمی کی قسم دے کر
08:15یہ درخواست کی
08:16کہ اب جو بھی مکہ سے آپ کے پاس آئے گا
08:19اس کو امان ہوگی
08:21یعنی ہم اس کو واپس نہیں مانگیں گے
08:24امان ہوگی
08:25تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
08:27حضرت ابو بصیر ان کے اصحاب کے طرف
08:29یہ پیغام بھیجا
08:30کہ وہ اس کا روائی سے رک جائیں
08:32تب اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی
08:35اور وہی اللہ ہے
08:36جس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا
08:39اور تمہارے ہاتھوں کو
08:40ان سے مکہ میں
08:42تمہیں ان پر کامیاب فرمانے کے بعد
08:46سورہ فتح آیت نمبر 24 سے 26 تک یہ آیا تھی
08:49یعنی اس کا مطلب ہے
08:51کہ یہ دیکھیں کتنی زبردست حکمت تھی
08:53کہ سرکار نے اپنا وعدہ پورا فرمایا
08:55ابو بصیر وہاں سے چلے گئے
08:58کیونکہ شرط تو یہ تھی
08:59کہ جو نبی کریم کے پاس آئے گا آپ حوالے کریں گے
09:02اور آپ نے حوالے کر دیا تھا
09:04وہ تو مشرقین کو ایک کو مار کر آگئے تھے
09:07اور پھر وہاں سے وہ چلے گئے
09:08اب سرکار کا ذمہ تو نہیں رہا تھا
09:10اور انہوں نے پھر جب لوٹ مار شروع کی
09:12تو آخر کفار اس پہ مجبور ہو گئے
09:15کہ اس معایدے سے یہ شق ختم کر دیں
09:17کہ چلیں ٹھیک ہے
09:18اب جو بھی اس طرف آ جائے گا
09:20ہم اس کو واپس نہیں لیں گے
09:22وہ آپ ہی کا ہوگا
09:23لیکن آپ یہ کاروائیاں رکوا دیں
09:24تو سرکار نے کاروائی رکوا دیا
09:27اور ان کی عصبیت جاہلی یہ تھی
09:29کہ انہوں نے آپ کے نبی اللہ ہونے کا اقرار نہیں کیا تھا
09:33اور بسم اللہ الرحمن الرحیم کا اقرار نہیں کیا تھا
09:37اور مسلمانوں اور بیت اللہ کے درمیان
09:39حائل ہو گئے تھے
09:42تو رحمتِ قون انہ نے تو پھر بھی کرم فرمایا
09:44لیکن وہ اپنی زید پر قائم تھے
09:45تو یہ ایک طویل ترین حدیث تھی
09:47جس میں جو جو نکات
09:50تفصیل طلب تھے
09:51وضاحت طلب تھے
09:52یا درس حاصل ہو رہا تھا
09:53وہ ہم نے حاصل کیا
09:54تو آخری بات جو تھی
09:55اس پر ہم تھوڑا سا کلام اور
09:57کر لیتے ہیں
09:58کہ جو معاہدات ہوتے ہیں
10:00ایک ہوتا ہے وعدہ
10:01ایک ہوتا ہے معاہدہ
10:03وعدہ تو ون سائیڈیڈ بھی ہو سکتا ہے
10:05جیسے میں آپ سے کہتا ہوں
10:06کہ میں کل آپ کے پاس آ جاؤں گا
10:08یہ میری طرف سے ایک وعدہ ہے
10:10میں نے کیا ہے
10:11آپ نے نہیں کیا
10:12یہ وعدہ ہے
10:12لیکن معاہدہ کا مطلب ہوتا ہے
10:14دو طرف سے وعدہ ہوتا ہے
10:15یہ بھی اس سے کچھ وعدہ کرتے ہیں
10:18اور ادھر بھی کوئی وعدہ کرتے ہیں
10:19جس کو ایگریمنٹ کہا جاتا ہے
10:21کہ ایگریمنٹ جب سائن ہوتا ہے
10:22تو ڈیل ہوتی ہے باقاعدہ
10:24کچھ ٹرمز اور کنڈیشنز
10:25اس میں ہوتی ہیں
10:26شرائط رکھی جاتی ہیں
10:27اور دونوں جانب سے ہوتا ہے
10:28تو ہمارا مذہب اسلام
10:30احد ہو
10:31جس کو ہم وعدہ کہتے ہیں
10:32یا معاہدہ ہو
10:33دونوں صورتوں میں
10:35اسے پورا کرنے کا حکم دیتا ہے
10:37اور رحمت ایک وعدہ صلی اللہ علیہ وسلم
10:39نے احد یا معاہدہ
10:40توڑنے پر سخت قسم کی ناراضگی
10:42اور آخرت میں
10:44عذاب کی وعیدیں بیان فرمائی ہیں
10:46ہمارے ہاں
10:48اب ہم
10:49چونکہ شریعت پر تو عمل کرتے نہیں ہیں
10:51وعدہ خلافی تو انتہائی زیادہ ہے
10:53بعض وقت تو وعدہ
10:56حقیقتا ہم کرتے نہیں ہیں
10:58سامنے والے کو دھوکہ دیتے ہیں
10:59جس کو ستہی زبان میں کہتے ہیں
11:02گولی دینا
11:04جیسے یہ خاص طور پر
11:05جو مزدور ٹائپ لوگ ہوتے ہیں
11:08کوئی ناراض نہ ہو
11:09ہر ایک ایسا نہیں ہے
11:09جو ہے اس کے بارے میں بتا رہا ہوں
11:11کہ وہ صرف اس وجہ سے
11:13کہ ہمیں یہاں کام ہم حاصل کر لیں
11:16وہ مالک پوچھتا
11:17یہ کتنے دن میں رنگ ختم کر لیں گے
11:19چار دن کے اندر کر لیں گے بس
11:21اور وہ پھر چار ہفتے سے پہلے باہر نہیں نکلتے
11:24لے لیتے ہیں
11:25کام شروع کرتے ہیں
11:26اس کے بعد چار اور کام پکڑ دیتے ہیں
11:28یہاں ایک آدمی چھوڑ دیتے ہیں
11:30باقی کاموں پہ ہوتے ہیں
11:31یہ ہلکے ہلکے ہلکے رنگ کر رہا ہوتا ہے
11:34گھر والے بچارے پریشان
11:35ایسی مکان بنا لے والے
11:37ٹھیکے دار وغیرہ دیگر
11:38ایک دفعہ کہتے ہیں
11:39کہ آپ مزدور کو گھر میں گھسڑ دیں
11:41پھر وہ باہر نہیں نکلے گا
11:42تو یہ زیادہ تر وعدہ خلافیاں
11:45اسی طریقے سے
11:46مطلب اور جتنے بھی
11:47اس طرح کے کام کرنے والے ہیں
11:49اسکوٹر ٹھیک کرنے والے
11:50مکانکس ہوتے ہیں
11:51گاڑیاں ٹھیک کرتے ہیں
11:52کمپیوٹر ٹھیک کرتے ہیں
11:54جھوٹے وعدے
11:55ایسی درزی حضرات ہوتے ہیں
11:57عید کے ایام کے اندر
11:58جھوٹے وعدے کر کر کے
11:59اور وہ چیزیں لے لیتے ہیں
12:00اور پھر وقت کے اوپر نہیں دیتے ہیں
12:02اس چیز کا خیال لکھنا چاہئے
12:04ہاں آپ نے اپنے بالکل صحیح سوچ سمجھ کر
12:07اور دل سے وعدہ کیا ہے
12:09لیکن کوئی مجبوری آگئی
12:10وقت کے اوپر آپ کام نہ دے سکے
12:12وقت کے اوپر اپنا وعدہ پورا نہ کر سکے
12:16اللہ تعالیٰ مجبوری جانتا ہے
12:18اس کی وضحات کر دینی چاہئے
12:19تاکہ سامنے والے بدگمانی کا شکار نہ ہو
12:21لیکن جانبوش کر کرنا
12:23یہ بالکل غلط ہے
12:24اور گناہ کبیرہ ہے
12:25ایسی ایگریمنٹ بعض وقت سائن کرتے ہیں
12:28اور کچھے کاغذ ہوتے ہیں
12:31اگر پکے ہوتے تو چلے
12:32کانون ہے کارروائی بھی کر سکتا ہے سامنے والا
12:34اور اس میں بعض وقت ہم اپنے معایدات سے پھر جاتے ہیں
12:37کیونکہ معایدہ ایک لکھ کر ہوتا ہے
12:39اور ایک معایدہ جو زبانی ہوتا ہے
12:41تو اس میں بعض وقت زبانی معایدوں کے اندر
12:43عمومی طور پر پھر جاتے ہیں
12:45اور جہاں ایک شخص سے کچھ رقم مل رہی تھی
12:48معایدہ کر لیا
12:49لیکن دوسرے نے اچھی آفر کی
12:50تو اس بیچارے کو چھوڑ دیا جاتا ہے
12:52اور اس کا نقصان بھی ہوتا ہے
13:02آپ بھی سکھیں
13:02کہ کس قدر نازک حالات تھے
13:05کہ شروع اسلام تھا
13:06اور مسلمان بڑی حمد سے
13:08اسلام قبول کر کے ہجرت کر رہے ہیں
13:10اور رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
13:12اپنے وعدے کو معایدے کو نبھاتے ہوئے
13:15انہیں واپس کر رہے ہیں
13:16کس قدر مشکل تھا
13:18کہ کسی اپنے کو دشمنوں کے حوالے کرنا
13:21جبکہ جانتے ہیں
13:22کہ ان کے ہڈیاں توڑ دی جائیں گی
13:24ان کو سخت گرم زمین پر لٹایا جائے گا
13:27کوڑے لگائے جائیں گے
13:29لیکن اللہ کے نبی نے اپنا وعدہ پورا کیا
13:31کیونکہ آپ کو یقین تھا
13:33کہ ان تنصر اللہ ینصرکم
13:36اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے
13:38اللہ تمہاری امداد فرمائے گا
13:40مدد اور نسرت
13:41کے کامل یقین کے ساتھ
13:44آپ نے اس معایدے کو پورا کیا
13:45اور دیکھیں
13:46پھر اللہ تعالی نے آپ کی مدد فرمائی
13:48حتیٰ کہ فتح مکہ ہوا
13:50اور سرکار سب پر غالب آگئے
13:52اس لئے وعدہ خلافی سے
13:54ہمیں بچنا چاہیے
13:55ہماری سسٹرز جو ہیں
13:57انہیں بھی غور کرنا چاہیے
13:58کیونکہ ہم اپنا احتساب اثر میں نہیں کرتے
14:01بعد قد جھوٹے وعدے کرنا
14:02یہ ہماری عادت میں شامل ہوتا ہے
14:04ہر چھوٹی چھوٹی بات پر
14:06یس کر دینا
14:07اور پھر پتہ ہے کہ میں اس کو نبھاؤں گی نہیں
14:09اور پھر ہم
14:11اپنی شخصیت کو بھی داغدار کرتے ہیں
14:13سامنے والے ہمیں جھوٹا کہتے ہیں
14:15وعدہ خلاف کہتے ہیں
14:16لیکن ہم اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی ہے
14:18اور یہ چیز بالکل غلط ہے
14:19کہ ایک مومن
14:20اپنے آپ کو
14:22ایک زلت کے مقام پر پہنچا دے
14:24کہ لوگ ہمارے بارے میں
14:25ہماری حرکات کی بنا پر
14:27غلط قسم کے کمنٹس دینے پر مجبور ہو جائیں
14:30بہنوں کو بھی بہت احتیاط کرنی چاہیے
14:32اگلی حدیث کے طرف آتے ہیں
14:34دو ہزار سات سو تینتیس نمبر
14:36سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی
14:39انہا اس کے راویاں ہیں
14:40اور یہی سلح حدیبیہ سے متصل یہ حدیث ہے
14:44کہ جب اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی
14:47کہ جو مومنہ عورتیں آئیں
14:49آپ ان کا امتحان لے لیا کریں
14:50سلح حدیبیہ کے بعد
14:52کئی معاملات تھے
14:53اس کے بارے میں بتاتی ہیں
14:55کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی
14:57انہا نے خبر دی
14:58کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
15:00عورتوں کا امتحان لیتے تھے
15:02اور ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے
15:05کہ جب اللہ تعالی نے یہ حکم نازل فرمایا
15:07کہ مشرقین کی طرف وہ رقب لوٹا دو
15:10جو انہوں نے ان عورتوں پر خرچ کی ہے
15:13یعنی جو حجرت کر کے آگئیں
15:14جیسے اب وہ مسلمان ہوئیں
15:16تو وہ پہلے جو شہر تھا
15:18اس نے کوئی مہر وغیرہ دیا ہے
15:20تو اس کو واپس لوٹا دیا جائے
15:21اور مسلمان عورتوں کو رکھ لیا جائے
15:24جنہوں نے اپنے شہروں سے حجرت کر لی ہے
15:26اور مسلمانوں کو یہ حکم دیا
15:28کہ تم بھی کافر عورتوں کو
15:30اپنے نکاح میں نہ روکے رکھو
15:33تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے
15:36اپنی دو بیویوں کو طلاق دے دی
15:38قریبہ بنت ابی امیہ کو
15:40اور جرول خزائی کی بیٹی کو
15:43قریبہ نے تو معاوی بن ابو سفیان سے نکاح کر لیا
15:46اور دوسری سے ابو جحم نے نکاح کیا
15:49پھر مسلمانوں نے جو اپنی بیویوں پر خرچ کیا تھا
15:52جب کافروں نے اس کو ادا کرنے سے انکار کیا
15:56اب انہوں نے کہا جو ہم نے خرچ کیا ہے
15:58وہ دیں تو انہوں نے اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی
16:01کہ اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی تم سے چھوٹ کر
16:04کافروں کے پاس چلی جائے
16:05پھر کفار سے تم غنیمت حاصل کر لو
16:09یعنی اس مال غنیمت سے اپنا معافظہ حاصل کر لو
16:12اور معافظہ یہ تھا کہ کفار کی جو بیویاں
16:15ہجرت کر کے مسلمانوں کے پاس آ جائیں
16:17تو مسلمان ان کافروں کو ان کا خرچ دیتے تھے
16:21تو اللہ تعالی نے حکم دیا
16:23کہ مسلمانوں کی جو بیویاں مادلہ مرتد ہو کر
16:26مرتدہ ہو کے کافر کے پاس چلی گئی ہیں
16:28ان کے مہر اور نفقے کے اخراجات
16:31کفار کی ان عورتوں کے مہر سے ادا کر دیے جائیں
16:36جو ہجرت کر کے ادھر آ گئی ہیں
16:38اور کسی مسلمان سے انہوں نے نکاح کر لیا ہے
16:41اور ہمیں علم تو نہیں ہے
16:44کہ کوئی ہجرت کرنے والی عورت ایمان لانے کے بعد
16:46مرتدہ ہو گئی ہو
16:48یعنی یہ حکم تو تھا
16:49کہ جو چلی گئی تو یہ ہوگا
16:51لیکن کوئی گئی نہیں سا
16:52راوی کہتے ہیں کبھی ایسا نہیں ہوا
16:54کہ کوئی خاتون اسلام لے کر آئی ہو
16:56اور پھر مادلہ مرتدہ ہو کر چلی گئی ہو
16:59اور ہم کو یہ حدیث پہنچی ہے
17:01کہ حضرت ابو بصیر بن
17:03اسید استقافی ایمان لاکر
17:05نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس
17:07اس مدت میں ہجرت کر کے آئے
17:10پھر اصنا اخنص بن شریق نے
17:12نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
17:14کی طرف مکتوب لکھا
17:15جس میں حضرت ابو بصیر کی
17:17واپسی کا سوال کیا
17:19اور یہ بات پیچھے گزر چکی ہے
17:21کہ رحمت کورین صلی اللہ علیہ وسلم نے
17:23اقرار کر لیا کہ ٹھیک ہے آپ لے جائیں
17:25اور دو آدمی لے کر گئے
17:27رب بصیر نے کو قتل کر دیا تھا
17:28اور پہ پورا معاملہ آپ نے سن لیا
17:30اللہ تعالی سے دعا ہے کہ رب کریم
17:32اس طویل حدیث کی برکات سے
17:34ہم سب کو فیضیاب ہونے کی توفق عطا فرمائیں
17:36آمین
17:36وآخر دعوانا
17:38ان الحمدللہ رب العالمین