Skip to playerSkip to main content
Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal

Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D

#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation

Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:04بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:06اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ
00:07تاری نام سے آغاز کرتے ہیں
00:09جو بہت مہربان
00:10نہایت رحم والا ہے
00:12درس بخارے کا سلسلہ
00:14کتاب الشہادات سے
00:15اب کتاب الصلح کی طرف آیا ہے
00:17آج سے انشاءاللہ
00:18کتاب الصلح کا آغاز کریں گے
00:22صلح جو ہے یہ
00:23فساد کی
00:25ضد ہے سمجھ لیجئے
00:26فساد کیا ہوتا ہے
00:28ایک ایسا بگاڑ جو لڑائی جھگڑا فتنہ فساد جدائیاں تفریق پیدا کرتا ہے
00:32تو صلح اس کے متعزاد ہے اس کی زد ہے
00:36تو اس کے مطلبے صلح سے مراد ایک ایسا معاملہ کرنا
00:39کہ جھگڑا نزعہ فساد دلوں کی دوری تفریق ختم ہو جائے
00:44اور سب واپس میں مل جائیں
00:46اس کو صلحہ کہتے ہیں
00:49اور صلحہ بہت ہی پیاری چیز ہے
00:51اللہ تبارک و تعالی اشارت فرماتا ہے
00:54کہ ان کے اکثر پوشیدہ مشوروں میں کوئی بھلائی نہیں ہے
00:58سوائے اس شخص کے جو صدقہ دینے کا حکم دے
01:00یا نیکی کرنے کا حکم دے
01:02یا لوگوں میں صلح کرانے کا
01:05اور جو اللہ کی رضا جوئی کے لئے یہ کام کرے
01:07تو انقریب ہم اس کو عجر عظیم عطا فرمائیں گے
01:10سورہ نساء آیت نمبر 114 کا یہ ترجمہ ہے
01:13تو صلح بہت پیاری چیز ہے
01:15السلح و خیر میرے آقش صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
01:18کہ صلح میں بھلائی بھلائی ہے
01:20تو ہمیں کوشش کرنی چاہیے
01:22کہ ہم صلح کی طرف آئیں
01:24اس میں میں نے
01:25چار قسم کے گروہ دیکھے ہیں
01:27ایک گروہ تو وہ ہوتا ہے
01:29کہ جب دو میں جھگڑا ہو جائے تو بولتے ہیں
01:31کہ چھوڑ دو ہمیں کیا ضرورت ہے
01:33ایک وہ ہے کہ جو
01:35سوچتا ہے کہ صلح ہونی چاہیے
01:37لیکن عملی کوشش نہیں کرتا
01:39تیسرا وہ ہوتا ہے جو سوچتا بھی ہے
01:41اور عملی کوشش کر کے صلح کرواتا ہے
01:43اور ایک چوتھا گروہ ہوتا ہے
01:45کہ جو نہ صلح کرواتا ہے
01:47نہ صلح چاہتا ہے
01:47بلکہ اور دل پھٹواتا ہے
01:49تو یہ ہمیں غور کرنا چاہیے
01:51کہ ہم کس میں شامل ہیں
01:53یاد رکھیں پہلا کرو
01:54سب سے اچھا ہے
01:55کہ جو لوگوں میں لڑائی جھگڑا دیکھیں
01:56اپنے رشتہ داروں میں
01:57اپنے بہن بھائیوں کے اندر
01:59اپنے محلے
02:00دوستوں محلے والوں میں
02:02دوستوں میں دیکھیں
02:02تو اس کو ختم کریں جھگڑے کو
02:04اور کہیں کہ پیار محبت سے رہو
02:06یہ اچھی چیز نہیں ہوتی ہے
02:07دل دور ہوتے چلے جائیں گے
02:09شیطان مزید بدگمانیہ ڈالے گا
02:11لیکن جو چوتھے درجے کے لوگ ہیں
02:13جو بات وقت صلح کرانا نہیں چاہتے
02:15میاں بیوی میں ناچاقی ہو گئی
02:17بیوی میکے چلی گئی
02:18تو یہاں شور کو بھڑکاتے رہیں گے
02:20وہاں بیوی کے دل میں بدگمانیہ ڈال کر
02:22تلاکے کروانے کی کوشش کرتے ہیں
02:24ایسے لوگوں کا انجام
02:26بہت برا ہونے والا ہے
02:27جو صلح کے خلاف جائے
02:29اس طرح دو میں جھگڑا ہو گیا
02:31تو ہوا دیتے رہیں گے
02:32اس کو تاکہ دو دوز دور ہو جائیں
02:34رشتہ داروں کے دل پھڑ جائیں
02:36ساس اور بہو لڑیں
02:37اس طرح نندوں اور بہووں کے اندر پھڑا
02:40دیورانی جٹھانی کے اندر پھڑا کروا دیتے ہیں
02:42اور یہ عورتیں بھی اس میں کم نہیں ہوتی ہیں
02:45کیونکہ گھر کے معاملات تو زیادہ تار
02:46عورتوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں
02:48اور بعضوں میں یہ گندی خاصلت موجود ہوتی ہے
02:51تو کوئی بہن بھائی ہمارا برا نہ مانے
02:52لیکن یہ پھڑوانا
02:55دلوں کو پھار دینا
02:56یا پھڑوا دینا
02:57دلوں کو جدہ کرنا
02:59نفرتیں ڈالنا
03:00تفریق پیدا کرنا
03:01دوسروں کے جھگڑوں کو قائم رکھ کر
03:03دور سے بیٹھ کر
03:05تماشا دیکھ کر
03:06اپنی خوشی کا سامان کرنا
03:07یہ سب گناہ کے کام ہیں
03:09جلنا چاہیے
03:10کھڑنا چاہیے
03:11ملانے کی کوشش کرنی چاہیے
03:13اور صلح کتنی امپورٹنٹ ہے
03:16اس کے لیے میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے
03:18جھوٹ تک بولنے کی اجازت دی ہے
03:21جیسے کہ آگے حدیث میں آئے گا
03:22پھر میں آپ کو
03:23اس پر پوری تفصیل سے ارز کروں گا
03:25اس میں پہلی حدیث ہے
03:27دو ہزار چھے سو نوے نمبر حدیث پاک ہے
03:31اور حضرت سحل بن سعاد رضی اللہ تعالیٰ نو
03:34بیان کرتے ہیں
03:35کہ بنو عمر بن عوف
03:37ایک قبیلہ تھا
03:38کہ لوگوں کے درمیان کچھ تنازع تھا
03:40آپس میں جھگڑا ہو گیا
03:41تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
03:43اپنے چند حساب کے ساتھ
03:45ان کے درمیان صلح کروانے کے لیے
03:47روانہ ہوئے
03:49پس نماز کا وقت آگیا
03:51اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
03:52واپس نہیں آئے
03:54حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے
03:57انہوں نے نماز کی ازان دی
04:00انتظار کیا
04:01نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
04:02ابھی تک نہیں آئے تھے
04:04تو وہ حضرت ابو بکر
04:05رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے
04:08پس عرض کی
04:09کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
04:10وہیں رک گئے ہیں
04:11اور اب نماز کا وقت آگیا ہے
04:13تو اب
04:14لوگوں کو نماز پڑھانے کے
04:17متعلق آپ کی کیا رائے ہے
04:19حضرت ابو بکر نے کہا
04:21کہ ہاں اگر تم چاہو تو
04:22یعنی کہ چاہو تو میں پڑھا دیتا ہوں
04:24حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے
04:27نماز کی اقامت کہی
04:28پس حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھ گئے
04:32اور لوگوں کو نماز پڑھانا شروع کی
04:34پھر اتنے میں
04:36نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے
04:39حتیٰ کہ
04:40صفوں کے درمیان میں چلتے ہوئے آئے
04:42اور پہلی صف میں آ کر
04:44کھڑے ہو گئے
04:45تو یہ نبی کریم کو حق حاصل تھا
04:47کہ چلتی ہوئی جماعت میں سرکار تشریف لائے
04:50اب سرکار کی آمد سے ہی صحابہ کو پتہ چل جاتا تھا
04:53کشبو اتنی موتر ہو جاتی تھی
04:54تو وہ راستہ دیتے رہے سرکار آگے بڑھتے بڑھتے
04:57حتیٰ کہ پہلی صف میں آ کر
04:59کھڑے ہو گئے
05:00پھر لوگ تالیاں بجانے لگے
05:03تالیس امراض ہی ہاتھ کو ہاتھ پر مارنا
05:05تاکہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ
05:07انہوں کو پتہ چل جائے کہ پیچھے سرکار آگئے ہیں
05:09اور اس کے لئے
05:11اس کو تصفیق کہتے ہیں ایرابک میں
05:13تصفیق ہاتھ پہ ہاتھ مارنا زور سے
05:23نماز میں ادھر ادھر
05:25توجہ نہیں کیا کرتے تھے
05:27بڑی استغراق میں نماز پڑھاتے تھے
05:28لیکن جب تالیوں کی آواز زیادہ ہوئی
05:30تو انہوں نے پیچھے دیکھا
05:33توجہ کی تو نبی کریم
05:34صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے
05:36کھڑے ہوئے تھے
05:38رحمت کورین صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حالت
05:40نماز میں ہی ہاتھ سے اشارہ کا حکم دیا
05:42کہ وہ اسی طرح نماز پڑھاتے رہیں
05:44پتہ حضرت و بقر صدیق
05:46رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دونوں
05:48ہاتھ بلند کر کے اللہ تعالی کا شکر
05:50ادھر کیا پھر وہ الٹے پیر
05:52پیچھے کو لوٹ آئے حتی
05:54کہ پچھلی صف میں
05:56داخل ہو گئے
05:58نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
06:00آگے بڑھ گئے اور آپ نے
06:02لوگوں کو نماز پڑھائی جب آپ نماز
06:04پڑھا کر فارغ ہوئے تو آپ لوگوں کے طرف
06:06متوجہ ہوئے اور فرمایا
06:08کہ اے لوگو جب تمہیں نماز میں
06:10اچانک کوئی چیز پیش آئے
06:12تو تم تالیاں بجانے لگتے ہو
06:14تالیاں بجانا تو صرف عورتوں
06:16کے لئے ہے جس شخص کو
06:18نماز میں کوئی چیز پیش آئے تو وہ
06:20سبحان اللہ کہے
06:22یعنی عورت کی آواز چونکہ عورت ہے
06:24اگر عورت اس طرح کسی کو جیسے آگے نکلتے
06:26وہ دیکھے کہ آگے نکل رہا ہے کوئی بے خیالی میں
06:28تو یوں ہاتھ پہ ہاتھ مارے گی
06:30تاکہ وہ ہوشیار ہو جائے زبان سے نہ کہے
06:32سرکار فرماتے ہیں یہ عورتوں
06:34کے لئے رکھا ہے مر جو ہے وہ مو سے کہے
06:36سبحان اللہ سبحان اللہ اس طرح
06:38دو تین دفعہ کہیں گے تو سامنے والا
06:40خوشیار ہو جائے گا تو آپ کو ایسا
06:42کہنا چاہیے تھا کیونکہ جو شخص
06:44بھی اس کو یہ کہتے ہوئے سنے گا وہ اس کی طرح
06:46متوجہ ہوگا پھر سرکار
06:48نے صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو
06:50متوجہ کر کے فرمایا اے ابو بکر
06:52جب میں نے آپ کو اشارے سے کہا تھا
06:54کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہیں
06:56تو آپ کو نماز پڑھانے سے
06:58کس چیز نے روکا
06:59میں نے تو ابو کہا تھا پڑھائے آپ کیوں پیچھ ہٹ گئے
07:02تو حضرت ابو بکر صدیق
07:04رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارز کی
07:05کہ ابو قحافہ کے بیٹے
07:08کو یہ لائق نہ تھا
07:09کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے
07:12نماز پڑھاتا رہتا
07:14تو دیکھیں کتنی پیاری حدیث
07:16یا طویل حدیث اس میں پہلی بات
07:18تو یہ کہ صحابہ کے مابین بھی
07:20بعض اوقات تناظر ہوئے ہیں
07:22مسائل پیدا ہوئے ہیں
07:23لیکن وہ ذاتیات پر مبنی نہیں ہوتے تھے
07:25وہ شریعت کے معاملات ہوتے تھے
07:27جیسے تیجارت میں کوئی مسئلہ ہو گیا
07:29کوئی قرض وغیرہ کے آپس کے مسائل ہو گئے ہیں
07:31یعنی وہ بنیاد جو تھی وہ
07:32احکام شرائی ہوتے تھے
07:34اس لئے معلوم یہ ہوا کہ
07:36علماء کے مابین کبھی کوئی اختلاف ہو جاتا ہے
07:38اور اکثر علمی اختلاف ہوتا ہے
07:40تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ دیکھیں
07:41جی علماء تو آپس میں لڑتے رہتے ہیں
07:43پہلے آپ جھگڑے کی نویت معلوم کریں
07:46کہ کیوں ایسا ہوا ہے
07:47اگر علمی اختلاف ہے
07:48تو صحابہ میں بہت بکثرت ہوا ہے
07:50اگر معاملات کی وجہ سے آپس میں ہیں
07:52تو یہ بھی نظر ہو سکتا ہے
07:54جیسے صحابہ کے مابین
07:56اس قسم کے معاملات بھی ہوئے ہیں
07:58تو اس لئے
07:59لیکن وہ دائرہ شریعت میں رہ کر ہی حل کیے گئے ہیں
08:01تو یہ کوئی بری چیز نہیں ہوتی
08:03آپس میں تنازع کا پیدا ہو جانا
08:05ہاں اس کو قائم رکھنا
08:06اس کے لئے پھر جھوڑ بولنا
08:07حد سے گزر جانا
08:09کہ گالی گلوش پر آ جائیں
08:10مار پیٹ پر آ جائیں
08:11انتقام لینے لگ جائیں
08:12سامنے والے کی غیبت چغلی کو جائز سمجھنے لگ جائیں
08:15لیک پولنگ کرنے لگیں
08:17اس کی مال جان عزت آبرو کے در پہ ہو جائیں
08:20یہ غلط چیزیں ہوتی ہیں
08:21نفس سے جھگڑا کوئی بری چیز نہیں ہوتی
08:23اگر آپ کے سامنے دو علماء کے مسائل آئیں
08:27تو خدارہ کمٹس پاس کر کے
08:30اپنے آخرت کو برباد نہ کریں
08:31ان کا کس نویت کا اختلاف ہے
08:33ان کو خود ہی حل کرنے دیں
08:34یہ زیادہ بیسٹ وے ہوتا ہے
08:37یا سیکنڈ جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
08:39صلح کے لئے تشریف لے گئے
08:41یہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی
08:43بہت زبردست آرزی تھی
08:44اگر آپ حکم فرماتے
08:45وہ سب آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے
08:47اور سرکار ان کا مسئلہ حل کر دیتے
08:49اور ان کو مجالے انکار نہ ہوتی
08:53لیکن میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم
08:55خود وہاں تشریف لے گئے
08:57اس سے علماء کرام
08:59مفتیانے کرام
09:00پیر حضرات
09:02نات خان حضرات
09:03قررہ حضرات
09:05اور نات خان اور قررہ سمرات
09:06جو معروف ہو چکے ہیں
09:07مشہور ہو چکے ہیں
09:08جو ایک مقام عزت حاصل کر چکے ہیں
09:11ہم سب کے لئے یہ چیز بڑی آزمائش کی بنتی ہے
09:14کہ خود چل کر کسی کے پاس جانا
09:17یہ وہی کرے گا جو آجزی پسند ہوگا
09:19اور پھر بغیر کسی ذاتی مقصد کے جانا
09:22یعنی اپنے نفع کو چھوڑ کر
09:24ورنہ اپنا مطلب حل کرنے کے لئے
09:25تو ہر ایک چلا جاتا ہے
09:27آجزی انکساری کے ساتھ
09:29کبھی کبھی ہمیں اپنے آپ کو آزمانا چاہیے
09:31کوئی پیر صاحب خود چل کر کسی کے پاس چلے جائیں
09:34کوئی عالم مفتی چلے جائیں
09:35کوئی عام سا آدمی کو
09:37کوئی نات خان
09:37کوئی قاری حضرات
09:38ملنے چلے جائیں
09:40اور اپنے آپ کو آزمائیں
09:41کہ دل اس طرف مائل ہو رہا ہے کہ نہیں ہو رہا
09:43ایک غریب آدمی
09:44غیر معروف آدمی
09:46جس سے ہمیں کوئی ذاتی نفع نہیں ہے
09:48وہ ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا
09:51بلکہ ہم جائیں شاہد اسی کو عزت ملے گی
09:53اس کے باورد اللہ کی رضا کے خاطر
09:55اس کے قلبی خوشی کے لئے
09:57اللہ کے لئے
09:58کبھی کبھار جا کے اس طرح مل لینا
10:00یہ اپنے اندر سے تقبر کو دور کرنے میں
10:03انتہائی معاوین بھی ہوتا ہے
10:05پھر ایک امتحان ہوتا ہے
10:07اگر آپ مجھ سے پوچھیں گے
10:08آپ متقبی رہے میں ہو لوں گا نہیں
10:10آپ میں خوفِ غدا ہے میں ہو لوں گا ہاں
10:12آپ کے اندر نبی کرنگ میں عشق ہے میں ہو لوں گا ہاں
10:15تو یہ دعوے تو ہیں
10:16لیکن دعوے کے مطابق دلیل
10:18ہمیشہ یاد رکھیں
10:19کبھی اپنے دعوے پر اپنے آپ کو
10:21اس وقت تک مطمئن نہ کریں
10:22جب تک کہ اس دعوے کے مطابق
10:24آپ کا نفس دلیل دینے کے لئے
10:27تیار نہ ہو جائے
10:28چنانچہ اگر کوئی کہتا ہے
10:30کہ میں تو بڑا عاجزی پسند ہوں
10:31تو ذرا جا کے مل کر تو آؤ
10:33نکلیں اپنے ہیں یہاں سے
10:35ہم تو چاہتے ہیں
10:35کوئی ہمارے پاس آ کر ملے
10:37اور نکلیں بھی تو دس پانچ آدمی
10:38یہاں دس پانچ آدمی
10:39یہاں شان کے ساتھ نکلیں
10:41اکیلے جائیں کبھی گاڑی چلاتے ہوئے
10:42جا کے مل کر آئیں
10:43پھر اپنے آپ کو آزمائیں
10:44تو انشاءاللہ پتا چلے گا
10:47نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
10:49وہاں پہ دیر ہو گئی
10:50زہر کی نماز کا وقت ہوا
10:51حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے
10:53ازان دی ویٹ کیا
10:55سرکار نہیں آئے
10:55اب سب صحابہ موجود تھے
10:57تو انہوں نے صدیق اکبر
10:58رضی اللہ عنہ سے عرض کی
11:00اس سے معلوم ہوا کہ
11:01نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد
11:03صحابہ اکرام علم و رضوان
11:05حضرت ابو بقر صدیق رضی اللہ عنہ
11:08انہوں کو بڑی عزت
11:09اہمیت دیتے تھے
11:10اور سب کا یہ ذہن بنا ہوا تھا
11:13کہ نبی کریم کے
11:14مسلے پر صدیق اکبر
11:16رضی اللہ عنہ کو کھڑے ہو کر
11:18نماز پڑھانی چاہیے
11:19اس لئے کسی نے بھی
11:20اویشن نہیں کیا
11:21اور یاد رکھیں کہ یہ
11:23مسلہ معصول ہے
11:24کہ جہاں کوئی امام مقرر نہ ہو
11:26وہاں پر سب سے زیعلم
11:29سب سے زیعلم
11:30سب سے زیعلم صاحب تقوی
11:31سب سے بہترین قرات والا
11:33وہ کھڑا ہوگا
11:34سب سے پہلے علم کو اہمیت ہوتی ہے
11:36اس کے بعد پھر قرآن اچھا پڑھنا
11:38اس کے بعد نصب وغیرہ وجاہت ہوتی ہے
11:41خاندانی نزبت وغیرہ ہوتی ہے
11:43تقوی پریزگاری
11:44اسے اعتبار سے
11:45اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
11:47ان تمام معیارات پر پورے اتر رہے تھے
11:49لہذا جب انہوں نے کہا
11:50کہ نماز کے وقت آگیا
11:51آپ پڑھائیں تو
11:52کہا ٹھیک ہے
11:53اگر تم چاہتے ہو
11:53تو میں پڑھا دیتا ہوں
11:54اور آپ نماز پڑھانے لگے
11:56اب اسی دوران نبی تشریف لائے
11:58میں نے آپ کو پہلے بتایا
11:59کہ نبی کا حق ہوتا ہے
12:01کہ وہ نماز پڑھائے گا
12:03اور اگر وگلی صف میں آنا چاہے
12:06تو بالکل آئے گا
12:06ہم اگر دیر سے آئیں
12:07تو ہمارے لئے شرن جائز نہیں ہے
12:09کہ ہم نمازیوں کے بیچ سے گدر کر
12:11آگے پہنچ جائیں
12:12ہمیں پیچھے کھڑے ہونے کا حکمی
12:14یہ آپ اللہ کے نبی تھے
12:15اور آپ کا حق تھا
12:16پھر بھی آپ پہلی صف میں جا کر کھڑے ہوئے
12:18اور آپ نے صدیق اکبر رضی اللہ تعالی
12:20نے کو نہیں ہٹایا
12:22صحابہ نے ہاتھ مارا
12:23اس کو تصفیق کہتے ہیں
12:25جیسے میں نے بتایا
12:26نبی کریم نے آخر میں وضاحت فرمائی
12:28کہ یہ عورتوں کے لئے مشروع ہے
12:29جائز ہے
12:30مرد زبان سے کہے
12:32سبحان اللہ الحمدللہ
12:33جیسے آپ نماز پڑھ رہے ہیں
12:34کوئی بے خیالی میں آپ کے سامنے سے گزرنے لگا
12:37زور سے بولتے ہیں
12:37سبحان اللہ
12:38تو وہ گھبرا کے رک جائے
12:40ہاتھ بھی کر سکتے ہیں
12:41بعض وقت ہاتھ سے اشارہ کر سکتے ہیں
12:43اور عورت ہو تو تصفیق کرے
12:45تو یہ سبحان اللہ سرکار نے فرمایا
12:46تمہیں سبحان اللہ کہنا چاہیے تھا
12:48اب صدیق اکبر رضی اللہ تعالی نے
12:50دائیں بائیں بالکل توجہ نہیں کرتے تھے
12:52انتہائی استغراق میں نماز پڑھتے تھے
12:55اس لئے ابتدان تصفیق کی آواز پر
12:57آپ کی توجہ ہی نہیں گئی
12:59اس سے معلوم ہوا کہ
13:07کہ اللہ کا خوف رکھ کر
13:08آخرتی اخروی امور پر توجہ رکھ کر
13:11دنیاوی خیالات کو ہٹا کر
13:13نماز کو ادا کرنا
13:14یہ جب قیفیت پیدا ہوتی ہے
13:16کہ دنیاوی خیالات ہڑ جاتے ہیں
13:17اللہ کا خوف ہوتا ہے
13:18اخروی امور کی طرف توجہ
13:20اسے وہ خشوع خضو سے تعبیر کرتے ہیں
13:22رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث
13:25جس کو مفسرین نے نقل کیا
13:26میں نے کہیں
13:27مسنت کتاب میں نظر سے نہیں گزری
13:29لیکن بہرحال یہ لکھی ہے حدیث
13:30کہ آخری زمانے میں
13:32پوری مسجد میں
13:33ایک شخص بھی ایسا نہیں ملے گا
13:34جو خشوع و خضو کے ساتھ
13:36نماز کو ادا کر رہا ہو
13:38نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
13:40ایک شخص کو دیکھا
13:40کہ وہ حالت نماز میں
13:42اپنے داڑی سے کھیل رہا تھا
13:43سرکار نے فرمایا
13:44اگر اس کے قلب میں خشوع ہوتا
13:45تو اس کے آزا بھی خشوع پذیر ہوتے
13:49یعنی اگر دل میں خوف خدا کی کیفیات ہوتی
13:52تو ظاہر بھی اس کا خوف خدا کی وجہ سے
13:54بالکل ساکت اور قائم ہوتا
13:56کیونکہ جب دل میں خوف ہوتا ہے
13:58ہم کسی بڑی شخصیت کے پاس جائیں
14:00تو اگر وہ کتنی خوبصورت کیوں نہ ہو
14:02لیکن اگر اس کے بعد منصب ہے
14:04ہمیں گمان ہو کے بیادہ بھی کریں گے
14:06تو نقصان پہنچائے گا
14:08تو اس کے منصب کا خوف پیدا ہوتا ہے
14:09اور خوف یہ بات ظاہر کرتا ہے
14:12یا یہ مطالبہ کرتا ہے
14:14کہ حسون اس کے سامنے بتیسی مت نکالو
14:16جوک نہ کرو
14:17دائیں بائیں نہ دیکھو
14:18ذرا مودب ہو کر بیٹھ جاؤ
14:20اس کا مطلب قلبی کیفیت ہمارے ظاہر کو
14:23عدب سکھا دیتی ہے
14:25اب جو حالت نماز میں کھیل رہا ہے
14:27تو اس کا مطلب دل میں خوفی نہیں ہے
14:28کیونکہ ہوتا تو وہ ظاہر کو بھی بعد اب کر دیتا
14:30اب آپ مسجد میں دیکھ لیں
14:32کیا کیا حرکتیں ہو رہی ہوتی ہیں
14:33تو اپنے اکابرین سے سیکھنا چاہیے
14:35صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ نے
14:37کوئی توجہ نہیں کرتے تھے
14:39استغراق کے عالمے
14:40اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث
14:42پہلے گزر چکی ہے
14:43سرکار نے فرمایا
14:44جس نے دو رکعت نماز اس طرح ادا کی
14:47کہ اس میں دنیا کا کوئی خیال نہ لایا
14:50وہ اپنے گناہوں سے ایسا پاک و صاف ہو جائے گا
14:53جیسے آج ہی اپنی والدہ کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے
14:57اتنی زبردست فضیلت ہے
14:59دنیا کا خیال آنا تو برا نہیں ہے
15:01وہ تو آتا ہے اس کو جھڑک دیں
15:02لانے کلف سرکار نے فرمایا
15:04تو لہذا اگر آپ اپنی موت
15:06عذاب قبر میدان مہاشر پلسرات
15:09جنت دوزخ حساب و کتاب
15:11گمبہ دے خزرہ کا تصور لے آئیں
15:13کعبت اللہ کا تصور لے آئیں
15:15ان چیزوں کے اوپر بس توجہ رکھیں
15:17دنیا کی طرف نہ جائے
15:19خیال آبی جائے تو جھٹک دیں فوراں
15:21اور دو رکعت ایسی پڑھ لیں
15:22انشاءاللہ یہ فضیلت ملے گی
15:24اور ان بذرگوں کا کیا عالم ہو گئے
15:26جنہوں نے ستر ستر سال ایسی ہی نمازی
15:28ادا کی ہیں اور کسی نماز میں
15:30دنیا کا خیال نہیں آنے دیا
15:31یہ زبردست قسم کی مشقت ہے
15:34جو لوگ تحجدیں پڑھتے ہیں
15:36نمازیں پڑھتے ہیں
15:38اشراک چاشت بہنوں نے برقہ نقاب
15:40مردوں نے داریاں رکھی ہوئے
15:41اثر پی امامے ہیں
15:42ہم اپنے آپ کو نیک پریزگار سمجھتے ہیں
15:45یہ چیزیں ہمارے لئے باز وقت
15:47بہت آسان ہو جاتی ہیں
15:48اور جب کچھ چیزیں آسان ہو جائیں
15:51تو ہمیشہ اپنے نفس کو
15:52ایک مشقت اور آزمائش میں رکھیں
15:55اب آپ کا اس سے آگے درجہ یہ ہے
15:57کہ نماز میں خوش و خضو کو قائم رکھیں
15:59کہ دنیا کا خیال نہ آئے
16:01اب یہ مشقت کر کے دیکھیں
16:03انتہائی مشکل کام ہے
16:04کہ نماز میں دنیاوی خیالات کو دور کرنا
16:08رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے کھڑے ہوئے
16:10لوگوں نے جب زیادہ تصفیق کی
16:13تو صدیق اکبر نے توجہ کی سرکار پر نظر پڑھ گئے
16:16تو آپ پیچھے ہڑ گئے
16:17حالکہ سرکار نے اشارہ کیا پڑھائیں
16:18وہ پیچھے ہڑ گئے
16:19سرکار نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی
16:21اس کا مطلب حالت نماز میں
16:23ایک دو قدم چلنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی
16:28فقہ حنفی کا یہی اصول ہے
16:29کہ اگر نماز میں تین قدم لگتار اٹھائیں گے
16:33تو نماز فاسد ہو جائے گی
16:35کیونکہ یہ عمل کثیر بن جائے گا
16:37بڑا عمل
16:37ایسا عمل کہ دور سے کسی نمازی کو دیکھیں
16:40تو وہ نماز میں
16:42محسوس نہ ہمیں یقین ہو جائے
16:43اس کو عمل کثیر کہتے ہیں
16:45جیسے نماز پڑھتے پڑھتے کو کنگا نکالے
16:48بال بنا رہا ہم دور سے دیکھیں گے
16:50ہم کہیں گے
16:50نماز میں نہیں ہے
16:51بال کون بناتا ہے
16:52دونوں ہاتھ مصروف کر کے
16:53یہ ہیں عمل کثیر
16:55ایسے ہی تین قدم لگتار چلنا
16:57فقہ حنفی کے روشتی میں عمل کثیر ہے
16:59لیکن ایک صف میں اتنا فاصلہ ہوتا ہے
17:02اگر آپ تھوڑا سے لمبا قدم اٹھائیں
17:03آرام سے اگلی صف تک پہنچ جائیں
17:04دو صفو دو قدموں میں
17:06ایسے اگر پیچھے اٹنا چاہیں
17:08تو آ سکتے ہیں
17:08تو ہم اسی پر محمول کرتے ہوئے کہیں گے
17:10کہ عمل کثیر نہیں بنا
17:12صدی کے قبر پیچھے آگئے
17:14نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
17:15مسلح پر تشریف فرما ہوئے
17:17انشاءاللہ باقی اس کی باتیں
17:19کچھ ہیں اس میں پوائنٹ بہت ہی اہم ہیں
17:21نیکس پروگرام میں انشاءاللہ ذکر کریں گے
17:23وآخر دعوانا
17:24ان الحمدللہ رب العالمين
Comments

Recommended