Skip to playerSkip to main content
Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal

Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D

#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation

Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00imam salli ala
00:02muhamd
00:03wala
00:05aniki
00:08wasahbihi
00:11wasahbihi
00:13bismillahirrahmanirrahim
00:15Allah tb. wa ta'ala
00:16ke pahkizah naam se
00:17aghaz kirti hai
00:18joh bhoht mahruban
00:19niha ayat rachim wala hai
00:22drs-e-bukhari ka silsala
00:23kitab shahadat tuk pahuncha ta
00:25yianni us hissaya kitab ta
00:28which is where Imam Bukhari al-Rahmah
00:31has hadiths of the Krimah
00:34and has hadiths of the Krimah
00:35and our hadiths was coming from
00:372684
00:40and said that
00:43he said that
00:47he said that he has a question
00:49that he has a question
00:51that he has hadiths of Musa
00:52al-Salaam al-Salaam
00:54who has hadiths of the Krimah
00:55who has hadiths of the Krimah
00:57I didn't know he hadiths of the Krimah
01:00to find his book
01:02and to ask it
01:04then I am and I will have a question
01:06I have a question
01:09to say that
01:11he has hadiths of Musa al-Salaam
01:12has a size and a size of the Krimah
01:16and a size of the Krimah
01:18the Prophet
01:20when he did that
01:21he said to him
01:24he has hadiths of the Krimah
01:27بیان کر دی تھی اس کے تشریح تھوڑی سی باقی تھی
01:29اصل میں پہلے تو یہ سمجھ لیں
01:31کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام
01:33آپ کو معلوم ہے
01:35کہ فیرون کے
01:37گھر میں پلے بڑے تھے
01:38کہ آپ کی والدہ نے اس خوف سے
01:40کہ وہ سال جس سال
01:43میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے
01:45تو فیرون
01:46لڑکوں کو قتل کر دیا کرتا تھا
01:49تو حضرت ایک سال قتل کرتا ہے
01:50ایک سال نہیں تو جس سال میں قتل کرنے کی باری
01:53تھی حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے
01:55تو آپ کی والدہ نے
01:57اس خوف سے کہ
01:58بچے کے رونے کی آواز سن کر فیرون
02:00آئیں گے اور اس کو شہید کر دیں گے
02:02انہوں نے ان کو ایک ٹوکری میں رکھا
02:04اور بکسہ بنا دیا
02:06ٹوکری سی بنائی اور دریا میں
02:08آپ کو بہا دیا کہ کہیں نہ کہیں
02:11کوئی نہ کوئی اللہ تعالیٰ اس کے
02:12اسباب بنا دے گا
02:14تو وہ فیرون نے اپنے محل پہ وہ کھڑا ہوا تھا
02:17اور آسیہ جو آپ کی پہلے
02:18زوجہ تھیں وہ ساتھ تھیں
02:20تو کسی چیز کو بہتے ہوئے دیکھا
02:22تو وہ خدام کے ذریعے
02:24منگوا لیا دیکھا تو بچہ تھا
02:27اور موسیٰ علیہ السلام
02:28جو ہر نبی کا ایک نور ہوتا ہے
02:30اللہ صورتی سے نوازتا ہے
02:32تو دونوں کا دل اس کے طرف مائل ہو گیا
02:34تو پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام
02:36اسی دشمن خدا کے
02:38محل میں پلے بڑھے اور بڑھے ہوئے
02:40اور پھر آپ کا ایک
02:42جگہ سے گزر ہو رہا تھا
02:45تو آپ کی قوم کا ایک بنی
02:47اسرائیلی اور فیرانی قوم
02:49قبطی قوم تھی اس کا ایک آدمی
02:51کا جھگڑا ہو رہا تھا
02:52تو اس بنی
02:55اسرائیلی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام
02:56کو بکارا کہ دیکھیں مجھے مار رہا ہے
02:58پھر اس کو مجھے بچائیں
02:59تو موسیٰ علیہ السلام نے جا کر
03:02ایک مکہ مارا اس کو قبطی کو
03:04وہ تو وہی مر گیا
03:05تو اس خوف سے کہ پھر مجھے اب فیران پکڑ
03:09دے گا اور سزا دے گا حضرت
03:10یعنی اللہ کے حکم سے ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام
03:13وہاں سے چلے گئے
03:14اور حضرت مدین کے علاقے میں پہنچے
03:17جہاں حضرت شعیب علیہ السلام تھے
03:20یہ بھی ایک طویل واقعہ ہے
03:21لیکن میرا مقصود
03:22صرف آپ کو اس تک لانا
03:24وہ پورا واقعہ میں عرض نہیں کر رہا
03:26آپ کسی طرح حضرت شعیب علیہ السلام تک پہنچے
03:29اور انہوں نے آفر کی
03:30کہ آپ اگر
03:31میں اپنی بیٹی کی شادی آپ سے کر دوں گا
03:34لیکن بطور مہر
03:36آپ کو آٹھ سال تک
03:38یہاں پر خدمت کرنی ہوگی
03:40اور اگر آپ دس سال کی مدت پوری کرنا چاہیں
03:44تو آپ کی مرضی ہے
03:45تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر
03:47دس سال کی مدت پوری کی
03:49دس سال تک خدمات کی
03:50اور پھر آپ کا ان کی صاحب زادی کے ساتھ
03:53نکاح ہوا
03:54اور یہی خدمت مہر مقرر ہوئی تھی
03:57یہ اب ایک یہودی نے کوئسن کیا
03:59اب اس یہودی کے کوئسن کرنے کا مقصود
04:02بہت سارے ہو سکتے ہیں
04:03جن میں سے ایک قصد و ارادہ یہ بھی تھا
04:05اسی طرح حیات نبی صلی اللہ علیہ وسلم
04:08میں بھی یہود آ کر کوئسنس کیا کرتے تھے
04:11کہ اگر
04:12یعنی ان کے بڑے کہتے تھے
04:14کہ اگر اس نبی نے اس کا جواب دے دیا
04:16تو یہ ان کے نبوت کی دلیل ہوگی
04:19تو ان کی کتابوں میں
04:22یا ان کے بڑوں سے سینہ بسینہ جو پیغام پہنچا تھا
04:24وہ دو طرح کا تھا
04:25کہ یا تو تم یہ بات پوچھو گے
04:27تو وہ نبی اس کا یہ جواب دیں گے
04:28اور یا پوچھو گے تو منع کر دیں گے
04:31وہ جواب ہی نہیں دیں گے
04:32تو جس کا جواب دیں گے وہاں تھا
04:35کہ جواب ملے گا
04:36یہ بھی آپ کی نبوت کی دلیل
04:38اور جس کا منع کر دیں گے
04:40وہ بھی آپ کی نبوت کی دلیل ہوگا
04:43کہ اللہ کا نبی اس کے بارے میں نہیں بتایا گا
04:45اس لئے یہود زندگی میں آتے رہے
04:48اور انہوں نے آکے کوئسن کیے
04:49اور وہ کوئسن کیوں
04:51یہ نبوت کی دلیل کیسے بنی
04:53کہ رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
04:55مکہ میں پیدا ہوئے
04:57اور چالیس سال تک آپ نے
04:59اس طرح زندگی گزاری
05:01کہ نہ کبھی کوئی قلم ہاتھ میں کسی نے دیکھا
05:04نہ آپ نے کوئی کتاب پڑھی
05:06اور نہ آپ اہل کتاب
05:09یعنی یہود و نصارہ کے پاس جائے کرتے تھے
05:11گویا کہ علم کی سورسز
05:13کوئی آپ نے بظاہر اختیار نہیں کی
05:16پھر اپنے عمر مبارک کے چالیس سال میں
05:20جب اعلان نبوت فرمایا
05:21اور قرآن نازل جو ہوا تھا
05:24وہ ان کے سامنے بیان کیا
05:25تو وہ حیران ہو گئے
05:26کیونکہ یہ ایک ایسی ایربک زبان تھی
05:29اتنی فصیح و بلیغ
05:31حالانکہ عرب لوگ قریشی فخر کر دے تھے
05:34اپنی فصاحت و بلاغت پر
05:35لیکن قرآن کی زبان ایک اپنی ہی زبان ہے
05:38یعنی اس میں اتنی فصاحت و بلاغت
05:41سلاست روانی آسانی ہے
05:42کہ وہ حیران ہو گئے
05:44اب کوئی بھی یہ الزام نہیں لگا سکتا تھا
05:48کہ آپ نے خود یہ کتاب لکھ لی ہے
05:50کیونکہ سرکار نے کبھی قلم نہیں اٹھائی
05:52یا آپ نے کسی سے لے لی ہے
05:55استاد سے وغیرہ سے
05:56استاد تو کوئی تھائی نہیں
05:57اور اسی طریقے سے پھر نبی کریم
06:00قرآن بھی بیان کر رہا تھا
06:01اللہ نے الہام بھی فرمایا
06:03سرکار بنی اسرائیل کے واقعات بیان کیا کرتے تھے
06:07نو علیہ السلام کے ساتھ کیا ہوا
06:09موسیٰ علیہ السلام کا معاملہ
06:11عیسیٰ علیہ السلام کا
06:12عزیر علیہ السلام کا
06:14یہ کئی واقعات میرے آقا نے بیان فرمایا
06:20کن بات تھی کہ جس نبی نے کبھی توریت نہیں پڑھی
06:23جو کبھی
06:24اہلِ کتاب کے ساتھ نہیں رہا
06:26ان کے سینہ بسینہ منتقل ہونے
06:29والے واقعات کیسے بیان کر رہے ہیں
06:31تو یہ آپ کے نبوت کی
06:32ایک دلیل تھی
06:33تو کبھی تو یہود آکے ایسی پوچھتے تھے
06:37کہ بتائیں کہ موسیٰ علیہ السلام
06:39اور مچھلی کا واقعہ کیا ہے
06:41تو رحمتِ کونہ ان بیان کر دیا کرتے تھے
06:44تو وہ بڑے حیران ہوتے ہیں
06:46اب ان کو چاہیے تھا کہ ایمان لے کر آئیں
06:48وہ تو ویسی پہچانتے تھے
06:49کہ یہ اللہ کے نبی ہے نشانیوں کے ذریعے
06:51اور جب یہ بھی دلیل مل گئی
06:54کہ نبی ان باتوں کا جواب دیں گے
06:57اور دے دیا
06:57تو ان کو ایمان لانا چاہیے تھا
06:59لیکن بدبختی غالب تھی
07:00اسی طریقے سے ایک مرتبہ ایک گروہ تھا
07:04یہود کا جا رہا تھا
07:05ان میں سے کسی نے کہا
07:06کہ ان نبی صرف سوال کرو
07:08دوسروں نے کہا کہ نہ کرو
07:10اگر انہوں نے وہ جواب دے دیا
07:12کہ جو جواب
07:13مطلب ہمارے بڑوں کے
07:15اس میں لکھا ہوا ہے
07:16تو پھر برودی قیامت
07:18کوئی ہمارے پاس حجت باقی نہیں رہے گی
07:20کوئی بہانہ باقی نہیں رہے گا
07:22کہ جی اس وجہ سے ہم ایمان نہیں لائے تھے
07:25لیکن پھر بھی ایک آدمی نہیں باز آیا
07:27اور اس نے آکے پوچھا
07:28کہ روح کیا ہے
07:29رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
07:31خاموش ہو گئے
07:32اور وحی نازل ہوئی
07:34کہ اے حبیب ان سے کہہ دیجئے
07:35کہ روح میرے اللہ کے حکم سے ہے
07:38یعنی اس کی حقیقت کا بیان کرنے کی
07:40مجھے اجازت نہیں ہے
07:42اور ان کے ہاں بیعنی یہ لکھا ہوا تھا
07:44کہ جو اس نبی سے روح کے بارے میں
07:46کوئیسن ہوگا
07:47وہ اس کا جواب نہیں دیں گے
07:49اور ایسے ہی ہوا
07:50تو یہ ایک پسمندر تھا
07:52جو میں نے آپ کی خدمت میں ذکر کیا
07:55اب یہ ایک یہود کا
07:56ایک مسلمان سے کوئیسن کرنا
07:58یہ بتاؤ مسلم نے کون سی مدت پوری کی تھی
08:01یہ اشارہ تھا اس طرف کہ بتاؤ
08:04اگر تمہارے نبی نے پرانے واقعات بتائیں ہیں
08:07اور ہمارے واقعات وہ نبی جانتا ہے
08:09بحیثیت نبی کے
08:10یعنی نبی ہونے کے لحاظ سے
08:12اس کو اللہ نے الہام فرمایا ہے
08:14تو ذرا بتاؤ انہوں نے کیا تعلیم دی تھی
08:16کہ مسلمان نے
08:18آٹھ سال پورے کیے تھے
08:20یا دس سال کون سی مدت پوری کی تھی
08:22تو حضرت سید بن جبیر
08:26رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نالج میں نہیں تھا
08:28ہوتے ہیں بہت ساری چیزیں کے لئے
08:29وہ نہیں سن پائیں ہوں گے
08:31ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے
08:34جو اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے
08:36فیضیاب ہوتے رہے ہیں
08:38اور آپ نے فرمایا
08:39کہ مساء صلی اللہ علیہ وسلم نے
08:42زیادہ لمبی اور
08:44پاکیزہ مدت کو پورا کیا تھا
08:47یعنی دس سال
08:48فوراً سمجھ گئے ہوں گے کیونکہ یہ یہود کو
08:50بہت قریب سے دیکھتے رہے تھے
08:52اور انہوں نے جا کر یہی جواب دیا
08:53اور ساتھ میں مزید یہ کہہ دیا
08:55کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
08:57جب کوئی بات فرماتے ہیں
08:58تو اس کو پورا کر دیتے ہیں
09:00یہ ایک زمنی بات تھی جس کا کوئی سن نہیں تھا
09:03لیکن آپ نے رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
09:06کی مدح کے لئے بیان فرمایا
09:07کہ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت قریبہ
09:10ہم نے دیکھی
09:11کہ جب بھی کوئی بات کرتے ہیں
09:13یعنی جو وعدہ کرتے ہیں
09:14اس کو پورا کر دیتے ہیں
09:16جب کسی کام کا اچھے کام کا ارادہ کرتے ہیں
09:19تو اس کو پائے تکمیل تک پہنچاتے ہیں
09:21تو خلاص کلام یہ ہوا
09:23کہ نبی اسی لئے تشریف لاتے ہیں
09:27بہت سارے مقاصد کے علاوہ یہ بھی ایک مقصد ہوتا ہے
09:30کہ وہ غیبی امور کو لوگوں کے سامنے ذکر کرتے ہیں
09:34وہ غیبی امور دو طرح کے ہوتے ہیں
09:37ملکہ تین طرح کر لیں
09:38کچھ کا تعلق ماضی سے ہوتا ہے
09:40کچھ کا تعلق حال سے ہوتا ہے
09:43اور کچھ کا تعلق مستقبل سے ہوتا ہے
09:46غیب کسی کہتے ہیں
09:48پہلے سمجھیں کہ غیب اس پوشیدہ شہ کو کہتے ہیں
09:51جس کو ہم نہ دیکھ کر جان سکیں
09:53نہ سونگ کر
09:54نہ چک کر
09:56نہ چھو کر
09:57اور نہ سن کر
09:58انہیں حواس خمسہ کہتے ہیں
10:00خمسہ وانے پانچ
10:01یہ پانچ ایسی صلاحیتیں ہیں
10:05جس سے ہم کسی چیز کا علم اور ادراک حاصل کر سکتے ہیں
10:07اور وہ نہ حاصل ہو سکے
10:09ایسی پوشیدہ شہ
10:10اور نہ اس کو عقل سے جان سکیں
10:13یعنی اندازوں سے
10:14یا کوئی آلہ وغیرہ
10:16کوئی مشین ایجاد کر کے
10:18جیسے الٹرا ساؤنڈ دیکھیں
10:20آج کل مشین بتا دیتی ہے
10:22خالی وہ پیٹ پر گھوماتے ہیں
10:23تو سامنے بچے کو دیکھ رہے ہوتے ہیں
10:25آپ جو ماں کے پیٹ کے اندر ہیں
10:27لیکن یہ چونکہ ایک آلے کے ذریعے معلوم ہو رہا ہے
10:30ورنہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے
10:32یہ غیب ہے
10:33اللہ تعالی نے قرآن میں خود بیان فرمایا
10:35لیکن آلے کے ذریعے چونکہ جان رہے ہیں
10:38تو یہ غیب پر متعلق ہونا نہیں کہلائے گا
10:41کیونکہ یہ ایک مشین اور وسیلے سے ہم نے کیا
10:43تو غیب وہ ہوتا ہے
10:45کہ جو حواس خمسہ اور عقل سے نہ جانا جا سکے
10:48بلکہ
10:49اللہ کے نبی کے بتانے سے معلوم ہو
10:51یا اللہ کے نبی نے جس کو بتایا
10:54اس کے بتانے سے معلوم ہو
10:55جیسے اللہ کی ذات
10:57اللہ کی صفات
10:58اور آسمان
11:00جنت دوزخ
11:01جن فرشتے
11:03اسی طرح لوح و قلم
11:04اسی طریقے سے عذابات قبر
11:07میدان محشر کے واقعات
11:09تو یہ سب کے سب غیو بات ہیں
11:12تو
11:13اللہ کے نبی جو ہیں وہ غیب بتانے کے لئے تشریف لاتے ہیں
11:17وہ غیب چاہے ان کا تعلق ماضی سے ہو
11:19جیسے نبی کریم نے پرانے زمانے کے واقعات بیان فرمائے
11:22یا حال سے ہو
11:24جیسے رحمت کونین
11:26بعض اوقات سامنے والے کے قلب کے احوال کو ذکر کر دیا کرتے تھے
11:29جو آپ کے موجزات میں لکھا ہے
11:31الخصائص القبرہ
11:33ایک کتاب ہے
11:34وہ اگر آپ کو حاصل ہو جائے لیں
11:35دیکھئے کہ
11:36اس میں بہت ساری چیزیں لکھی ہیں
11:39اور اسی طریقے سے
11:41کون کیا کر رہا تھا
11:44بعض اوقات آتے تھے سرکار بتا دیا کرتے تھے
11:46تم یہ کر کے آئے ہو
11:48یہ حالیہ غیب بتا رہے ہیں
11:50یہ اسی طرح عذابات قبر پر سرکار متعلق ہو گئے
11:53اور بعض چیزیں فیوچر سے تعلق رکھتی تھیں
11:56جس سے سرکار نے بتایا
11:57اب یہ ہوگا
11:58قیامت کے قرب قیامت کی علامات آپ نے ذکر کی
12:02میدان مہشر کی باتیں بتائیں
12:03جنت دوزخ کے بارے میں بتایا
12:06تو یہ سب غیوبات تھے
12:08تو اللہ کے نبی
12:09اس لیے بھی تشریف لاتے ہیں
12:12کہ وہ لوگوں کو اس طرح آزمائش میں ڈالیں
12:14کہ وہ کچھ غیبی امور کا ذکر کرتے ہیں
12:17جن پہ از خود انسان متعلق نہیں ہو سکتا
12:20تو وہ دعوت دیتے ہیں
12:21کہ یہ میں نے کہہ دیا اب اس کو مانو
12:23مثلا نبی کریم نے فرمایا
12:26عذاب قبر ہے
12:27اب نہ آپ جان سکتے ہیں
12:29نہ میں جان سکتا ہوں عذاب قبر
12:30اللہ کے نبی نے کہہ دیا
12:33عذاب القبر حق
12:34تو ہم نے کہا ابھی حق ہے بس
12:36ہمارے نبی نے فرما دیا ٹھیک ہے
12:37لیکن جو ذرا
12:39مطلب دماغ سے کام لیتے ہیں زیادہ
12:42وہ کہتے ہیں ہمیں تو دلیل دو پھر مانیں گے
12:44ورنہ نہیں
12:44یعنی نبی کا کہنا ہمارے لئے کافی نہیں ہے
12:47یا تو دکھاؤ
12:48آواز سناو کچھ ایسا کرو
12:50تمام کفار نے تقریبا
12:51قرآن اٹھا کے پڑھ لیں
12:53اسی طرح اپنے اپنے نبیوں سے مطالبات کیے ہیں
12:56ورنہ ہم آپ کو نہیں مانیں گے
12:58تو یہ جو ہوتا ہے یہ غلط ہوتا ہے
13:00تو اس کا مطلب یہ ہوا
13:01کہ نبی جب غیب کو ظاہر کرتا ہے
13:03تو یہ امت کے لئے ایک آزمائش ہوتی ہے
13:05جو سعادت مند ہوتے ہیں
13:08وہ فوراں اس پہ بلیف کرتے ہیں
13:10یقین کرتے ہیں
13:11اور مانتے ہیں
13:12چاہے اس پہ دلیل تو آپ کو پتا ہے
13:14ملی نہیں سکتی
13:15کوئی ظاہری ثبوت تو نہیں ہو سکتا
13:17یعنی اب جنوں کو دکھا دیتے ہیں
13:20نبی فرشتوں کو دکھا دیتے
13:22پھر تو یہ ظاہری ثبوت ہوتا
13:23لیکن یہ ضرور ہے
13:25کہ جو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا
13:28آخرت کے بارے میں خاص طور پر وہ ہوگا
13:31اور وہ ایک ٹائم آئے گا
13:32ہمیں نظر آئے گا
13:34لیکن دنیا میں اس لئے نظر نہیں آتا
13:36کہ یہ ایک امتحان ہے
13:37جو نبی نے کہا کہنا مانو
13:39اور بعض ہوتے ہیں جو بہت ہی سمجھدار
13:42اپنے آپ کو سمجھتے ہیں
13:43وہ انکار کر دیتے ہیں
13:45کہ جن فرشتے کوئی نہیں ہیں
13:47جنت دوزخ بس
13:48لوگوں کو کریفشن سے بچانے کے لئے
13:50ایک خوف پیدا کرنے کے لئے بات بیان کیے
13:53اس طریقے سے وہ غیوبات کا انکار کر دیتے ہیں
13:56اس لئے آپ دیکھیں بہت سارے ایسے ہیں
13:58جو اس زمانے میں بھی
14:00پاکستان میں بھی ہیں
14:01میں جانتا ہوں
14:02جو اللہ کے وجود کے منکر ہیں
14:05وہ کہتے ہیں
14:06خدا کوئی چیز نہیں ہے
14:08ایسی بس لوگوں نے بنایا
14:09یہ ایسی خبریں دی گئی ہیں
14:11اب یہ قرآن کا سرحاتن انکار
14:13نبی کریم کا انکار
14:14خود اللہ کا انکار
14:16بدترین کفر ہے
14:17لیکن ایسے لوگ بھی
14:19اس دور میں موجود ہیں
14:21اور آپ کے پاکستان میں موجود ہیں
14:22تو خدا
14:23میں اپنے تمام دیکھنے والوں سے کہتا ہوں
14:27ایک تو خود اشار رہے
14:29ہر ایک کو نہیں سنا جاتا
14:30ہر ایک کی صحبت میں
14:32اپنے بچوں کو نہیں بھیجا جاتا
14:33جہاں اسکول میں بھیج رہے ہیں
14:35کالیج یونسٹری میں بھیج رہے ہیں
14:36دیکھیں کہ کیا پڑھایا جا رہا ہے
14:38اس پر بھی تھوڑا غور کر لیں
14:39بعض وقت
14:40اس طرح کی تھوڑس
14:42ذہن میں ڈال دی جاتی ہیں
14:43اور ہمارے بچے گھوم رہا ہوتے ہیں
14:46تو بہرحال
14:47اب یہاں پر بھی ایسے ہوا
14:48کہ اللہ کے نبی نے
14:49اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کیا
14:52علم غیب
14:53اور پھر آگے صحابہ کو بتایا
14:54اور حضرت ابن عباس
14:56رضی اللہ تعالیٰ عنہ
14:57بتا رہے ہیں
14:59کہ یہ موسیٰ علیہ السلام نے
15:00بڑی والی مدت کو پورا کیا تھا
15:02آٹھ کے بجائے دس سال کو پورا کیا
15:04اب پوچھیں ذرا
15:05کہ یہ تو غیب کی بات تھی
15:07حضرت ابن عباس کو کہتے ہیں پتا چلا
15:09جواب ہوگا
15:10نبی کریم نے بتایا
15:11نبی کریم کو کیسے پتا چلا
15:13اللہ نے بتایا
15:14لازم سی بات ہے
15:15تو یہ علم غیب
15:17عطائی ہوتا ہے
15:18کہ اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے
15:20اور اللہ تعالیٰ کا علم غیب
15:22ذاتی ہے
15:23یعنی اسے کسی نے نہیں دیا
15:25لہذا یاد رکھیں
15:27اگر کوئی اللہ تعالیٰ کے علم کے
15:30ایک ذرے کو بھی عطائی کہہ دے
15:32کہ کسی نے اللہ کو عطا کیا ہے
15:35وہ کافر ہو جائے گا
15:38اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
15:40کے علم مبارک کے
15:42ایک بھی ذرے کو کہے کہ ذاتی ہے
15:44اللہ کے دیئے بغیر ہے
15:46وہ شرک کا مرتقب ہو کر
15:48دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا
15:50اس لئے اچھی طرح سمجھ جائیں
15:52ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
15:55حق رہے
15:56آپ نے باقاعدہ فیزیکلی طور پر
15:58موجزات کے ذریعے
16:00دلائل کی روشنی میں
16:01اپنی نبوت کو ثابت فرمایا
16:03اللہ نے ثابت فرمایا
16:05اور یہ میں کہتا ہوں آپ کو
16:07بار بار کہتا ہوں
16:08کئی دفعہ کہہ چکا ہوں گا
16:10کہ اللہ کا شکر ادا کیا کریں
16:12کہ اللہ تعالیٰ نے
16:14بغیر طلب کیے
16:16ہمیں مسلمان گھرانے میں
16:17اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
16:20کی امت میں پیدا فرمایا
16:21یہ دو بہت بڑے انعام ہیں
16:24کہ امت سرکار میں ہم شامل
16:26اور مسلمان ہیں
16:27ورنہ اسی دور میں آپ دیکھیں
16:29کتنے لوگ پیدا ہوئے
16:31اور وہ ایسی ہوتے ہیں
16:32کہ وہ
16:32کوئی خدا کے وجود کا منکر ہے
16:34کوئی غیر مسلم کے ہاں پیدا ہوا ہے
16:37کوئی بد پرستوں کے ہاں پیدا ہوا
16:39اور ایکسٹریمس قسم کا وہ
16:41بد پرست ہوتا ہے
16:42کہ اس کے خلاف سننے کے لئے تیار نہیں ہوتا
16:45اس کا مطلب ہے
16:46جب وہ سننے کے لئے
16:47کچھ خلاف سننے کے لئے تیار نہیں ہے
16:49حق جاننے کے لئے تیار ہی نہیں ہے
16:51تو ساری زندگی کفر پر رہے گا
16:53اور اسی پر مرے گا
16:55اور جو کفر پر مر گیا
16:56وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے
16:57جہنم میں جائے گا
16:59میری یہ باتیں
17:00آپ جو سماعت فرما رہے ہیں
17:02مجھے یقین ہے
17:02کیونکہ یہ احادیث بتاتی ہیں
17:04سارے ہمارے حافظے میں
17:12کتنا اللہ کا کرم ہے
17:14جب میدانِ معاشر میں آپ دیکھیں گے
17:15مسلمانوں کو انعام مل رہا ہوگا
17:18تو اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہوگا
17:21اور بے اختیار ہماری زبان
17:22اظہارِ تشکر کرے گی
17:24اللہ تعالی ہم سب کو
17:26اپنے ایمان کی اہمیت کو سمجھ دیں گے
17:27توفیق عطا فرمائے
17:28آمین وآخر و دعوانا
17:30ان الحمدللہ رب العالمين
17:42آمین وآخر وآخر وآخر وآخر
Comments

Recommended