Skip to playerSkip to main content
  • 9 minutes ago
کولگام: جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع کا سوپٹ علاقہ،  جہاں قدرتی حسن کے ساتھ صوفی روایات اور روحانی عقیدت کی ایک قدیم روایت بھی جڑی ہوئی ہے۔ یہاں حضرت سید صالح رحمۃ اللہ علیہ  اور ان کے چھ بھائیوں کے مزارات ہیں، جہاں آج بھی دور دور سے عقیدت مند حاضری دینے پہنچتے ہیں۔مقامی روایات کے مطابق حضرت سید صالح اور ان کے چھ بھائی ایران کے شہر سمنان سے ہجرت کرکے کشمیر آئے تھے اور یہاں اسلامی تعلیمات خاص کر روحانی پیغام کو عام کیا۔سوپٹ کی اس زیارت سے وابستہ ایک اور دلچسپ روایت یہاں موجود قدرتی چشمہ ہے۔  جس کا پانی زائرین تبرکاً استعمال کرتے ہیں۔سوپٹ علاقے کی صدیوں پرانی زیارت گاہ عقیدت مندوں خاص کر کشمیریوں کے لیے صرف ایک عقیدت کا مرکز نہیں، بلکہ خطے کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کا بھی حصہ ہے۔

Category

🗞
News
Transcript
00:06जूनुबी कश्मिर के कौलगामजले का सोपठ ईलाका जहां खुदरतِ फुस्णि के साथ सूफी रिवायात और रोहानी अकिदत की एक कदेम
00:16रिवायत भी चुड़ी हुई है
00:17Here, Mr. S. Salih R.A. and his six brothers and sisters,
00:23where they are far away from.
00:28I am very proud of you.
00:311982, I had such a disease in my life, which made my life.
00:37For me, I had everything I had to pay for.
00:40And I had to pay for my house.
00:42Just think that I had no disease.
00:45ڈالی کے کئی معروف ڈاکٹروں سے بھی معاینہ کروایا تاہم مجھے بیماری سے کوئی راحت نہیں ملی میری حالت اتنی
00:52خراب تھی کہ میں ٹھیک سے چل بھی نہیں پاتا تھا
00:55اسی دوران اچانک میرے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ میں اس آستانی آلیہ پر حاضری دوں شاید یہاں
01:01سے مجھے شفا اور سکون نصیب ہو
01:03چنانچہ میں سعید صالح کے آستانی آلیہ پر حاضر ہوا میری حاضری کے تقریباً ڈھائی دن بعد مجھے اپنی طبیعت
01:10میں واضح بہتری محسوس ہونے لگی
01:12مجھے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے میری بیماری کم ہوتی جا رہی ہے اور میں دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا
01:19ہونے کے قابل ہو رہا ہوں
01:22رفتہ رفتہ میں پہلے کی طرح چلنے پھرنے لگا اور اپنی زندگی معمول کے مطابق گزارنے لگا
01:28یہ تجربہ میری زندگی کا ایک ایسا مور ثابت ہوا جسے میں آج تک نہیں بھول پایا
01:36اسی عقیدت اور واپس دیکی کی وجہ سے انیسہ بیاسی سے لے کر آج تک میں اس آستانی آلیہ پر
01:43اپنی خدمات انجام دے رہا ہوں
01:46مقامی روایت کے مطابق حضرت سید صالح رحمت اللہ علیہ اور ان کے چھے بھائی ایران کے شہر سمنان سے
01:53ہجرت کر کے کشمیر آئے تھے
01:55اور یہاں اسلامی تعلیمات خاص کر روحانی پیغام کو عام کیا
02:00آج سے تقریباً ساڑھے آٹھ سو برس پہلے اولیاء اکرام کی یہاں پہ آمد شروع ہوئی
02:08جنہوں نے کشمیر میں اسلام فیلانے میں اپنا کردار ادا کیا
02:14بلکہ آج کل جو آپ ریاست جمعہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت تیدہ دیکھ رہے ہیں
02:21وہ انہی کے صدقے سے ہمیں ایمان ملا ہے
02:25اس دور میں چونکہ نہ تو ٹرین تھی نہ تو جہاز تھا نہ تو گاڑیا تھی
02:34سفر کرنا بھی بہت زیادہ محل تھا
02:36لیکن دینِ الٰہی کی خاطر انہوں نے دور دراز ممالکہ سفر گوڑوں پہ
02:43اور اسی طرح اس طرح اس وقت جو بیل گاڑیا بنی ہوئی تھی
02:47جو نظم تھا اس پہ انہوں نے سفر کیا
02:49آج یہ جو آپ یہاں یہ زیارت دیکھ رہے ہیں
02:53یہ سمنان سے آئے ہوئے تھے
02:55یہاں یہ سات بھائی ہیں
02:58اور انہوں نے یہاں اس علاقے میں
03:00بلکہ پورے جمعہ کشمیر میں دین فیلانے میں
03:04اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات
03:07اور اللہ کے دین کی دعوت اس ویرانے میں دی تھی
03:11اس وقت یہ وادی کشمیر ایک ویرانہ ہی ہوا کرتا تھا
03:15اس وقت یہ وادی کشمیر ایسا نہیں تھا
03:17جس وقت یہ اس وقت ہم اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے
03:21بارہال اس وقت جو ہم ایمان والے ہیں
03:25یہ انہی کے صدقے سے ہم ایمان والے ہیں
03:27سوپٹ کی زیارت سے وابستہ ایک اور دلچسپ روایت یہاں موجود
03:32قدرتی چشمہ ہے
03:34جہاں تک انسادات کا تعلق ہے یہ سمنان سے آئے ہیں
03:39ایران کا ایک علاقہ ہے سمنان
03:41سب سے پہلے حضرت میر سیدہ سمنانی
03:45رحمت اللہ علیہ کے چیچے ازاد بائی تھے میر سیدہ حسین سمنانی
03:49جن کا مادفان کلگام میں ہے
03:51انہی کے ساتھ بہتھر اسسادات کا یہ کافلہ تھا
03:56اور ان میں سے ان کے بھی اور بھی کافلے کے ساتھ
04:00وہ سب سے پہلے یہاں پیر پنچال سے آئے ہیں سمانہ شہر سے
04:04شمانہ شاید راجستان میں ایک شہر ہے وہاں یہاں رہتے تھے
04:07وہاں یہ آئے
04:08تو وہاں سے انہوں نے یہاں سے شپیان سے یہاں
04:12پھر کلگام میں آئے اور کلگام سے انہوں نے تقسیم کیا
04:16اپنے ان ساتھیوں کو
04:17خادموں کی مسنے دے رہتی ہے مثلے کہکشا
04:21خادموں کی
04:22حاکموں کی گوری جاتا
04:24بے چادر پر من لاتے ہیں زار
04:26مگر
04:28خادموں کی قبر پر جلتے ہیں
04:29یاروں کی چراغ
04:30یہاں ایک
04:31یہ ہمیشہ سے یہ
04:33اقیدت مروہ کرتے تھے
04:34اس گاؤں کے یہاں آتے تھے
04:36سالانہ نومبر کے مہنے میں
04:38یا اکتوبر کے مہنے میں
04:39یہاں عرص منایا جاتا ہے
04:41یہاں ہر ویروار کو
04:43بڑا عرص لگتا ہے
04:45ہفتے میں
04:47مہینے میں چار بار
04:48لوگ آتے ہیں کسرت سے آتے ہیں
04:50دور دراز آکھ
04:51ان کی حاجتیں پوری ہوا کرتی ہیں
04:53یہ ایک آستہ ہے
04:54آستہ بنائے ہوئے
04:55تو دراصل یہ اولیاء کرام کی عظمت ہے
04:58یہ چشمہ ہے
04:59اس سفیدے کے درخت کے نیچے
05:02کہتے ہیں کہ اس میں
05:03ادھر سے پانی نکلا ہے
05:04یہ بات صحیح
05:05نہیں درست بات یہ ہے
05:06کہ جب بارشیں زیادہ ہوا کرتی ہیں
05:08تو پانی زمین سے نکلتا ہے
05:10پھر لوگ اس کو شفاپ کے طور پر لیتے ہیں
05:13جب میں پانی خوشک ہوتا
05:14تو اس میں پانی یہ بھر دیتے ہیں
05:16اسی اشیر کی
05:16پھر لوگ آتے ہیں
05:18روز آتے ہیں
05:18پانی وہاں سے لیتے ہیں
05:19اپنے بچوں کو گر میں لیتے ہیں
05:21یہاں تحریر لاتے ہیں
05:22یہ تقسیم کرتے ہیں
05:24بیڑ لاتے ہیں
05:25ان کو زبا کرتے ہیں
05:26یہاں
05:26لوگوں کا ایک بہت مجمع ہوا کرتا ہے
05:29یہ بڑی خوشکسمتی
05:30یہ سعادت ہے
05:30اس علاقے کی
05:31کہ ان لوگوں نے
05:33ہمیں دین کی طرف رہا
05:35ہمیں مسلمان بنائے
05:36یہ ان کی عظمت ہے
05:38سوپٹ کے صدیوں
05:39پرانی زیارتگاہ
05:40عقیدت مندوں
05:41خاص کر مقامی لوگوں کے لیے
05:43صرف عقیدت کا مرکز نہیں
05:45بلکہ
05:46علاقے کے تاریخی
05:47اور ثقافتی ورثے کا بھی حصہ ہے
05:50ای ٹی وی بھارت کے لیے
05:51کولگام سے
05:52دین امران کی ریپورٹ
Comments

Recommended