Skip to playerSkip to main content
  • 13 minutes ago
پلوامہ، جموں و کشمیر (شبیر بھٹ)پینے کے پانی کی قلت کا مسئلہ ان دنوں وادی کے شمال و جنوب میں شدت اختیار کر چکا ہے، جس سے مقامی آبادی شدید پریشان ہے۔ اسی دوران محکمۂ جل شکتی نے عوام کو اعتماد میں لیے بغیر امیر آباد، ترال میں ایک واٹر اسکیم سے دوسرے گاؤں کو پانی سپلائی فراہم کرنے کا پروگرام بنا لیا ہے، جس پر گاؤں والوں نے سخت اعتراضات کیے ہیں۔ اس فیصلے کے خلاف امیر آباد ترال کے لوگوں نے محکمۂ جل شکتی کی جانب سے مقامی واٹر سپلائی ٹینکی سے نزدیکی گاؤں ہردومیر کے پیر محلہ کو پانی منتقل کرنے پر خاموش احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ خود پینے کے صاف پانی کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور متعلقہ حکام کی جانب سے ان کے اپنے مسئلے کے مستقل حل کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ علاقہ مکینوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقامی سطح پر پانی کی پہلے ہی شدید کمی ہے اور اب جو کچھ بچا کچا پانی ہے اسے بھی دوسرے گاؤں کو منتقل کیا جا رہا ہے جس کی وہ کسی قیمت پر اجازت نہیں دیں گے۔ مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے اپنے علاقے میں پانی کی سپلائی کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے اور عوام کو درپیش اس سنگین مشکل کا ازالہ کیا جائے۔ انہوں نے انتظامیہ اور محکمۂ جل شکتی کے اعلیٰ حکام سے معاملے کا فوری نوٹس لے کر ضروری اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر ان کے اس اہم مطالبے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تو وہ قومی شاہراہ کو بند کر کے دھرنا دیں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی۔ واضح رہے کہ فی الوقت امیر آباد کی اس اسکیم سے پورے گاؤں کو پانی سپلائی کیا جاتا ہے، تاہم اس کے باوجود کئی محلوں میں پینے کے پانی کی قلت عوام کے لیے سوہانِ روح بنی ہوئی ہے۔ 

Category

🗞
News
Comments

Recommended