Skip to playerSkip to main content
  • 10 minutes ago
سرینگر (پرویز الدین)قومی کتاب میلہ ’’چنار بُک فیسٹول 2026‘‘ اپنے آخری پڑاؤ پر ہے۔ سرینگر کے ایس کے آئی سی سی میں منعقدہ یہ ادبی میلہ نہ صرف کتب بینی کے شوقین حضرات کے لیے بلکہ یہ فن، ادب اور موسیقی سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اس کتاب میلے میں جہاں مختلف طبقہ ہائے فکر کے لوگ کتابیں خریدتے ہوئے دیکھے جار ہے ہیں، وہیں یہاں آنے والے علمی اور ثقافتی پروگرامز سے بھی محظوظ ہورہے ہیں۔ شام کے اوقات میں الگ الگ موضوعات پر مذاکروں کے علاوہ رنگا رنگ موسیقی کے پروگرام بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ جب کہ میلے میں مشاعرے، شام غزل، صوفیانہ کلام، بچوں کے پروگرامز اور معروف مصنفین سے ملاقات جیسی ہمہ جہت سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ 
 
فکشن نگار مشتاق احمد مشتاق کہتے ہیں کہ یہ چنار بک فیسٹیول اپنی نوعیت کا منفرد میلہ ثابت ہوا جس میں تہذیب و ادب کا ایک حسین امتزاج دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس طرح نوجوان نسل کو کتابوں کے علاوہ اپنی ثقافت اور روایات سے جڑنے کا موقع ملتا ہے۔ جس سے ایک نیا عزم پیدا ہوتا ہے۔ یہ کسی ادبی یا ثقافتی تقریب سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ ایسے ہی فیسٹول سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب میلہ اب ہماری ثقافتی زندگی کا ایک حصہ بنتا جا رہا ہے۔ تھیٹر آرٹسٹس کہتے ہیں کہ یہاں ہمیں نہ صرف عام لوگوں بلکہ فن اور ادب سے وابستہ اہم شخصیات کے سامنے اپنا فن دکھانے کا موقع مل رہا ہے۔ یہاں علم و ادب اور سنگیت کا بہترین امتزاج بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’اس سنگم سے جہاں کتب بینی کو کافی حد تک فروغ حاصل ہو رہا ہے، وہیں موسیقی اور اداکاری کے ذریعے لوگوں کی دلجوئی کرنے کا موقع فراہم ہوا۔ 
'چنار بک فیسٹیول' میں تقریباً 200 کتب فروش اور ناشرین نے شرکت کی اور شائقین کتب کی کثیر تعداد نے اس میلے کے تئیں غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ طلبا، اساتذہ، والدین، ادیب اور محبان اردو کے ساتھ ساتھ دیگر شعبہ جات سے وابستہ لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے اسے علم و ادب کا یادگار میلہ بنا دیا ہے۔ کتب بینی کے شوقین ایک نوجوان نے موجودہ ڈیجیٹل اسکرینوں کے تسلط والے دور میں اس فیسٹیول کو کتابوں کی جانب ایک مثبت واپسی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’کتاب محض معلومات کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان کو غور و فکر کرنے کا سلیقہ عطا کرتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ای کتب کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن کاغذ کی خوشبو، ورق پلٹنے کی مخصوص آواز اور ذہنی یکسوئی جیسا تجربہ صرف روایتی کتاب ہی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کتاب ہمیں ملک کی دیگر حصوں سے منگوانی پڑتی ہو وہ ہمیں گھر کی دہلیز پر مناسب قمیت پر دستیاب ہے۔ جس کا پڑھنے والوں کو بھرپور فائڈہ اٹھانا چاہیے۔
 
ملک کے دیگر پبلیشرز کے ساتھ ساتھ محکمۂ آرکالوجی سروے آف انڈیا کی جانب سے یہاں ایک اسٹال لگایا گیا تھا تاکہ لوگ خاص کر نوجوان نسل، ملک کی تہذیبی تاریخ اور آثار قدیمہ سے آشنا ہو جائے۔ گریمہ کوشک کہتی ہیں کہ تاریخی اور آثار قدیمہ سے متعلق کتابوں کو خریدنے میں لوگوں نے کافی دلچسپی دکھائی اور بہتر درعمل دیکھنے کو ملا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’مطالعہ ایک ایسا عمل ہے جو ہر بار نئی معنویت اور مختلف تجربات سے ہمکنار کرتا ہے۔‘‘ چنار بُک فیسٹیول کے منتظمین کہتے ہیں کہ نوجوانوں اور بچوں میں تحقیق، تخلیق اور تنقیدی سوچ پیدا کرنے کے لیے کتب بینی انتہائی ضروری ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر طالب علم فیزیکلی کتاب پڑھنے کی طرف متوجہ ہو۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ آئندہ سال اس فیسٹیول کو مزید توسیع دی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبا اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ واضح رہے کہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور نیشنل بُک ٹرسٹ آف انڈیا کے اشتراک سے ’’چنار بُک فیسٹول‘‘ کا اہتمام 18 جولائی کو کیا گیا جو کہ اب رواں ماہ 26 جولائی کو اختتام پذیر ہوگا۔ 

Category

🗞
News
Transcript
00:00foreign
00:33BETH Oscar
00:35?
00:52?
00:55?
00:55?
00:55?
00:55?
00:55?
00:56?
00:57?
00:57?
00:57?
00:57?
00:58?
00:59?
00:59?
00:59?
01:00is a common theme.
01:01In this way, climate and maybe a future of theeminist of the legend.
01:07This shows the cultural heritage of the civilization,
01:11the youth, society and the culture of the future,
01:18the culture of the country and the culture of the country.
01:28This community, culture,
01:29in which they are working with their friends and friends and their friends.
01:37They are working with their friends and their friends.
01:38They are working with their friends.
01:39This is a purpose.
01:42It is a multi-factor.
01:45It is a fact that we can't do it.
01:50It is a part of our experience.
01:51And we can't do it.
01:52It's a part of our experience.
02:07Thank you so much for joining us.
02:25Thank you so much for joining us.
Comments

Recommended