اونتی پورہ، جموں و کشمیر (شبیر بھٹ)جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ کو ایک تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ کیونکہ یہ ماضی میں کشمیر کی راجدھانی ہوا کرتا تھا اب گزشتہ ایک دہاٰئی سے اونتی پورہ کا یہ علاقہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے کیونکہ یہاں اسلامک یونیورسٹی اور ایمز جیسے اداروں کی تعمیر کے بعد تو یہ علاقہ جنوبی کشمیر میں ایک اہم مقام حاصل کر چکا ہے۔ اب یہاں مرکزی سرکار اور بی جے پی حکومت نے 'نیشنل سینٹر آف ایکسیلنس' (NCOE) کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جس پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور منتخب حکومت نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر کھیل منسکھ مانڈویہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔
سنہا نے کہا کہ اونتی پورہ، پلوامہ میں قائم ہونے والا یہ پہلا 'نیشنل سینٹر آف ایکسیلنس' (NCOE) 'ہائی الٹیٹیوڈ اسپورٹس' (بلند مقامات پر کھیلے جانے والے کھیلوں) اور مختلف ایتھلیٹک مقابلوں کے لیے ایک ممتاز قومی مرکز کے طور پر کام کرے گا اور ساتھ ہی ہزاروں نوجوانوں کو مختلف کھیلوں میں مہارت بھی فراہم کرے گا۔ تاہم کئی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس سینٹر کی تعمیر سے اونتی پورہ تحصیل کی آبادی کو سینکڑوں کنال اراضی سے ہاتھ دھونا پڑے گا جو کہ مستقبل میں خطرناک صورتحال کو جنم دے سکتا ہے۔ حالانکہ مرکز کی جانب سے سینٹر کے اعلان کے بعد ہی ایل جی منوج سنہا سمیت عوامی حلقوں نے اس سینٹر کو نیک شگون قرار دیا ہے۔جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے 'ایکس' (X) پر پوسٹ کیا: "میں جموں و کشمیر کے لیے اس منصوبے کی منظوری پر معزز وزیر اعظم شری نریندر مودی جی اور حکومت ہند کے وزیر برائے امورِ نوجوانان و کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ جی کا شکر گزار ہوں۔ 'نیشنل سینٹر آف ایکسیلنس' (NCOE) کیمپس کی سہولیات میں ایتھلیٹکس ٹریک، انڈور کورٹس، فٹ بال ٹرف، ہاکی ٹرف، کبڈی اور کھو-کھو کورٹس، شوٹنگ رینج، سوئمنگ پول، تائیکوانڈو ہال، مربوط اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ اور بحالی (rehab) کا کمپلیکس، ہاسٹلز، اسپورٹس سائنس سینٹر اور اسپورٹس میڈیسن سینٹر شامل ہوں گے۔ یہ جدید ترین مرکز ہماری یونین ٹیریٹری میں عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ اور اعلیٰ ترین سطح کی کوچنگ لائے گا، جس سے اولمپک اور بین الاقوامی چیمپئنز کی اگلی نسل تیار ہوگی۔"
اس دوران مقامی لوگوں نے اس سینٹر کے قیام کے بعد مسرت کا اظہار کیا ہے اور امید ظاہر کی کہ اس سینٹر کے آغاز سے بین الاقومی سطح کے معیار کی سہولت گھر کی دہلیز پر دستیاب ہوگی اور نوجوان اپنے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کر سکتے ہیں۔ کئی افراد نے بتایا کہ یہاں کی روایتی سیاسی پارٹیوں نے اس علاقے کو نظر انداز کیا تھا تاہم اب موجودہ سرکار نے اس علاقے کو پٹری پر لاکر یہاں کی شان رفتہ بحال کی ہے۔ اس دوران جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ میں عوامی حلقے اس بات کو لیکر بھی تشویش میں مبتلا ہیں کہ سرکار کو ایس ایکسلنس سینٹر کے لیے سینکڑوں کنال اراضی کی ضرورت پڑے گی جب کہ یہاں پہلے ہی ایمز اور اسلامک یونیورسٹی اداروں کے تحت ہزاروں کنال زمین پہلے ہی استعمال میں لائی گئی ہے اور اب مزید زمین لینا اس علاقے کو مستقبل میں مہنگا پڑ سکتا ہے۔ اب آنے والے ایام میں اس حوالے سے صورتحال میں کیا کچھ تبدیلی آسکتی ہے، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ کیونکہ ایک دو ماہ پہلے جب سرکار نے ڈانگر پورہ اور مضافات میں زمین پر پنیری لگانے پر پابندی عائد کی تھی تب لوگوں نے اس معاملے پر احتجاج بھی درج کیا۔
Comments