Skip to playerSkip to main content
  • 5 weeks ago
بارہمولہ، جموں وکشمیر (کوثر عرفات)وادیٔ کشمیر کی بات کی جائے تو گزشتہ برسوں سے مختلف قسم کے فنکار ملک کی دیگر ریاستوں میں اپنے کام سے کافی مشہور ہوئے ہیں اور ایسے میں اگر ہم روایتی قالین بنانے والے فنکاروں کی بات کریں تو وہ بھی اپنے فن کا مظاہرہ کر کے ملک ہندوستان کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک میں بھی اپنا لوہا منوا چکے ہیں۔ لیکن گزشتہ سالوں سے مختلف مسائل کی وجہ سے قالین بنانے والے فنکار کافی مشکلات سے گزر رہے ہیں۔ ایسی ہی ایک کہانی شمالی کشمیر کے ایک دور افتادہ علاقے وٹلب گاٹ سے وابستہ نذیر احمد ڈار کی ہے، جو اس فن کے ساتھ بچپن سے ہی کافی دلچسپی رکھتے تھے لیکن اب ان کے گھر کا گزارا کافی مشکل سے چل رہا ہے۔ 
ای ٹی وی بھارت کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے نذیر احمد ڈار نے کہا کہ بیس سال پہلے سے قالین کا کام بہت اچھے سے چل رہا تھا لیکن 2014 کے بعد جب کشمیر میں سیلاب آیا تب سے ہم کافی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیروزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے ہم پریشان ہیں۔ اگرچہ سرکار کوشش کر رہی ہے کہ اس فن کو زندہ رکھا جائے لیکن اس کے باوجود ہم اس کام سے اپنی زندگی کی گزر بسر نہیں کر پا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مارکیٹ میں ہم کو کم ریٹ ملتا ہے۔ جب کہ اس کام میں کافی محنت کرنی پڑتی ہے اور مشکل سے ہم ایک دن کا دو یا تین سو روپے ہی کما پاتے ہیں اور اس سے گھر کا گزارا کیسے جلے گا۔ 
نذیر احمد ڈار نے مزید کہا کہ میں نے آج تک کافی لوگوں کو یہ کام سکھایا ہے اور اس وقت بھی گاؤں کی کافی لڑکیاں میرے ساتھ یہ کام سیکھ رہی ہیں۔ میری کوشش ہے کہ مشکلات ہونے کے باوجود بھی میں اس کام کو جاری رکھوں۔ کیونکہ صدیوں سے ہمارے بزرگوں نے اس کام کو زندہ رکھا ہے اور ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم اس کام کے ساتھ انصاف کریں۔ 
اس دوران ایک مقامی لڑکی عشرت کا کہنا ہے کہ وہ بھی یہ کام گزشتہ دس سالوں سے کرتی آ رہی ہے اور اس کے مطابق ایک قالین بنانے میں کم سے کم سات یا آٹھ مہینے لگتے ہیں۔ عشرت کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ گاؤں کی اور بھی چند لڑکیاں ہیں جو اس کام کو ابھی بھی پسند کرتی ہیں۔ ان کا مزید کہا ہے کہ ہم دن کا دو یا تین سو روپے ہی کما پاتے ہیں لیکن ہم اس میں بھی خوش ہیں۔ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ سرکار اور متعلقہ محکمہ ہمارے ساتھ انصاف کرے اور اس فن کو زندہ رکھنے کے لیے آنے والے وقت میں جنگی بنیادوں پر کام کیا جائے۔ 

Category

🗞
News
Transcript
00:05KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR
00:32KASHMIR KASHMIR KASHMIR
01:12KASHMIR KASHMIR KASHMIR
01:24KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR
01:28KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR
01:33KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHMIR KASHM
01:54We have 5 years to work.
01:57We have been working with the Sikhs and we have been doing well.
02:02We are working with the Sikhs and we have been working well.
02:03We have been building the temple for 12 months.
02:13We are going to take 6 months.
02:17If we don't come here, we are thankful for the healing of Allah.
02:22He says,
02:23We get a rate of attention.
02:26We do this job.
02:28We do this job.
02:30We do it better than it.
02:33Kishmir's
02:34Now it's not a matter of the situation.
02:40It's a matter of time.
02:42This is the time.
02:42is the most important part of the time.
02:4512 months from ETV Bharat for Kausar Arfad report.
Comments

Recommended