00:00इस नए वजाहती जाइसे में खुशामदीद, आज का ये सफर हमें दुनिया के तीन मुखतलिफ बर्याजमों की सेर कराने वाला
00:06है, जहां हम ये दर्याफ्त करेंगे किस तरह एक ही नाम की तारीखी अमारतें, बिलकुल मुखतलिफ सिकाफतों को आपस में
00:13जोड़ती हैं, हम
00:25सोचिए, न्यू यॉर्क, डबलिन और कराची में क्या चीज मुश्तरक हो सकती है, बजाहिर तो अमरीका, आइरलिंड और पाकिस्तान के
00:34ये तीन बड़े शहर एक दूसरे से बिलकुल मुखतलिफ हैं, उनका तर्जे जिन्दिगी, जबाने और सकाफते सब अलग हैं, लेक
00:53पहले हम न्यू यॉर्क की बात करेंगे और वहां तर्कीनी वतन की जड़ों का जाइजा लेंगे, उसके बाद डबलिन के
00:59एक मशहूर अदवी डीन की कहानी सुनेंगे, फिर हम कराची के एक शांदार गौठिक शाकार की तरफ बढ़ेंगे और आखर
01:06में एक आलमी मुश्त
01:21और पच्चीस फुट तवील आर्ट वर्क मुझूद है। इसके खालिख एडम सौवियजानोविच का एक सीधा सादा लेकिन गहरा पेगाम है।
01:29हम सब इसमें एक साथ हैं। और वाकि आज के इस दोर में जहां तफरीख इतनी आम हो चुकी है,
01:36यह खुबसूरत पेगाम हम
01:37याद दिलाता है कि हमारी असल पहचान हमारी मुझतर का इनसानियत है। ये फन-पारा गेर सियासी है और सिर्फ
01:44हमदर्दी और एक होने के हिसास को उजागर करता है। इस फन-पारे की सबसे खास बात ये है कि
01:50ये माजी और हाल को एक साथ जोडता है। एक तरफ पुराने �
01:54Irish Tarkinian Watan کو دکھایا گیا ہے
01:56تو دوسری طرف
01:57Italwi نجات مدر کیبرینی
01:59اور کیوبر نجات فادر فیلکس وریلا
02:01جیسے کسیروس ثقافتی کردار
02:03شوخ رنگوں میں نظر آتے ہیں
02:05اور ہاں
02:06اس میں 9-11 کی ہیروز
02:07یعنی فورسٹ ریسپونڈوز
02:09کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا ہے
02:11جو اس پیغام کو
02:12مزید طاقتور بناتا ہے
02:13اور یہ بات
02:15صرف آرٹ کے حد تک محدود نہیں ہے
02:17اس کا تاریخ سے بھی گہرا تعلق ہے
02:19Here are some kind of amazing characters that have their own life, which have their own life, like Arch Bishop
02:26John Hughes, which has been a cathedral, or Peer Tossient, which has been a good one but has been a
02:34good one but has been a good one.
02:36This is the fact that this place has always been a good one.
03:08new york
03:10جنہوں نے آئرش عوام پر ہونے والی نانسافیوں کی خلاف ڈٹ کر آواز اٹھائی اور انہیں معاشی تباہی سے بچایا
03:16یہاں تاریخ کا ایک بڑا ہی حیران کن موڑ آتا ہے
03:20اپنی زندگی کے آخری سالوں میں سویفٹ کو چلنے پھرنے میں توازن برقرار رکھنے میں مشکل ہوتی تھی اور کانوں
03:27میں عجیب آوازیں آتی تھی
03:28اس دور کی کمزور طبی معلومات نے انہیں سیدھا پاگل قرار دے دیا
03:33لیکن ذرا سوچئے ان کی موت کے نوے سال بعد جب مشہور معالج سر ویلیم وائلڈ نے ان کی باقیات
03:40کا معاینہ کیا
03:41تو پتا چلا کہ ان کا دماغ تو بالکل ٹھیک تھا
03:44وہ دراصل اندرونی کان کی ایک بیماری میں نیئرز ڈیزیز کا شکار تھے
03:48اس سب کے بعد سویفٹ کا وہ لاتینی کتبہ یاد آتا ہے
03:52جو انہوں نے مرنے سے پہلے خود لکھا اور اسے کالے سنگے مرمر پر کندہ کرنے کی خاص ہدایت کی
03:59اس میں لکھا ہے جہاں وحشیانہ غیظ و غضب اس کے دل کو مزید مجرور نہیں کر سکتا
04:05جاؤ مسافر اور اگر کر سکتے ہو تو آزادی کے اس مخلص اور پرجوش علم بردار کی پیروی کرو
04:12یہ جرتمندانہ الفاظ آج بھی وہاں موجود ہے اور ان کی زندگی بھر کی شاندار جدوجہد کی گواہی دیتے ہیں
04:19چلیں اب اپنے تیسرے پڑاو کی طرف چلتے ہیں
04:22یعنی پاکستان کا شہر کراچی جہاں ایک انتہائی شاندار گوثک شاہکار ہمارا منتظر ہے
04:29یہ پندرہ سو کا ہنسہ کوئی عام نمبر نہیں ہے
04:32یہ کراچی کے اس عظیم و شان سینٹ پیٹرک کیتھیڈرل میں بیٹھنے کی گنجائش ہے
04:38اٹھارہ سو اکیاسی میں جب یہ مکمل ہوا تو یہ پورے ملک کا سب سے بڑا کیتھولک چرچ ہوا کرتا
04:45تھا
04:4552 میٹر لمبی اور 22 میٹر چوڑی یہ عمارت اپنے دور کے لحاظ سے واقعی ایک شاہکار ہے
04:52باہر سے شاید یہ عمارت آپ کو قدرے سادہ لگے
04:56لیکن اندر قدم رکھتے ہی یہ آپ کو اپنے سہر میں جکڑ لے گی
05:00اندر شاندار آئل پینٹنگز اور رنگین شیشوں یعنی سٹینٹ کلاس کی نہایت خوبصورت کھڑکیاں موجود ہیں
05:07جرمنی کے فرانس مایر کی بنائی گئے ان کھڑکیوں کے لیے سارا چندہ مقامی کمیونٹی نے جمع کیا تھا
05:13ان پر بائبل اور تاریخ کے مختلف مناظر اتنی باریک بینی سے بنائے گئے ہیں کہ انسان بس دیکھتا رہ
05:20جائے
05:21اور اس جگہ کی تاریخ میں ایک عجیب سی لچک اور حمد نظر آتی ہے
05:251978 میں اس کے سو سال مکمل ہونے پر خصوصی ڈارک ٹکٹ جاری ہوئے
05:30پھر 1991 میں مدر ٹیرسا نے بھی یہاں کا دورہ کیا
05:33سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ 1998 میں ایک خوفناک بم دھماکے کے باوجود یہ امارت اور اس
05:40سے جڑے لوگ ثابت قدم رہے
05:42اور 2018 میں انہوں نے پورے فخر سے اپنے شاندار 175 سال مکمل کیے
05:47یہ کمیونٹی خوشی اور غم ہر دور میں چٹان کی طرح کھڑی رہی ہے
05:51اب اس جائزے کے چوتھے اور آخری حصے کی باری ہے جہاں ہم اس عالمی مشتر کا ورسے کو سمیٹیں
05:59گے
05:59تو آخر میں ذرا اس بات پر غور کیجئے
06:02نیو یورک کے ترکین وطن کی امیدیں
06:04ڈبلن میں ہونے والا عدبی اور سماجی انقلاد
06:08اور کراچی کی شاندار گوثک روایات اور استقامت
06:11یہ سب بالکل مختلف کہانیاں ہیں
06:14لیکن یہ ایک ہی نام کے سائطلے کیسے پروان چڑی
06:17یہ اس بات کی خوبصورت مثال ہے
06:19کہ کس طرح ایک مشتر کا روایت خود کو مقامی کمیونٹیز کی تاریخ اور دلوں میں ڈھال لیتی ہے
06:25تو سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے اردگرد اور بھی ایسی تعمیرات ہیں
06:29جو بظاہر ایک جیسی ہو کر بھی اتنی ہی انوکھی اور حیرت انگیز کہانیاں چھپائے بیٹھی ہیں
Comments