Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
ترال، پلوامہ، جموں وکشمیر (شبیر بھٹ)کہتے ہیں کہ کوشش کرنے والوں کی ہار نہیں ہوتی اور اگر انسان عزم مسلسل کے ساتھ آگے بڑھے تو وہ اپنی منزل کو پا ہی لیتا ہے۔ یہ ثابت کر کے دکھایا ہے جنوبی کشمیر کے رٹھسونہ ترال کے مصدق حسن نے جنہوں نے دن رات محنت کرکے ڈاکٹر، بننے کا خواب شرمندۂ تعبیر کیا ہے۔ ای ٹی وی بھارت کے ساتھ بات کرتے ہوئے مصدق حسن نے بتایا کہ انہوں نے ابتدائی تعلیم مقامی اسکول سے حاصل کی، جس کے بعد ٹاؤن میں ایک پرائیویٹ اسکول میں داخلہ لیا اور اس کے بعد میں نے سرینگر میں کوچنگ کی۔انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کے پیچھے ان کی مسلسل محنت ہے جب کہ والدین، رشتہ داروں اور اساتذہ کے سپورٹ سے منزل حاصل کرنے میں آسانی ملی۔ مصدق حسن نے بتایا کہ خبر پھیلتے ہی گھر میں عید جیسا سماں ہے اور لوگ جوق در جوق آ رہے ہیں اور مبارکباد دے رہے ہیں۔ کیونکہ اس سے قبل میں نے دو بار کوشش کی تھی تاہم کامیاب نہیں ہوا۔ لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور بالآخر مجھے کامیابی ملی۔ نیٹ پیپر لیک معاملے پر بولتے ہوئے مصدق حسن نے بتایا کہ ایسا امتحان ملکی سطح پر بڑا امتحان تصور کیا جاتا ہے لہٰذا لیک نہیں ہونا چاہیے کیونکہ حالیہ پیپر لیک ہونے کے بعد تو طلباء میں کافی مایوسی ہو گئی تھی اور میں خود کئی دن تک مایوس رہا۔ تاہم بعد میں خود کو سنبھالا اور بالآخر میرا خواب شرمندۂ تعبیر ہوا۔
نیٹ کا امتحان کوالیفائی نہ کر سکنے والے طلباء سے اپیل کرتے ہوئے مصدق حسن نے بتایا کہ محنت کریں اور ہمت نہ ہاریں دنیا بہت بڑی ہے، ایک نہ ایک دن کامیابی قدم چوم ہی لے گی۔ وہیں اہل خانہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے خاندان کا پہلا ڈاکٹر ہے اور اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے میں اس نے خوب محنت کی ہے اور اب ہم دست بدعا ہیں کہ اللہ پاک اسے سماج کی خدمت کرنے کی توفیق دے۔ 

Category

🗞
News
Comments

Recommended