00:00لیکن کیا روحانی اور قرآنی حوالوں سے بھی اس بات کی واضح تزدیق ہوتی ہے
00:04کہ مادی فاصلوں اور طبعی قوانین کی اس قید کو توڑا جا سکتا ہے؟
00:08جی بالکل اور قرآن مجید میں اس کی تزدیق نہایت واضح اور سریح ہے
00:14قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے انتہائی سراحت کے ساتھ مارچ کا ذکر فرمایا ہے
00:19جو کہ میراج کی جمع ہے یعنی آسمانوں کی طرف جانے والے راستے یا بلندیاں
00:24سبحان اللہ
00:25اسی طرح اسباب کا ذکر آتا ہے
00:28یعنی وہ ذرائع، ٹکنالوجی اور علم جس کے ذریعے آسمانوں کے دروازے کھولے جا سکتے ہیں
00:34یہ تمام اشارے اس بات کی واضح جھلک ہیں
00:37کہ انسان نے ابھی اپنی دماغی اور روحانی صلاحیتوں کا ایک معمولی حصہ بھی استعمال نہیں کیا
00:42انسان کی اصل صلاحیت اور کائنات کی تسخیر کا اصل ظہور ہونا ابھی باقی ہے
00:48قرآن کریم کا یہ عظیم الشان وعدہ ایک روشن دلیل ہے
00:52جہاں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ہے کہ اور آسمانوں میں تمہارا رزق ہے
00:57بے شک یہ آیت تو سیدھا دل پر اثر کرتی ہے
01:00جی یہ محض کوئی استعارہ یا شائرانہ بات نہیں ہے
01:04بلکہ یہ اس بات کی نوید ہے کہ انسان کا مستقبل، اس کا رزق اور اس کی بقا
01:09زمین کی حدود سے باہر ان لا محدود آسمانی وسطوں میں پوشیدہ ہے
01:14یہ تمام نظریات اور حوالے اپنی جگہ بہت مضبوط ہیں
01:18لیکن کیا تاریخ انسانیت یا روحانی تاریخ میں ہمیں کوئی ایسی ٹھوس اور عملی مثال ملتی ہے
01:25جہاں انسان نے وقت، فاصلے اور مادی حدود کی ان سخت پابندیوں کو عملی طور پر توڑا ہو
01:32کیونکہ دیکھیں نا جب تک کوئی ٹھوس مثال سامنے نہ ہو
01:36عام ذہن کے لیے یہ تمام باتیں محض خواب یا نظریاتی ہی لگتی ہیں
01:41یہ ایک بہت بنیادی تقاضہ ہے
01:43محض خواب یا نظریاتی ہی لگتی ہیں
Comments