00:00سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ اگر ترقی کی یہ رفتار اسی طرح برخرار رہی نہ
00:04تو اگلے چند سو سالوں میں یا شاید ایک صدی کے اندر ہی انسان ایک ٹائپ ون تہزیب میں تبدیل
00:11ہو سکتا ہے
00:12ارے واہ
00:13ٹائپ ون تہزیب وہ ہوتی ہے جو اپنے پورے سیارے یعنی زمین پر موجود ہر قسم کی توانائی پر مکمل
00:19کنٹرول حاصل کر لے
00:20اس کے میکنزم کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ انسان موسموں کو اپنی مرضی سے کنٹرول کر سکے گا
00:26مطلب بارشیں اور طوفان بھی انسان کے کنٹرول میں ہوں گے
00:29جی بالکل
00:30سمندروں کی تند و تیز لہروں، ہواوں کے دباؤ اور حتیٰ کے زلزنوں کی ارتیاشی توانائی کو زائع ہونے یا
00:37تباہی مچانے کے بجائے
00:38گرفت میں لے کر قابل استعمال توانائی میں بدل دیا جائے گا
00:42فطرت انسان پر حاوی نہیں ہوگی
00:43بلکہ خلیفہ ہونے کے ناتے انسان فطرت کو منظم کر رہا ہوگا
00:48یہ تو واقعی ایک زبردست منظر ہے
00:51اور یہ تو صرف آغاز ہے
00:53ذرائع میں ٹائپ ٹو اور ٹائپ ٹری تہذیب کا جو خاکہ پیش کیا گیا ہے نا
00:58وہ تو واقعی انسانی ذہن کو مفلوج کر دینے کے لیے کافی ہے
01:02اگر ٹائپ ٹو کی بات کی جائے
01:04تو یہ وہ مقام ہے جہاں کوئی تہذیب اپنے سیارے کی حدود سے نکل کر
01:09اپنے قریب ترین ستارے
01:11جیسے ہمارا سورج ہے
01:13اس کی مکمل توانائی کو کنٹرول کر لیتی ہے
01:16ہم اور اسی میں وہ ڈائسن سفیر کا تصور آتا ہے
01:20بلکل
01:21ڈائسن سفیر نامی یہ دیوخائلی تصور بہت مقبول ہے
01:25اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے
01:27کہ سورج کے گرد خلا میں
01:29سولر پینلز کا ایک ایسا بے پناہ خال یا جال بچھا دیا جائے
01:34جو اسے ہر طرف سے ڈھاپ لے
01:36سورج جو ہر سیکنڈ میں اتنی توانائی خارج کرتا ہے
01:41استعمال شدہ توانائی سے بھی خربوں گناہ زیادہ ہے
01:44وہ ساری کی ساری انرجی سیدھی زمین
01:47یا انسانی کالونیوں کو فراہم کی جا رہی ہو
01:50تصور کریں
01:51ڈائسن سفیر بنانا کوئی معمولی بات تو نہیں ہے نا
01:54اس کے لیے سیاروں کو توڑ کر
01:56ان کے مادے سے ایسا خال بنانا پڑے گا
01:58جو انسان کی تسخیر کی انتہا کی ایک زبردست جھلک ہے
02:02آہ یہ تو سوچ سے بھی باہر ہے
02:04اور
Comments