00:00اور اس سے بھی بڑھ کر کائنات کا وہ عظیم ترین واقعہ ہے
00:04جس کا ذکر قرآن کریم میں نہایت سراحت کے ساتھ ملتا ہے
00:08جب اللہ رب العزت نے کائنات کی تمام عظیم و شان مخلوقات کے سامنے
00:13جن میں یہ لا محدود آسمان یہ وسی زمین اور دیویکل پہاغ شامل ہیں
00:18اپنی وہ بھاری امانت پیش کی
00:20ہم وہ امانت جو کوئی اور نہ اٹھا سکا
00:24بلکل ان تمام مخلوقات نے اپنے اتنے بڑے مادی وجود
00:29اپنی طاقت اور وسط کے باوجود
00:31اس بوجھ کو اٹھانے سے آجزی کا اظہار کر دیا
00:34ان کے اندر وہ شعور ہی نہیں تھا جو اس امانت کا بار اٹھا سکے
00:38لیکن یہ انسانی تھا جس نے اس امانت کو قبول کیا
00:42اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ یعنی نائب مقرر کیا ہے
00:47کیا بات ہے
00:48اور خلیفہ کا مطلب کوئی محکوم بے بس یا طبعی حدود میں قید چینٹی نہیں ہوتا
00:53خلیفہ وہ ہے جسے اختیار، اقل اور کائنات کی تسخیر کی وہ بے پناہ طاقت عطا کی گئی ہے
01:00جو کسی اور مخلوق کے پاس نہیں ہے
01:02اس تناظر میں دیکھا جائے
01:04تو مسئلہ واقعی ہمارے جسمانی حجم کا ہرگز نہیں ہے
01:08بلکہ ہماری سوچ کا ہے
01:10اور اس کائناتی امانت کا ہے جو ہمارے اندر رکھی گئی ہے
01:14یہ بات مجھے علام اقبال کے اس شاندار فلسفے کی یاد دلاتی ہے
01:19جو انہوں نے کیا خوبصورتی سے بیان کیا تھا
01:21کہ کافر کی یہ پہچان کے آفاق میں گم ہے
01:25مومن کی یہ پہچان کے گم اس میں ہے آفاق
01:29سبحان اللہ کیا کمال کا شیر ہے
01:31اس ایک مصرے میں کیسا سمندر بند ہے
01:34بلکل
01:35انسان کا سب سے بڑا علمیہ اور اس کی ناکامی ہی یہ ہے
01:38کہ وہ خود کو اس کائنات کے مادی حجم کے سامنے
01:42ایک حقیر چونٹی سمجھ کر خوفزدہ ہو گیا ہے
01:45وہ مادی وسطوں میں گم ہو گیا ہے
01:47جبکہ در حقیقت وہ تو ان ستاروں پر کمند ڈالنے
01:51ان آفاق کو اپنے اندر سمونے
01:54اور اس کائنات کو مسخر کرنے کے لیے پیدا ہوا تھا
01:57اقبال کی یہی فکر دراصل اس بات کی نشاندہی کرتی ہے
02:00کہ انسان کو اپنی حقیقی صلاحیتوں کا ادراک ہی نہیں ہے
02:03دیکھیں نا جب انسان کی سوچ ایک چونٹی کی سطح پر آ جائے
02:08تو اس کی پرواز اور اس کی سائنسی و فکری ترقیوں بھی
02:11اسی سطح کی رہ جاتی ہیں
02:12ہاں محدود ہو کر رہ جاتی ہیں
02:14لیکن اگر انسان خود کو اللہ تعالی کا خلیفہ سمجھے
02:17جس کے لیے یہ تمام کائنات مسخر کی جانی ہے
02:20تو پھر کائنات کو دیکھنے اور پرکھنے کا نظریہ ہی اکثر بدل جاتا ہے
02:24اچھا اگر انسان واقعی اس کائنات کا خلیفہ ہے
02:27اور اس کی منزل کائنات کی تسخیر ہے
02:30تو ایک خلیفے کے پاس تو عملی طور پر کائنات کو کنٹرول کرنے کی طاقت ہونی چاہیے
02:34ہم
Comments