Skip to playerSkip to main content
Fazail-e-Ahl-e-Bait | Special Transmission

Muharram Special || https://www.youtube.com/playlist?list=PLdinBbJPyiSU

Fazail-e-Ahl-e-Bait par ek khoobsurat bayan jismein Ahl e Bait ki fazilat, unki azmat aur Islam mein unke maqam ko bayan kiya gaya hai. Quran o Hadith ki roshni mein Ahl e Bait se muhabbat ka paigham.

Topic: Fazail e Hazrat Imam Hussain RA

Speaker: Pir Faheem Shahzad Bukhari

#aryqtv #FazaileAhleBai #Muharram #AllamaMuftiMazharMukhtarDurrani

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:12Alhamdulillah, Alhamdulillah, Rabbil Alameen, wa salatu wa salamu ala siyyid al-anbiyya al-murtsalin, wa ala alihi wa sahbihi ajma
00:22'in.
00:22Amma ba'du fa'udu billahi min ashshaytani rajeem, bismillahirrahmanirrahim.
00:28Qalallahu ta'ala wa tabarak fil qur'anil mjid wal fru'anil hamid, inna a'atayna kal kawser, صدق Allahul
00:37azim.
00:38Allahumma salli ala siyyidina wa maulana muhammadin wa ala ala siyyidina wa maulana muhammadin wa barik wa sallim wa salli
00:47alayhi.
00:48Qoyi abturk hai Mustafa ko, hai jasarat ye kis ki zabaanin, nasl aysi cheli is nabiy ki, abhain sadaat sare
00:59jahamin.
00:59Nasl sarver ki joh abtida hai, wo yakinen hasan mujtabah hai, wo yakinen hasan mujtabah hai.
01:08Jis ki suret muhammad ke jaisi aur siret me joh murtaza hai, jis ko madar mili fatiima si, aur nana
01:15mila mustafah hai.
01:17Fatiha ka hai, pahla sitarah, sab ka joh dousara rahnuma hai, wo yakinen hasan mujtabah hai, wo yakinen hasan mujtabah
01:26hai.
01:27Aao, masjid me chal kar to dhekhe, arsh utra ha ha ha ek taraf hai, pardh rahe hai, namazhi namazin,
01:34Nour se eek bharpour saf hai, nuh imamu ka shabbir mola, jis shahin shah ke pichhe kha'da hai, wo yakinen
01:44hasan mujtabah hai, wo yakinen hasan mujtabah hai.
01:48Muzizaz o'mohtasham, hazirin, A.R.Y.Q. TV ke plaitfarm se, muharram ul haram ke in ba berkat ayyam mein,
01:56Siyyid al-Asqiyah, Imam al-Atqiyah, Sahihbe jud-o-sakha, Nour-e-Nazer, Siyyidat-un-Nisa, Jigar-Goshah-e-Ali
02:06-ul-Murtazah,
02:08Raqb-e-Dosh-e-Mustafah, Sibut-e-Pyembar, Nawaas-e-Rasool, Amir-al-Mu'minien, Khalifat-al-Muslimien,
02:16Hضرت-e-Siyyiduna, Imam-e-Hasan-e-Mujtabah, Alayhisselam ki bhargaah mein,
02:22آجزانہ نیاز مندی کے لیے آج کی نشست میں ہم آپ کے سامنے حاضر ہیں
02:28اللہ رب العزت نے قرآن مقدس میں ارشاد فرمایا
02:32اِنَّا آطَيْنَاكَ الْكَوْسَرِ
02:34کیا محبوب ہم آپ کو خیر کثیر عطا فرمائیں گے
02:39مختلف محدثین اور مفسرین نے
02:42اس آیہ کریمہ کے بے شمار معانی اور مطالب بیان فرمائے ہیں
02:47امام فخر الدین رازی اور دیگر کئی مفسرین نے
02:51is ayah kareemah se yeh ثabit
02:53فرmaya hai
02:54khe khair kisir se muraad
02:57aqai kareem alayhi sallam ke
02:59ulaad kisir hai
03:01joh allah rabu alizet
03:02aap ki shahzadhi
03:03hazreti saiyyida taiyyiba taahira
03:06abida zaahida
03:07salamullahi alaiha ke bata ni mubarak se
03:10piida firmayega
03:12hijret se pehle
03:14resalat maab alayhi sallam ke
03:16dhu sahabzadhe yakiba digre
03:18allah ki djawat pe
03:19رخصت ہو جاتے ہیں لبیق کہتے ہیں
03:22آس بن وائل اور دیگر
03:24مشرقین مکہ
03:25نعوذ باللہ ابتر اور مقتون
03:28نسل ہونے کا تانہ دیتے ہیں
03:29تو اللہ رب العزت نے اشارت فرما
03:31اِنَّا أَعْتَيْنَاكَ الْكَوْسَر
03:33فَصَلِّ لِلِ رَبِّكَ وَنْحَر
03:35اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَر
03:38کہ حبیب آپ کو پریشان
03:40ہونے کی ضرورت نہیں ہے
03:41آپ کا رب آپ کو خیر کسیر عطا
03:44فرمائے گا
03:44اُلادِ کسیر عطا فرمائے گا
03:47اور مقتون نسل نعوذ باللہ آپ نہیں
03:50بلکہ آپ کے دشمن ہوں گے
03:52آج ہم دیکھتے ہیں
03:54کہ اللہ رب العزت کے
03:55نبی مکرم
03:57وجہ تخلیق کائنات علیہ السلام
03:59کی اس فیضان
04:02قصد کا پورے جہاں
04:04میں آج سادات ہمیں نظر آتے ہیں
04:06آج جس شخصیت
04:08کا ہم تذکرہ کر رہے ہیں
04:10پندرہ رمضان المبارک
04:12تین ہجری کو سورہ کوسر
04:14کی پہلی تفسیر بن کے
04:15سیدہ کائنات
04:17فاطمت الزہرہ
04:19طیبہ طاہرہ
04:20عابدہ زاہدہ
04:21سلام اللہ علیہہ کے آنگن میں
04:24تشریف لاتے ہیں
04:25رسالت ماب علیہ السلام
04:27کو خبر دی جاتی ہے
04:28کہ اللہ رب العزت نے آپ کی
04:30شہزادی کو شہزادہ
04:32عطا فرمایا ہے
04:33آپ خوشی کے ساتھ
04:34تشریف لاتے ہیں
04:35حجرہ میں داخل ہوتے ہیں
04:37بچے کو آپ کی آغوش میں
04:40پیش کیا جاتا ہے
04:41آپ پیار فرماتے ہیں
04:43دائیں کان میں
04:44ازان ارشاد فرماتے ہیں
04:46بائیں کان میں
04:47اقامت کہی جاتی ہے
04:48اور پھر گٹی کے لیے
04:50اپنی زبان مبارک
04:52حضرت سیدنا
04:53امام حسن مجتبا کی
04:55موہ میں آپ
04:56دہن میں دے دیتے ہیں
04:57آپ اسے چوچنا شروع کرتے ہیں
04:59اور اس طرح
05:00لعاب رسول
05:01اس شہزادے کی
05:03پہلی خوراک بنتی ہے
05:05اس کے بعد
05:06رسالت ماب علیہ السلام
05:07نے پوچھا
05:08بچے کا کیا نام
05:09رکھا گیا ہے
05:10ایک روایت میں ہے
05:11کہ ارز کی گئی
05:12یا رسول اللہ
05:13صلی اللہ علیہ وسلم
05:14بچے کا نام
05:15حرب رکھا گیا ہے
05:17حضور نبی رحمت
05:18صلی اللہ علیہ وسلم
05:19نے اشارت فرمائے
05:20نام حرب نہیں ہوگا
05:21بلکہ اس کا نام
05:22حسن ہوگا
05:23لیکن ایک اور روایت ہے
05:25جو زیادہ ہمیں
05:27درایت کے اعتبار سے
05:29درست معلوم ہوتی ہے
05:30جو زیادہ قابل
05:31اعتبار
05:32اور قابل بروسہ روایت ہے
05:33کیونکہ اہل بیت اعتحار
05:35اور صحابہ اکرام
05:36رضوان اللہ
05:37رحمت اجمعین
05:38کا یہی طرز عمل تھا
05:39اور معمول تھا
05:40عرض کی گئی
05:42حضور آپ نے
05:43نام کا پوچھا ہے
05:44لیکن ابھی تک
05:45ہم نے نام تجویز نہیں کیا
05:46علیہ و فاطمہ
05:47کی یہ جرورت نہیں ہے
05:49کہ وجہ تخلیق کائنات
05:51احکم الحاکمین
05:52کے محبوب
05:53رب العالمین
05:54سے سبقت لے جا سکیں
05:55اس لئے ہم منتظر تھے
05:57آپ تشریف لائیں
05:58آ کے نام تجویز فرمائیں
06:00تو وجہ تخلیق کائنات
06:02علیہ الصلاة والسلام
06:03نے ارشاد فرمایا
06:04کہ میں بھی نام نہیں رکھوں گا
06:06بلکہ اللہ کے
06:07اذن اور حکم
06:08کے انتظار کروں گا
06:09میں محمد الرسول اللہ
06:11صلی اللہ علیہ وسلم
06:12اللہ سے سبقت
06:14کیسے لے کے جا سکتا ہوں
06:15تھوڑی دیر گزرتی ہے
06:16جبرائیل امین
06:18حاضر خدمت ہوتے ہیں
06:19آ کے رب کا سلام پیش کرتے ہیں
06:22رب کا پیغام دیتے ہیں
06:23مبارک بات پیش کی جاتی ہے
06:26اور ساتھ یہ
06:27حکم دیا جاتا ہے
06:28کہ اس شہزادے کا نام
06:30اللہ رب العزت نے
06:31حسن تجویز فرمایا ہے
06:33اسی طرح
06:34جب امام حسین علیہ السلام
06:36کی پیداش ہوتی ہے
06:37تو پھر یہی سار عمل
06:38دہرایا جاتا ہے
06:39رب کے حکم کا انتظار
06:41کیا جاتا ہے
06:42رب حکم ارشاد فرماتا ہے
06:44کہ اس شہزادے کا نام
06:45حسین رکھا جائے
06:46حسین کوئی الگ سے نام نہیں ہے
06:49بلکہ حسن کی جو تصغیر ہے
06:52یوں کہہ لیجئے
06:53چھوٹے حسن کو حسین کہا جاتا ہے
06:56نام حسن تجویز کر دیا جاتا ہے
06:58اس کے بعد
07:00رسالت ماب علیہ السلام
07:03پیدائش کے ساتھے دن
07:04آپ دو مینڈو کے ذریعے
07:07حقیقہ فرماتے ہیں
07:08آپ کے بال اتروائے جاتے ہیں
07:11اور ان کے برابر چاندی صدقہ کی جاتی ہے
07:13اس طرح اس شہزادے کی دنیا میں آمد کا
07:17رسالت ماب علیہ السلام
07:19جشن مناتے ہیں
07:21اور حضرت سیدنا امام حسن مجدبہ کی ذات وہ ذات ہے
07:25جسے براہ راست آقا کریم علیہ السلام نے فیض عطا فرمایا ہے
07:30آپ کی بچپنے کی کیفیت میں یہ ہے
07:32کہ آپ اپنی ماں کی آغوش سے نکلتے ہیں
07:35تو براہ راست رسالت ماب کے آغوش میں تشریف لے جاتے ہیں
07:38سارا دن آپ کی گود میں کھیلتے ہیں
07:40کبھی آپ کی داڑی مبارک کے ساتھ کھیلتے ہیں
07:43کبھی حضور علیہ السلام آپ کو چہرے پہ بوسا دیتے ہیں
07:48کبھی گردن پہ بوسا دیا جاتا ہے
07:50کبھی سینہ رسالت ماب چومتے ہیں
07:52کبھی ناف کو چومتے ہیں
07:54اور ایک پھر وقت آتا ہے
07:56کہ اپنی زبان اقدس
07:57دہن حسن مجدبہ میں رکھ دی جاتی ہے
08:00جی بر کے رسالت ماب علیہ السلام کی
08:03زبان اقدس کو چوستے ہیں
08:06اور اپنی بوک کو مٹاتے ہیں
08:08اور جو روحانی فیوز تھے
08:10انہیں اپنے سینے میں محفوظ کرتے ہیں
08:13اور ان روحانی فیوز کو محفوظ کرنے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے
08:17کہ اس شیر خارگی کے عالم میں بھی
08:19رسالت ماب علیہ السلام کے قلب اطحر پہ
08:22جو سارا دن وحی نازل ہوتی ہے
08:25آپ اس وحی کو من و ان جا کے
08:28اپنی والدہ ماجدہ سیدت النساء
08:31فاطمت زہرہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا کرتے ہیں
08:34جب آپ کا یہ معمول تھا
08:36کہ سارے دن کے وحی جا کے
08:38اپنی والدہ ماجدہ والدہ گرامی کو سناتے ہیں
08:41تو آپ بڑی خوش ہوتی ہیں
08:43آپ ایک دن اپنے شہر نامدار
08:45مولا کائنات
08:48یدنا علی المرتضی شدہ حیدر کررار
08:51کررم اللہ علیہ السلام سے
08:53اس چیز کا اظہار کرتے ہیں
08:55کہ اس طرح حسن میرے پاس آتے ہیں
08:57آ کے سارا دن جو وحی
08:59قلب مصطفیٰ پہ بابا جان کے
09:02سینہ اثر پہ نازل ہوتی ہے
09:04وہ آ کے مجھے سناتے ہیں
09:05حضرت مولا کائنات بڑے خوش ہوتے ہیں
09:08اور اس چیز کا اشتیار کرتے ہیں
09:10کہ میں بھی وہ منظر
09:12اپنے سر کی آنکھ میں دیکھنا چاہتا ہوں
09:14سر کے کانوں کے ساتھ
09:16اس منظر کو دیکھنا چاہتا ہوں
09:18کس طرح حسن وحی الہی کی ترجمانی کرتے ہیں
09:21بتایا جاتا ہے
09:23کہ حسن دن کے اس حصے میں آتے ہیں
09:25میری گوت میں بیٹھتے ہیں
09:27اور پھر آ کے مجھے
09:28جو وحی نازل ہوتی ہے
09:30وہ من و ان سناتے ہیں
09:31تیہ ہو جاتا ہے
09:32کہ اگلے دن مولا کائنات
09:34حضرت امام حسن مجتبہ سے پہلے
09:37گھر تشریف لے آئیں گے
09:38وقت مقررہ پہ آپ اگلے دن تشریف لے آتے ہیں
09:41گھر کے ایک کونے میں آپ چھپ جاتے ہیں
09:44اور اس چیز کا انتظار کرتے ہیں
09:46کہ امام حسن مجتبہ تشریف لائیں
09:48اور آ کے وحی سنائیں
09:50تھوڑی دیر گزرتی ہے
09:51امام حسن مجتبہ اپنی والدہ ماجدہ
09:54سیدت النساء
09:55سیدت النساء العالمین
09:57جنتی عورتوں کے سردار
09:59فاطمت زہرہ صلی اللہ علیہ کی گود میں بیٹھتے ہیں
10:03اور وحی سنانا شروع کرتے ہیں
10:05لیکن آج زبان ساتھ نہیں دے رہی
10:07زبان اٹک رہی ہے
10:09مدعا نہیں مکمل طور پر بیان ہو رہا
10:12تو آپ ارز کرتے ہیں
10:13یا امام ہو
10:14قد تلج لجل لسانی وکل بیانی
10:17لعل سیدی یرانی
10:19کہ امام حضور
10:20مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے
10:22کہ میرے والدے گرامی مرتبت
10:24میرے آقا و مولا
10:25مجھ سے بڑے جو عالم ہیں
10:27وہ اس وقت اس کمرے میں موجود ہیں
10:30جس کے لئے میری زبان
10:31مقصد بیان کرنے سے آجز ہے
10:33آپ مولا کائنات یہ الفاظ سنتے ہیں
10:36کپردے سے باہر تشریف لاتے ہیں
10:38اپنے سینے کے ساتھ
10:40امام حسن مجتویٰ کو لگاتے ہیں
10:42سر پہ بوسا دے کے دعائیں دینا شروع کر دیتے ہیں
10:45کیونکہ آپ جانتے تھے
10:47کہ یہ وہ شخصیت ہیں
10:49جنہیں براہ راس
10:50اللہ کے محبوب علیہ السلام کی
10:54اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ شیر خارگی
10:57کے عالم میں بھی رسالت ماب
10:58علیہ السلام کے قلب
11:00اطحر پہ اترنے والے کلمات کو
11:02من و ان آکے اپنی والدہ کو سناتے ہیں
11:04اور یہ اس فیضان
11:06اس صحبت کا اس آغوش کا
11:08سیدہ کائنات کے
11:10اس پاکیزہ متحر
11:12تاہر دودھ کا صدقہ تھا
11:14کہ اللہ رب العزت نے امام حسن مجتبا
11:16کو یہ شان عطا فرمائی تھی
11:18کہ بخاری کی روایت ہے کہ آپ ایک دن
11:20شیر خارگی کی کیفیت دو یا تین سال
11:22آپ کی عمر ہے
11:23صحیح بخاری میں یہ امام بخاری روایت
11:25لے کے آئے ہیں
11:26کہ آپ دگمگاتے قدموں کے ساتھ
11:28ہجرے سے باہر نکلتے ہیں
11:29مسجد عبیو میں تشریف لے جاتے ہیں
11:32اس دن رسالت ماب علیہ السلام کے پاس
11:35کسی جنگ کو فتح کرنے کے بعد
11:37مال غنیمت آیا ہوا تھا
11:39مسجد میں مال غنیمت کا ڈیر لگا ہوا ہے
11:42اس ڈیر کے اوپر چند خجوریں بھی پڑی ہیں
11:44امام حسن مجتبہ دو یا تین سال
11:47آپ کی عمر مبارک ہے
11:48آپ کھیلتے کھیلتے اس ڈیر تک پہنچتے ہیں
11:50اس ڈیر پہ چڑھتے ہیں
11:52اور ایک خجور اٹھا کے اپنے موں میں ڈال لیتے ہیں
11:54خجور حلق تک جاتی ہے
11:56حضرت رسالت ماب علیہ السلام کی
12:00زبان اقدس سے کلمات نکلتے ہیں
12:03آپ فوراں آپ کی طرف لپکتے ہیں
12:04تیزی کے ساتھ آتے ہیں
12:06ارشاد فرماتے ہیں
12:10حسن اسے باہر پھینکو
12:12باہر تھوکو
12:13کیا تم اس چیز سے واقف نہیں ہو
12:15کہ اللہ رب العزت نے ہم
12:17اہل بیت اتحار پہ صدقہ حرام کر دیا ہے
12:19یہاں پہ بعض محدثین نے
12:22یہ سوال اٹھایا
12:23کہ ہم جاننا چاہتے ہیں
12:25کہ آخر حکمت کیا تھی
12:26کہ رسالت ماب علیہ السلام نے
12:28اس قدر سختی بڑھتی تھی
12:30حالانکہ امام حسن مجتبہ
12:32کے جو عمر مبارک ہے
12:33وہ ابھی دو یا تین سال ہے
12:35اب شریعت کے مکلف نہیں ہیں
12:37صدقہ آل محمد
12:38اور اہل بیت اتحار پہ حرام ہے
12:40لیکن اگر وہ بالغ ہوتے
12:42تو رسالت ماب علیہ السلام کا
12:45یہ جو طرز عمل تھا
12:46جو سخت عمل تھا
12:47اس کی سمجھ آتی تھی
12:48لیکن حکمت کیا تھی
12:49تو علامہ ابن حجر اسکلانی نے
12:52اپنی کتاب فتح الباری میں
12:54اس کی حکمت بیان فرمائی ہے
12:56آپ ارشاد فرماتے ہیں
12:57لوگو
12:58امام حسن مجتبہ کا مقابلہ
13:00اور موازنہ
13:01کسی عام بچے کے ساتھ نہ کرو
13:03کہ وہ ابھی شریعت کے مکلف نہیں تھے
13:05ابھی وہ بالغ نہیں تھے
13:07ابھی ان کے حکامات
13:08ان کے اوپر لاغو نہیں ہوتے تھے
13:10اگر خجور کھا بھی لئی تھی
13:12تو کیا معاملہ ہو گیا
13:13رسالت ماب علیہ السلام میں
13:15سختی کی اس کے پیچھے حکمت کیا تھی
13:16کیونکہ امام حسن مجتبہ کو
13:19اللہ رب العزت نے
13:20شانتہ فرمائی ہے
13:22اِنَّ الْحَسَنَ يُطَالِيُ لَوْحَ الْمَحْفُوظ
13:25اس شیر خارگی کے عالم
13:26ہم امام حسن مجتبہ
13:29لوح محفوظ کا مطالعہ فرمایا کرتے تھے
13:31یہ کس چیز کا افیزان ہے
13:33یہ کس چیز کا اثر ہے
13:35یہ تربیت مصطفیٰ کا اثر ہے
13:37یہ مولا مرتضی کی
13:39محبتوں کا اثر ہے
13:41یہ سیدہ کائنات فاطمہ تظہرہ کی
13:43ان لوریوں کا اثر ہے
13:45کہ آپ کو اللہ رب العزت نے
13:47انام عطا فرمایا
13:48کہ عمر دو یا تین سال ہے
13:50اور اس وقت بھی لوح محفوظ کا
13:52مطالعہ فرمایا کرتے ہیں
13:54اسی طرح
13:55جب رسالت امام علیہ السلام نے
13:58ظاہرن پردہ فرمایا
13:59اس وقت امام حسن مجتبہ
14:01کی عمر تقریباً آٹھ سوہ آٹھ سال تھی
14:04اس کے بعد چھے مہینے تاکہ
14:06براہ راست
14:07اپنی والدہ ماجدہ
14:08لخت جگر پیغمبر
14:10سیدہ نساء
14:11سیدہ فاطمہ تظہرہ
14:13صلی اللہ علیہہ کی
14:15تربیت میں رہے
14:16چھے مہینے کے بعد
14:17آپ کیا بھی ظاہرن مثال ہو جاتا ہے
14:19اس کے بعد مولا کائنات
14:21علی المرتضی شیرِ خدا
14:23حیدرِ کررار کررم اللہ والکریم
14:26براہ راست
14:27آپ کو اپنے
14:27تربیت میں لیتے ہیں
14:29اور پھر وہاں سے
14:30اس تربیت کا آغاز ہوتا ہے
14:32پھر اللہ رب العزت
14:33آپ کو وہ ساری نعمتیں
14:35اتا فرماتا ہے
14:36وہ ساری روحانی
14:37صفات اتا فرماتا ہے
14:39وہ مناقب اتا فرماتا ہے
14:41جو اللہ رب العزت
14:42نے اپنے حبیبِ مکرم
14:43علیہ السلام کو
14:45اتا فرمائے تھے
14:46پھر آپ
14:47زہد کے بے بادشاہ بنتے ہیں
14:49تقویٰ پرہزگاری
14:50عالی مثال قائم کرتے ہیں
14:52اور تقویٰ پرہزگاری
14:54کی اس قدر عالی مثال
14:56قائم کی جاتی ہے
14:57کہ حضرت سیدنا
14:58علی بن حسین
14:59امام زین العابدین
15:01سید الساجدین
15:02علیہ السلام
15:03ارشاد فرماتے ہیں
15:04جنہیں
15:05عبادت کی وجہ سے
15:06زہد و تقویٰ کی وجہ سے
15:08ریاضت کی وجہ سے
15:09سجد ریزی کی وجہ سے
15:10امت زین العابدین
15:12عبادت گزاروں کی
15:13زینت قرار دیتی ہے
15:15سید الساجدین
15:16سجدہ کرنے والوں کا
15:17سردار قرار دیتی ہے
15:18آپ ارشاد فرماتے ہیں
15:20کہ میرے مولا
15:21امام حسن مجتبہ
15:22بے مثل زاہد تھے
15:24بے مثل متقی تھے
15:26بہترین عالم تھے
15:28اور آپ کو
15:29اللہ رب العزت نے
15:30یہ اعزاز عطا فرمایا تھا
15:32کہ آپ ہر وقت
15:33اللہ رب العزت کی
15:34تسبیح بیان فرمایا کرتے تھے
15:36آپ کا معمول مبارک یہ تھا
15:38کہ ساری رات
15:39اپنے گھر میں
15:40مسلح پہ رہتے تھے
15:41وہاں پہ
15:42اللہ رب العزت کا
15:43ذکر و اذکار کرتے تھے
15:44قرآن کی تلاوت کرتے تھے
15:46اور پھر نماز فجر
15:48با جماعت ادا کرنے کے بعد
15:49مسجد میں
15:51تشریف رکھتے تھے
15:52وہاں پہ
15:52مراقبہ کرتے تھے
15:54وہاں پہ
15:54لوگوں کو دین سکھاتے تھے
15:56وہاں پہ
15:56لوگوں کو دین کی فہم
15:58اور سمجھ بوجتا فرماتے تھے
15:59اور پھر
16:00اشراق اور چاش کے
16:02نوافل ادا کرنے کے بعد
16:03مسجد سے اٹھ کے
16:10تھوڑی دیر بعد
16:11پھر مسجد میں
16:12تشریف لے آیا کرتے تھے
16:13سارا دن
16:14اللہ کا ذکر کرتے تھے
16:15تسبیح بیان کرتے تھے
16:17اللہ کی وحدانیت کا
16:18اعلان کرتے تھے
16:19قرآن کی تلاوت کرتے تھے
16:21اللہ رب العزت کے حضور
16:22رکوع و سجود کیا کرتے تھے
16:24اس قسم کی آپ نے
16:27زاہدانہ زندگی گزاری ہے
16:28آپ نے بے مثل عبادت گزاری کی ہے
16:31اور متقی اور پریزگاری
16:33کے اعلی درجے پہ فائز ہوئے ہیں
16:34روایت میں ہم ملتا ہے
16:40ہر دفعہ حج فرمایا ہے
16:41اور ہر دفعہ حج کرنے کی
16:43کیفیت یہ تھی
16:44کہ آپ سواری پہ سوار نہیں ہوتے تھے
16:46بے شمار آپ کے پاس سواریاں تھی
16:49اعلی سے اعلی نسل کی سواریاں
16:52آپ کے پاس موجود تھی
16:53لیکن آپ سواری پہ سوار نہیں ہوتے تھے
16:55بلکہ پیدل جایا کرتے تھے
16:57اور اکثر آپ کی پیدل جانے کے بھی
16:59ترقیب ایسی ہوتی تھی
17:00کہ آپ اپنے نالین اتار کے
17:02برہنہ پا سفر کیا کرتے تھے
17:05آپ کے ساتھوں نے عزقی حضرت
17:06کی وجہ کیا ہے
17:08سواریاں موجود ہیں
17:09نالین موجود ہیں
17:11آپ نہ نالین پہنتے ہیں
17:12نہ سواری پہ سوار ہوتے ہیں
17:14آپ نے ارشاد فرمایا
17:16مجھ حسن کو حیاء آتی ہے
17:18کہ میں اس احکم الحاکمین
17:19رب العالمین
17:21خالق کائنات
17:22مالک کائنات
17:23کی جناب میں جا رہا ہوں
17:24جو ہر چیز کا بادشاہ ہے
17:26جو ہر چیز کا قادر ہے
17:28جس نے ہمیں پیدا فرمایا ہے
17:30جس کے طرف ہم نے لوٹ کے جانا ہے
17:33قیامت والے دن جس نے ہم سے حساب لینا ہے
17:35اس کی خدمت میں جاؤں
17:37اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں
17:38اور میں حسن سوار ہو کے جاؤں
17:40مجھے حیاء آتا ہے
17:41اس طرح کی زندگی آپ نے
17:43عبادت اور ریاضت کے ساتھ گزاری ہے
17:45اسی طرح جب عبادت اور ریاضت
17:48بے مثل ہو جائے
17:49تو پھر اللہ رب العزت نے
17:51ایک اور صف
17:52جو اپنے حبیب مکرم علیہ السلام کو
17:54عطا فرمائی تھی
17:55جسے سخاوت کہا جاتا ہے
17:57اس کا اظہار بھی
17:58امام حسن مجتبع کی زندگی میں
18:00بدرجہ اتمہ میں نظر آتا ہے
18:02امام حسن مجتبع علیہ السلام نے
18:04امام شافی فرماتے ہیں
18:06کہ اپنی زندگی میں
18:07تین مقامات ایسے آئے ہیں
18:09موقع ایسے آئے ہیں
18:10کہ آپ نے اپنا کل اساسہ
18:12کل مال
18:13جو کچھ بھی
18:15اللہ نے آپ کو عطا فرمایا تھا
18:16سوائے اس ایک جوڑے لباس کے
18:19جو آپ کے تن پر موجود تھا
18:21سب کچھ راہ خدا میں وقف کر دیا تھا
18:23اور آدھا مال
18:25اتنی دفعہ اللہ رب العزت کی راہ میں وقف کیا
18:27جسے شمار کرنا ممکن نہیں ہے
18:29اور جب آدھا مال صدقہ کرتے تھے
18:31اللہ کی راہ میں پیش کرتے تھے
18:33اس موقع پہ
18:35کیفیت یہ ہوتی تھی
18:36تنصیف میں اس قدر سختی کیا کرتے تھے
18:39کہ آپ کے پاس اگر
18:40نالین کا ایک جوڑا ہے
18:42دو نالین بنتے ہیں
18:44ایک اللہ کی راہ میں پیش کر دیتے تھے
18:46ایک اپنے پاس رکھتے تھے
18:47موزے کا ایک جوڑا
18:49اللہ کے حضور پیش کیا کرتے تھے
18:50ایک اپنے پاس رکھا کرتے تھے
18:52اس قدر آپ نے
18:54اللہ رب العزت کے حضور
18:55وہ جو سخاوت ہے
18:58اس کا اظہار فرمایا
18:59ایک دن
19:00اور صرف یہ سخاوت
19:01ایسا نہیں ہے
19:02چھپ کے بھی سخاوت ہوتی تھی
19:04اور کئی دفعہ
19:05آپ
19:05اعلیٰ الان سخاوت بھی فرمایا کرتے تھے
19:07ایک دن آپ مسجد میں تشریف فرما تھے
19:09ایک بندہ آیا
19:11اس نے نوافل ادا کیے
19:12پھر اللہ رب العزت کے حضور دعا کرنے لگا
19:15کہ باری طالعہ
19:16میں مقروض ہوں
19:17دس ہزار درہم کی مجھے ضرورت ہے
19:19تو غیبی خزانہ سے عطا فرما
19:21اتنے الفاظ
19:22امام حسن مجتبہ کے کانوں پڑھنے کے دیر تھی
19:25اب اپنے جگہ سے اٹھتے ہیں
19:26اپنے گھر تشریف لے جاتے ہیں
19:29دس ہزار درہم لے کے آتے ہیں
19:31اور اس سائل کو جو مانگ
19:32اللہ سے رہا تھا
19:33لیکن وسیلہ
19:35اللہ رب العزت نے
19:36امام حسن مجتبہ کو بنایا
19:37آپ نے اس کی ضرورت کو پورا کر دیا
19:39اور پھر آپ کی سخاوت
19:41صرف اپنوں تک محدود نہیں تھی
19:42بلکہ آپ کی سخاوت کا دارہ
19:45اس قدر وسیع ہوتا ہے
19:46کہ وہ دشمن
19:47جو علیل اعلان
19:48اہل بیت اطہار کی
19:50نعوذ باللہ
19:51وہ گستاخی کرتے تھے
19:52برابلہ کہتے تھے
19:54امام حسن مجتبہ کے بارے میں
19:55حرزہ سرائی کرتے تھے
19:57آپ کے بابا جان
19:58علی المرتضی شیر خدا
20:00حیدر کررار
20:01کررم اللہ و جل کریم کے بارے میں
20:02حرزہ سرائی کیا کرتے تھے
20:04آپ انہیں بھی جب
20:05دروازے پر آتے تھے
20:07سوال کرتے تھے
20:08دامن پھلاتے
20:09ضرور عطا فرماتے تھے
20:11کوفہ سے ایک ایسا ہی بندہ آیا
20:13جو اہل بیت اطہار
20:15اور بالخصوص
20:16مولا کائنات کے بارے میں
20:17حرزہ سرائی کیا کرتا تھا
20:19تو اس نے آکے
20:20مکہ مدینہ منورہ کے
20:21بے شمار لوگوں سے
20:22اپنی ضرورت پیش کی
20:23کسی نے اس کی مدد نہیں کی
20:25کسی نے اسے کہا
20:27کہ تم حسن بن علی کے دروازے پہ جاؤ
20:28وہ تمہاری حاجت روی ضرور کریں گے
20:30تمہاری مشکل کو شاید ضرور کی جائے گی
20:33تمہاری جو بھی ضرورت ہے
20:34وہ ضرور پوری ہو جائے گی
20:36وہ چاہتے نہ چاہتے
20:37چاروں نہ چار
20:38دروازے پہ آتا ہے
20:39دستک دیتا ہے
20:40اپنا مدعا بیان کرتا ہے
20:43سوال رکھتا ہے
20:44امام حسن مجتبہ اندر تشریف لے جاتے ہیں
20:46اس کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں
20:48جو اسے ضرورت پوری میسر ہو جاتی ہے
20:51تو وہ سوال کرتا ہے
20:52کہ حضرت کیا آپ نے مجھے پہچانا نہیں ہے
20:54آپ نے ارشاد فرمایا
20:55کیسی باتیں کر رہے ہو
20:57میں یہ کیسے ممکن ہے
20:58تو میں نہ پہچانوں
20:59میں نے تو اسی لمحے پہچان لیا تھا
21:01جب میری آنکھوں نے تیرا چہرہ دیکھا تھا
21:03تو وہی ہے نا جو میرے بابا کے بارے میں
21:05یہ یہ کلمات کہتا ہے
21:07تو جو میرے بارے میں
21:08میرے اہل بیعت کے بارے میں
21:10رسول اللہ کے خاندان کے بارے میں
21:11حرزہ سرائی کرتا ہے
21:13اس نے سر جکا کہا
21:14حضرت میں وہی ہوں
21:15پھر ارشاد فرمایا
21:16آپ نے یہ طرز عمل فرمایا کیوں ہے
21:18تو آپ نے ارشاد فرمایا
21:19حرزہ سرائی کرنا
21:21گالم گلوچ کرنا
21:22سب و شتم کرنا
21:24تنقید کرنا
21:24یہ تیرا طرز عمل ہے
21:26ہم رسول اللہ کے خاندان والے ہیں
21:28ہم رسول اکرم علیہ السلام کے وارث ہیں
21:31اور رسول اکرم کے جو ورساہ ہیں
21:33ان کو یہی زیبہ دیتا ہے
21:35کہ اگر ان کے دروازے پر دشمن بھی آ جائے گا
21:38تو اسے اس کی ضرورت کو ضرور پورا فرمائیں گے
21:41کیونکہ
21:42ہمیں سیرت کی کتابوں میں یہ واقعہ ملتا ہے
21:44کہ حضور نبی رحمت آقای دوجہہ
21:46صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں
21:48مکہ سے کافر آیا
21:49رات کا وقت تھا
21:50اس نے کہا کہ میں مہمان بننا چاہتا ہوں
21:53مجھے کوئی مہمان نہیں ٹھیرا رہا
21:54میں مسافر ہوں
21:55رسالت مہب علیہ السلام نے اسے مہمان بنایا
21:58بہترین کھانا پیش کیا
22:00گرم دودھ پلایا گیا
22:02نرم بستر دیا گیا
22:03صبح پھر یہی مہمان نوازی کے تقاضے پورے کیے گئے
22:06اس نے سوال کیا
22:07کیا محمد آپ نے مجھے پہچانا نہیں
22:09حضور نے اشارت فرمایا
22:10میں نے پہچان لیا تھا
22:11رات کے اسی لمحے
22:12کہ تو وہی شخص ہے
22:13جس نے فلا فلا موقع پر مجھے عذیت دی تھی
22:16فلا فلا موقع پر میرے اصحاب کو تم نے
22:18یہ یہ تکلیفیں پہنچائیں تھی
22:20کہا پھر مدد کیوں فرمائی تھی
22:22کہا وہ تیرا طرز عمل تھا
22:24یہ مجھ محمد الرسول اللہ کا طرز عمل ہے
22:27کیونکہ اللہ رب العزت نے مجھے یہ شان عطا فرمائی ہے
22:30کہ جو ہمیں محروم بھی کرتے ہیں
22:32ہم انہیں ضرور عطا کرتے ہیں
22:34جو ہم پہ ظلم کرتے ہیں
22:36ہم انہیں جب ہمارے اوپر وقت آتا ہے
22:39تو بدلہ لینے پہ قدرت بھی رکھتے ہیں
22:41اس کے باوجود معافی کا اعلان کر دیتے ہیں
22:43اسی طرح
22:44حضرت امام حسن مجتبع علیہ السلام
22:46کے پاس ایک بندہ حاضر ہوا
22:48اس نے آکے عرض کی حضرت
22:50ہم نے حاتم تائی کی سخاوت کے بڑے قصے سنے ہیں
22:53آپ نے اشارت فرمایا
22:54اچھا بتاؤ مجھے بھی کوئی قصہ
22:55میں بھی لطف اندوز ہونا چاہتا ہوں
22:58اس نے عرض کی حضرت
22:59حاتم تائی کے بارے میں مشہور یہ تھا
23:01کہ اس کے گھر کے محل کے سات دروازے تھے
23:04اور ایک اگر سائل پہلے دروازے پہ آئے
23:06پھر دوسرے پہ آئے
23:07پھر تیسرے پہ آئے
23:08حتیٰ کہ سات دروازے پہ ایک ہی سائل
23:11دست سوال دراز کرے
23:12اپنے دامن کو پھیلاتا
23:14حاتم تائی اتنا بڑی سخی تھا
23:16کہ ہر دوہ اسے عطا کرتا
23:18اور کبھی بھی اس کے ماتھے پہ
23:20کوئی شکن نہیں آئی
23:21کوئی بل نہیں آیا
23:22آپ نے اشارت فرمایا
23:24یار وہ بھی کوئی سخی ہے
23:25جس کے دروازے پہ کسی کو
23:26اپنی حاجت کو
23:27ضرورت کو پورا کرنے کے لیے
23:29سات دفعہ جانا پڑے
23:30سخی تو آمنہ کا لال ہے
23:32سخی تو فاطمہ کا بابا ہے
23:34سخی تو میرا اور حسین کا نانا
23:36محمد الرسول اللہ
23:38صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے
23:40جس کے پاس اگر کوئی انسان
23:42ایک دفعہ آ کے سوال کرتا
23:43اب اتنا عطا فرماتے
23:45اتنا عطا فرماتے
23:46کہ اس انسان کو ساری زندگی
23:48کسی دوسرے دروازے پہ جانے کی
23:50ضرورتی محسوس نہیں ہوتی تھی
23:51یہی جو فضائل ہیں
23:53یہی جو صفات ہیں
23:54یہی اللہ رب العزت نے
23:58امام حسن مجتبہ
24:00بالخصوص اور دیگر اہل بیت اتحار
24:02کے ہر ہر فرض کو عطا فرمائی تھی
24:05کہ آپ کے دروازے پہ جو بھی آتا
24:07جیسا بھی سوال کرتا
24:08ہزاروں درہم کا بھی سوال ہوتا
24:11لاکھوں درہم کا بھی سوال ہوتا
24:13تو آپ بغیر ہچ کچائے
24:15رب کے رضا کی خاطر
24:16اس کے ضرورت کو پورا کر دیا کرتے تھے
24:18اسی طرح آپ کے سیرت میں
24:20ہمیں واقعہ ملتا ہے
24:21کہ یہ ظرف میں کتنے بلند شخصیات ہیں
24:26یہ ہستیاں کس قدر
24:27اعلیٰ درجے پہ ہیں
24:28کہ اللہ رب العزت کے رضا
24:30انہیں کس قدر محبوب ہے
24:31کہ آپ کے کنیز نے
24:33آپ کو گلدان تحفے کے طور پہ پیش کیا
24:36اب بظاہر وہ بڑی مختصر چھوٹی سی چیز ہے
24:38دیکھنے میں ہمیں وہ شاید حکیر محسوس ہو
24:41لیکن اس نے اپنی استطاعت کے مطابق
24:43آپ نے آقا و مولا
24:44امام حسن مجتبہ کو تحفہ پیش کیا
24:47تو بدلے میں آپ نے
24:48آپ نے اس کنیز کو غلامی سے آزادی عطا فرما دی
24:52آپ کے ساتھوں نے عرض کی حضرت مولا
24:55ارشاد فرمائی حکمت کی سمجھ نہیں آئی
24:57چھوٹا سا تحفہ اس نے آپ کو دیا تھا
25:00اور آپ نے اس قدر آزادی جیسی بڑی نعمت عطا فرما دی
25:03آپ نے ارشاد فرما دی
25:04کیا تم نے قرآن نہیں پڑا
25:06جس میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے
25:11کہ وہ انسان جو آپ کو تحفہ دے
25:14تو تمہیں چاہیے
25:15کہ تم اگر استطاعت رکھتے ہو
25:17تو اس سے بڑھ کے اچھا خوبصورت تحفہ
25:19تم ضرور اسے دو
25:20تو اس نے اپنی استطاعت کی مطابق
25:22مجھے گلدان تحفہ کے طور پر پیش کیا
25:24اور میں نے اپنی استطاعت کی مطابق
25:27اسے عزادی جیسی نعمت عطا فرما دی تھی
25:29یہ وہ کمال شخصیات ہیں
25:31جن کے بارے میں
25:33اللہ رب العزت نے قرآن کی آیات میں
25:36ہمارے اوپر ان کی محبت اور مودت
25:38کو لازم قرار دے دیا ہے
25:40سورہ شورا میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا
25:46کہ حبیب آپ ارشاد فرما دیجئے
25:50یہ جو عجر رسالت
25:52میں تم سے سوال نہیں کرتا
25:53عجر رسالت کیا ہے
25:54یہ جو تمہارا میں نے رب کے ساتھ
25:56ٹوٹا ہوا تعلق جوڑا ہے
25:57تمہیں گمراہی سے نکال کے
26:00ہدایت کی طرف لے کے آیا ہوں
26:01ظلمت کے اندیروں سے نکال کے
26:03اجالے اور روشنی میں لے کے آیا ہوں
26:05اللہ کے دامن کرم سے وبستہ کیا ہے
26:08اللہ کی معرفت عطا فرمائی ہے
26:10اللہ کا پیغام پہنچایا ہے
26:12یہ جو دین تم تک پہنچایا ہے
26:14اس چیز کا میں تم سے
26:16کوئی مطالبہ نہیں ہے
26:17کہ تم بدلے کے طور پر معاوضے کے طور پر
26:20مجھے کچھ دو
26:21اللہ المودت فالقربہ
26:23لیکن ہاں اتنا ضرور ہے
26:25کہ اللہ کا حکم ہے
26:26کہ اس عجر رسالت کے بدلے کے طور پر
26:29معاوضے کے طور پر
26:30عجر کے طور پر
26:32میرے جو قرابتدار ہیں
26:33ان کے ساتھ تو محبت اور مودت کرو
26:35اور پھر اللہ رب العزت کا جب حکم یہ آ گیا
26:38میں قربان جاؤں صحابہ اکرام علیہ وسلم کی
26:41رضوان اللہ علیہ و جمعین کے عظمت پہ
26:43آپ نے بات
26:44عدوری نہیں چھوڑی
26:46صحابہ نے ارز کی
26:47یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
26:49ارشاد فرمائیے
26:54کہ وہ کون سے خوش نصیب افراد ہیں
26:57جن کی محبت اور مہدت اللہ رب العزت نے
27:00ہمارے اوپر لازم قرار دے دی ہے
27:03اسالت ماب علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
27:05میرے صحابہ یاد رکھو
27:06علی فاطمہ و بناہما
27:09وہ چار شخصیات ہیں
27:11ان میں سے پہلی شخصیت کا نام
27:13علی المرتضی شیر خدا ہے
27:15دوسری میری صحبزادی
27:16سیدت النساء العالمین
27:18فاطمہ الزہرہ کی ذات ہے
27:20تیسری
27:21امام حسن مجتبا کی ذات ہے
27:24اور چوتھی حضرت امام حسین کی ذات ہے
27:27یہ وہ عزوات ہیں
27:28جن کی محبت اور مودت کو
27:30اللہ رب العزت نے قرآن مقدس میں
27:32ہمارے اوپر لازم قرار دے دیا ہے
27:34اسی طرح پھر جب آیت تطہیر نازل ہوتی ہے
27:37اللہ رب العزت کے
27:40نے رسالت ماب علیہ السلام کی
27:42قلب احتر پر یہ آیت کریمہ نازل فرمائی
27:44انما یرید اللہ اليضہبا
27:47انکم رلس اہل البیت
27:48ویتہیرکم تطہیرہ
27:50حضرت ام المومنین حضرت ام سلمہ
27:53علیہ السلام ارشاد فرماتی ہے
27:55کہ میرے حجرے میں میرے گھر میں
27:57یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور مجھے حکم ہوتا ہے
28:00کہ فاطمہ کو بلاؤ
28:01حسن کو بلاؤ
28:02حسین کو بلاؤ
28:03علی پہلے وہاں پہ موجود تھے
28:05میں نے انہیں بلائیا
28:07رسالت ماب علیہ السلام نے
28:09انہیں اپنی چادر تطہیر میں لیا
28:11اور ارض کی
28:13اللہم مہا اولائی اہل بیتی
28:15فضحب انہم الرجسہ وطہرم تطہیرہ
28:18اے اللہ
28:19میں یہ تو اسے سواعرز کر رہا ہوں
28:21یہ میرے اہل بیت ہیں
28:23ان سے رجس کو ناپاکی کو دور فرما دے
28:26اور انہیں ہر طرح سے
28:28پاکیز اور طاہر اور متاہر کر دے
28:30یہ وہ شخصیات ہیں
28:31جن کا ذکر
28:33ہم آج کی اس نشست میں
28:34اور کئی دنوں کی اس نشست میں کر رہے ہیں
28:37یہ محرم الحرام کے ایام ہیں
28:40جن میں ہم
28:41امام حسین
28:42امام زین العابدین
28:44امام قاسم
28:45امام علی اکبر
28:46اور دیگر شہداء کربلا کا ذکر کر رہے ہیں
28:49اور بالخصوص آج کی نشست میں
28:51ہم صفت پیمبر
28:52نواسہ رسول
28:54جگرگوشہ بطول
28:55نور نظر مولا مرتضی
28:57امیر المؤمنین
28:58خلیفت المسلمین
28:59حضرت امام حسن مجتبا کا ذکر کر رہے ہیں
29:02اب میں
29:03بالکل اپنی بات کے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہوں
29:06کہ جس طرح آپ نے اپنی زندگی گزاری
29:08میں نے
29:08سخاوت کے حوالے سے
29:10مثالیں آپ کی خدمت میں پیش کی
29:11میں نے آپ کا جو
29:13زہد و تقوی تھا
29:14اس کے حوالے سے پیش کی
29:15کس طرح رسالت ماب علیہ السلام نے
29:17آپ کے بارے میں
29:18اپنے فرامین اتا فرمائے ہیں
29:20الحسن والحسین سیدہ شباب اہل الجنہ
29:23حسن حسین
29:24جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں
29:26اور رسالت ماب علیہ السلام نے
29:28اشارت فرمایا
29:29کہ جنت اور دوزہ کا پس میں مقالمہ ہوتا ہے
29:32جنت کہتی ہے
29:34دوزہ کو کہ میں تم سے بہتر ہوں
29:36دوزہ کہتی نہیں میں تم سے بہتر ہوں
29:38جوزہ کہتی ہے
29:39میں اس لئے تم سے بہتر ہوں
29:44مجھ میں بڑے بڑے ظالم جابر بادشاہ
29:47نمرود فرون
29:49یزید جیسے لوگ ہیں
29:50بڑے بڑے ظالم بادشاہ میرے پاس ہیں
29:53یہ جواب سننے کے بعد جنت خاموش ہو جاتی ہے
30:07جب اللہ رب العزت نے یہ دیکھا
30:09کہ جنت خاموش ہو گئی ہے
30:10اللہ نے جنت کی طرف وحی فرمائی
30:12اور ارشاد فرمایا
30:13پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے
30:15یاد کرو
30:16کیا تمہیں میں نے حسن حسین کے ساتھ مزین نہیں کیا ہے
30:19کیا تمہاری اس خوبصورتی کو دوبالہ
30:22میں نے حسن حسین کے ساتھ نہیں کیا
30:24تمہاری اس خوبصورتی کو چار چاند
30:26حسن حسین کے وجود کے ساتھ نہیں لگائے ہیں
30:29یہ سننے کے بعد
30:30جنت اس طرح شرم آتی ہے
30:32جس طرح حجرہ عروسی میں دلہن شرم آیا کرتی ہے
30:35یہ وہ شخصیات ہیں
30:37جن کے محبت اور مودت کو قرآن نے لازم کرا دیا ہے
30:41اور ان کی محبت اور مودت کے سوال کے بغیر
30:44اللہ رب العزت ہمیں اپنے سامنے سے ہٹنے نہیں دے گا
30:47حضور نے برحمت صلی اللہ علیہ وسلم عنہ ارشاد فرمایا
30:49چار سوالوں کا جواب جب تک انسان نہیں دے گا
30:52اللہ اسے اپنے سامنے سے ہٹنے نہیں دے گا
30:55ارز کی گئی حضور ارشاد فرمائیے
31:07یہ جندگی دی تھی
31:09کہاں ضائع کر کے آئے ہو
31:10جسم دیا تھا
31:11کہاں پراغندہ کر کے آئے ہو
31:13تمہیں مال دیا تھا
31:15کہاں سے کمایا
31:16کہاں پر خرچ کر کے آئے ہو
31:17اور چوتھا سوال ہے
31:18میری اہل بیت کی محبت کے بارے میں
31:21جب تک اہل بیت کی محبت کے بارے میں
31:24جواب نہیں دیا جائے گا
31:25رب اپنے سامنے سے ہٹنے نہیں دے گا
31:28اور اہل بیت اطہار کی محبت اتنی لازم ہے
31:31کہ رسالت مآب علیہ السلام نے اشارت فرمایا
31:33لَوْ أَنَّ رَجُلَنْ صَفَنَا بَيْنَ الرُّقْنِ وَالْمَقَامِ
31:36وَسَلَّا وَسَامَا سُمَّ لَكِيَ اللَّهُ وَهُوَ مُبْغِدٌ
31:40لِي اہل بیت محمد داخل النار
31:43کہ کوئی ایسا انسان ہو
31:44خوش نصیبی کی انتہا ہے
31:46کہ وہ ہر وقت سہنِ حرم میں موجود ہو
31:48حجرِ اسوہ سے لے کے
31:50مقامِ ابراہیم کے درمیان
31:51وہ نمازیں پڑھتا ہو
31:53اسے اپنا مسلح بناتا ہو
31:55اس جگہ کو سجدوں کے ساتھ مزین کرتا ہو
31:58دن روزے کے حالت میں گزارتا ہو
32:00اسی حالت میں روزے
32:01اور سجدے کے حالت میں موت آ جائے
32:03لیکن اس کا حال یہ تھا مرتے وقت
32:05کہ اس کے دل میں اہلِ بیتِ اتھار کا بغض تھا
32:08اللہ اسے اس کے نمازوں
32:10روزے سمیت اٹھا کے جہنم میں پھینک دے گا
32:12یہ وہ شخصیات ہیں
32:14جن کی محبت اور مودت ہم پر لازم ہے
32:16اب بالکل آخر میں میں
32:18امامِ حسنِ مجتبا کی شہادت کے حوالے سے
32:21چند جملے ارز کر کے
32:22اپنی بات کو مکمل کروں گا
32:24کہ روایت میں ملتا ہے
32:25ایک اٹھائی سفر
32:28انچاس ہجری یا پچاس ہجری
32:30دو روایات ہیں
32:31یہ ایک روایت میں ہے
32:32کہ پانچ ربعی الاول
32:33آپ کی شہادت ہوتی ہے
32:34اور آپ کی شہادت کیسے ہوتی ہے
32:36کہ آپ کو زہر دیا جاتا ہے
32:38اور آپ کو ایک دفعہ نہیں
32:39تین دفعہ زہر دیا جاتا ہے
32:41جب تیسری دفعہ زہر دیا گیا
32:43وہ اتنا سخت تھا
32:44اتنا کاری تھا
32:45اتنا غلیظ زہر تھا
32:46کہ آپ جب بالکل آخری وقت ہے
32:48اب آپ نے محسوس کیا
32:50کہ اللہ کی دعوت پر میں ضرور لبیک کہوں گا
32:52آپ نے اپنے برادرِ اسغر مولا
32:54امام حسین کو بلایا
32:56اور ارشاد فرمایا
32:57کہ مجھے زہر دیا گیا ہے
32:59اور تکلیف کا عالم یہ ہے
33:01کہ میری انتڑیاں کٹ کٹ کے
33:02میرے جسم سے باہر آ رہی ہیں
33:05اس قدر تکلیف کی شدت ہے
33:07کہ مجھ سے نہ بیٹھا جا رہا ہے
33:09نہ اٹھا جا رہا ہے
33:10نہ کچھ کھایا جا رہا ہے
33:12نہ کچھ پیا جا رہا ہے
33:13میں تمہیں چند وسیعتیں کرنا چاہتا ہوں
33:16مولا حسین نے ارز کی
33:17مولا ارشاد فرمایا
33:18آپ کو زہر کس نے دیا
33:20آپ نے ارشاد فرمایا
33:21کیا کروگے
33:21آپ نے ارشاد فرمایا
33:22اسے قتل کروں گا
33:24آپ نے ارشاد فرمایا
33:25اگر تو وہی انسان ہے
33:26جو میرے ذہن میں ہے
33:28جس نے مجھے زہر دیا ہے
33:29جو میرے گمان میں ہے
33:30تو پھر اللہ اسے بہتر انتقام لینے والا ہے
33:33لیکن اگر وہ انسان نہیں ہے
33:35تو پھر کسی ناحق کی گردن میں
33:36اس اپنے گمان کی وجہ سے
33:38ضائع نہیں کرنا چاہتا
33:40لیکن وسیعت یہ ہے
33:42کہ میں یہ معاملہ
33:43اپنے رب کی بارگاہ میں چھوڑتا ہوں
33:45پھر وہ ساری وسیعتیں فرمائی
33:47کس طرح خاندان کو جوڑنا ہے
33:49کس طرح رسالت مآب علیہ السلام کے
33:51فرامین کو آگے لے کے چلنا ہے
33:53کس طرح جب کربلا کا مشکل وقت آئے گا
33:56تو ہم نے آگے لے کے چلنا ہے
33:57اور پھر امام حسن مجتبا علیہ السلام نے
34:00اپنے شہزاد قاسم بن حسن کو بلایا
34:03تین سال آپ کے عمر مبارک ہے
34:05روایت میں ملتا ہے
34:06کہ وسیعت نامہ
34:07تعویز کی صورت میں آپ کے بازو باندھا
34:09کہا ایک وقت آئے گا
34:10تمہارے آقا حسین میرے برادر اسغر
34:13چچا حسین کو تیری ضرورت ہوگی
34:16میں اس وقت موجود نہیں ہوں گا
34:18تم موجود ہوگے
34:19تم نے میری کمی پوری کرنی ہے
34:21میری کمی محسوس نہیں ہونے دینی ہے
34:23ضرور بر ضرور حسین کے ہاتھ کو بٹانا ہے
34:27حسین سے پہلے کربلا میں جانا ہے
34:29حسین سے پہلے اپنی گردن کو کٹانا ہے
34:32وہ وسیعت فرماتے ہیں
34:33اور پھر اللہ رب العزت کے حکم پہ
34:35آپ اللہ کے حکم پہ لبیہ کہتے ہوئے
34:39دار فانی سے دار بقا کی جانب سفر کرتے ہیں
34:41پھر وہ وقت آتا ہے
34:43کربلا 61 ہجری
34:44دس محرم کا وقت آتا ہے
34:46سیدنا امام حسن کے شہزادے
34:48قاسم بن حسن
34:50اس وعدے کو پورا کرتے ہیں
34:51اور کئی دفعہ یہ بیان ہو چکا ہے
34:53کہ کس طرح جوا مردی کے ساتھ
34:55آپ مظاہرہ کرتے ہیں
34:57اور آپ اپنے بابا جان کی وسیعت پر عمل کرتے ہوئے
35:00اپنی جان امام حسین سے مقدم رکھتے ہوئے
35:03تیرہ چودہ سال کے عمر میں
35:05اس طرح یزیدیوں کے ساتھ لڑتے ہیں
35:08کہ انہیں تہہ تیک کر دیتے ہیں
35:10اور پھر وہ یک بارگی حملہ کرتے ہیں
35:13اتنے تیر آپ کو لگتے ہیں
35:14زخم لگتے ہیں
35:15کہ آپ نیچے زمین پہ گرتے ہیں
35:17اپنے چچا کو آواز دیتے ہیں
35:19یا امہ ہو
35:20اے میرے چچا
35:21آپ دوڑے ہوئے جاتے ہیں
35:22جا کے آپ تشریف لے جاتے ہیں
35:24گردن آپ اٹھا کے
35:32اللہ رب العزت کے حضور پیش ہو جاتا ہے
35:35شاعر کہتا ہے
35:36آیا نہ ہوگا اس طرح
35:37حسن و شباب ریت پر
35:39گلشن فاطمہ کے تھے
35:41سارے گلاب ریت پر
35:43جان بطول کے سوا
35:45کوئی نہیں کھلا سکا
35:46کترہ آپ کے بغیر
35:48اتنے گلاب ریت پر
35:50ترس حسین آپ کو
35:52جو میں کہوں تو بے عدب
35:54لم سے لبے حسین کو ترسا ہے
35:56آپ ریت پر
35:57عشق میں کیا بچائیے
35:59عشق میں کیا لٹائیے
36:01آلِ نبی نے لکھ دیا
36:03سارا نصاب ریت پر
36:05آلِ نبی کا کام تھا
36:07آلِ نبی کر گئے
36:08کوئی نہ لکھ سکا عدیب
36:10ایسی کتاب ریت پر
36:13موزز و محتشم حاضرین
36:15ای آر و ای کیو ٹی وی کے ذریعے
36:16محرم الحرام کے ان مقدس ایام میں
36:18اس ٹرانسمیشن کو دیکھنے والو
36:21آئیے آخر میں مل کے
36:23ہم یہ دعا کرتے ہیں
36:24کہ اللہ رب العزت ہمیں صحیح مانو میں
36:26اہلِ بیتِ اتھار کی غلامی عطا فرمائے
36:28ان کی صیرت پر عمل پیرا ہو
36:30کہ ہمیں زندگی گزارنے کی توفیق
36:32عطا فرمائے تاکہ آج
36:34دنیا میں بھی اللہ رب العزت ہمیں سرخ روی عطا فرمائے
36:37اور کال قیامت والے دن بھی
36:38اللہ رب العزت ہمیں سرخ روی عطا فرمائے
36:41ان اشار کے ساتھ اپنی بات
36:42ختم کر رہا ہوں
36:43ازل سے میرے مقدر میں ہے
36:45ولائے حسن رہے گی
36:47سایہ فگنتا عبد ردائے حسن
36:56یہ حال ہے میرے دل کا
36:58با فیض شاہ حدا
37:00کبھی حسین پہ قربا
37:02کبھی فیدائے حسن
37:03عجب نہیں کہ مجھے خلد میں جگہ مل جائے
37:06با فیض سرور کون و مکان
37:09برائے حسن
37:10وما علینا اللہ البلاغ المبین
37:12سلام ہو سلام
37:14اے سیدہ کلان
37:18سلام ہو سلام
37:20اے سیدہ کلان
37:23سلام ہو حسین کے مقارک و سلام
37:28سلام ہو حسین کے مقارک و سلام
37:34سلام ہو سلام
Comments

Recommended