Skip to playerSkip to main content
  • 11 hours ago

Category

😹
Fun
Transcript
00:00وہ جو دوپہر کام سکول سے آتے تھے اور آکے کہتا تھے اممہ جی روٹی کھانی گیا تو اممہ کہا
00:05جی پتر سالل تھے کوئی نہیں
00:07کہ میں تو انہوں تھوڑا چٹنی نہ بنا دیا تو پوچھ رہنا میری طرح کے سب لوگوں سے وہ چٹنی
00:14کیا ہوتی تھی
00:15دھنیا تھوڑا سا ڈنڈے کے ساتھ دھوری میں تیار کیا جاتا تھا تھوڑی سی لسی
00:20ہلکی پھلکی اس کے اندر نمک اور مرج اور بنائی اممہ نے ہوتی تھی
00:27تو پھر کوئی اس کا مزہ تھا کوئی اس کا ذائقہ تھا پھر محسوس ہوتا تھا کہ دنیا میں جنہوں
00:34نے
00:34بڑے بڑے ڈپلومے کی ہیں نا شیف بنے ان سے کہے آؤ درہا لائن میں کھڑے ہو میری ماں تمہیں
00:40سکھائے جی ذائقہ کسے کہتے ہیں آؤ نا اسے اور کبھی اگر ہم یہ کہہ دیتے ہیں روٹیاں پکاتے پکاتے
00:47کہ وہ تو روٹکے نہیں آیا جانتا پیڑی پھڑتا ہی تھے میرے کول ہی آ رہا ہوئے ہوئے پھر تو
00:52یوں لگتا تھا
00:53کہ جیسے نہ ساری رحمتیں جھوکے آ گئی ہیں اور کرم کی برکہ گویا برس رہی ہے
01:00اتنے میں نے زندگی میں بڑے بڑے مہنگے ہٹلوں پہ بھی جا کے دیکھا ہے پھر وہ مزہ دوبارہ آیا
01:05نہیں
01:06پھری طبیعت نہیں ہے پھر آفظہ ذرا اچھا ہے باتیں میرے ذہن میں مہم رہ جاتی ہیں
01:11ایک صاحب نے نا ایک دکان پہ میں ویلڈنگ کا کوئی کام کرانے کے لیے بیٹھا ہوا تھا
01:16تو موٹر ٹینکی لائے وہ پانی والی گھا سے
01:19تو وہ تھوڑی سی انہوں نے ٹینکی کو نا اس سے ویلڈ کرایا
01:23تو اٹھا کے چلنے لگے تو بندہ کہنے لگا جی وہ تین سو روپیہ دے دیں
01:28کہنے لگے بچے پانی پین کے دن سواب ہوئے گا
01:31کوئی بڑا سیانہ تھا کہنے دا مسجد دیئے
01:35لیکن نہیں جی اعتکار دیتا کہنے دا بھر منتریسو دے
01:38میرے بچے روٹی کھان کے تینوں بھی سواب ہوئے گا
01:43عجیب فلسما ہے نا سواب کا بھی ہمارا
01:46تو میں بڑا محضوظ ہوا
01:48ہاتھ ساس کے میرا کوئی حال نہ رہا وہاں
01:50میں نے کہا کمال ہوگی
01:52سواب کیا کیا ترجمہ گیا ہوا ہے
01:54مفتخوروں کی لمبی لسٹیں
Comments

Recommended