00:00زینیا رکسانہ کو اپنے پاس بلاتی ہے اور اس کے ہاتھ میں ایک ایسی خطرناک دوائی کی شیشی تھما دیتی
00:05ہے جس سے فریال کا بچہ ایکسپائر ہو جائے
00:08تم نے یہ دوائی فریال کے جوس میں ملا کر اسے پلا دینی ہے
00:11اگلے دن صبح رکسانہ چپکے سے کچن میں جاتی ہے اور فریال کے فریش جوس میں وہ خطرناک دوائی ملا
00:18دیتی ہے
00:18جس کے بعد وہ جوس کا گلاس سیدھا فریال کے کمرے میں دے آتی ہے
00:22تب ہی شہرم فریال سے پیار سے بولتا ہے
00:24فریال تم یہ جوس پی لو لیکن فریال کمزوری سے کہتی ہے آپ ابھی آفیس چلے جائیں آفیس میں بہت
00:29کام ہے آج میری طبیعت ویسے ہی ٹھیک نہیں ہے
00:32جس کے بعد شہرم اسے آرام کا کہہ کر آفیس چلا جاتا ہے
00:35جیسے ہی فریال بیٹ پر بیٹ کر وہ جوس پیتی ہے اچانک اس کے پیٹ میں شدید درد اٹھتا ہے
00:40وہ درد سے چیختی ہے اور وہی فرش پر بےہوش ہو کر گر جاتی ہے
00:44جس کے بعد رکسانہ جب باہر سے یہ منظر دیکھتی ہے
00:46تو وہ اسی وقت خوشی سے زنیا کو کال کرتی ہے
00:49اور کہتی ہے
00:50بیگم صاحبہ آپ کا کام ہو گیا ہے
00:51فریال بےہوش ہو چکی ہے
00:53یہ سنتے ہی زنیا خوشی سے پاگل ہو جاتی ہے
00:55تب ہی وہ رکسانہ کو کہتی ہے
00:56تمہارے تیہ کیے ہوئے سارے پیسے تمہیں مل جائیں گے
00:59دوسری طرف نشاد بیگم جب فریال کے کمرے میں داخل ہوتی ہیں
01:02تو اسے یوں فرش پر بےہوش گرہ دیکھ کر
01:04ان کے ہوش ار جاتے ہیں
01:06وہ بھاگ کر اس کے پاس جاتی ہیں
01:07اور اسے اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں
01:09لیکن فریال آکھیں نہیں کھولتی
01:11نشاد بیگم روتے ہوئے
01:12اسی وقت شہرم کو کال کرتی ہیں
01:14اور بتاتی ہیں
01:15بیٹا جلدی آؤ
01:16فریال آکھیں نہیں کھول رہی
01:17پتہ نہیں اس کو کیا ہو گیا ہے
01:18یہ سنتے ہی شہرم گاڑی بھگاتا ہوا
01:20فوراں گھر آتا ہے
01:21اور فریال کو اپنی گود میں اٹھا کر
01:23سیدھا اسپتال لے کر جاتا ہے
01:25اسپتال میں ڈاکٹر فریال کے
01:27ایمرجنسی ٹیسٹ کرتے ہیں
01:28کچھ دیر بعد
01:28ڈاکٹر باہر آ کر شہرم کو بتاتی ہیں
01:31ان کو کسی نے پریگننسی ایکسپائر کرنے کے لیے
01:33کوئی غلط میڈیسن دی ہیں
01:34یہ سننے کے بعد
01:35شہرم کے ہوش ار جاتے ہیں
01:37وہ گھبرا کر پوچھتا ہے
01:38فریال کیسی ہے
01:39ڈاکٹر اسے تسلی دیتی ہیں
01:40شکر ہے آپ وقت پر آ گئے
01:41ہم نے ماں اور بچے دونوں کی جان بچا لی ہے
01:44لیکن نیکس ٹائم
01:44آپ کو سخت خیال رکھنا ہوگا
01:46شہرم فریال کو ٹھیک ہونے کے بعد
01:48اپنے گھر واپس لے آتا ہے
01:50گھر آتے ہی
01:50وہ آگ ببولہ ہو کر
01:52رکسانہ کو بلاتا ہے
01:53اور چیختا ہے
01:53بتاؤ تم نے فریال کے جوس میں کیا ملایا تھا
01:56لیکن رکسانہ ڈر کر جھوٹ پولتی ہے
01:58صاحب میں نے کچھ بھی نہیں ملایا
02:00تب ہی پیچھے سے نشاد بیگم آگے بڑھتی ہیں
02:02اور رکسانہ کے موہ پر ایک زوردار تھپر مارتی ہیں
02:05سج بتاؤ
02:06ورنہ ابھی پولیس کے حوالے کر دوں گی
02:07تھپر پڑتے ہی رکسانہ ساری حقیقت بتا دیتی ہے
02:10مجھے یہ سب کچھ کرنے کے لیے
02:11زینیا نے پیسے دیئے تھے
02:13یہ سنتے ہی
02:13شہرم غصے سے اپنی گاڑی میں بیٹھتا ہے
02:16اور سیدھا زینیا کے گھر پہنچ جاتا ہے
02:18دروازہ توڑ کر
02:19وہ اندر داخل ہوتا ہے
02:20اور دانش سے چیخ کر پوچھتا ہے
02:22کہا ہے زینیا
02:22جس کے بعد دانش خود زینیا کو بالوں سے گھسیٹتا ہوا
02:25باہر لے آتا ہے
02:26شہرم نے پہلے ہی پولیس کو کال کر دی ہوتی ہے
02:29اچانک پولیس کی گاڑی وہاں آ جاتی ہے
02:30شہرم پولیس والوں کو بولتا ہے
02:32اس عورت نے میری بیوی اور ماسوم بچے کو مارنے کی کوشش کی ہے
02:35اسے ابھی ارسٹ کر لو
02:36تب ہی زینیا روتے ہوئے شہرم کے آگے ہاتھ جوڑتی ہے
02:39اور مافی مانگتی ہے
02:40مجھے ماف کر دو
02:41مجھ سے غلطی ہو گئی
02:41لیکن پولیس اسی وقت زینیا کو ہتکڑی لگا کر
02:44ہمیشہ کے لیے جیل لے جاتی ہے
02:46کچھ دن بعد گھر میں خوشیاں واپس آ جاتی ہیں
02:48اور شانزے اور فیروز کی شادی کا دن آ جاتا ہے
02:50مولوی صاحب ان دونوں کا نکاح پڑھاتے ہیں
02:53شانزے اور فیروز خوشی خوشی قبول ہے
02:55بول دیتے ہیں
03:06تو اس کے لیے ہمارے چینل کو لائک شیئر اور سبسکرائب کریں
03:09آپ کو کیا لگتا ہے
03:10ان کا بی بی بوئی ہونا چاہیے
03:11یا پھر بی بی گرل جو بھی رائے ہو
03:13کومنٹ میں لازمی بتائیے گا
03:15اور آپ کو کیا لگتا ہے
03:16کیا ہماری یہ پریڈکشن بلکل صحیح ہوگی
Comments