00:00توار پارس کو منع کر صحیح سلامت بے حضاد شاہ کے گھر لے آتا ہے یہ دیکھتے ہی آفتاب فوراں
00:05پارس کی طرف بڑھتا ہے لیکن تب ہی بے حضاد شاہ پارس کا ہاتھ پکڑ کر کہتے ہیں میں نے
00:10فیصلہ کر لیا ہے اب تمہاری شادی آفتاب سے ہی ہوگی جس کے بعد وہ اسی وقت آفتاب اور پارس
00:16کے نکاح کی ڈیٹ بھی فکس کر دیتے ہیں یہ سن کر پارس کے ہوش اڑ جاتے ہیں اور وہ
00:20کہتی ہے اببو میں یہ شادی نہیں کر سکتی لیکن بے حضاد شاہ کہتے ہیں اگر تم نے میری بات
00:25نہ م
00:25تو میں اپنی جان لے لوں گا اپنے والد کی یہ بات سن کر پارس مجبوری میں شادی کے لیے
00:30ہاں کر دیتی ہے یہ دیکھ کر آفتاب کے چہرے پر مسکرہ ہٹا جاتی ہے دوسری طرف وہاب دررانی کو
00:35بھی یہ خبر مل جاتی ہے کہ پارس اور آفتاب کے نکاح کی تاریخ تیہ ہو گئی ہے وہاب قصے
00:40میں کہتا ہے پارس صرف میری ہوگی جس کے بعد وہ فوراں اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے جیسے ہی
00:45پارس بیوٹی پارلر سے باہر نکلے اسے اٹھا کر میرے فارم ہاؤس لے آ
00:49اگلے دن پارس شادی کے لیے بیوٹی پارلر جاتی ہے جس کے بعد جیسے ہی وہ باہر نکلتی ہے تب
00:54ہی اچانک وہاب دررانی کے بندے اسے زبردستی گاڑی میں بٹھا کر کڈنیپ کر لیتے ہیں دوسری طرف نکاح ہال
01:00میں پارس کا انتظار ہو رہا ہوتا ہے جب پارس نہیں آتی تو بےہزاد شاہ کو خبر ملتی ہے کہ
01:05وہاب دررانی اسے کڈنیپ کر چکا ہے تب ہی بےہزاد شاہ آفتاب سے کہتے ہیں جاؤ میری بیٹی کو واپس
01:11لے کر آؤ لیکن آفتاب صاف
01:12انکار کر دیتا ہے اور کہتا ہے میں وہاب دررانی سے نہیں ٹکرا سکتا یہ سن کر بےہزاد شاہ کو
01:17پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ آفتاب میری بیٹی کی حفاظت نہیں کر سکتا تب ہی وہ زوار کی طرف
01:22دیکھتے ہوئے کہتے ہیں بیٹا میری پارس کو ہر حال میں صحیح سلامت واپس لے کر آنا جس کے بعد
01:28زوار بینا دیر کیے سیدھا وہاب دررانی کے فارم ہاؤس پہنچ جاتا ہے تب ہی وہاب کے بندے اس کا
01:33راستہ روک لیتے ہیں لیکن زوار ایک ایک کر کے سب کو ہرا دی
01:37اور اندر جا کر پارس کو بےہوش حالت میں دیکھ لیتا ہے وہ فوراں پارس کو اٹھا کر وہاں سے
01:42نکل آتا ہے پارس کو دیکھ کر بےہزاد شاہ کی آنکھوں میں آنکھوں آ جاتے ہیں وہ زوار سے کہتے
01:46ہیں آج تم نے ثابت کر دیا کہ میری بیٹی کی حفاظت صرف تم کر سکتے ہو تب ہی اچانک
01:51زوار کے موبائل پر عزاز کی کول آتی ہے وہ روتے ہوئے کہتے ہیں فوراں آ جاؤ ریشم کے والد
01:56کو ہارٹ اٹیک آیا ہے وہ اپنی آخری خواہش کے طور پر تمہاری اور ریشم کی رخص
02:00دیکھنا چاہتے ہیں یہ سن کر زوار فوراں وہاں پہنچتا ہے لیکن تب تک ریشم کے والد انتقال کر چکے
02:06ہوتے ہیں اسی وقت بےہزاد شاہ کو پتا چلتا ہے کہ زوار کی منگنی پہلے ہی ریشم سے ہو چکی
02:11ہے جس کے بعد بےہزاد شاہ خود عزاز کے پاس جاتے ہیں اور پارس کا رشتہ زوار کے لیے مانگتے
02:16ہیں عزاز اس رشتے کے لیے ہاں کر دیتے ہیں پیچھے سے ریشم یہ بات سن لیتی ہے اور آنسوں
02:21کے ساتھ زوار سے کہتی ہے کیا تم مجھے چھوڑ دو
02:23تب ہی زوار اسے سمجھاتا ہے میں تمہاری عزت کرتا ہوں لیکن محبت پارس سے کرتا ہوں جس کے بعد
02:28بےہزاد شاہ گھر آ کر پارس کو بتاتے ہیں کہ اس کی شادی زوار سے تیہ کر دی گئی ہے
02:33یہ سن کر پارس خوشی سے اپنے والد کو گلے لگا لیتی ہے تب ہی اگلے دن مولوی صاحب آتے
02:38ہیں اور زوار اور پارس کا نکاح شروع ہو جاتا ہے تو دوستو آپ کو کیا لگتا ہے کیا آفتاب
02:42اتنی آسانی سے ہار مارکتا ہے
Comments