00:00ایجان فوراں سربلند اور رابیہ کو کہتی ہے
00:02بیٹا میں چاہتی ہوں تم دونوں کا نکاح ہو جائے
00:04رابیہ کی زندگی میں بہت دکھا چکے ہیں
00:06اور اب اس کی حفاظت صرف تم ہی کر سکتے ہو
00:09یہ سن کر سربلند فوراں بی جان کا فیصلہ مان لیتا ہے
00:12اسی وقت رابیہ بھی کہتی ہے
00:13اگر یہی آپ سب کی خوشی ہے
00:15تو مجھے یہ نکاح قبول ہے
00:16دوسری طرف اچانک سہراب خان ترسم کو بتا دیتا ہے
00:18جس لڑکی کو تم رابیہ سمجھتی رہے
00:30اٹھاتا ہے اور کہتا ہے
00:31میری محبت کسی اور کی نہیں ہو سکتی
00:33اسی وقت ترسم اپنے آدمیوں کے ساتھ
00:35سیدھا حویلی کی طرف نکل پڑتا ہے
00:36ادھر مولوی صاحب نکاح شروع کر دیتے ہیں
00:38سربلند فوراں قبول ہے کہہ دیتا ہے
00:40تب ہی مولوی صاحب رابیہ سے پوچھنے ہی والے ہوتے ہیں
00:43کہ اچانک اسی وقت ترسم حویلی کے اندر گھساتا ہے
00:45اور زور سے کہتا ہے
00:46یہ نکاح نہیں ہوگا
00:48یہ سن کر سربلند فوراں اپنی گن نکال لیتا ہے
00:50تب ہی ترسم سیدھا سربلند پر گولی چلا دیتا ہے
00:53لیکن اسی وقت رابیہ سربلند کے سامنے آ جاتی ہے
00:56اور گولی سیدھا اس کے بازو میں لگ جاتی ہے
00:58یہ دے کر سربلند کے ہوش ارجاتے ہیں
01:00رابیہ خون میں لطپت زمین پر گر جاتی ہے
01:02تب ہی سربلند گصے میں ترسم پر فائرنگ کرتا ہے
01:05لیکن ترسم اپنے آدمیوں کے ساتھ
01:07بہاں سے بھاگ نکلتا ہے
01:08سربلند فوراں رابیہ کو ہسپٹل لے کر پہنچتا ہے
01:10اور ڈاکٹر اس کا آپریشن شروع کر دیتے ہیں
01:12کچھ دیر بعد ڈاکٹر باہر آ کر بتاتا ہے
01:14رابیہ کی جان خطرے سے باہر ہے
01:16یہ سن کر سب سکون کی سانس لیتے ہیں
01:18دوسری طرف ترسم سیدھا جافران خان کے پاس پہنچتا ہے
01:21اور کہتا ہے آج بھی سربلند بچ گیا
01:23تب ہی جافران خان اس سے کہتا ہے
01:24جب تک سربلند زندہ ہے
01:25ہم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے
01:27یہ بات پیچھے سے سہراب خان سن لیتا ہے
01:29اسی وقت سہراب خان ان دونوں سے کہتا ہے
01:31آج رات ہم تینوں مل کر
01:32سربلند کا ہمیشہ کے لیے کام تمام کر دیں گے
01:35لیکن تب ہی ضرور یہ ساری بات چھپ کر سن لیتی ہے
01:38اور فوراں ہسپٹل جا کر
01:39سربلند کو سب کچھ بتا دیتی ہے
01:41یہ سن کر سربلند فوراں اپنے وفادار آدمیوں کو ساتھ لے کر
01:44جافران خان کے فارم ہاؤس پہنچ جاتا ہے
01:46سامنے ترسم جافران خان اور سہراب خان کھڑے ہوتے ہیں
01:50تب ہی دونوں طرف سے زبردست فائرنگ شروع ہو جاتی ہے
01:52سربلند فوراں سہراب خان کو پکڑ لیتا ہے
01:54اور اس سے پوچھتا ہے
01:55سچ بتاؤ
01:56شیر دل اور گل کا قتل کس نے کروایا تھا
01:58یہ سن کر سہراب خان ڈڑ جاتا ہے
02:00اور کہتا ہے
02:00سب کچھ میں نے ہی کیا تھا
02:01سرداری کے لالچ نے مجھے اندھا کر دیا تھا
02:04یہ سن کر سربلند کا گصہ اور بڑھ جاتا ہے
02:06اسی وقت ترسم پیچھے سے سربلند پر گولی چلانے کی کوشش کرتا ہے
02:09لیکن رابیہ بھی ہوسپیٹل سے پولیس کے ساتھ وہاں پہنچ جاتی ہے
02:12اور زور سے چلاتی ہے
02:14سربلند سنبھل جائیے
02:15سربلند فوراں پلٹ کر ترسم کے ہاتھ پر گولی مار دیتا ہے
02:18پولیس اسی وقت ترسم جافران خان اور سہراب خان کو گرفتار کر لیتی ہے
02:22کوٹ میں تینوں کے سارے جرم ثابت ہو جاتے ہیں
02:24مدسر کے قتل شیر دل اور گل کے قتل
02:26اور تمام سازشوں کی وجہ سے
02:27ترسم جافران خان اور سہراب خان کو سخت سزا سنا دی جاتی ہے
02:31کچھ دن بعد رابیہ بلکل ٹھیک ہو کر حویلی واپس آ جاتی ہے
02:34بی جان پھر سے مولوی صاحب کو بلاتی ہے
02:36اور کہتی ہیں
02:36اب کسی دشمن کا ڈر نہیں رہا
02:38اسی وقت سربلند اور رابیہ کا نکاح مکمل ہو جاتا ہے
02:40اور پوری حویلی دوبارہ خوشیوں سے بھار جاتی ہے
Comments