Skip to playerSkip to main content
Ehsaas Telethon - Qurbani Appeal

Fund Raising from International Community.

For Call: 1-718-393-5437
For Donation: 1-855-617-7786
Website: www.ehsaasfoundation.org

Account Name: Ehsaas Foundation
Bank Name: Chase Bank
Account Number: 202535861
Routing: 021000021
SWIFT: CHASUS33

#aryqtv #ehsasfoundation #qurbani #eidulazha
Transcript
00:25
00:39
01:02
01:34
02:02
02:03
02:03
02:03
02:03
02:05
02:09
02:10Alayhi wa sallam یہ فرمائیے کہ قربانی کیا ہے
02:12اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
02:14نے یہ سن کر فرمایا
02:15سنت ابیکم ابراہیم
02:17یہ تمہارے باپ ابراہیم کی سنت ہے
02:20صحابہ نے ارس کیا
02:21یا رسول اللہ فما لنا فیہا
02:23حضور ہمیں اس سے کیا فائدہ ہے
02:24تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
02:27نے فرمایا
02:27بِكُلِّ شَارَةٍ حَسَنَا
02:29کہ جانور کے ایک اقبال کے بدلے
02:32اللہ تبارک وطالعہ
02:34اپنے بندے کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے
02:36حدیث کا ایک دوسرا حصہ ہے
02:38کہ جہاں پر سرکار دوالم نبی مجسم
02:40صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
02:42نے فرمایا
02:43کہ جب جانور کو زبا کیا جاتا ہے
02:45تو اس کا خون کا قطرہ زمین تک پہنچنے سے پہلے
02:48اللہ تبارک وطالعہ
02:49اس شخص کی مغفرت فرما دیتا ہے
02:51کہ جو اللہ کی راہ میں قربانی کو پیش کرتا ہے
02:54اللہ کی راہ میں
02:55اپنے سر کو سرب و سجود کر دیتا ہے
02:58اللہ کا شکر گزار بندوں میں
03:00شامل ہوتا ہے اس طور پر
03:02کہ یا اللہ تُو نے یہ استطاعت بکشی
03:04اور تُو نے مجھے قربانی کرنے کے قابل بنایا
03:07ناظرین اگرام یہ قدر اس وقت یہاں میں
03:09یہ ڈیٹیل بھی آپ کے سامنے ارس کرتا چلوں
03:1165 پاؤنڈز
03:12ابھی کچھ دیر پہلے ہمیں
03:14ہمارے ڈونر نے یہ ایمان پیش بھی کیا ہے
03:17ان کا بھی بہت شکریہ
03:18در حقیقت وہ ترغیب کا سبب ہے
03:21ان لوگوں کے لیے
03:22جو اب تک شاید یہ سوچ رہے ہیں
03:24کہ ڈونیشن پیش کیا جائے
03:26اور کس طرح سے پیش کیا جائے
03:28تو اس سے سوچنے اور سمجھنے
03:30کے وقت سے ہمیں
03:32ہمیں اپنے کمفر زون سے باہر آنے کی ضرورت ہے
03:35اور آگے بڑھ کر ڈونیشن پیش کرنے کی ضرورت ہے
03:3765 پاؤنڈز میں
03:38یا 85 ڈالرز میں
03:40آپ بڑے جانور میں قربانی کا ایک شیئر پیش کر سکتے ہیں
03:43اس کے علاوہ پورا بڑا جانور
03:44اگر آپ پیش کرتے ہیں
03:45تو 455 پاؤنڈز میں
03:47یا 595 ڈالرز میں
03:49آپ ایک مکمل بڑا جانور
03:51ڈونیٹ کر سکتے ہیں
03:51اس کے علاوہ گوٹی قربانی
03:53اگر آپ کرنا چاہتے ہیں
03:54125 پاؤنڈز میں
03:55یا 165 ڈالرز میں
03:57آپ گوٹی قربانی بھی کر سکتے ہیں
03:59ہماری بینک ٹرانسفر ڈیٹیل بھی
04:00ملائزہ فرمائیے گا
04:01احساس ٹرسٹ
04:03ہمارا اکاؤنٹ نیم ہے
04:04بینک نیم ہے
04:05نیٹ ویسٹ بینک
04:06اکاؤنٹ نمبر ہے
04:0947519010
04:10سوٹ کورڈ ہے
04:13504110
04:13اس کے علاوہ
04:14بزریا چیکس بھی
04:15آپ اپنے ڈونیشنز کو
04:17ارسال کر سکتے ہیں
04:18پیو باکس نمبر
04:196900
04:20احساس ٹرسٹ
04:21کے اس ایڈرس پر
04:22اس کے علاوہ
04:23ناظرین اگرامی
04:24اگر آپ
04:24through off
04:25ویب سائٹ بھی
04:26اپنے ڈونیشنز پیش کرنا چاہتے ہوں
04:28تو
04:28www.احساس ٹرسٹ
04:30dot organization
04:31کے through
04:32بھی
04:32آپ اپنے ڈونیشنز کو
04:33پیش کر سکتے ہیں
04:34اس کے علاوہ
04:34ہماری ڈونیشن ہوت لائن
04:3624-7
04:37open رہتی ہیں
04:38کسی بھی وقت
04:39اپنی سہولت کے مطابق
04:40آپ اپنے ڈونیشنز کو
04:41submit کروا سکتے ہیں
04:43020361
04:4477786
04:45پر
04:45آپ اپنے ڈونیشنز کو
04:47کسی بھی وقت
04:48اپنی سہولت کے
04:49ان مطابق
04:49submit کروایے
04:50اور اس کے علاوہ
04:51ساتھی ساتھ
04:52ہمارے USA سے
04:53دیکھنے والے
04:53ناظرین کے لئے
04:54بھی اٹس کرتا چلوں
04:55احساس فاؤنڈیشن
04:56ہمارا
04:56اکاؤنٹ نیم ہے
04:57اور
04:58چیز بینک میں
04:59ہمارا اکاؤنٹ ہے
05:00اکاؤنٹ نمبر ہے
05:01202-5358-61
05:03اس کے علاوہ
05:04راؤٹنگ نمبر ہے
05:05021-00-0021
05:07Swift نمبر ہے
05:08C-H-A-S-U-S-33
05:09اس کے علاوہ
05:10بزریا چیکس بھی
05:11آپ اپنے ڈونیشن
05:12پیش کر سکتے ہیں
05:13احساس فاؤنڈیشن
05:14پیو باکس نمبر
05:15761 پر
05:16www.ahsasfoundation.organisation
05:19پر بھی
05:20آپ وزیٹ کر سکتے ہیں
05:21اور ڈونیشنز
05:22کو پیش کر سکتے ہیں
05:22ڈونیشن ہاٹ لائن بھی
05:23ملاحظہ فرمائیے گا
05:251855-6177-86
05:28پر آپ اپنے
05:29ڈونیشنز کو
05:29سبمیٹ کروا سکتے ہیں
05:30اس وقت ہمارے ساتھ
05:32مہمانان گرامی کے پینل میں
05:33موجود شکت کا ایک مرتبہ
05:34پھر آپ سے تعرف کرواتا چلوں
05:36ہمارے ساتھ تشریف فرمائے
05:37حضرت علامہ مولانا مفتی
05:39محمد ابوبکر صدیق صاحب
05:40اور ساتھی تشریف فرمائے
05:42جناب سید فہد حسین صاحب
05:45احساس کے نمائندہ خصوصی
05:47اور تیسی نشست پر موجود ہیں
05:49معروف مہتبر صناخہ
05:50انس کریمی صاحب
05:51میں چاہوں گا
05:52سرکار دعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:54کی بارگاہ میں
05:55حدی عقیدت و محبت پیش کرنے
05:57کی سعادت سے بہرہ مند ہوں
05:59جناب انس کریمی صاحب
06:01اور اس کے بعد
06:02ہم سرسلہ کلام کو آگے بڑھائیں گے
06:06اپنی نسبت
06:08س میں
06:09کچھ
06:11نہیں
06:14ہوں
06:17اس کرم کی
06:22بدولت
06:24بڑھا
06:24ہڑھا
06:28ان کے ٹکڑوں سے
06:33اعزاز پا کر
06:42تاجداروں
06:43کی صف میں
06:46کھڑا ہوں
06:52دیکھتا ہوں
06:55جب ان کی
07:00عطائے
07:02بھل جاتا ہوں
07:07اپنی خطائے
07:24بھل جاتا ہوں
07:28اپنی خطائے
07:31بھل جاتا ہوں
07:37اپنی خطائے
08:03سر ندامت سے
08:07اپنی خطائے
08:10اپنی طرف
08:18دیکھتا ہوں
08:26دیکھنے والو
08:29مجھ
08:30مجھے کو
08:31نہ دیکھو
08:37دیکھنا ہے
08:40اگر تو
08:41یہ دیکھو
08:46دیکھنے
08:50بھل جاتا ہوں
09:22اپنی خطائے
09:22اپنی خطائے
09:22اپنی خطائے
09:22اپنی خطائے
09:23میں
09:25کون والی
09:29ہے
09:30کس کا
09:32غدا
09:33ہوں
09:35کس کے
09:37دامن
09:39سے
09:39وابستا
09:42ہوں
09:43میں
09:45کون والی
09:48ہے
09:49کس کا
09:51گدا
09:52ہوں
09:54اس
09:57کرم
09:57کو
09:59مگر
10:01کیا
10:02کہو
10:03گے
10:05میں
10:06نے
10:07مانا
10:08میں
10:10سب سے
10:11برا
10:13ہوں
10:15اس
10:16کرم
10:16کو
10:19مگر
10:20کیا
10:21کہو
10:22کہ
10:23میں
10:25نے
10:26مانا
10:28میں
10:29سب سے
10:31برا
10:32ہوں
10:34میں
10:34نے
10:36مانا
10:37میں
10:38سب سے
10:39برا
10:40ہوں
10:42جو
10:44جو
10:44برو
10:44کو
10:47سمیتے
10:50ہوئے
10:51ہے
10:52ان کے قدموں
10:56میں
10:57میں
10:58بھی
10:59بڑا
11:01ہوں
11:04جو برو
11:06کو
11:08سمیتے
11:09ہوئے
11:11ہیں
11:13ان کے قدموں
11:17میں
11:18میں بھی
11:19پڑا
11:21ہوں
11:22شاہ
11:23آئے
11:24مجھ
11:26نبا
11:27کے
11:28کرم
11:30ہم
11:31نے
11:34لاج
11:35رکھ
11:36لی
11:37میرے
11:40کھوٹے
11:41پن
11:42کی
11:44لاج
11:45رکھ
11:46لی
11:47میرے
11:48کھوٹے
11:50پن
11:51کی
11:54نسبتوں
11:55کا
11:56کرم
11:58ہے
12:01خالد
12:03گھوٹا
12:05ہوتے
12:06ہوئے
12:07بھی
12:08خدا
12:09ہوں
12:13نسبتوں
12:14کا
12:15کرم
12:16ہے
12:17یہ
12:20خالد
12:22کھوٹا ہوتے
12:24ہوئے
12:26بھی
12:27خدا ہوں
12:30ان کے
12:32ٹکڑوں
12:33سے
12:35اعزاز
12:37پا کر
12:43تاجداروں کی
12:46کی
12:46صف میں
12:48کھڑا
12:49ہوں
12:54جب مدینے سے نسیم سہری آوے ہے
12:58جب مدینے سے نسیم سہری آوے ہے
13:03یاد حضرت میں میری آنکھ بھری آوے ہے
13:07یاد حضرت میں میری آنکھ بھری آوے ہے
13:10زخم دل اور کسے جا کے دکھائیں شاہا
13:18سنتے آئے ہیں تمہیں چارہ گری آوے ہے
13:26مسلحت کوش نہیں ان کے فقیروں میں کوئی
13:34جس کو بھی آوے ہے بس بات کھری آوے ہے
13:43جب سے ان چاند سے تلووں کا تصور ہے بندھا
13:47جب سے ان چاند سے تلووں کا تصور ہے بندھا
13:51بھور آوے ہے نہ خوابوں میں پری آوے ہے
13:55جب سے ان چاند سے تلووں کا تصور ہے بندھا
13:59بھور آوے ہیں نہ خوابوں میں پری آوے ہے
14:03یا نبی آپ کی رحمت پہ ہے تکیا میرا
14:06یا نبی آپ کی رحمت پہ ہے تکیا میرا
14:11بےہنر ہوں
14:13مجھے بس بےہنری آوے ہے
14:16بےہنر ہوں
14:17مجھے بس بےہنری آوے ہے
14:20یا نبی آپ کی رحمت
14:22پہتکیا میرا
14:23بےہنر ہوں
14:24مجھے بس بےہنری آوے ہے
14:27جب مدینے سے نسی میں
14:29سہری آوے ہے
14:31یاد حضرت میں میری آنکھ بھری آوے ہے
14:34ناظرین اگرامی قدر
14:35آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں
14:37پروگرام احساس سالت ہوں
14:38اپنے محضبان سید ادنان خالد کے ساتھ
14:40میرے بائیں جانب پشی فرما ہے
14:43ممتاز و محتبر آل مدین
14:45حضرت علامہ مولانا مفتی
14:46محمد ابوبکر صدیق صاحب
14:48مفتی صاحب خدمت خلق کے حوالے سے
14:52ہمیں واضح طور پر
14:54اگر ہم قرآن مجید فرقان حمید سے
14:56رجوع کرتے ہیں
14:57تو سروں وعلانیتن
14:59ہمیں واضح طور پر یہ پیغام ملتا ہے
15:01کہ علانیت طور پر بھی
15:03نیکی کو کیا جا سکتا ہے
15:05لوگوں کی ترغیب کے لیے
15:06اور مخفی طور پر بھی چھپا کر بھی
15:08صدقات اور عطیات پیش کیا جا سکتے ہیں
15:11کیا کہیں گے
15:12جو مخفی طور پر کسی کی خدمت کرنے کا
15:15اس کی مالی ضرورت کو
15:18اس کی مدد کو کر دینا
15:19اس حوالے سے ہمیں کیا حکامات ملتے ہیں
15:22قرآن و حدیث کی روشنی میں کیا ارشاد فرمائیں
15:24بسم اللہ الرحمن الرحیم
15:26دیکھیں
15:27سروں وعلانیت کا جو ذکر آیا
15:29تو علانیت میں تو ایک معاملہ یہ ہو سکتا ہے
15:31کہ کہیں نہ کہیں ریاکاری آجائے
15:33اور جب کسی عمل میں ریاکاری آجاتی ہے
15:35تو عمل ضائع ہو جاتا ہے
15:37یہی بات بار بار ہمیں سمجھائی جاتی ہے
15:39کہ ہر عمل میں اخلاص ہونا چاہیے
15:41للاحیت ہونی چاہیے
15:42رجوع اللہ تعالیٰ کی طرف
15:43رجوع اللہ کی نیت ہونی چاہیے
15:46اور شیطان عمل کو ضائع کرانے کے لیے
15:49ہر وقت پیچھے ہوتا ہے
15:50نفس ہمارے اندر ریاکاری کو ڈالتا ہے
15:54قربانی کا عمل بھی ایسا ہے
15:55کہ جس میں ریاکاری کا انصر بہت زیادہ پائے جاتا ہے
15:57ہم کسی کے دل میں جھانک کر
15:58اس کی نیت تو نہیں دیکھ سکتے ہیں
16:00لیکن بظاہر ایک معاملہ ہے
16:01کہ آپ لاکھوں کا جانور لے کر
16:02آپ تو کڑوڑوں تک بات چلی گئے
16:03یہ لاکھوں تک تو بات رہی نہیں
16:05آپ لاکھوں کا جانور لے کر آئے
16:06پھر آپ نے وہ جانور کو اتارا
16:08اور اتارنے کے بعد
16:09جو ہے وہ لائٹے وغیرہ لگا کر
16:10پورا ایک میلہ لگا دیا
16:11در حقیقت عبادت تھی
16:25ایک عامل کو یہاں پر زندہ رکھنے کے لیے
16:28مسلمانوں پر قربانی کو لازم کیا گیا
16:30ہم نے اس کو بھی فیشن بنا دیا
16:31ہم نے اس کو بھی جو ہے وہ ایگو کا ایک
16:34ایگو کی بیٹل بنا دیا
16:35کہ بھائی ٹھیک ہے میرا ایگو زیادہ ہے
16:36میں زیادہ پیسے والا ہوں
16:37میں اس کو ظاہر کروں گا
16:38آج ہی جو ہے وہ
16:39دیکھیں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو آئی
16:41کہ پورا بینڈ باجے کے ساتھ جو ہے وہ
16:43اور باقاعدہ فائر ورس کے ساتھ
16:45اور وہ جو ہے وہ پٹاخے جلا کر
16:46جو ہے وہ قربانی کے جانوروں کو جو ہے
16:48وہ اتارا جا رہا ہے
16:49اس عجیب طریقے سے
16:50تو بظاہر ہم کسی کی نیت پر تو شک نہیں کرتے
16:52لیکن ایک بات سامنے والے کو دیکھ کر
16:54ظاہری عمل سے نظر آ جاتی ہے
16:56تو ریاکاری جو آئی گی نا
16:57تو وہ اعلانیہ عبادت کے اندر
16:59ریاکاری اس عبادت کے مغز کو ضائع کر دے گی
17:02اور عبادت کا مغز یہ ہے
17:03کہ بندہ اللہ کے قریب ہو جائے
17:05اسی لئے کہا گیا
17:06کہ زیادہ محبوب اور مقبول
17:07جو بار بار ہم کہہ رہے ہیں
17:09کہ عبادت جو ہے وہ مخفی عبادت ہے
17:10اور آپ دیکھیں
17:11قرآن مجید فرقان حمید میں بھی
17:13اس کا حکم آیا
17:14حضور علیہ السلام کی زندگی مبارکہ اٹھا کر دیکھیں
17:17صحابہ کی زندگی مبارکہ اٹھا کر دیکھیں
17:19تو بار بار یہ بات نظر آتی ہے
17:20کہ صحابہ خاموشی کے ساتھ
17:22اتنی مدد کرتے تھے
17:23کہ ہمیں حیرانی ہوتی
17:25جب ہم کتابوں میں پڑھتے
17:25کہ اتنے لوگوں کی مدد
17:27ایک وقت میں کی جاری تھی
17:28جب ان کا انتقال ہوتا
17:29تو پتہ چلتا
17:30کہ بہت سارے لوگ جب نکل کر آتے
17:31کہ کوئی مدد نہیں آرہی
17:32رک گئی مدد
17:33تو پتہ چلتا
17:34کہ اچھا فلا شخص
17:35فلا صحابی
17:36فلا تابعی
17:37فلا بزرگ
17:38ان کا خرچ اٹھا رہے تھے
17:39ان کی کفالت کرتے
17:40ان لوگوں کو بھی نہیں پتا تھا
17:42آپ دیکھیں
17:42سیدنا صدیق اکبر
17:43رضی اللہ تعالی
17:44انہوں کے
17:45کا ایک دن میں
17:46ایک مخصوص وقت
17:47آپ کے دور خلافت کے اندر
17:48جس میں آپ کچھ دیر کے لیے
17:49جو ہے وہ کہیں تشریف لے جاتے
17:50کسی کو پتہ نہیں ہوتا
17:51فاروق عاظم رضی اللہ تعالی
17:53انہوں نے دھونڈنے نکلے
17:53اور آپ نے دیکھا
17:54کہ ہاتھ او بکر صدیق
17:55دن کے خاص وقت میں
17:56ایک گھر میں جاتے
17:57اور کچھ دیر
17:58وہاں اس گھر میں گزارتے
17:59وہاں سے واپس آ جاتے
18:00اب ایک دن آپ نے
18:02خامشی سے جب دیکھا
18:02تو آپ کو یہ پتہ چلا
18:04کہ اس گھر میں
18:05ایک بوڑی عورت رہتی ہے
18:06اور وہ بوڑی عورت
18:07جو ہے وہ نابینہ ہے
18:08ہاتھ او بکر صدیق
18:09خلیفہ وقت ہے
18:11امیر المومنین ہے
18:12اس عورت کے پاس جاتے
18:14اور اس عورت کو
18:15جو ہے وہ کھانا کھلا کے
18:16کھجورے کھلا کر
18:16پانی پلا کر
18:17واپس آ جائے کرتے
18:18اب جب ہاتھ او بکر صدیق
18:19رضی اللہ تعالیٰ انہوں کا
18:20انتقال ہوا
18:21اور فاروق آدم
18:22رضی اللہ تعالیٰ انہوں کے پاس
18:23جب یہ منصب آیا
18:24اور آپ جب
18:25امیر المومنین
18:25اور خلیفہ بنےنا
18:26تو آپ کے ذہن میں
18:27وہ عورت آئی
18:28تو آپ فوراً
18:28اس کے گھر پر گئے
18:29اور آپ نے
18:30اس کو وہ کھجور کھلائی
18:31اپنے ہاتھ سے
18:31تو اس عورت نے کہا
18:32کہ وہ جو پہلے بندہ آتا تھا
18:34کیا اس کا انتقال ہو گیا
18:35وہ نابینہ عورت ہے
18:37تو حتی عمر نے کہا
18:38آپ کو کیسے پلا چلا
18:39یہ آپ کیسے کہہ رہی ہیں
18:41تو انہوں نے کہا
18:42جب وہ شخص آ کر
18:43مجھے خجور کھلاتا تھا
18:44تو مجھے ڈائریک خجور نہیں کھلاتا
18:45بلکہ پہلے وہ
18:46اپنے موں میں
18:47اس خجور کو رکھ کر
18:48نرم کر کے
18:48کیونکہ میرے دات
18:50اس قابل نہیں کہ
18:50خجور کو چوا سکو
18:52خجور سخت بھی ہوتی ہے
18:53تو وہ اس کو نرم کر کے
18:54میرے موں میں ڈالتا
18:54آج جب خجور ویسی ہی
18:56سخت میرے موں میں آئی
18:57مجھے سمجھ آ گیا
18:58کہ اس شخص کا انتقال ہو گیا ہے
18:59اس وقت ہاتھ عمر نے
19:00یہ الفاظ کہے تھے
19:02کہ اے ابو بکر
19:02آپ اتنی بڑی ذمہ داری
19:04اور اتنی بھاری ذمہ داری
19:05اور اتنا بڑا ہمارے لیے
19:06ایک انسپریشن چھوڑ کے گئے
19:08کہ ہم آپ کے شوس کو
19:09فل نہیں کر سکتے
19:10میں اپنے الفاظ میں سمجھا رہا ہوں
19:11خود فاروق اعظم
19:12رضی اللہ تعالیٰ عنہ
19:12کے عادتیں مبارک کے کیا ہوتی
19:14امیر المومنین ہے
19:15بتیس لاکھ مربع میل زمین
19:18تھرٹی ٹو لاکھ
19:19مربع میل زمین پر
19:21آپ حاکم ہے
19:22فارس اور
19:23کیسر اکسرہ کی
19:24سلطنت کو آپ
19:26ختم کر چکے ہیں
19:27اسلام آدھی سے زیادہ
19:29دنیا پر پھیل چکا ہے
19:30آج ہم میپ چپ اٹھا کے دیکھیں
19:31فاروق اعظم کہاں کہاں
19:32تک اسلام کو لے گئے
19:33تو انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے
19:34ایک اکیرے بندے نے
19:35اتنا بڑا کام کیا
19:36لیکن عادت مبرکہ کیا تھی
19:38رات میں آخری پہر میں نکلتے
19:39اور دیکھتے کسی کے گھر سے
19:41رونے کی آواز تو نہیں آ رہی
19:42کسی کے گھر سے ایسا تو نہیں
19:43کہ کسی نے کھایا نہیں
19:44اور وہاں پر کوئی ایسی بات
19:45مجھے پتہ چل جائے
19:46اور جب پتہ چلتا
19:47کہ کسی کے گھر سے رونے کی
19:48جیسے ایک واقعہ آتے
19:49کہ ایک گھر سے رونے کی آواز آ رہی تھی
19:50اور وہ جو ہے وہ وہاں
19:52ان کو پتہ چلا
19:52کہ ان لوگوں نے
19:53کئی دنوں سے کچھ کھایا نہیں
19:54خود جو ہے وہ راشن
19:55ان کے گھر میں پہنچایا
19:56ان کی ذمہ داری باندھی
19:58آپ فاروق عاظم رضی اللہ تعالی
20:00انہوں کا عمال مبارک دیکھیں
20:01ہر مہینے کے سٹارٹ میں
20:03وہ خواتین
20:04جن کے شوہر جنگوں میں شہید ہو گئے تھے
20:07یعنی وہ مجاہدین کی جو بیوہ
20:09جو بیوہ تھی
20:10ان کے گھروں میں جاتے
20:11گھر کے دروازے کے باہر بیٹھتے
20:13گھر کے اندر نہیں جاتے
20:14گھر کے دروازے کے باہر بیٹھتے
20:16اور پردے میں رہ کر
20:18ان سے سوال کرتے
20:18کہ یہ بتائیں
20:19آپ کو اس مہینے کون سے راشن کی حاجت ہے
20:22امیر المومنین ہے
20:23کام غلام بھی کر سکتے
20:24خدمت گزار بھی کر سکتے
20:26لیکن خود جاتے
20:27باقاعدہ ایک ایک بیوہ عورت کی
20:28راشن کی لس بناتے
20:29سامان جا کر مارکٹ سے خریدتے
20:31کتابوں میں یہاں تک ملتا ہے
20:33مارکٹ سے جب خریدتے ہیں
20:34تو موہ موہ بڑھ بڑھاتے
20:35اور یہ جملہ کہتے
20:36کہ میں لینے آیا ہوں
20:37تو یہ دکاندار جو ہے
20:38وہ مجھے
20:39صحیح مناسب پیسوں میں دے رہا ہے
20:41اگر وہ عورت خود آتی
20:42تو شاید اس سے زیادہ پیسے لیتا
20:43اور پھر وہ سامان کی بوریاں بنواتے
20:46اپنے کندھوں پر اٹھا کر
20:47ایک ایک کے گھر پر خود چھوڑ کر آتے
20:50یہ آپ دیکھیں
20:51یہ عمل مبارک ہمیں نظر آتا ہے
20:52آج ہی میں نے ایک عمل مبارک
20:54امام سیدنا امام زین العابدین
20:57جو سرخیل اہل بیت
20:58آپ سردار اہل بیت
21:01امام خسین
21:02رضی اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں
21:03امام زین العابدین
21:06آپ کے بارے میں آتا ہے
21:08آپ کا لقب مبارک سید سجاد تھا
21:10یعنی بہت زیادہ ساجد
21:12عبادت گزار
21:13اور بہت زیادہ عبادت
21:15کو مزین کرنے والے
21:16آپ کے بارے میں آتا ہے
21:17کہ جب آپ کا وسال مبارک ہوا
21:18اور جب آپ کو گسل دینے کا وقت آیا
21:20تو لوگوں نے دیکھا
21:21کہ آپ کی پیٹ مبارک پر
21:22سخت نشانات ہیں
21:24تو پتا چلا کہ
21:26یہ نشان کیسا ہے
21:26کسی کو نہیں پتا
21:27یہ نشان کہاں سے آئے
21:28جب بعد میں دیکھا گیا
21:29تو پتا چلا
21:30آپ خود
21:31اپنے کندوں پر
21:32بوریاں اٹھا کر
21:33سو گھروں میں
21:34جن کے وہاں پر
21:35مرد کا
21:36سربراہ کا انتقال ہو چکا تھا
21:37جو بیوہ عورتیں تھیں
21:39یتیم بچے تھے
21:39ان کے گھروں پر
21:40خود اپنی پیٹ مبارک پر
21:42سردار اہل بیت ہیں
21:44اپنی پیٹ مبارک پر
21:45آپ بوریاں اٹھا کر
21:46ان کے گھروں تک
21:47پہنچایا کرتے تھے
21:48یہ وہ لوگ ہیں
21:49کہ ان کے پاس
21:50مال کی کمی نہیں تھی
21:51یہ وہ لوگ ہیں
21:52کہ جن کو جنت
21:53جو ہے وہ ہمیں
21:54اللہ کی رحمت سے امید ہے
21:55کہ جنت ان کے صدقے
21:56ہمیں بھی دے گی
21:57یہ وہ لوگ ہیں
21:58جن کا ذکر کرنے سے
21:59اللہ ہمیں بخش دے گا
22:00آپ دیکھیں
22:01ان کا عمل مبارک کیا تھا
22:02کہ خاموشی سے
22:03اللہ تعالیٰ کی
22:05جو مخلوق ہے
22:07اس کی خدمت کرنی ہے
22:08حضور علیہ السلام کی
22:09دکھیاری امت کی
22:10خدمت کرنی ہے
22:11اور یہ بات
22:12میں بہت وصوق سے کہتا ہوں
22:14قرآن و حدیث کی
22:14روشنی میں کہتا ہوں
22:15سرکار علیہ السلام
22:16اس عمل سے
22:18بہت زیادہ خوش ہوتے ہیں
22:19کہ حضور علیہ السلام
22:20کی امت کی
22:22مشکلات کو
22:23کم کیا جائے
22:24ان کے لئے
22:25آسانی کی جائے
22:26میں اور آپ
22:27قربانی کا حصہ جمع کرائیں
22:28سب سے پہلی بات تو یہ
22:29کہ ہم نے اچھنوائی
22:30قربانی حصہ جمع کرائے
22:31تو ریاقاری سے
22:31ہماری عبادت محفوظ ہو گئی
22:32کسی کو پتا ہی نہیں
22:33جس کے گھر میں جا رہا ہے
22:35ہمارا حصہ
22:36اس کو بھی نہیں پتا
22:37ریاقاری سے تو
22:38ہم بچ گئے
22:38یعنی خالصتا
22:39عبادت اللہ کیلئے ہوئی
22:40اللہ کی رضا کیلئے ہوئی
22:42ثواب تو پکا ہو گیا
22:43ثواب پکا ہونے کے بعد
22:45وہ جب
22:45کسی خاندان کے گھر
22:46کسی خاندان کو
22:48وہ گوش پہنچے گا
22:49جب وہ اس کو پکا کر کھائیں گے
22:50وہ جب دعا کریں گے
22:51اور پھر
22:52حضور علیہ السلام کی
22:54امت کے جب ہم خدمت کریں گے
22:55تو سرکار علیہ السلام
22:56یقینا
22:57مکینِ گمبدِ خضرہ
22:59آپ اس عمل سے
22:59ضرور خوش ہوں گے
23:00اور یہ میں
23:01تلقین دلاتا ہوں
23:03بار بار
23:03کہ آپ اپنا جانبر بھی لے کر آئیں
23:05لیکن ایک نہ ہے قصہ
23:06دو حصے
23:07یہ ضرور
23:08اچھنوائی قربانی میں بھی دیں
23:09تاکہ جو ہے
23:10وہ کچھ ایسی قربانی
23:11ہماری ان لوگوں تک بھی پہنچے
23:13کہ جن کو
23:13ہمارے بارے میں کچھ نہ پتا ہو
23:15ہمیں ان کے بارے میں کچھ نہ پتا ہو
23:16اور پھر ہم دیکھیں
23:17کہ اس عمل کی
23:18اور اس عبادت کی
23:20اور جو عبادت کی اصل روح ہے نا
23:22کہ اللہ کو راضی کرنا
23:23اس کی چاشنی اور مٹھاس کیسی ہوتی ہے
23:25بالکل ایسا ہے
23:25اور ناظرین اگرام
23:26یہ قدر کیا ہی اچھا ہو
23:28کہ جہاں آپ
23:29اپنے نام سے
23:30اپنے پیاروں کے نام سے
23:31اس فریضے کی ادائیگی کرنے جا رہے ہیں
23:33وہی سرکارت و عالم
23:35نبی مجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
23:37کے نام سے بھی
23:38آپ قربانی
23:39اس فریضے کی ادائیگی کریں
23:41اور کیا ہی اچھا ہو
23:42کہ آپ احساس کو
23:44ڈونیشن پیش کرتے ہوئے
23:46اپنی جانب سے
23:47حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
23:50کے نام سے
23:50قربانی کا احتمام کریں
23:52جہاں قربانی کا احتمام
23:54کا عجر
23:55اللہ رب العالمین
23:56آپ کو عطا فرمائے گا
23:57وہیں
23:58اس کا جو گوشت ہے
23:59وہ مکمل طور پر وقف ہے
24:01ان لوگوں کے لیے
24:02کہ جو مستحقین ہے
24:03آپ کی ٹیلویجن سکرین پر
24:04آپ احساس
24:05کٹل فارم کے مناظر بھی دیکھ رہے ہیں
24:07ما شاء اللہ
24:07کس طریقے کے ساتھ
24:08گوشت کی
24:09جو ترسیل کا مرحلہ ہے
24:11اسے یقینی بنایا جاتا ہے
24:12ہمارے کارکنان
24:13ہمارے والنٹیئرز
24:14حضرات
24:14وہاں اندرگراؤن
24:15موجود ہوتے ہیں
24:16علماء اکرام کی
24:17سربراہی میں
24:18ان کی موجودگی میں
24:19قربانی کے
24:20اس فریضے کی
24:21انجام دے کی جاتی ہے
24:22ان کی رہنمائی میں
24:23مکمل طور پر
24:24اس فریضے کو
24:26بروے کار لائے جاتا ہے
24:27اور جو شخص
24:28اپنی جانب سے
24:29قربانی پیش کر رہا ہے
24:30اس کا نام لے کر
24:31قربانی کی جاتی ہے
24:33اور ناظرین اکرامی
24:34یہ ایک بہت بڑا
24:36خدمت کا مرحلہ ہے
24:37کہ جسے پائے تکمیل
24:44اور اس خواب کو
24:45شرمندہ تعبیر
24:47یقیناً آپ ہی کے
24:48ڈونیشنز کے ذریعے سے
24:49کیا جا سکتا ہے
24:50تو ضرور
24:51ایک کلک پر
24:52آپ اپنے ڈونیشنز
24:53کو اس وقت پیش کر سکتے ہیں
24:54جہاں کئی بھی
24:55آپ دنیا کے
24:55کسی بھی خطے اور گوشے میں
24:56موجود ہیں
24:57اور احساس کی
24:58اس نشریات کو
24:59ملحظہ کر رہے ہیں
25:00آپ سے درخواست کروں گا
25:01کہ بڑھ چڑھ کر
25:02اپنے پاکستانی
25:03مسلمان بہن بھائیوں
25:05کے لیے
25:05جو کہ وقت کی
25:06اہم ضرورت ہے
25:07اپنے ڈونیشنز
25:09کو پیش کیجئے
25:09اور اجتماعی
25:10قربانی کے ذریعے
25:11ان کے آنگن میں
25:12خوشیوں کا سامان
25:14پیدا کرنے کی
25:15کوشش کیجئے
25:15میرے ساتھ تشریف فرمائے
25:16احساس کے نمائندہ
25:18خصوصی جناب سید
25:19فہد حسین صاحب
25:20فہد بھی جس طرح
25:21علامہ صاحب نے بھی
25:22معاشرتی برائیوں
25:23کا ذکر کیا
25:24اس کے نمود و نمائش
25:26اور ہمارے
25:27ریاکاری کا فیکٹر
25:28جو ہے وہ
25:29عمومی طور پر
25:30دیکھنے کو ملتا ہے
25:30اور ہم یہ بھی
25:32دیکھتے ہیں
25:33کہ اگر کوئی شخص
25:34جانور لے کر آتا ہے
25:36تو پھر یوں کہیے
25:37کہ اس کے اطراف میں
25:38جو لوگ ہیں
25:38ان کا جو پہلا کام
25:41ہوتا ہے وہ یہی ہوتا ہے
25:42کہ یہ
25:42کتنے کا لے آئے
25:44اس سے قیمت معلوم
25:45کرنا بہت ضروری
25:45تاکہ ہمیں
25:46اس کی مارکٹ ویلیو
25:47کا اندازہ ہو
25:48تاکہ ہم اس پر
25:49کوئی تفسرہ کر سکیں
25:50کیا ضرورت ہے
25:51کہ ہم کسی سے
25:53یہ پوچھیں
25:53کہ آپ نے
25:54جانور کی
25:55جو ادائیگی کی ہے
25:56اس رقم
25:57کے حوالے سے
25:58ہمیں بتائیے
25:58کیا ضرورت ہے
25:59ہمیں ان چیزوں کو
26:00معلوم کرنا
26:01اور اس کے
26:02یوں کہہ لیجئے
26:03کہ تجسس میں رہنا
26:05قربانی
26:05اللہ کے لیے ہے
26:06اور اللہ تبارک و تعالی
26:08اس کا عذر عطا فرمانے
26:09پر قادر ہے
26:10اپنے بندے کو
26:11کیا ارشاد فرمائیں گے
26:12کہ یہ جو
26:13طریقہ کار ہے
26:14اس طریقے کے ساتھ
26:16قربانی کرنا
26:17اور پھر
26:18جہاں ہم بات کر رہے ہیں
26:20بالخصوص خدمت
26:20خلق کے حوالے سے
26:22تو احساس
26:23الحمدللہ
26:23اس ریاقاری سے
26:24ہمیں بہت بچتا ہوا
26:25دکھائی دیتا ہے
26:26اور مکمل
26:27خالصتاً
26:28جو ایک خدمت کا
26:29احتمام ہے
26:30احساس کے
26:30کٹل فارم میں کیا جاتا ہے
26:31جانوروں کے حوالے سے
26:32اور پورے سال
26:34الحمدللہ
26:41آپ کو پتا ہے
26:41جو حالات ہیں
26:42اس وقت
26:43اگر کوئی
26:44قربانی کر رہا ہے
26:44تو یہ بھی بہت بڑی بات ہے
26:46بہت بڑی بات
26:46دور کے اندر
26:47تو یہ اخلاقن
26:49اور شرعی بھی
26:49جائز نہیں
26:50آپ کسی کی
26:51مالی حیثیت کا
26:52اندازہ لگائیں
26:52وہ کتنے کا لائے
26:53کیا لائے
26:53بس یہ دعا کریں
26:55کہ اللہ اس کی قربانی
26:56قبول کرے
26:57آپ کے حق میں
26:58اور ہو سکتا ہے
26:59کہ اللہ آپ کو بھی
27:00ایک دن ایسا دے
27:00کہ آپ بھی قربانی میں
27:07بلکل دیکھیں
27:08جو حالات ہیں
27:09وہ کسی سے
27:10ڈھکے چھپے نہیں
27:11کون کس طریقے سے
27:12سروائیف کر رہا ہے
27:13اپنے گھر کو
27:14کس طریقے سے
27:15مینڈین کر رہا ہے
27:15کس طریقے سے
27:16چلا رہا ہے
27:17یہ وہی شخص
27:17جانتا ہے
27:18گھر کا سربراہ
27:19ہی جانتا ہے
27:19اور یہ ہم سب جانتے ہیں
27:21ہم سب بھی
27:21اپنے گھر کو
27:22کسی نہ کسی طریقے سے
27:23چلا رہا ہے
27:24تو یہ جو وقت ہے
27:25اس میں بس کوشش کیا
27:26کیجئے
27:37سب سے اچھا یہی ہوگا
27:39کہ اگلے کی بھی
27:39دلجوئی ہوتی ہے
27:40اس کا بھی
27:41حوصلہ بڑھتا ہے
27:42اس کو بھی
27:42پھر یہ بات کی
27:43خوشی ہوتی ہے
27:44کہ جو میرا
27:44روسی ہے
27:45کبھی ہم اس میں
27:46دار رس ہی کری
27:47تاریخ کے دو
27:48کلمات ہی کہیں
27:48لیکن جہاں تک
27:49ہم احساس کی جانب سے
27:51قربانی کی حوالے سے
27:51بات کرتے ہیں
27:52تو یہ عرصہ دراز سے
27:54سلسلہ جاری رہتا ہے
27:55اور جانواروں کی
27:56پرچیزنگ سے
27:57فوراں عید کے بعد
27:57سے ہی شروع کر دی جاتی
27:59کیونکہ پتہ ہے
27:59آپ کو رمضان کے بعد
28:00کی عید ہوتی ہے
28:01عید الفطر
28:02اور قربانی کے دنوں میں
28:03بہت دو مہینے
28:05دس دن کا
28:05تقریباً
28:06کموبیش
28:06تائم ہوتا ہے
28:08اور اس
28:09تائم کا دورہ
28:10ہمیں پرچیزنگ
28:10کرنا پڑتی ہے
28:11مارکٹ کا سروے
28:12بھی کرنا پڑتا
28:13کیونکہ آپ کو پتہ
28:14یہاں پہ دن با دن
28:15قیمتیں بڑھتی رہتی ہیں
28:16پھر ایک
28:27ہوتے ہیں
28:27ان ساری چیزیں
28:28اس پر شمار ہوتی ہیں
28:29کوشی یہی کی جاتی ہے
28:30کہ جو
28:31مہنگائی کو
28:32مدد نظر رکھتے ہوئے
28:33کم سے کم
28:34اس کی پرائز رکھی جائے
28:35تاکہ وہ لوگ
28:36زیادہ زیادہ زیادہ
28:37قربانی حصہ لے ساکے
28:38میرے سے ایک
28:38اناؤنسمنٹ
28:39موصول ہوئی ہے
28:40ہمارے کنٹرول روم سے
28:41میں چاہوں گا
28:41وہ میں اناؤنس کروں
28:42تاکہ مزید
28:43اس کو بڑھا سکے
28:44ہم لوگ
28:45ہماری ایک بہن ہے
28:45میسیس بلکیز
28:47بیگم
28:47اور ان کا تعلق ہے
28:49ان کا یوگے سے
28:49ان کا تعلق ہے
28:50ان بہن کا ہماری
28:51انہوں نے
28:52ایک سو پچھس پاؤنڈ
28:53کا ڈونیشن
28:54ماشاء اللہ
28:55ایک گوڑ پاکستان میں
28:56اتان بھئی
28:57ابھی ہم بات کر رہے تھے
28:59قربانی کے حوالے سے
29:00پاکستان میں
29:00بہت بہت شکریہ
29:01میری بہن بلکیز
29:02بی بھی آپ کا
29:03آپ ہی لوگوں کی ویسے
29:04آپ جیسے لوگوں کی ویسے
29:15آپ کا ڈونیشن
29:15مفصول ہوتا ہے
29:16تو ہمیں اتمنان ہوتا ہے
29:17کہ وہ لوگ
29:18جو منتظر ہیں
29:19حقیقت ان کی چیزوں
29:20کو ہم پورا کرنے کی
29:21کوشش کر سکتے ہیں
29:22ایک سٹائب اور
29:23مزید اٹھا سکتے ہیں
29:24اس کے اندر
29:24بہت شکریہ
29:25میری بہن ہے
29:26آپ کا ایک بار پھر
29:27کوشش کیجئے
29:28یا تلقین کیجئے
29:29اپنے اردگیت
29:30اپنے سراؤنڈنگ میں
29:31آپ کے جو لوگ ہیں
29:32آپ کے وطن سے جوڑے
29:33جو لوگ ہیں
29:45ان کی گھر کی
29:46دہلی سر پہنچا سکے
29:47ایک بار بہت
29:48شکریہ آپ کو
29:49دوبارہ سے
29:49میں چاہوں گا
29:50کہ وہ جو
29:51مرائل تیہ کرتے ہیں
29:52ہم لوگ
29:52قربانی کے حوالے سے
29:53وہ آپ سے
29:53دسکت کر سکیں
29:54یہ جو ٹائم ہوتا ہے
29:56دو مہین نکہ
29:56اس میں پرچیزنگ بھی ہوتی ہے
29:57پھر وہاں پہ
29:58ان کو منتقل بھی کیا جاتا ہے
30:00پھر ایک ٹیم ہوتی ہے
30:01کاریکٹر بھی
30:01جو آپ کو
30:02امکسر آپ کو
30:03گائے بگائے
30:03بتاتے رہتے ہیں
30:04ریپیٹ کرتے رہتے ہیں
30:05چیزوں کا
30:06دیکھیں
30:07یہاں پہ
30:07قربانی کا مقصد یہ ہوتا ہے
30:09کہ آپ لوگ کی
30:09قربانی آسان ہو سکے
30:10اور آپ لوگ کے
30:12وسیلے سے
30:12آپ کے دوازل سے
30:13جو لوگ
30:14مشکلات میں ہیں
30:15جو پریشانی میں ہیں
30:16جو قربانی
30:17افورڈ نہیں کر سکتے
30:18ان کے گھروں میں
30:19ان کی دہلیس تک
30:20یہ قربانی کا
30:20گوشت پہنچ چکے
30:21جو حقیقت میں
30:23مستحق ہے
30:24ان حالات کے اندر
30:25اس سے پہلے بھی
30:26جو حالات ہیں
30:27ان میں بھی وہ لوگ
30:28سروائیب نہیں کر پا رہے تھے
30:29ایک سال پہلے
30:30کہ میں آپ کو بات کروں
30:31جو کہ اتنا
30:31میرے حال میں
30:32دیکھنے میں
30:33بہت تیری سے
30:34گزر جاتا ہے
30:35لیکن جو
30:36مشکل میں ہیں
30:36اس کے لئے
30:37کتنا مشکل ہوتا ہے
30:38وہ وقت
30:39وہی بہتر جان سکتا ہے
30:40گھر کا سروائیب
30:41مشکل جان سکتا ہے
30:41تو آپ لوگ کی
30:43قربانی جو
30:44ادہ ہوتی ہے
30:44پاکستان میں
30:46پاکستان کے پورے
30:46جتنے بھی شہر ہے
30:48وہاں پہ
30:48ان لوگوں تک
30:49پہنچنا
30:50ہمارا جو مقصد ہوتا ہے
30:51وہی ہوتا ہے
30:52کہ ان کے گھروں میں
30:53جو مشکلات ہیں
30:54کم سے کم
30:55گوش کی جانب سے
30:56جو خوراک ہے
30:57جو راشن کا معاملہ ہوتا ہے
30:58اس میں کم سے کم
30:59ان کے لئے
31:00ایک مہینے کے لئے
31:01صحیح
31:01کچھ دنوں کے لئے
31:02صحیح
31:02آسانی پیدا کی جا سکے
31:03کہ وہ سریحن
31:04اور حقیقتن میں
31:14گوش کی فرامی
31:15موجود ہوگی
31:17آپ اندازہ
31:17لگا سکتے ہیں
31:18کہ اللہ نہ کرے
31:19میں کہتا ہوں
31:20ادان بے
31:20اکثر کے یہ وقت
31:21کبھی ہم میں سے آئے
31:22کہ گھر کا سربراہ
31:23کسی کے آگے ہاتھ پھیلائے
31:24کسی کے آگے دردے
31:25سوال کرے
31:26اور روئے
31:27مرد کا رونا
31:28سب سے مشکل کام ہوتا ہے
31:30اور وہ
31:31بالکل سمجھے
31:31اینڈ کا ٹائم ہوتا ہے
31:32اگر وہ
31:33آپ کے سامنے
31:34ایک فقط راشن کے لئے
31:36اپنے گوش کی
31:37تھیلے کے لئے
31:37اگر روئے
31:38یا گریہ کرے
31:39آپ سوچ سکتے ہیں
31:41اندازہ لگا سکتے ہیں
31:42وہ کس
31:42اس تیج پہ پہنچ چکا ہے
31:44اور یہ جو بیچارے
31:45لائن لگا کر
31:47ہماری جو
31:47گوش کی تھیلی ہے
31:49اس سے
31:49حسون کرنے کے لئے
31:50بھی آتے ہیں
31:51یقیناً یہ بھی
31:51کس دل سے آتے ہیں
31:52یقیناً
31:53سفید پوشی کا
31:54بھرم ہر شخص
31:55چاہتا ہے
31:56کہ قائم رہے
31:57دیکھیں
31:58ہوتا ہے یہ
31:59کہ کون چاہتا ہے
32:00لائن میں لگے لینا
32:01کون کسی کے آگے
32:02دستے سوال کرنا چاہتا ہے
32:04لیکن حالات یہ
32:05بچے جو ہیں
32:05گھر میں آپ کی جو
32:06فیملی ہیں
32:07آپ کے والدین ہیں
32:08کہ جو آپ کے
32:10ڈیپینڈ کرتے ہیں
32:11آپ کے اوپر
32:12ڈیپینڈٹ ہوتے ہیں
32:12ان کی چیزوں کو
32:14پورا کرنا
32:14جب آپ نہیں کر پاتے
32:16تو لا محالہ
32:17پھر آپ کو
32:18دستے سوال کرنا پڑتا ہے
32:19مجھ کو
32:20تھکنے نہیں دیتا ہے
32:21ضرورت کا پہاڑ
32:22میرے بچے
32:23مجھے بوڑا نہیں
32:24ہونے دیتے
32:25دیکھیں یہ
32:26وہ ساری چیزیں ہیں
32:28جو ہم تو
32:28گراؤنڈ پہ دیکھتے ہیں
32:29اندان بھئی
32:30پریکٹیکلی دیکھ کے آتا ہے
32:31اندان بھئی
32:31ہمارے ساتھ ہوتا ہے
32:32یہ وہ
32:32واقعہ سے بھی
32:33آپ سے شیئر کرتے ہیں
32:34جو ہم لوگ
32:35گئے تھے
32:36جنہوں نے کبھی
32:37لائٹیں نہیں دیکھی
32:38تھی
32:38جو لائٹنگ کا
32:39نظام کس طریقے سے
32:40ہوتا ہے
32:40یہ آپ کو
32:41اس دوہزار سبیس کی
32:42بات میں بتا رہا ہوں
32:43کوئی پرانی بات
32:44نہیں بتا رہا ہوں
32:44ایک صاحب ہمارے پاس آیا
32:45انہوں نے آکر کہا
32:46کہ یہاں پر کبھی
32:47ہم نے
32:47این ای جسی روشنی
32:49نہیں دیکھی
32:49کتنی روشنی
32:50یہ کتنی
32:51حیرت انگیز بات ہے
32:52کہ ایک
32:53ایک
32:55روشنی
32:55دکھانا
32:56کوئی بڑی بات نہیں ہے
32:57لیکن آپ سکوچھیں
32:58کیا ان کے گھروں میں
32:59یہ لگزری جو گوشت ہے
33:10ہم ان لوگوں کی
33:11آپ سے بات کرتے ہیں
33:12ان لوگوں کے
33:13آپ سے سوال کرتے ہیں
33:14کہ یہ وہ لوگ ہیں
33:15حقیقت میں
33:15وہ مصحق لوگ ہیں
33:16وہ نادار
33:17وہ مفلق طبقہ ہے
33:19کہ جن کو
33:20ضرورت ہے
33:20آپ لوگ کے
33:21ڈونیشن کی
33:22قربانی کے گوشت کی
33:23تاکہ ان کی
33:24زندگیوں میں
33:25تو مشکلات ہیں
33:25جو مشکلات ہیں
33:26بے شک وہ
33:27اللہ تعالی کی ذات ہے
33:28جو ہم سب کی
33:29ان کی مشکلات
33:30کو حتم کر سکتے ہیں
33:30ہم کوشش کر سکتے ہیں
33:32جو بھی
33:32اپنے طور پر
33:33بند پاتا ہے
33:33اساس کی ٹیم سے
33:34چاہے وہ
33:35راشن پیک کی صورت میں
33:36ہو
33:36ہینڈ بپ کی
33:36سولیشن ہو
33:37مسجد کی تعمیر ہو
33:38یا میڈیکل کیمس ہو
33:39ڈائیلیسیس ہو
33:40کسی مائی شاہدی ہو
33:41یا جتنے بھی
33:42چھبے سے جائٹ
33:43اساس کے پروڈیکٹ ہیں
33:44جو آپ لوگوں کی
33:45ویسے
33:45رن رہتے ہیں
33:46جو آپ کی ویسے
33:47کمپلیٹ ہوتے ہیں
33:48جو آپ کی ویسے
33:49ایکزیکیوٹ ہو پاتے ہیں
33:50اور آپ لوگوں کی
33:50ویسے
33:51انہوں کے گھروں میں
33:52کشیاں آپ آتی ہیں
33:53انہوں کے گھروں میں
33:54آسانی آپ آ سکتی ہیں
33:55اور آتی آئی ہیں
33:56اب یہ سوچئے
33:57اس مشکل حالات میں
33:58اگر آپ کسی کے لیے
33:59آسانی پیدا کرتے ہیں
34:00تو اس کا ثواب
34:02کتنا ملتا ہوگا
34:03آپ لوگوں
34:03اس مشکل وقت میں
34:04جبکہ آپ کو جانتا ہے
34:06کہ ہر دوسرے چک پریشان ہے
34:07پاکستان
34:08اور پاکستان سے بھار لوگوں
34:09سب محنت سے کماتے ہیں
34:11آپ لوگ بھی
34:11اتنی محنت کرتے ہیں
34:12یہاں پہ لوگ کرتے ہیں
34:13بات کرنسی ایکشنگز
34:15کا جو فرق ہوتا ہے
34:16وہ ایک بینیفٹ ہوتا ہے
34:17ان ڈونر ہزارت کے لیے
34:18کہ وہاں کا جو
34:19تھوڑا ہوتا یہاں پہ
34:20بہت بن جاتا ہے پاکستان میں
34:21تو آپ کا تھوڑا جو ہے
34:22بہت سے گھروں میں
34:23ہشیاں باٹنے کا باعث
34:25بنتا ہے
34:25راشن پیک کی صورت میں
34:27یا دوسرے جو بھی
34:28سب بھی سرائے پروڈیکٹ ہیں
34:29اس صورت کے اندر
34:30پھل وقت
34:31جو ابھی وقت کی
34:32اثر ضرورت ہے وہ یہ ہے
34:34کہ زیادہ سے زیادہ
34:35آپ لوگوں کی
34:36خربانی کے جو
34:37جانور ہیں وہ
34:37احساس کو محصول ہوتے ہیں
34:39تقریباً ایک ہزار کا
34:40ٹارگٹ سیٹ کی ہے
34:41ہم نے بڑے جانوروں کا
34:42اور تقریباً آٹھ سو ہیں
34:44بگروں کا ٹارگٹ سیٹ کی ہے
34:45دیکھیں ٹارگٹ سیٹ
34:46کرنے کا مقصد ہی ہوتا ہے
34:47جو پیچھے لوگ ہیں
34:48جو عوام ہیں
34:49جو انتظار میں بیٹھی ہے
34:50لوگوں کو شاید لگتا ہو
34:51کہ ایک ہزار جانور
34:52بہت ہوتے ہیں
34:53لیکن جو
34:54اب میں آپ کو اگر
34:55وہ لوگ دکھاؤں نا
34:55جو منتظر ہیں
34:56ان کی تعداد کے آگے
34:58یہ ایک ہزار جانور
34:59محض کچھ بھی نہیں
35:00مائنے رکھتے ہیں
35:01افرادی قوت بہت بہت
35:02بہت زیادہ ہو گئی ہے
35:03مہنگائی کی ویسے
35:04لوگ افورڈ نہیں کر پاتے
35:05ایک فیملی سے
35:06سو فیملیاں جڑ جاتی ہیں
35:07آپے
35:07جیسے سے لوگ کو پتہ چلتا
35:09اور یہ
35:09میرے حال میں وہ حقیقت ہے
35:10جس سے آپ بالکل
35:11باخبر رہتے ہیں
35:12آپ کو زیادہ
35:13بخوبی اندازہ
35:14ان علاقوں کا
35:14کوشش کیجئے
35:15کم وقت ہے
35:17لوگوں کی تعداد بہت ہے
35:18جتنا ہو سکے
35:20اپنے معلومت سے
35:21جو بھی اللہ نے آپ کو دیئے
35:22اپنی محنت کی کمائی میں
35:23سوار یہ خوش نصیبی ہوتی ہے
35:24ہم لوگوں کی
35:25اور آپ لوگوں کی بھی
35:26کہ اللہ نے آپ کو
35:27توفیق دیئے
35:28یہ دل دیئے
35:29کہ اپنے دل میں
35:30ان لوگوں کی
35:40تاکہ وہ لوگ
35:41جو منتظر ہیں
35:42آپ کے
35:42ڈونیشن کے
35:43آپ کے مدد کے
35:44ان کی امیدوں پر
35:45پورا اتر جا سکتے ہیں
35:47اور ناظرین اگرامی
35:48یہ قدر ہم
35:48جن شہری آبادیوں میں
35:49رہتے ہیں
35:50اور آپ جن
35:51ممالک میں موجود ہیں
35:52ذرا چشم تصور سے
35:53سوچئے کہ
35:54اگر ہم کسی ایسے
35:55دہی علاقے میں رہتے ہیں
35:56کہ جہاں پر
35:57پینے کے لیے
35:58صاف پانی موجود نہیں ہے
35:59جہاں پر نماز کی
36:01ادائیگی کرنی ہو
36:01تو مسجد موجود نہیں ہے
36:03جہاں پر اگر
36:04کوئی چیز
36:05ضرورت کی
36:05گھر میں لانی ہو
36:06تو کوئی ایسی
36:07لیٹیلیٹی سٹورز
36:08موجود نہیں ہے
36:09کوئی شاپس
36:09موجود نہیں ہے
36:10اور زندگی کی
36:11جو بنیادی ضروریات
36:13میں سے ایک بہت
36:13اہم ضرورت ہے
36:14گھر کی پکی
36:16چار دیواری
36:16چھت کا ہونا
36:17وہ تک
36:18وہاں پر
36:19پراپرلی
36:19انہیں
36:20اویلیبل نہیں ہے
36:21تو آپ جانتے ہیں
36:22کہ ان کے لیے
36:23ایسی نعمتوں کی
36:24جو قدردانی ہے
36:25وہ کس قدر
36:26ان کے دلوں میں
36:26موجود ہے
36:27اور آپ جانتے ہیں
36:29کہ ہم
36:30اللہ کا بڑا کرم ہے
36:31کہ ہم جب
36:32اپنے گھر سے نکلتے ہیں
36:33تو ہمیں
36:33ہر ضرورت کی
36:34وہ چیز
36:35اپنے گھر کے
36:37اطراف میں
36:37مل جائے کرتی ہے
36:38اور یقین جانے ہیں
36:39ہمیں اللہ تبارک و تعالیٰ
36:40نے اپنی بے شمار
36:41نعمتوں سے نواز آئے
36:46کہ اگر تم
36:47اللہ کی نعمتوں کو
36:48شمار کرنا چاہو
36:49تو شمار نہ کر سکو
36:51کہ بے شک
36:51اللہ بڑا
36:52غفور الرحیم ہے
36:53مفتی صاحب کیا فرمائیں گے
36:54ہمیں جس طرح
36:55اللہ نے
36:55اپنی نعمتیں
36:56بہا متا فرمائی ہوئی ہیں
36:58وہ لوگ
36:59جو ان نعمتوں سے
37:00محروم دکھائی دیتے ہیں
37:01اور ان نعمتوں کے
37:03تمنای دکھائی دیتے ہیں
37:05کسی شخص کی
37:06ضرورت کو پورا کرنا
37:07ایسے وقت میں
37:09کہ جب
37:10واقعتاں
37:11وہ شدید طور پر
37:12مستحق بھی ہے
37:13اور
37:14اس کے جو خاندان والے ہیں
37:16اس کے جو اہل خانہ ہیں
37:17وہ بھی شدید طور پر
37:18تمنای ہیں
37:18کہ خاندان کا سربراہ
37:20ان کے لیے
37:20احتمام کر سکے
37:21اور کم آمدنی کی وجہ سے
37:23یا ذرائع آمدن نہ ہونے کی وجہ سے
37:25یا احتمام نہ کر سکے
37:26ایسے خاندانوں تک
37:28گھرانوں تک
37:29وہ حقیقی خوشیاں پہنچانا
37:31اور بقرعید کے موقع پر
37:33خاص طور پر
37:34اس کے حوالے سے
37:34شریعہ حکامات کیا ہیں
37:35کیا فرمائیں
37:36بسم اللہ الرحمن الرحیم
37:37دیکھیں
37:38جب اللہ تعبیلزت نے
37:39مال ہمیں عطا کیا ہے
37:40تو کچھ تقاضے
37:41اس مال کے ساتھ
37:42وابستہ ہو جاتے ہیں
37:43اس میں پہلا تقاضی تو یہ ہے
37:44کہ بندے کو
37:45جب اللہ تعبیلزت نے
37:45کوئی نعمت دی ہے
37:46تو وہ اس پر شکر ادا کریں
37:47اور قرآن کہتا ہے
37:49لَإِن شَگَرْتُمْ لَعْزِيدَنَّكُمْ
37:50تم شکر ادا کروگے
37:51ہم تمہارے
37:52نعمتوں میں
37:53اضافہ کرتے جائیں
37:54وَلَا اِن کَفَرْتُمْ
37:55اِنَّ عَذَابِ لَشَدِيدَ
37:56اور اگر تم
37:57کفرانِ نعمت کروگے
37:59تو تمہارے لئے
37:59عذاب جو ہے وہ شدید ہے
38:02اسی طرح ایک جگہ پر
38:03اللہ تعبیلزت نے
38:03شاہد فرمائے
38:04مَا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعْضَابِكُمْ
38:06اِن شَکَرْتُمْ وَآَمَنْتُمْ
38:07اللہ تمہیں عذاب دے کر
38:08کیا کرے گا
38:10اللہ تمہیں کیوں
38:10عذاب دے گا
38:11یا اللہ تمہیں عذاب دے کر
38:12کیا کرے گا
38:13ان شَکَرْتُمْ وَآمَنْتُمْ
38:14اگر تم شکر کرنے والے ہوگے
38:15اور ایمان لانے والے ہوگے
38:17تو پہلا تقاضی تو
38:18یہ وابستہ ہوتا ہے
38:19کہ بندہ جب
38:20اللہ رب العزت کی
38:22دی ہوئی نعمتوں پر
38:23اس کا شکر ادا کریں
38:24شکر ادا کرنے کا
38:26مطلب یہ تو ہے
38:27کہ ہم الحمدلللہ
38:28رب العالمین پڑھیں
38:28اللہ رب العزت کو
38:29یاد کریں
38:30اللہ رب العزت کی
38:30نعمتوں کو
38:31ذہن میں رکھیں
38:32ان نعمتوں کا
38:33جیسا حق ہے
38:34ویسے اس کو
38:35خرچ کریں
38:36شکر ادا کرنے کا
38:37ایک مطلب یہ بھی ہوتا ہے
38:38کہ نعمت کو
38:39رب کی بارگاہ میں
38:40خرچ بھی کریں
38:41نعمت کو
38:42رب کی بارگاہ میں
38:43یوٹیلائز بھی کریں
38:44استعمال بھی کریں
38:44یہ بھی شکر کا
38:45ایک بہت اہم ترین
38:46تقاضی ہے
38:47حضور علیہ السلام
38:48کے عادت نبارکہ یہ تھی
38:50کہ سرکار علیہ السلام
38:51جو ہے
38:52رات کے آخری پہن میں
38:53اٹھ کر
38:54دماز پڑھتے
38:55اور
38:55ہماری ماں
38:56ام الممین
38:56حتاشہ صدیقہ
38:57رضی اللہ تعالیٰ
38:58بیان فرماتی ہے
38:59کہ سرکار علیہ السلام
39:00جب قیام کے لئے
39:01کھڑے ہوتے
39:01تو بہت طویل قیام
39:02فرماتے
39:03بہت طویل قیام
39:04یعنی کافی دیر تک
39:06تلاوت فرماتے
39:06پھر جب رکو میں جاتے
39:08تو جتنا طویل قیام
39:09تھا
39:09اتنا ہی طویل
39:10رکو ہوتا
39:10یعنی اگر
39:11سمجھ لیں
39:12سمجھانے کے لئے
39:12اگر قیام
39:13ایک گھنٹے کا ہے
39:13تو رکو بھی
39:14ایک گھنٹے کا
39:14پھر جب سجدے میں
39:15جاتے تو
39:16اتنا ہی طویل
39:17سجدہ فرماتے
39:17جتنا طویل
39:18جو ہے وہ
39:19آپ نے قیام
39:19فرمایا تھا
39:20اور پھر
39:20اللہ تعالیٰ کی
39:21بارگاہ میں
39:22گریہ وزاری کرتے
39:23رقت آپ پر قائم ہوتی
39:24روتے یہاں تک
39:25کہ آپ کی داڑی
39:26مبارک تر ہو جاتی
39:27تو ایک دن ہتے
39:28عائشہ صدیقہ
39:29رضی اللہ تعالیٰ
39:30ہماری ماں نے
39:31پوچھا کہ
39:31یا رسول اللہ
39:32آپ تو وہ ہے
39:32کہ آپ کے صدقے سے
39:33اللہ نے
39:34اگلوں اور پچھلوں
39:34کو بخش دیا
39:36تو آپ کو
39:37اتنی عبادت کرنے
39:38کی کیا ضرورت
39:39تو سرکار دوالم
39:40صلی اللہ تعالیٰ
39:42ہماری
39:42یعنی
39:43رہنمائی کے لئے
39:44فرماتے ہیں
39:44اے عائشہ اگر
39:45مجھے میرے رب
39:46نے اتنا عطا کیا ہے
39:46تو کیا میں
39:47اس کا شکر گزار
39:48بندہ نہ بنوں
39:49مراد یہ ہے
39:50کہ جب نعمت
39:51رب نے دینا
39:51تو رب کے آگے
39:52جھک جاؤ
39:53اور رب کے آگے
39:54ہر چیز کو
39:55سرنڈر کر دو
39:55اور اس سرنڈر میں
39:57ایک بات یہ بھی ہوتی ہے
39:58کہ جب رب نے کہہ دیا
39:59کہ اپنے مال کو
39:59یہاں خرچ کرنا
40:00تو وہاں خرچ کرو
40:01پھر کوئی ملال
40:02نہیں آنا چاہیے
40:03کوئی پریشانی نہیں
40:04ہونے چاہیے
40:04کوئی کیلکولیشن
40:05نہیں ہونے چاہیے
40:05کہ میں اگر اتنا مال
40:06خرچ کروں
40:07یا اتنا مال خرچ کروں
40:08زیادہ سے زیادہ ہی
40:09بندہ اللہ کی راہ میں
40:10خرچ کرے
40:10اور ایک اور جگہ پر
40:12یہ بھی آتا ہے
40:13کہ بندہ جب فرائز
40:14کے علاوہ نوافل کی طرف
40:16ایکسٹرا کی طرف
40:17جاتا ہے نا
40:18تو اللہ اسے
40:18اپنا ولی بنا لیتا ہے
40:20ولی بننے کا قائدہ
40:22یعنی ولی سے مراد یہ ہے
40:23کہ اللہ کا دوست
40:24اللہ کا قرب
40:25کسی بندے کو
40:26اگر ملے گا
40:27تو وہ ہوگا
40:27جو فرائز کی پابندی
40:28تو کرے گا
40:29اور فرائز کیا ہے
40:30کہ میں زیادہ ادا کروں
40:31نمازوں کو وقبر کروں
40:32روزے رکھوں
40:33لیکن فرائز کے ساسات
40:35بندہ نوافل پر بھی دوام
40:38نوافل پر بھی
40:38کنسسٹنسی دکھائے گا
40:40تو ایسے بندے کو
40:41اللہ تعالیٰ اپنا ولی بنا لیتا ہے
40:42تو ہم میں سے ہر بندہ چاہتا ہے
40:44کہ ہم اللہ کا قرب پا لیں
40:45ہمیں دنیا میں بھیجا ہی
40:46اللہ کی پہچان کے لیے ہے
40:47اللہ کی معرفت کے لیے ہے
40:48وہ اسی طرح ملتی ہے
40:50کہ اللہ کے دیئے ہوئے رزق میں سے
40:52اللہ کے بندوں پر
40:53اور مخلوق پر خرچ کیا جائے
40:55پھر سورت دوہا اٹھا کے پڑھیں
40:56تو جہاں سرکار علیہ السلام کو
40:58یقین دہانی کرائی گئی
41:00کیونکہ وحی کچھ عرصے تک نہیں آئی
41:02تو کافروں نے حضور علیہ السلام کو
41:04ٹانٹ کرنا شروع کیا
41:05کہ آپ کا رب آپ کو بھول گیا ہے
41:07تو قرآن میں سورت دوہا نازل ہوئی
41:09اور کہا گیا
41:10کہ نہ آپ کا رب ناراض ہے
41:13نہ وہ آپ کو بھولا ہے
41:14اور پھر سرکار کو کچھ باتوں کا حکم دیا گیا
41:16اور اس میں سے یہ تھی
41:19یتیم آئے تو اسے جھڑکوں مت
41:20یہ بات در حقیقت سرکار کے لیے نہیں ہو رہی
41:23یہ حمالے لیے ہو رہی
41:24کیونکہ حضور علیہ السلام تو
41:25رحمت اللہ العالمین آپ کے سکوئے کیسے جھڑکیں
41:27اور پھر کہا گیا
41:30کوئی سائل آئے تو اسے منع نہیں کرو
41:33فلا تنہر اسے کبھی منع نہیں کرو
41:35حضور علیہ السلام آپ کے خاندان والے
41:37صحابہ ایک عمل ہمیں نظر آتا ہے
41:40جتنا رب نے دیا
41:41سارا ہی سارا رب کی بارگاہ میں خرچ کر دیا
41:43کبھی ایسا نہیں ہوا
41:45کہ حضور علیہ السلام کی گھر میں
41:46جو ہے وہ دو وقت کا کھانا بناو
41:49ہماری ماں عمر ممین حتی عائشہ صدیقہ
41:51رضی اللہ تعالیٰ نے بیان فرماتی ہے
41:52ہمارے لیے نیا کام حضور کے وسال زاہری کے بعد
41:55نئی بدات
41:56نیا کام ہمارے لیے تھا
41:58کہ ایک دستر خوان پر دو سالن ہو
42:00یعنی یہ ہمارے لیے نئی چیز تھی
42:02کہ ایک دستر خوان پر دو سال ہو
42:03آج اللہ تعالیٰ نے ہمارے دستر خوان کو
42:05کتنا وسیع کیا ہے
42:07کہ آپ جب جاتے ہیں
42:08مثال کے طور پر ہم کوئی بڑی شادی میں چلے گئے
42:10تو اتنے کھانے کے اپشنز ہوتے ہیں
42:12کہ بندہ حیران ہو جاتے ہیں
42:13کہ کیا کھاؤں
42:14وہ تو ایک الگ معاملہ ہے
42:16وہ تو ہے ہی
42:17لیکن آپ دیکھیں ہاتھ عائشہ فرماتی ہے
42:18کہ ہمارے لیے یہ نئی چیز تھی
42:20کہ جو ہے وہ ایک دستر خوان پر دو سالن
42:23حضور علیہ السلام کے پاس ایک شخص آیا
42:25اور اس نے سرکار علیہ السلام کو کہا
42:27کہ آپ مجھے مال عطا کریں
42:28میں اسلام قبول کرلوں گا
42:29حضور نے اس کو بٹھا دیا
42:31کچھ دیر میں ایک بندہ آیا
42:32اور اس نے حضور علیہ السلام کو
42:34اتنی بکڑیاں دی
42:35کہ دو پہاڑوں کے درمیان کا جو حصہ تھا
42:37وہ بکڑیوں سے بھر گیا تھا
42:38ہزاروں کی تعداد میں بکڑیاں
42:40تو سرکار علیہ السلام نے کہا
42:41وہ کون ہے وہ بندہ جو مجھ سے مانگ رہا تھا
42:43وہ کھڑا ہوا
42:43حضور نے وہ ساری بکڑیاں
42:45دس بھی دیتے تو بہت بڑی ویلیو تھی
42:47اس دور میں
42:48ساری بکڑیاں جو دو پہاڑوں کے درمیان
42:50ہزاروں کی تعداد میں تھی
42:51ساری اسے عطا کر دی
42:52وہ اپنے قبیلے میں واپس گیا
42:54اور اس نے جا کر کہا
42:55اے قبیلے والو
43:07داتا گنچبکشلی حجویلی رحمت اللہ تعالی
43:09اولیاء کے سردار ہے آپ
43:10آپ کی کتاب ہے کشف المحجوب شریف
43:13اس میں آپ ایک دعا حتہ اوبکر کی لکھتے ہیں
43:15کہ حتہ اوبکر یہ دعا کسرہ سے مانگا کرتے تھے
43:18اور وہ دعا کیا تھی
43:19اللہم مبسط علیہ الدنیا
43:21اے اللہ دنیا مجھ پر کشادہ کر دے
43:23دنیا کھول دے مجھ پر
43:25یعنی دنیا کی نعمتیں مجھے عطا کر
43:27اب ہم یہ سوچیں
43:28حتہ اوبکر جیسا زہد و تقوی
43:30یعنی دنیا سے کنارہ کش رہنے والا شخص
43:32جسے دنیا کی کبھی کوئی
43:34یعنی زہد کہتے ہیں
43:34کہ جس میں بندہ دنیا کی طرف توجہ نہیں
43:36یہ توجہ رب کی طرف ہو
43:37دنیا ہے نہیں ہے
43:39کوئی پرواہ نہیں ہے
43:40تو ایک سوال یہ آتا ہے ذہن میں
43:42کہ حتہ اوبکر دنیا کیوں مانگ رہا ہے
43:43تو دعا کا ایک اور حصہ بھی ہے
43:45اللہم مبسط علیہ الدنیا
43:47اے اللہ دنیا مجھ پر کشادہ کر دے
43:49کھول دے
43:58میں اس دنیا میں محو نہ ہو جاؤں
44:00مجھے دنیا اس لئے عطا کر
44:01تاکہ وہ مجھے جو دنیا ملے
44:02جو رسخ ملے جو مال ملے
44:04وہ سارا کا سارا تیری راہ میں خرچ کرتا رہا ہوں
44:06کوئی ملال نہیں ہو
44:07پھر دوبارہ تیری راہ میں خرچ کر رہا ہوں
44:10کوئی ملال نہیں ہو
44:11آپ دیکھیں آخر میں ایک بات
44:12حضور علیہ السلام کے حوالے سے یہ بات ہمیں ملتی ہے
44:15کہ آپ کے گھر میں ایک دن دسترخان
44:17ایک دن چولا جلتا ایک دن نہیں جلتا
44:20یہ باقاعدہ یہ عمل تھا
44:22ایک دن چولا جلتا ایک دن نہیں جلتا
44:24جب آپ سے سوال کیا گیا
44:25تو آپ علیہ السلام فرماتے ہیں
44:27کہ جس دن میرے گھر میں چولا نہیں جلتا
44:30یا کھانا نہیں ہوتا
44:31اس دن میں صبر کرتا ہوں
44:33اپنے رب کی مرضی پر راضی رہتا ہوں
44:34اور جس دن میرے گھر میں کھانا بنتا ہے
44:37یا کھانا اویلیبل ہوتا ہے
44:38اس دن میں کھانا کھاتا ہوں
44:40اور اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں
44:42یہ دونوں اعتبارات سے
44:44حضور علیہ السلام نے ہمیں عطا کیا
44:46ہمارے گھر میں رزق ہے
44:48کھانا بن رہا ہے
44:49دو سے تین ٹائم بن رہا ہے
44:51تو ہم اللہ کا شکر ادا کریں
44:53اور ان لوگوں کا سوچیں
44:55جن کے گھر میں نہیں بن رہا
44:56اور ان کی مدد کرنے کی کوشش کریں
44:57اور یہ قربانی جو ہے
44:59بہترین ذریعہ ہے
45:00اس کام کو کرنے کا
45:01بالکل ایسا ہی ہے
45:02ناظرین اگرامی
45:02یہ قدر بہت خوبصورت انداز کے ساتھ
45:04مفتی صاحب نے
45:05اس موضوع پر گفتگو فرمائی ہے
45:07اور ہم یہاں
45:08ایک مختصر سے وقفے پر جا رہے ہیں
45:10وقفے کے بعد انشاءاللہ
45:11سلسلہ کلام کو آگے بڑھاتے ہیں
45:13دیکھتے رہی ہے احساس
45:14اور کرتے رہی ہے احساس
Comments

Recommended