00:00ایلیف جب ہسپیڈی پوچھتی تو ڈاکٹروں نے بتاتے سیان کی دل کی حالت بہت خراب ہے
00:03ہمیں تو سمجھ ہی نہیں آر اتنی چھوٹی عمر میں ہمیں ان کا ہارٹ پلان کرنا پڑے گا
00:07یہ سننے کے بعد ایلیف روتی بھی سیان کے کمرے میں جاتی ہے تو چندہ اسے روتی بھی بتاتی ہے
00:10ایلیف گھر میں سیان کی طبیہ خراب ہو گئی تھی جس کی وجہ سے وہ تم سے شادی کرنے نہیں
00:14آیا تھا
00:14جس کے بعد دوسری طرح ڈاکٹر گازی یوسف و اکیلے میں بتاتے ہیں
00:17سیان کا بلڈ گروپ صرف ایک ہی پیشن سے ملتا ہے وہ کوئی اور نہیں سیان کی دوست ایلیف ہے
00:21سن گازی یوسف کہتے ہیں کوئی بڑی بات نہیں میں اس سے بات کروں گا جتنے پیسے وہ مانگے گی
00:24میں اسے دے دوں گا
00:25جس کے بعد ڈاکٹروں نے بتاتے ہیں کسی بھی زندہ انسان کا دل نہیں رہ سکتے ہیں یہ قانون کے
00:29خلاف ہے
00:29گازی شاتر دماغ سے سوچتا ہے
00:31اگر ایلیف اور سیان کی شادی کراتی جائے تو ایلیف سیان کو دل دے دے گی
00:35جس کے بعد گازی یوسف سیان کے گمڑے میں آتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں بیٹا میں تمہاری شادی
00:38ایلیف سے کرانے کے لیے تیار ہوں
00:39جس کے بعد سیان کہتا ہے بابا کل تک تو آپ راضی نہیں تھی لیکن وہ کہتے ہیں بیٹا تمہیں
00:42دردی کچھ ایسا دیا ہے
00:43یہ مجبورہ مجھے تمہاری خوشی میں اپنی خوشی نظر آ رہی ہے
00:46بہت یہاں پر سیان کو بلکل بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ ایلیف کی موت کا کھیل رچا جا رہا
00:50ہے
00:50جس کے بعد اسی وقت گازی یوسف سیان کے رشتے کی بات کرنے کے لیے ایلیف کے پاس جاتے ہیں
00:54میں گازی یوسف اپنے بیٹے سیان گازی کا رشتے کے ہاتھ مانگنے کے لیے تمہارے پاس آیا ہوں
00:58جس کے بعد ایلیف بھی رشتے کے لیے ہاں کر دیتی اور گازی سے کہتی ہے میں سیان سے بہت
01:02محبت کرتی ہوں
01:03یہ سننے کے بعد گازی یوسف ایلیف وہ اپنے ساتھ سیان کے کمرے میں لے کے جاتے ہیں
01:06سیان جب ایلیف وہ اپنے سامنے دیکھتا ہے تو بہت زیادہ خوش ہو جاتا ہے
01:09پر سیان ایلیف سے پوچھتا ہے ایلیف کیا تم اس سے شادی کروگی
01:12جس کے بعد ایلیف مسکراتے ہوئے سیان سے شادی کرنے کے لیے ہاں کر دیتی ہے
01:15سیان کی طبیہ جیسی بیتر ہوتی ہے وہ گھر پہ آتا ہے تو گازی یوسف خود مولوی صاحب کو بلاتے
01:19ہیں
01:19جس کے بعد گازی یوسف کو ایلیف اور سیان کا نکہ کروا دیتے ہیں
01:22نکہ مکمل ہوتے ہی سیان ایلیف کو ہنیمون کے لیے اسلام آباد لے کے جاتا ہے
01:26وہاں پوچھ کر وہ خوشی سے گھوم رہے ہوتے ہیں تو اچانک سیان کے دل میں وہاں پر دڑت ہوتا
01:29ہے
01:29وہ اپنے دل کو پکرتا ہوا زبین پر گڑی آتا ہے جب ایلیف یہ دیکھتی ہے تو اسے گھوڑاتی ہوئے
01:33اسپتان لے کے جاتی ہے
01:34جس کے بعد وہ وہاں پوچھ کر گازی یوسف کو کال کرتی ہے اور بتاتی ہے سیان کی طبیعہ کافی
01:37زیادہ خراب ہے
01:38تو وہ فورن اسلام آباد پہنچ جاتے ہیں
01:40جس کے بعد ہسپیٹل میں ڈاکٹر سیان کو چیک کرنے کے بعد باہر آکے گازی یوسف کو بتاتے ہیں
01:44اب ان کا ہارٹ فورن ٹاسپلین کرنا پڑے گا
01:46یہ سننے کے بعد گازی یوسف زکریہ کو ایک خوفناک آرڈر دے دیتے ہیں
01:49جس کے بعد وہ ایلیف سے کہتے ہیں ایلیف تم گاڑی میں بیٹھ کر گھر چلی جاؤں میں سیان کے
01:52پاس ہوں
01:52ابھی وہ جیسی گاڑی میں بیٹھ کر گھر کی طرف جا رہی ہوتی ہے تو زکریہ کے بندے اس گاڑی
01:56کا بیانک ایکسیڈن کروا دیتے ہیں
01:57کے بعد ایلیف کی جان چلی جاتی ہے تو ڈاکٹر فورن
01:59ایلیف کا دل لگار کا سیان کے سینے میں لگا دیتے ہیں جس کے بعد سیان کی جان بچ جاتی
02:03ہے
02:03جس کے بعد سیان کو ہوش آتے تو سب سے پہلے وہ ایلیف کا پوچھتا ہے
02:06جس کے بعد گازی یوسف سے بتا دیتے ہیں کہ ایلیف اس دنیا میں نہیں رہی پتہ نہیں کسی نے
02:10اس کی گاڑی کا ایکسیڈن کروا دیا تھا
02:11سننے کے بعد سیان بہت بیچین ہو جاتا ہے تو وہ کوئی اپنے ابو سے کہتا ہے
02:14میں اس شخص کا پتہ لہوا کے ہی روں گا جس نے ایلیف کی گاڑی کا ایکسیڈن کروایا ہے
02:18جس کے بعد وہ فوراں اپنی پاور کا استعمال کرتے ہوئے اس ایکسیڈن کی تحقیقات کروا تا ہی
02:21تو اس سے پتہ چلتا ہے یہ ایکسیڈن کسی اون نہیں بلکہ اسی کے ابو گازی یوسف نے کروایا تھا
02:25حقیقت جانے کے بعد سیان اپنے ابو گازی یوسف سے شدید نفرت کرنے لگتا ہے
02:29جس کے بعد رات کو سیان کے خوف میں ایلیف آتی ہے اور اسے روتی بھی کہتی ہے
02:32سیان تم اسے وعدہ کرو میری بہن الہم بلکل ٹرکی میں اکیلی ہے تم اس کا خیال رکھنا
02:36جس کے بعد سیان اگلے دن اپنی فلیٹ بک کرواتا ہے وہ ٹرکی چلا جاتا ہے
02:39ٹرکی کی سرکوں پہ وہ الہم کو ڈھون رہا ہوتا ہے
02:42جس کے بعد اسے اچانک الہم دیکھ جاتی ہے
02:44اس کے بعد سیان اس کے بعد جاتا ہے وہ روتی بھی بتاتا ہے میں نے تمہاری بہن ایلیف سے
02:47شادی کی تھی
02:47لیکن اب اس کی موت ہو گئی اس نے مرنے سے پہلے تمہارا خیال رکھنے کے لیے مجھے کہا تھا
02:51یہ حقیقت جانے کے بعد الہم بڑی طریقے سے توڑی آتی ہے وہ سیان کے گلے لگ کر خوب روتی
02:55ہے
02:55جس کے بعد الہم روتی بھی سیان سے کہتی ہے مجھے ابھی پاکستان جانا ہے اپنی بہن ایلیف کی قبر
02:59پر
02:59سیان الہم کے گینے پر اسے اپنے ساتھ پاکستان لاتا ہے
03:02جس کے بعد وہ اسے اپنے ساتھ اس کی امی مریم اور اس کی بین ایلیف کی قبر پر لے
03:05کے جاتا ہے
03:06تب ہی سیان کو پتہ چلتا ہے کہ غازی یوسف نے مریم کے ریسٹورن پر قبضہ کر لیا ہے
03:09اس کے بعد سیان غصے میں اپنے گھر آتا ہے اور اپنے سر پر گن رکھتے ہوئے کہتا ہے
03:12اگر آپ نے ریسٹورن واپسی نہ کیا تو میں اپنی جان لے لوں گا
03:15اپنے بیٹے کو موت کے موں میں دے کر غازی یوسف ڈڑی آتے ہیں
03:17جس کے بعد وہ فورن اور وہ ریسٹورن واپس کر دیتے ہیں
03:20جس کے بعد ایلہام مجھ ریسٹورن کو چلاتی ہے
03:22دوستو اگر آپ ایلہام اور سیان کی شادی دیکھنا چاہتے ہیں
03:24تو اس کے لیے ہماری چینل کو لائک شیئر سکرائب کر دیئے گا
03:26تو یہ ہماری پیڈکشن ہے جو کہ انٹرٹیمنٹ اور ایڈکیشن پرپس کے لیے بنائی گئی ہے
Comments