Skip to playerSkip to main content
Dive into the fascinating life and legacy of Aeschylus, the father of Greek tragedy. This video explores his biography, groundbreaking works like “The Oresteia”, and how his innovations transformed ancient drama and laid the foundation for modern theater. From ancient Athens to Broadway, discover how Aeschylus shaped the way we experience tragedy on stage.

🔍 In this video, we cover:

Who was Aeschylus?

Key plays and contributions to Greek drama

Evolution of tragedy before and after Aeschylus

His influence on Sophocles, Euripides, and modern playwrights

His impact on global theatre traditions

Whether you're a student of literature, a theatre enthusiast, or just curious about the origins of Western drama, this deep dive is for you!

#Aeschylus #GreekTragedy #AncientGreekDrama #HistoryOfTheater #TheOresteia #GreekPlaywrights #TheaterHistory #ClassicLiterature #WorldDrama #AeschylusBiography

👍 Like, Subscribe & Comment to support educational content!

Category

📚
Learning
Transcript
00:00صدیوں پہلے ایک سرزمین تھی علم فلسفے اور فن کی
00:05جہاں خیالات الفاظ بنتے اور الفاظ جذبات کو جکڑ لیتے
00:11یہ وہ وقت تھا جب تھیٹر صرف تماشا نہیں ایک آئینہ تھا
00:16انسان کے زمیر کا اس کی تقدیر کا اور اس کے انجام کا
00:22اور اسی اہد میں ایک نام ابرہ جو آج بھی یونانی علمیہ کا باشا کہلاتا ہے
00:28جس نے خاموش سٹیج کو گونجدار مقالموں سے زندہ کیا
00:33جس نے دیوتاؤں کے فیصلوں کو انسانوں کے دکھوں سے جوڑا
00:38وہ تھا اسکائلس
00:41ایسا مصنف جس نے ٹریجڈی کو ایک نئی روح بخشی
00:45جس کے الفاظ آج بھی گونجتے ہیں انصاف، قسمت، قربانی اور انسانیت کی گہرائیوں میں
00:53آئیے وقت کی دھول ہٹا کر اسکائلس کی دنیا میں قدم رکھیں
00:59جہاں ہر مقالمہ ایک زخم ہے اور ہر زخم ایک کہانی
01:05موسیقی
01:13موسیقی
01:17موسیقی
01:21موسیقی
01:25ایتھنز میں ایک نوجوان ایک انگور کے باغ میں ملازم تھا
01:42ایک رات اس کے خواب میں یونان کا دیوتا زرخیزی اور شراب
01:46اور گانے اور ڈرامے کا سرپرست ڈیونیسس آیا
01:50اس نے حکم دیا کہ انگوروں کے باغ کی ملازمت چھوڑ کر وہ ڈراما نگاری شروع کرے
01:55دوسرے دن صبح اس نوجوان نے ڈرامے لکھنے شروع کر دیئے
02:00اور علمیہ نگاری کو حقیقی معنوں میں ایک فن بنا دیا
02:03اس نوجوان کا نام اسکائلس تھا
02:06اسے اہل یونان پیغمبرانہ صفات کا علمیہ نگار تسلیم کرتے تھے
02:11اسکائلس تقریباً پائنسو پچیس قبل مسیح میں بیدا ہوا
02:16ایک چھوٹے سے قصبِ الیوسس میں جو ایتھنز کے شمال مغرب میں
02:20تقریباً 27 کلومیٹر دور مغربی آٹیکہ کی ذرخیز وادیوں میں واقع تھا
02:25اگرچہ وہ یونان کے کلاسیکل اہد کی علمیہ نگاروں میں مقبول نام ہے
02:33مگر پیرے کلیس سے قربت کی وجہ سے پہلے سوف کلیس کا ذکر کیا گیا ہے
02:39فارسی جنگوں نے اسکائلس کی زندگی اور کیریئر میں بڑا اہم کردار ادا کیا
02:44چار سو نوے قبل مسیح میں اسکائلس اور اس کا بھائی سینگیریئس میراثن کی جنگ میں
02:50فارس کے دارے اول کی حملہ اور فوج کے خلاف ایتھنز کے دفعہ کے لیے لڑا
02:55جس میں ایتھنز فتح یاب ہوا اور فتح کا جشن یونان کے تمام شہروں میں منایا گیا
03:01ایک فارسی بیری جہاز کو ساہل سے پیچھے ہٹنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے
03:06سینگیریئس مارا گیا جسے اس کے ہم وطنوں نے ایک ہیرو کے طور پر سراہا
03:11چار سو سی قبل مسیح میں اسکائلس اپنے چھوٹے بھائی ایمینیاز کے ساتھ مل کر
03:16سلامس کی جنگ میں زرکسیز اول کی حملہ اور فوج کے خلاف دوبارہ فوجی خدمت میں بلایا گیا
03:22اسکائلس چار سو ناسی قبل مسیح میں پلاتیا کی جنگ میں بھی لڑا تھا
03:27اسکائلس آخری بار سسلی واپس آیا
03:34اسے نے شہر کا دورہ کیا جہاں اس کی موت چار سو چھپن یا چار سو پچپن قبل مسیح میں ہوئی
03:40روایت کے مطابق اس کی موت سر پر ایک کچھوہ لگنے کی وجہ سے ہوئی
03:45جسے ایک اقاب نے دروان پرواز نیچے گرایا تھا
03:49جو اسکائلس کے سر کو ایک چٹان سمجھ بیٹھا تھا
03:52جو کچھوے کے خوال کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لیے موضوع تھی
03:56ڈیونیسیس کے حکم کے مطابق اس نے پچیس سال کی عمر میں ڈراما نمیسی کا آغاز کیا
04:05اور تقریباً نوے ڈرامے لکھے جن میں صرف سات زمانے کی دست برد سے محفوظ رہ سکے
04:11اس کے جس ڈرامے کو عیدہ ڈیونیسیہ پر پہلی بار انام ملا وہ پرشین تھا
04:17اسے چار سو بہتر قبل مسیح میں یہ پہلا انام ملا تھا
04:21جبکہ چار سو بہتر قبل مسیح تک وہ کوئی انعام بھی نہ لے سکا
04:25پھر جب اس کی شہرت سارے یونان میں پھیلی
04:28تو ایتھنج کی تمام ہمسایہ ریاستوں میں اس کے فن کی قدر کی گئی
04:33انہی دنوں وہ سیسلی میں سیراکیوز کے بادشاہ ہیرون کے دربار میں گیا
04:42شاید بادشاہ نے خود اسے مدو کیا تھا
04:46ہیرون نے کوہیتا کے دامن میں ایک نیا شہر آباد کیا تھا
04:50اس حوالے سے اسکائلس نے ایک ڈراما بھی لکھا تھا
04:53سیراکیوز میں کچھ عرصہ گزار کر وہ ایتھنز واپس لوٹایا
04:58یونانی ڈرامے کی بنیاد مذہبی تہواروں میں دیوتاؤں کے لیے رکھی گئی تھی
05:06خاص طور پر ڈیونیسز کے جو شراب کا دیوتا تھا
05:10اسکائلس کی زنگی کے دوران ڈرامائی مقابلے سیٹی ڈیونیسیا کا حصہ بن گئے
05:16جو موسم بہار میں منعقت ہوتے تھے
05:19میلے کا آغاز ایک جلوس کے ساتھ ہوتا جس کے بعد لڑکوں کے مقابلے میں
05:24دیتھیرہ مس گانا شروع ہوتا اور یہ سب ڈرامائی مقابلوں کے جوڑے پر اختتام پذیر ہوتا
05:30پہلے مقابلے میں سکائلس نے حصہ لیا ہوگا
05:33جس میں تین ڈراما نگار شامل ہوں گے
05:36جن میں سے ہر ایک نے تین سانحات یا ٹریجڈی اور ایک تنزیہ ڈراما پیش کیا
05:42اس کے بعد ایک دوسرا مقابلہ ہوا جس میں پانچ مذہیہ ڈراما نگار شامل تھے
05:47اور دونوں مقابلوں کے فاتحین کا انتخاب ججوں کے ایک پینل نے کیا
05:52سکائلس نے ان میں سے بہت سے مقابلوں میں حصہ لیا
06:00اور مختلف قدیم ذرائع ستر سے نوے کے درمیان ڈرامے اس سے منصوب کرتے ہیں
06:06اس کے مشہور ڈرامے یہ ہیں
06:15اگامینن
06:16دا لائیبیشن بیریئرز
06:19دا یومینائیڈز
06:21یہ تینوں مل کر کے مشہور تین حصوں پر مشتمل ٹریجڈی آسٹیا کہلاتی ہے
06:27دا پرشینز
06:29یہ ایک تاریخی ڈرامہ ہے جس میں فارس کی جنگ پر روشنی ڈالی گئی ہے
06:33پرومیتھیس بانٹ
06:35یہ ایک اور مشہور ڈرامہ جو انسانیت کے لیے قربانی اور سزا کے موضوعات پر مبنی ہے
06:42سکائلس کے تمام مجودہ علمیوں کو سٹی ڈاؤنیسیا میں پہلا انام حاصل کرنے کے لیے جانا جاتا ہے
06:50موسیقی
07:06موسیقی
07:10موسیقی
07:22موسیقی
07:26موسیقی
07:31موسیقی
Be the first to comment
Add your comment

Recommended