Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Pakistan is grappling with a severe education crisis, with a staggering 25 million children out of school. This alarming number has significant implications for the country's future, as it not only hinders the development of its younger generation but also poses a threat to its economic and social progress. In this video, we delve into the root causes of this crisis, exploring the complex interplay of factors that have led to such a large number of children being denied their fundamental right to education. We also examine the potential consequences of this crisis, including increased poverty, inequality, and social unrest. Furthermore, we discuss potential solutions and strategies that can be implemented to address this issue, such as increasing funding for education, improving infrastructure, and implementing policies that promote accessibility and affordability. By shedding light on this critical issue, we hope to raise awareness and inspire action to ensure that every child in Pakistan has access to quality education.

Category

😹
Fun
Transcript
00:00کیا پاکستان ہر بچے کو تعلیم کی فراہمی کے آئینی وعدے کو پورا کرنے میں ناکام ہو رہا ہے؟
00:06یونی سیف کی ایک حالیہ ریپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تقریباً دھائی کروڑ
00:12بچے سکول نہیں جا رہے
00:14یہ صرف ایک نمبر نہیں بلکہ ایک پوری جنریشن کا فیوچر ہے جو خطرے میں ہیں
00:19پاکستان کی آئین کا آرٹیکل 25A ہر پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچے کو مفت اور لازمی تعلیم
00:26کا حق دیتا ہے
00:27لیکن حقیقت اس سے کچھ مختلف ہے
00:30یہ چیلنج تعلیم میں سرکاری وسائل ایک مخصوص حد سے کم خرچ کرنے کی وجہ سے بھی ہے
00:36ہسٹوریکلی پاکستان جی ڈی بی کا تقریباً 1.5% حصہ تعلیم پر خرچ کرتا رہا ہے
00:42جو پہلے ہی یونیسکو اور یون کے ایس ڈی جی فور کے مقرر کردہ 4 سے 6 فیصد کے میار
00:48سے کافی کم ہے
00:49صورتحال اب مزید بگڑ چکی ہے
00:51کیونکہ پاکستان ایکنومک سیروی 2024-25 کے مطابق
00:55تعلیم پر اخراجات جی ڈی بی کے تقریباً 0.8% تک رہ گئے ہیں
01:00جو کہ ایک ریکارڈ کمی ہے اور قومی پالیسی کے ٹارگٹ سے بہت کم ہے
01:04نتیجہ ہزاروں سکولوں میں بچلی، پانی اور باتھروم جیسی سہولیات موجود نہیں
01:10اور کئی علاقوں میں تو سکول ہی نہیں
01:13اس میں بھی لڑکیوں کا مسئلہ زیادہ سنگین ہے
01:16ان دھائی کروڑ بچوں میں زیادہ دادات یعنی 53% لڑکیوں کا ہے
01:22کئی علاقوں میں میڈل یا ہائی سکول نہیں
01:25سیکیورٹی کے خچھات ہیں
01:26خواتین کی کم عمری میں شادی ہے
01:28اور خواتین اسادزہ کا نہ ہونا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے
01:32اسی لیے یہ مسئلہ صرف تعلیم تک محدود نہیں
01:36بلکہ جنڈر ایکوالیٹی کا مسئلہ بھی ہے
01:38پاکستان میں مہنگائی اور بے روزگاری نے بھی تعلیم کو متاثر کیا ہے
01:43پاکستان کا پاورٹی ریٹ تقریباً 30% ہے
01:47کئی خاندانوں کے لیے چوئیس سمپل ہے
01:49بچہ سکول جائے یا گھر کے خرچے چلانے میں مدد کرے
01:52اس مسئلہ کی وجہ سے چائل لیبر کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے
01:55خاص طور پر شہری غریب علاقوں اور دہی علاقوں میں
01:59کلائیمٹ چینج بھی اس مسئلہ کو بڑھاوا دیتا ہے
02:01اور پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے
02:04جو موسمیاتی تبدیلی یعنی کلائیمٹ چینج سے
02:07سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں
02:09دو ہزار بائیس اور پچیس کے سلاب میں
02:12ہزاروں سکول تباہ ہوئے
02:13لاکھوں بچے مہینوں تک تعلیم سے محروم رہے
02:16اس کے باوجود
02:18تعلیمی انفرسٹرکچر کو محفوظ بنانے پر توجہ کم ہے
02:21تو اصل مسئلہ کیا ہے
02:24تعلیم کا مسئلہ کسی ایک چیز سے منسلک نہیں
02:27بلکہ یہ بجٹ پرائیورٹی کا مسئلہ ہے
02:29یہ پالیسی کا مسئلہ ہے
02:31یہ وفاقی اور صوبائی
02:33ہم اہنگی کا مسئلہ ہے
02:35اور اسیاسی ارادوں کا مسئلہ ہے
02:37اس سب میں دنیا میں پاکستان کہاں کھڑا ہے
02:40عالمی داروں کے مطابق
02:42پاکستان دنیا میں سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد کے لحاظ سے
02:45ٹاپ آف دلیش ممالک میں شامل ہے
02:47پنگلہ دیش اور انڈیا جیسے ممالک نے
02:50سکولرشپس اور قانونی نفاظ کے ذریعے
02:52اس مدان میں بہتری دکھائی
02:54لیکن کیا پاکستان بھی ایسا کر سکتا ہے
02:56ماہرین کے مطابق حل موجود ہیں
02:59تعلیم کے لیے زیادہ بجٹ کی ایلوکیشن
03:02لڑکیوں کی تعلیم کو ترجی بنایا جائے
03:04اور ان کے لیے محفوظ سکول بنایا جائیں
03:06ماہر اسادزہ کی بھرتی کی جائے
03:08اور موسمیاتی لحاظ سے محفوظ مارتے بنائی جائیں
03:11فیڈرل منسٹر فور ایڈوکیشن
03:13خالد مقبول صدیقی نے
03:14حالی میں نو چائل لیف بہائنڈ مہم کا آغاز کیا
03:17تاکہ فیڈرل کیپٹل میں سکول سے باہر
03:20تمام بچوں کو آئندہ تین سال میں
03:21کلاس رونز میں لائے جا سکے
03:23ملک کے دیگر صوبوں نے بھی تمام کم
03:25عمر بچوں کو سکولوں میں لانے کے ٹارگٹس پر نہ رکھے ہیں
03:28لیکن ان پر مکمل عمل درامت ہونا بھی باقی ہے
03:31سوال یہ نہیں کہ وسائل ہیں یا نہیں
03:34بلکہ سوال یہ ہے
03:35کہ ہماری پرائیورٹی کیا ہے
03:50موسیقی
Comments

Recommended