00:00ایک لڑکی تھی کمزور سی دھان پان بہت نازک انتہائی خوبصورت ٹوٹ کے شدید چاہ کے محبت کرنے والی
00:09اتنی زیادہ محبت کے جس سے وہ پیار کرے اس شخص کو میرا خیال ہے دنیا میں کچھ بھی اور
00:14نہیں چاہیے ہوگا
00:15اس لڑکی کو آئی بی ایس نما کوئی آرزہ بھی تھا آنتوں کی ایک بیماری جو نامعلوم وجوہات سے ہوتی
00:21ہے
00:21اور وہ لڑکی اپنی تمام طرح محبتیں نچھاور کر کے جب تھک گئی تو مر گئی
00:26کچھ لوگوں کا مطابق اس نے خود پوشی کر لی
00:29وہ لڑکی رتی جناہ تھی
00:32رتی جناہ پہ اس سے پہلے جتنا کچھ چھپا اس میں وہ شدت نہیں تھی
00:36یعنی ہم یہ اندازہ نہیں کر سکتے تھے کہ رتی کی زندگی کیسی ہوگی
00:40رتی کے محسوسات جذبات کیا ہوں گے
00:43ہمیں ہر چیز ڈاکیومنٹیڈ اور میکینیکل صورت میں ملتی تھی
00:47جیسے تاریخ کے لفظ جو بحث ہوتے ہیں جن میں شدت کیفیت وہ بیان نہیں ہوا کرتی
00:53ہمیں رتی کے کچھ خط ملتے تھے یا پھر دوسرے لوگ کی بتائی ہوئی باتیں تھیں
00:58قصے تھے جو انہوں نے رتی جناہ کے بارے میں کہے
01:03لیکن یہ مکمل بارب اور واقعے سے انصاف کرتا ہوا حقیقت نامہ جو تھا
01:08جو اب ہے ہمارے پاس یہ پہلے نہیں تھا
01:09اس نوول کے بعد یہ ہوا کہ میں باقاعدہ اس کے اثر میں آ گیا
01:13اور نکل نہیں پا رہا
01:15آج کل کی زبان میں آپ بات کریں تو بہت زیادہ ٹرومٹائزنگ اثر ہے اس کا
01:19یعنی نوول کو جب آپ محسوس کریں اس سے ریلیٹ کر سکیں
01:23یا اس نوول میں موجود کیفیات میں پھس جائیں
01:25تو میرا خیال ہے کہ وہ نوول کی کامیابی ہوتی ہے
01:29یہاں زفر سید نے جو ٹیکنیک استعمال کی ہے
01:32وہ یہ کہ ہر باب کا راوی علا دیا ہے
01:35اور بات کرنے میں اس کی زبان اور کیمرے کے انگل تک کا دھیان رکھا گیا ہے
01:39یعنی ایک باب کا راوی ہوتیل ہے
01:42ایک بیان رتی کی بلی کا ہے
01:44ایک چپٹر گاندی جی سے روایت ہے
01:46ایک قصہ رتی کے باب دنشا پٹیٹ کی بہن ہیما بائی کا ہے
01:50تو اس طرح مختلف ابواب میں تقسیم یہ نوول مختصر ہے
01:54لیکن اس قدر تاثیر رکھنے والا ہے
01:56کہ یہ آپ کو اپنے ٹرانس میں لے لیتا ہے
01:58جو مزید کی بات ہے وہ یہ
02:00کہ قائد آزم کو کہیں قصور وار ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی گئی
02:04دانستہ یا غیر دانستہ طور پر وہ الگ بات
02:08لیکن اس نوول کو پڑھنے کے بعد آپ حکم نہیں لگا سکتے
02:11کہ قصور اس ٹریجیڈی میں کس کا تھا
02:14رتی کا یا قائد آزم محمد علی جنہ کا
02:17اس نوول کے مطابق قائد آزم نے جو تین کتے رکھے ہوئے تھے
02:22وہ سب انہوں نے رتی کی وفات کے بعد پا لے
02:25رتی کی موت والا باپ بہت پگلا دینے والا ہے
02:28بالخصوص جب زندگی میں شاید پہلی اور آخری بار
02:32قائد آزم کئی افراد کی موجودگی میں بھوٹ کے روئے
02:35رتی کے بعد قائد آزم وہ ہیں جو ہمیں اب نظر آتے ہیں
02:40اس سے پہلے قائد آزم ایک باقائدہ ہسمک طبیعت والے
02:43اور اپنے فقروں سے دل جیت لینے والے آدمی تھے
02:46اور یہ سب ہمیں اس نوول کے بعد پتا چلتا ہے
02:49اور جس کے تاریخی طور پر ثبوت موجود ہیں درج ہیں
02:53تو اس نوول نے قائد آزم پر کوئی چیز مسلط نہیں کی
02:57لیکن اس نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ رتی کے ساتھ
02:59جنار کی موجودگی اور ان کی ادم موجودگی کی وجہ سے کیا کچھ ہوا
03:04رتی کا کیریکٹر اگر آپ دیکھیں تو وہ ایسا ہے
03:07جو ہر چیز میں ایکسٹریمیسٹ ہے
03:10وہ پیار کرتا ہے تو ٹوٹ کے کرتا ہے
03:12وہ نہیں چاہتا تو کسی کا خیال نہیں کرتا
03:14جیسے اس کی اپنی بیٹی جس کا آفیشل نام نو سال بعد رکھا گیا
03:19جسے قائد سوفیہ کہتے تھے اور رتی مختلف ناموں سے پکارا کرتی تھی
03:24ایک طویل عرصے کے بعد جب وہ بیٹی اپنی نانی کے پاس گئی
03:28رتی کی موت کے بعد
03:29تو اس نے اپنی نانی کا نام ایڈاپٹ کیا جو کہ دینا جنا تھا
03:34تو اب ایک طرف بیٹی ہے جو شدید کیا لسنس کا شکار ہے
03:37اور ایک طرف جانور ہیں رتی کے جو تعداد میں چھ ساتھ ہیں
03:40اور جن کے نام رکھنے میں بھی الگ طرح نکالی گئی ہے
03:44جیسے ایک کتے کا نام لوفر الملک ہے
03:46جہاں وہ جاتی ہیں ان کے ساتھ وہ سب لد کے جاتے ہیں
03:50ٹرینوں میں ان کے لیے الگ ملازم ہوتے ہیں
03:52پورا تام جھام ہر جگہ برابر ہوتا ہے
03:55پھر اس میں فاطمہ جنا کا کردار ہے
03:57بالخصوص وہ کھچاؤ جو ان کے اور رتی کے درمیان موجود تھا
04:01وہ بہت غیر محسوس طریقے سے پڑھنے والے کو سمجھ آ جاتا ہے
04:04تو کل ملا کے یہ نوبل آپ کو یوں سمجھئے
04:07کہ ایسے انگل پر کھڑا کر دیتا ہے
04:10جہاں سے آپ سب کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں
04:13کہ جنا کیسے سوفٹ سائٹ کیا تھی
04:15جنا کیسے اس رشتے میں تلف ہوئے
04:17رتی کیا سوچتی تھی
04:19کیوں انہوں نے مبینہ طور پر خودکشی کی
04:21اور ایک ایسی لڑکی جو جانے محفل تھی
04:24جسے ہندوستان کی بلبل کہا جاتا تھا
04:26جس سے بہتر پینا ہوا
04:28انگریزوں کی خواتین کا بھی نہیں تھا
04:30وہ اس قدر علمناک انجام تک کیسے پہنچی
04:34اور یہ جو قاجعہ آزم کا ورجن اب ہوایے سامنے ہے
04:37اس کے پیچھے کیا حالات تھے
04:39تو میرا خیال ہے ہر پاکستانی کے لیے
04:42اور ہر محبت کرنے والے کے لیے
04:44یہ نوبل پڑھنا بہت ضروری ہے
04:46میری گارنٹی ہے کہ اس کے اثر سے
04:48آپ بہت عرصہ نکلنی پائیں گے
04:50تینک یو
Comments