شوپیاں(شاہد ٹاک) : وادی کشمیر کے پہاڑی ضلع شوپیان میں ایک روزہ ہڑتال اور پابندیوں کے بعد آج منگل کو معمولات زندگی بحال ہو گئی ہے اور ضلع بھر میں کاروباری سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔ منگل صبح سے ہی مرکزی بازاروں سمیت ملحقہ قصبہ جات میں دکانیں کھلیں، جبکہ لوگوں کی بڑی تعداد روزمرہ کی خریداری کے لیے گھروں سے باہر نکلی، جس کے باعث بازاروں میں واضح طور پر چہل پہل اور گہما گہمی دیکھی گئی۔ضلع میں بازاروں کے علاؤہ دیگر تجارتی مراکز میں بھی کاروبار معمول کے مطابق جاری رہا۔ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت بھی بحال رہی اور نجی و عوامی گاڑیاں معمول کے مطابق چلتی رہیں۔ وہیں سرکاری دفاتر میں بھی حاضری دیکھی گئی، تاہم اسکول اور کالجز بند رہے۔واضح رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جس کے بعد انتظامیہ نے پابندیاں عائد کیں۔ اسی سلسلے میں جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں بھی گزشتہ روز دکانیں، تجارتی مراکز اور تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حرکت نہایت محدود رہی۔ بیشتر بازار سنسان دکھائی دیے اور لوگوں کی قلیل تعداد ہی گھروں سے باہر نکلی۔انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ روز حساس مقامات پر پولیس اور سی آر پی ایف کے اہلکار تعینات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے اور امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔ سکیورٹی فورسز نے اہم چوراہوں اور داخلی و خارجی راستوں پر گشت جاری رکھا۔تاہم ضلع بھر میں حالات پر امن رہے ۔دریں اثناء، انتظامیہ نے بدھ سے کشمیر کے دس میں سے آٹھ اضلاع میں اسکولی سرگرمیاں بحال کرنے کے احکام صادر کیے ہیں جن میں شوپیاں ضلع بھی شامل ہے۔
Comments