00:00ڈائنو سارس اتنے بڑے کیوں تھے
00:03آج کل دنیا میں سب سے لمبا جانور زرافہ ہی ہے
00:09اس کی کامت 6 میٹر تک ہو سکتی ہے
00:11لیکن ڈائنو سارس تو اس سے کہیں بڑے ہوتے تھے
00:14ڈائنو سارس میں سے سائروپورٹس کی نسل سب سے بڑا جسہ رکھتی تھی
00:21خاص کھانے والے یہ دیوہیکل جانور
00:24230 ملین سال پرانے ہیں
00:26جبکہ یہ 66 ملین برس قبل ناپید ہو گئے تھے
00:30ان کی باقیات پر تحقیق سے معلوم ہوا ہے
00:33کہ ان میں سے کچھ تو 35 میٹر تک لمبے
00:36اور 17 میٹر تک اونجھے تھے
00:39ایک ڈائنو سار کا وزن تقریباً 70 ٹن ہوا کرتا تھا
00:43یعنی ہاتھیوں کے ایک جھونڈ جتنا وزن
00:46ڈائنو سارس اتنے بڑے کیوں ہوئے اس کی متعدد وجوہات ہیں
00:52ایک وجہ یہ تھی کہ وہ چبائے بغیر کھاتے تھے
00:56یعنی پورے کے پورے پودے یا درخت نگل جاتے تھے
01:00اس طرح وہ فوری طور پر بہت زیادہ غزائیت جسم میں پھر لیتے تھے
01:04وہ اپنی لمبی گردن گھما کر ادھر ادھر دیکھ لیتے تھے
01:09اس لیے جسم کو کم ہی ہلاتے تھے
01:11یعنی ان کی غزائیت صرف نشنما کے لیے ہی استعمال ہوا کرتی تھی
01:16ان ڈائنو سارس کے بڑے ہونے کی ایک اور ممکنہ بجا
01:23پرندو جیسا نظام تنافس پی تھا
01:25سارو پورٹس سانس لینے کی خاطر جسم میں موجود
01:29ہوا کی متعدد تھالیوں کے استعمال کرتے تھے
01:32اس طرح بھی ان کے جسم بڑے ہو گئے
01:35یہ بھی علم ہوا ہے کہ ڈائنو سارس بہت جلدی ہی بڑے ہو جاتے تھے
01:42انڈے سے نکلتے وقت ان جانوروں کا وزن دس کلو کے قریب ہوتا تھا
01:46لیکن صرف تیس دن میں یہ پانچ ہزار گناہ بڑے ہو جاتے تھے
01:51دنیا کے اس سب سے بڑے جانور کے بارے میں ابھی بہت سے راز پوشیدہ ہی ہیں
02:02سائنس دان ڈائنو سارس کے بارے میں
02:04اپنی تحقیقات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں
02:07اور توقع ہے کہ ان جانوروں کے بارے میں
02:10مزید حقائق منظر عام پر آ سکیں گے
02:13مزید حقائق Time
02:25مزید حقائق
02:26مزید حقائق
Comments