Skip to playerSkip to main content
  • 7 hours ago
Discover the mysterious secrets of Ranikot, one of the world's largest fortresses, in this video. Uncover the hidden history and untold stories behind this ancient wonder. From its impressive architecture to its strategic location, we'll delve into the fascinating world of Ranikot and explore what makes it so unique. Join us as we unravel the secrets of this enigmatic fort and learn more about its significance in history. Whether you're a history buff or just curious about the world's most impressive structures, this video is for you. Get ready to uncover the secret of Ranikot and be amazed by its grandeur and mysteries.

Category

😹
Fun
Transcript
00:00Khirthar کی خوشت چٹانوں میں بل کھاتی یہ دیواریں گزرے دور کی نشانی ہیں
00:0535 km پر پھیلے ہوئے تاریخ کے اس عظیم شہکار کو دیوار سندھ کہا جاتا ہے
00:11اس قدیمی قلعے کا شمار دنیا کے بڑے قلعوں میں ہوتا ہے
00:15اسے سمجھنے کے لیے ماہرین دہائیوں سے یہاں کے چکر لگاتے رہے ہیں
00:20لیکن رنی کورٹ ایسا معاملہ ہے جو ابھی حل نہیں ہو سکا
00:25یہ جگہ کراچی سے چار گھنٹے کی مسافت پر ہے
00:31رنی کورٹ کے اندر روڈ رسٹے نہیں
00:34یہ وسیع علاقہ گھومنے کے لیے آپ کو فور بائی فور جیپ پر سفر کرنا پڑتا ہے
00:39اور جب راستہ ختم ہو جائے تو آپ پیدل اوپر جا کر اس عظیم شہکار دیوار سے نیچے کا نظارہ دیکھ سکتے ہیں
00:47صوبہ سندھ میں یہ ہے یامشورو کا زلاج جہاں پر قوہستان کے علاقے میں یہ شاندار تاریخی قلعہ واقع ہے
00:54اگر آپ اس کی دیواروں کو غور سے دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ کتنا مشکل آرکیٹیکچر ہے
01:01اس کو رسٹور کرنا اس کی مرمت کرنا
01:03آثار قدیمہ کے ماہرین ایک عرصے سے یہ کھوج لگانے کی کوشش کر رہے ہیں
01:07کہ یہ دیواریں یہ قلعہ کیوں تعمیر کیا گیا
01:10اس کا مقصد کیا تھا یہ کس دور میں بنا
01:13لیکن اس پر ابھی تک کوئی حتمی رائے قائم نہیں ہو سکی ہے
01:16ماہرین یہ بات مانتے ہیں کہ قلعہ کا بنیادی مقصد بیرونی لشکروں سے اپنا دفاع کرنا تھا
01:24لیکن یہ واضح نہیں کہ اس کی تعمیر کا آغاز کب ہوا یا کس نے کیا
01:29یہ علاقہ دیکھیں تو ایران سے اور بلوچستان سے یہ جا کے جڑتا ہے
01:35ایران میں بھی اس طرح کے قلعے ہیں اور بلوچستان میں بھی چھوٹے چھوٹے قلعے ہیں
01:41یہ قلعے دو چھوٹے ہیں دیوار اس کی بہار زیادہ ہے
01:45اور غالباً تاریخ میں بھی اس کا اتنا واضح اور اتنے کلیر قسم کا حوالہ نہیں ملتا
01:52جو حوالے ملتے ہیں وہ انگریزوں کے وقت کے ہیں
01:56لوگوں نے کہا کہ ادھر کوئی قلعہ ہے یا اس طرح کی چیز ہے
02:00بعض ماہرین کے مطابق یہ قلعہ ساسانیوں کے دور میں تعمیر ہوا
02:04جس کا مرکز فارس کا علاقہ تھا
02:07بعد کے حکمرانوں نے دیوار کو مضبوط بنایا اور اسے وسد دی
02:11اکثر اسکولر اس بات پر متفق ہیں کہ قلعے کا آخری بڑا مرمتی کام
02:17انیسویں صدی کے عوائل میں تالپور دور میں ہوا
02:20لیکن پاکستان بننے کے بعد اس پر کوئی خاص توجہ نہ دی گئی
02:24جس کے باعث آثار قدیمہ کا یہ شہکار ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا گیا
02:29حالیہ برسوں میں غیر سرکاری ادارے انڈاؤمنٹ ٹرسٹ نے
02:35قلعے کی گرتی ہوئی دیواروں کی مرمت کا کام شروع کیا ہے
02:39تو مقصد یہ تھا کہ یہ جس حالت میں ہے اس حالت میں اگر ہم اس کو
02:45ریسٹور کر پائیں اور اس کو کنزیو کر لیں تو شاید اگلے پچاس ساٹھ سال تک
02:53یہ محفوظ رہے اور شاید یہ بھی ہو کہ لوگوں میں یہ شعور بھی پیدا ہو
02:59کہ اس کے بارے میں کچھ ریسرچ کی جائے
03:03سوچا جائے کہ یہ کیا ہے کیوں ہے اور اس طرح سے اس جگہ پہ کیوں بنایا گیا ہے
03:10رنی کوٹ کے علاقے میں گبول قوم آباد ہے
03:13اس علاقے میں انٹرنیٹ نہیں سکول اور ہسپتال نہیں
03:17نسلوں سے یہاں کے لوگوں کا گزر بسر مال مویشی اور کھیتی باڑی پر ہوتا آیا ہے
03:23یہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر سیاحت کے ذریعے یہاں کچھ خوشحالی آسکے
03:28تو وہ اس کے لئے تیار ہیں
03:29مقامی گبول آبادی جو ہے وہ تو کہتے ہیں کہ لوگ آئیں تو اچھی بات ہے
03:33وہ تو خوش ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آئیں یہاں پہ ٹوریسٹ گھومنے پھرنے کے لئے
03:37ان کے لئے فائدہ بھی ہے اور ان کی جان پہ اچان بھی پڑتی ہے
03:40اچھی بات ہے وہ خوش ہوتے ہیں اس سے
03:42سیاحت کے فروغ کے لئے حکومت سندھ نے حالیہ برسوں میں یہاں ایک ریسٹ ہاؤس تعمیر کیا ہے
03:48یہاں سے کچھ فاصلے پر پہاڑوں کے بیچ قدرتی چشمے کا یہ خوبصورت تالاب ہے
03:54کہا جاتا ہے کہ کبھی یہاں پریان نہ ہانے آتی تھی
03:59سندھی زبان میں اس جگہ کو پریان جو تڑ یا پریوں کا تالاب کہا جاتا ہے
04:04یوں رنی کوٹ نہ صرف آثار قدیمہ کے لحاظ سے اہم ہے
04:09بلکہ سیاحت اور قدرتی حسن میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے بھی ایک پرسکون جگہ ہے
Comments

Recommended