Skip to playerSkip to main content
  • 19 hours ago
منچھر جھیل کی MOHANA برادری کے تیرتے گاؤں کا راز کیا ہے؟ یہ سوال ہر کسی کے ذہن میں ہوتا ہے جو منچھر جھیل کی سुंदरتی اور اس کیMOHANA برادری کے بارے میں جانتا ہے۔ منچھر جھیل پاکستان کی سب سے بڑی جھیل ہے، جو اپنی غیر معمولی سائنسی اور ثقافتی اہمیت کے لیے جانا جاتا ہے۔ MOHANA برادری منچھر جھیل کے آس پاس رہنے والی ایک قدیم برادری ہے، جو اپنی منفرد طرز زندگی کے لیے مشہور ہے۔ ان کے تیرتے گاؤں، جو جھیل کے اوپر بنائے گئے ہیں، ایک حیرت انگیز نظارہ پیش کرتے ہیں۔ یہ گاؤں اس برادری کی روایات اور 技術 کی عکاسی کرتے ہیں جو صدیوں سے جھیل کے ساتھ ان کے رشتے کو ظاہر کرتے ہیں۔ منچھر جھیل کیMOHANA برادری کے تیرتے گاؤں کا راز جاننے کے لیے، ہمیں اس برادری کی تاریخ، ثقافت، اور ان کی زندگی کے طریقوں کو سمجھنا ہوگا۔ یہ ویڈیو منچھر جھیل کیMOHANA برادری کے تیرتے گاؤں کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے، جس سے آپ کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ یہ برادری اپنی زندگی کیسے گزارتی ہے اور ان کے تیرتے گاؤں کا کتنا اہمیت ہے۔

Category

😹
Fun
Transcript
00:00یہ منچر جھیل ہے جو کبھی ایشیا بھر میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل ہوا کرتی تھی
00:07اس جھیل کے ترمیان میں کھڑی یہ کشتیاں مقامی مچھیروں کے موہانا قبیلے کا ایک گاؤں ہے
00:14اس نمائی کی زندگی منچر جھیل کے پانیوں پر تیرتی ان کشتیوں میں گزری ہے
00:20وہ بتاتی ہیں کہ منچر جھیل کے محولیاتی نظام کی بدحالی نے ماہی گیروں کے لیے معاشی مسائل کو جنم دے دیا
00:31میری شادی بھی یہاں ہوئی اور میری پیدائش بھی یہیں کی ہے
00:37میرے بچے بھی یہاں بڑے ہوئے ہیں میرا شوہر سن نہیں سکتا
00:42اس کے ساتھ میں مچھلیاں پکڑنے کے لیے جال بچھاتی ہوں
00:46اگر ایک کلو تک مچھلی ہاتھ لگ جائے تو اسے فروخت کر کے آٹا خرید کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتی ہوں
00:54چادروں سے ڈھکی لکڑی کے ان کشتیوں کی چھت پر بجلی کی فراہمی کے لیے تو سولر پینل نصب ہے
01:01لیکن کشتیوں کے اس گاؤں میں ضروریات زندگی کی دیگر سہولیات میسر نہیں
01:06ایک کمرے کے کشتی گھر میں کھانا پگانے کے لیے ایک کونے میں مٹی کا چھوٹا سا چولا ہے
01:12جھیل کے اطراف میں لگی جھاڑ جنگار ان چولوں کا اندنونتی ہے
01:16مہانہ قبیلے کی یہ بزرگ خاتون بتا رہی ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے کشتیوں پر رہنا دشوار ہوتا جا رہا ہے
01:25دھوئے سے بچوں کے حالت خراب ہو جاتی ہے جب بارش یا طوفان آتا ہے تو بچے اور سامان بھیگ جاتا ہے
01:31ہم اس دوران کھانا نہیں پکا سکتے وہ بھوکے ہی سو جاتے ہیں
01:34خسنا مائی کہتی ہیں منچر جھیل کا پانی کڑوا اور آلودہ ہو چکا ہے
01:41لیکن غربت کی وجہ سے ان کے پاس اکثر خوراں خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے
01:45ایسے میں وہ پینے کا صاف پانی کیسے خریدے ہیں
01:49بچوں کی بھوک کون برداشت کر سکتا ہے کوئی بھی نہیں
01:55پانی خریدیں گے تو بچوں کے لئے آٹا خریدنے کے لئے پیسے نہیں بچیں گے
02:00مجبورا ہم یہ کڑوا پانی بچوں کو پلاتے ہیں
02:04یہاں نہ ہسپتال ہے نہ اسکول ہے اور نہ کوئی پانی کا فلٹر جس سے ہم پانی پی سکیں
02:10منچر جیل میں آج سے دس سے پندرہ سال قبل ہزاروں کی دادات میں
02:17ماہیگیر ان کشتیوں پر رہ دے تھے
02:19لیکن جب سے منچر جیل کا پانی زہریلا ہوا ہے
02:22یہ لوگ نہ کیوں کانی کرنے پر مجبور ہو گئے
02:25آج بھی جو تین سے چار سو لوگ یہاں پر کشتیوں میں رہ رہے ہیں
02:28ان کی زندگی بہت مشکل ہے
02:30منچر جیل کی مہانہ برادری نسل در نسل کشتی گھروں میں رہ رہی ہے
02:38ان کا بنیادی ذریعہ ماش مچھلیاں پکڑنا رہا ہے
02:43بوبک بند گاؤں کے اس مچھلی بزار میں
02:49مقامی ماہیگیر جیل سے مچھلیاں پکڑ کر بیپاریوں کو فرخت کرتے ہیں
02:54تازہ مچھلیوں کو تولنے کے بعد
02:56ان کے وزن اور قسم کو دیکھتے ہوئے الگ الگ کیا جاتا ہے
03:00اور پھر برف کے ڈبوں میں بند کر کے
03:02پاکستان کے دیگر شہروں تک منتقل کیا جاتا ہے
03:05سائز کے مطابق مراکو مچھلی کو الہدہ کرتے ہیں
03:08چھوٹی مچھلی الگ اور بڑی مچھلی کو الگ کر کے بھیجتے ہیں
03:12منشہ جیل کسی زمانے میں
03:17اپنے ماہولیاتی نظام کی وجہ سے مشہور ہوا کرتی تھی
03:20جہاں انسان، مچھلیاں، آبی پودے اور پرندے اکھٹے بستے تھے
03:24لیکن ماہولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات
03:27زراعت کے کیمیاتی مواد اور سنتی فضلے نے پانی کو الہدہ کرنا شروع کر دیا
03:32نتیجتاً جھیل کا حیاتیاتی نظام متاثر ہونے لگا
03:37پکامی ماہگیروں کے مطابق منشہ کا پانی الہدہ ہونے سے کب
03:45اچھے دنوں میں دس ٹن سے زائد یومیا مچھلی پکڑی جاتی تھی
03:49لیکن اب یہ تعداد پچاس من سے بھی کم ہو چکی ہے
03:52جب پانی ٹھیک تھا اس وقت روزانہ بیس ڈاٹسن گاڑیوں
03:58یعنی ایک ہزار من مچھلی نکلتی تھی
04:01اب چونکہ پانی خراب ہے تو تیس سے پچاس من تک ہی مچھلی نکلتی ہے
04:05دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر واقعہ منچھر جیل
04:11دو سو مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلی ہے
04:14اس کا زیادہ حصہ زلہ جامشورو اور کچھ حصہ زلہ دادو میں سیون شریف سے چند کلومیٹر دور واقع ہے
04:20کہا جاتا ہے کہ موہانہ قبیلے کی کڑیاں ہزاروں سال پرانی مہنجدڑوں کی تہذیب سے ملتی ہیں
04:28اور کشتی گھر پر بسنے کی روایات بھی صدیوں پرانی خیال کی جاتی ہیں
04:32میر پکشملہ منچھر بچاؤ مہم کے لیے سرگرم ہیں
04:39ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں منچھر کے ماہگیر خوشحال زندگی بسر کرتے تھے
04:44لیکن منچھر جیل کی بدحالی کے ساتھ ساتھ یہاں پر قائم رہائشی کشتیوں کی ثقافت بھی دیرے دیرے ختم ہو رہی ہے
04:51ان کے بقول اگر منچھر جیل میں پانی کی ستے کو ضرورت کے مطابق برقرار رکھا جائے
04:56اور آلودگی سے صاف رکھا جائے
04:58تو یہاں کی ماہگیر آبادی ایک پرتبہ پھر خوشحال ہو سکے گی
05:02ہمارا سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ ستر آرو پلانٹ کا بجٹ موجود ہونے کے باوجود وہ نہیں بنائے جا رہے
05:12دوسرا مسئلہ روزگار کا ہے
05:15فشریس محکمہ مچھلی کا جو بیج ڈالتا ہے اس کے لیے قانون بنایا جائے تاکہ چھوٹے سائز کی مچھلی کو نہیں پکڑا جائے
05:22یہاں کے مقامی ماہگیروں کو تب ہی فائدہ ہو سکے گا جب مچھلی کی افضائش ہوگی
05:27اس سے خریدار کو بھی فائدہ ہوگا
05:29یہاں کا پانی اگر مٹھا ہو جائے تو ہماری زرات وائیڈ لائف اور مویشی مستقل طور پر یہاں رہ سکیں گے
05:37حسنہ مائی کا بیٹا مجید ملہ مچھلیوں کے شکار کے بعد دوپیر کے وقت اپنے کشتی گھر واپس پہنچا ہے
05:47مجید دن کا کھانا اپنے دو سالہ بیٹے اور دیگر بچوں کے ساتھ مل کر کھاتا ہے
05:53اپنی والدہ کی طرح مجید بھی اپنی آئندہ نسل کی صحت اور تعلیم کے لیے فکر مند ہے
05:59بچوں کے لیے یہ سوچتے ہیں کہ ہمیں یہاں سکول بنا کر دیا جائے
06:04اور حکومت کی طرف سے ایسی کوئی سواری دستیاب ہو جس کی مدد سے ہمارے بچے آرام سے جا سکیں اور پڑھ کر واپس آ سکیں
06:11انسانی عمل دخل نے منچرجیل کے ایکو سسٹم کو شدید نقصان پہنچایا ہے
06:18ہر سال موسم سرما کے دوران سائیبیریا سمیت کئی تھنڈے ممالک کے پرندے ہجرت کرتے ہوئے منچرجیل پہنچتے ہیں
06:25لیکن اب ان کی تعداد بھی کم ہو رہی ہے
06:27اگر منچرجیل کے ماحولیاتی نظام کے تحفظ کو یقینی نہ بنایا گیا
06:34تو مستقبل میں شاید اس شاندار جیل کی مچھلیاں آبی پودے پنچی اور کشتی گھر کسے کہانیاں بن کر رہ جائیں گے
06:42موسیقی
Be the first to comment
Add your comment

Recommended