00:00جب دل تیز تیز دھڑکتے لگے وہ بھی بغیر کسی وجہ کے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہو سکتی ہے
00:08اس وقت دل کی دھڑکن اتی تیز تھی کہ مجھے لگا جیسے میرا دل سینے میں ہی پھٹ جائے گا
00:18پھر دل کی دھڑکنیں مزید تیز ہوتی چلی گئیں
00:21پلس ریٹ چند ملی سیکنڈ میں ساٹھ سے ایک سو دس تک پہنچ جاتا ہے
00:28آپ دل کی تیز دھڑکن کی شدت محسوس کر سکتے ہیں
00:31یہ دونوں کئی بار پلپٹیشن یعنی اختلاج قلب برداشت کر چکیں
00:38دل کی ہر دھڑکن ہمارے دل کے دائیں ایٹرین کے سائنس نوٹ سے شروع ہوتی ہے
00:44خصوصی خلیے ایک برکی محرک پیدا کرتے ہیں
00:48یہ محرکات دل کے پٹھوں کی ذریعے پورے دل میں پھیل جاتے ہیں
00:52اس کی وجہ سے دل سکڑ جاتا ہے اور دباؤ پیدا ہوتا ہے
00:56جس سے خون پورے جسم میں لہر کی طرح بہنے لگتا ہے
01:00جب آپ آرام سے بیٹے ہوں تو دل ایک منٹ میں ساٹھ سے ستر بار دھڑکتا ہے
01:05لیکن اگر سگنلز میں کوئی گربڑ ہو تو پھر ارثیمیاں ہو سکتا ہے
01:10اس صورتحال میں ہارٹ پیٹ فی منٹ سو مرتبہ بھی ہو سکتی ہے
01:14محر امراض قلب یورگن ایکسل کا کہنا ہے
01:17کہ تناؤ تھائرائٹ کا مسئلہ
01:19یا پیدائشی اور سنگین دل کی بیماری بھی ارثیمیاں کی وجہ ہو سکتی ہے
01:23یہ سوچ کر ڈرنا غلط ہے
01:27کہ اس کی کوئی سنگین بجے ہو سکتی ہے
01:29اس لیے میں ہمیشہ مریضوں سے کہتا ہوں
01:31کہ مکمل چیک اپ کرواتے رہیں
01:32محر امراض قلب آندریاز میٹزنر بھی اسرار کرتے ہیں
01:39کہ دل کی بیترتیب دھڑکن کو غیر سنجیدہ ہرکیز نہیں لینا چاہیے
01:43عام آدمی یہ نہیں بتا سکتا
01:46کہ یہ ارثیمیاں معمولی ہے یا نقصان
01:48ایلینا کو پانچ سال قابل دھڑکن کی تخلیف شروع ہوئی
01:53اس وقت وہ میڈ پونٹیز میں تھی
01:55پہلی بار ایسا رات میں ہوا
01:59میں بیدار ہوئی تو دل کی دھڑکن دو گنا محسوس ہوئی
02:02پہلے تو میں سمجھ ہی نہیں سکی کہ کیا ہو رہا ہے
02:04ان کا دل زور زور سے تھڑک رہا تھا
02:10وہ رات کو بار بار جاگ جاتی تھی
02:11پھر انہیں دن میں بھی یہی پریشانی ہونے لگی
02:14تب ایلینا نے یہ جاننے کے لیے
02:16اپنے فیملی ڈاکٹر کے پاس جانے کا فیصلہ کیا
02:19ان کی ای سی جی بزاہر ٹھیک تھی
02:21اس لیے فیملی ڈاکٹر نے انہیں
02:23کارٹیولوجسٹ جورگر ایکسل کے پاس جانے کا مشورہ دیا
02:26ہم یہاں ہمیشہ ای سی جی کرتے ہیں
02:31یہ ایک عام اور ضروری ٹیسٹ ہے
02:34ہم خون کے ٹیسٹ بھی کرتے ہیں
02:36کارٹیولوجی پریکٹس میں الٹرساؤن بھی کیا جاتا ہے
02:39اس کا کوئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں ہے
02:40اور یہ جلدی ہو جاتا ہے
02:42اس سے ہم دل کے والد کے مسائل کا پتہ لگا سکتے ہیں
02:45ایلینا کی ای سی جی
02:50ایلٹرساؤن اور خون کے ٹیسٹ کے نتائج
02:53ان کی بے ترتیب تھرکن کی وجہ نہ بتا سکے
02:55طبی مشاورت کے دوران
02:57ماہر امراض قلب کی کوشش تھی
02:59کہ ایلینا کی بے ترتیب تھرکن کی
03:01ممکنہ وجوہات تلاش کی جا سکے
03:03اس سلسلے میں
03:06پہلا قدم خطرے کی علامات پہچاننا تھا
03:09ابتدائی مشاورت میں یہ جاننا ضروری ہے
03:13کہ کیا مریض کے خاندان میں
03:15کوئی شخص دل کی بیماری کی وجہ سے
03:17اچانک ہلاک دوا ہے
03:18میں ہمیشہ پوچھتا ہوں
03:19کہ کیا کبھی کسی مریض کے بے ہوش ہونے
03:22یا گرنے یا لڑکھڑانے کا
03:23کوئی واقعہ پیش آیا ہے
03:25یورگن ایکسل کو کچھ ایسی چیز نہ مری
03:32جو ایلینا کی کیفیات کو حل کرنے میں مدد کر سکے
03:34پھر انہوں نے نفسیاتی عوامل پر
03:37توجہ مرکوز کرنا شروع کی
03:38سٹریس، پریشانکون حالات
03:41موجودہ حالات، انزائیٹی اور نروسنس
03:44اس طرح یورگن ایکسل کو
03:47ایلینا کی تشخیص میں مدد مل گئی
03:49ہماری بلی چند ماہ قبل مر گئی تھی
03:58مجھے اس کا بہت دکھ تھا
03:59تاہم میں اپنی اس بیماری کو
04:01اس سے بلکل بھی نہیں جوڑ سکی تھی
04:03لیکن ڈاکٹر ایکسل نے کہا ہے
04:05کہ یہ ٹوٹے ہوئے دل کا مسئلہ بھی ہو سکتا ہے
04:07اندریاز ٹکٹل بھی دل کی آرزے میں مبتلا تھے
04:12چبون سالہ اندریاز پیشے کی اعتبار سے وکیل ہیں
04:16اس کے علاوہ وہ ایک سابق ایتلیٹ بھی ہیں
04:19ایک سال قبل ہی انہیں دھڑکن کے بے ترتیب ہونے کی شکایت ہونا شروع ہوئی
04:23ایک خلاڑی کے طور پر اگر مجھے اپنے پاؤں پر
04:29یا ایڑی میں چوٹ لگتی ہے
04:31تو میں جانتا ہوں کہ یہ زخم ٹھیک ہو جائے گا
04:33لیکن دل کا معاملہ مختلف اور خوفناک ہے
04:36ہیمبرگ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر میں
04:42ای سی جی سے ڈاکٹل کی تشکیز ہو گئی
04:45وہ ایٹریل فیبریلیشن کے مریض نکلے
04:48یہ کارڈک ایرثیمیا کی ایک قسم ہے
04:51جو بہت عام ہے
04:52جب ایٹریل یعنی دل کے اوپری دو حصے
04:55ایک ہی ساتھ خون پمپ کرنے کے قابل نہیں رہتے
04:58تو یہ آرزہ لاحق ہو جاتا ہے
05:00یوں دل کے یہ چیمبرز مختلف آگات میں سکڑ جاتے ہیں
05:04جس کی وجہ سے پٹھے زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں
05:08ایسی حالت میں ایٹریل کے کچھ خاص حصوں میں
05:11خون کے جمنے کا خطرہ ہوتا ہے
05:13یہ لو تھڑے ٹوٹ کر رگوں کے ذریعے دماغ تک جا سکتے ہیں
05:18اور وہاں کسی بھی آرٹری کو بلاک کرنے کا سبب بن سکتے ہیں
05:22جب ایسا ہوتا ہے تو مریض تھکاوٹ محسوس کرتا ہے
05:27اور دھڑکن محسوس ہونے لگتی ہے
05:29چکر آتے ہیں
05:30یا سانس دینے میں دشواری ہوتی ہے
05:32زندگی بھر ڈیمنشیا
05:34ہارٹ فیل ہونے
05:36اور فالج کا خطرہ ہو سکتا ہے
05:38ہائی بلڈ پریشر
05:44موٹاپا
05:45جابیتس اور ورزش کی کمی
05:46ایٹریل فیبریلیشن کا خطرہ بڑھاتی ہے
05:48لیکن آنڈریاس کے معاملے میں
05:50ایسی کوئی وجہ نہیں تھی
05:52پھر ایسا کیوں ہوا
05:53آنڈریاس ایتلیٹ ہیں
05:56ایسے لوگوں میں یہ بیماری ہو سکتی ہے
05:59چونکہ ورزشوں کی وجہ سے
06:00ان کے دل کو آرام کا وقت قدرے کم ملتا ہے
06:03اس لیے ان کی دل کی دھڑکن
06:04بے ترتیب ہو سکتی ہے
06:06آنڈریاس کو پہلے دوا دی گئی
06:10لیکن اس سے انہیں تھکن ہونے لگی
06:12اس لیے انہوں نے
06:13سرجیلی کرانے کا فیصلہ کر لیا
06:15ان کا کارڈیک ایبلیشن ہوا
06:18یہ عمل دل کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ہوتا ہے
06:20جس سے دل کے ٹیشیوز میں
06:22سکارز بنایا جاتے ہیں
06:23تاکہ دھڑکن کو بے ترتیب ہونے سے روکا جا سکے
06:26اب میں ٹھیک سے سانس لے سکتا ہوں
06:30میں خوش ہوں اور زندگی کو
06:32ایک مرتبہ پھر انجائی کرنے لگا
06:34وجہ معلوم ہونے کے بعد
06:40علی نے کا خوف بھی دور ہو گیا
06:41موسیقی
06:51موسیقی
06:53موسیقی
Comments